شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1007
1006 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أنا أبو خثيمة ثنا شبابة بن سوار عن هشام بن الغاز حدثني حيان أبو النضر قال : قال لي واثلة بن الأسقع : قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني أن ألما نزل به قال : فقدته فدخل عليه و هو ثقيل و قد وجه يعني نحو القبلة و قد ذهب عقله قال : نادوه فنادوه فقلت : إن هذا واثلة بن الأسقع أخوك قال : فأبقى الله من عقله أن سمع فجعلتها في كفه و إنما أراد أن يضع يده في يد واثلة ذلك لموضع يد واثلة من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم و جعل يضعها مرة على صدره و مرة على وجهه و مرة على فيه فقال واثلة : ألا تخبرني عن شيء أسألك عنه كيف ظنك بالله ؟ قال : أعجزتني ذنوب لي أشفيت على هلكة و لكن أرجو رحمه الله فكبر واثلة و كبر أهل البيت بتكبيره و قال : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يقول الله عز و جل : أنا عند ظن عبدي بي فليظن بي ما شاء
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو شبابہ بن سوار نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو حیان ابو النصر فرماتے ہیں کہ مجھے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ مجھے یزید بن اسود کے پاس لے کر چلو مجھے خبر ملی ہے کہ ان کو تکلیف ہے حیان کہتے ہیں ، میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کو لے کر گیا، ان کے پاس پہنچے تو وہ لا چار ہو چکے تھے ، ان کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا تھا۔ اور ان کی عقل بھی زائل ہو چکی تھی، حضرت واثلہ نے فرمایا کہ اس کو ( یزید بن اسود ) کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دی ، اور میں نے کہا یہ دیکھئے حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ آپ کے بھائی آپ کو ملنے آئے ہیں حیان کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اتنی عقل سلامت رکھی تھی کہ انہوں نے سن لیا کہ حضرت واثلہ آ گئے ہیں ، حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کے ہاتھ میں کچھ ڈھونڈھ رہے تھے ، میں سمجھ گیا کہ کیا چاہ رہے ہیں ۔ لہذا میں نے حضرت واثلہ کا ہاتھ پکڑ کر مریض کے ہاتھ میں دے دیا، یزید بن اسود چاہ رہے تھے کہ وہ حضرت واثلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیں اور رکھ لیں اس لیے کہ حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں رکھا تھا ، یزید بن اسود ایک بار حضرت واثلہ کے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتے تو دوسری بار اپنے چہرے پر اور کبھی اپنے منہ پر ۔ اتنے میں حضرت واثلہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا گمان لے کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے گناہوں نے تو مجھے عاجز کر دیا ہے میں ہلاکت کے کنارے پر اتر چکلا ہوں ، لیکن میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں ۔ چنانچہ حضرت واثلہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا یزید بن واثلہ کے گھر والوں نے بھی واثلہ سے سن کر نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت واثلہ نے فرمایا: اللہ اکبر ، میں نے رسول اللہ ق سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔" یقول اللہ عزوجل انا عند ظن عبدی بی فلیظن بی ماشاء"۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے میرے گمان کے پاس ہوں اسے چاہیے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھ لے ۔
لي واثلة بن الأسقع قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني ← حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أبو خثيمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1007
