Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1007

1006 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أنا أبو خثيمة ثنا شبابة بن سوار عن هشام بن الغاز حدثني حيان أبو النضر قال : قال لي واثلة بن الأسقع : قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني أن ألما نزل به قال : فقدته فدخل عليه و هو ثقيل و قد وجه يعني نحو القبلة و قد ذهب عقله قال : نادوه فنادوه فقلت : إن هذا واثلة بن الأسقع أخوك قال : فأبقى الله من عقله أن سمع فجعلتها في كفه و إنما أراد أن يضع يده في يد واثلة ذلك لموضع يد واثلة من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم و جعل يضعها مرة على صدره و مرة على وجهه و مرة على فيه فقال واثلة : ألا تخبرني عن شيء أسألك عنه كيف ظنك بالله ؟ قال : أعجزتني ذنوب لي أشفيت على هلكة و لكن أرجو رحمه الله فكبر واثلة و كبر أهل البيت بتكبيره و قال : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يقول الله عز و جل : أنا عند ظن عبدي بي فليظن بي ما شاء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو شبابہ بن سوار نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو حیان ابو النصر فرماتے ہیں کہ مجھے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ مجھے یزید بن اسود کے پاس لے کر چلو مجھے خبر ملی ہے کہ ان کو تکلیف ہے حیان کہتے ہیں ، میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کو لے کر گیا، ان کے پاس پہنچے تو وہ لا چار ہو چکے تھے ، ان کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا تھا۔ اور ان کی عقل بھی زائل ہو چکی تھی، حضرت واثلہ نے فرمایا کہ اس کو ( یزید بن اسود ) کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دی ، اور میں نے کہا یہ دیکھئے حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ آپ کے بھائی آپ کو ملنے آئے ہیں حیان کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اتنی عقل سلامت رکھی تھی کہ انہوں نے سن لیا کہ حضرت واثلہ آ گئے ہیں ، حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کے ہاتھ میں کچھ ڈھونڈھ رہے تھے ، میں سمجھ گیا کہ کیا چاہ رہے ہیں ۔ لہذا میں نے حضرت واثلہ کا ہاتھ پکڑ کر مریض کے ہاتھ میں دے دیا، یزید بن اسود چاہ رہے تھے کہ وہ حضرت واثلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیں اور رکھ لیں اس لیے کہ حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں رکھا تھا ، یزید بن اسود ایک بار حضرت واثلہ کے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتے تو دوسری بار اپنے چہرے پر اور کبھی اپنے منہ پر ۔ اتنے میں حضرت واثلہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا گمان لے کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے گناہوں نے تو مجھے عاجز کر دیا ہے میں ہلاکت کے کنارے پر اتر چکلا ہوں ، لیکن میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں ۔ چنانچہ حضرت واثلہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا یزید بن واثلہ کے گھر والوں نے بھی واثلہ سے سن کر نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت واثلہ نے فرمایا: اللہ اکبر ، میں نے رسول اللہ ق سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔" یقول اللہ عزوجل انا عند ظن عبدی بی فلیظن بی ماشاء"۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے میرے گمان کے پاس ہوں اسے چاہیے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھ لے ۔

لي واثلة بن الأسقع قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني ← حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أبو خثيمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1007

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1008

1007 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد أبي الدنيا ثنا عمرو بن محمد ثنا خلف بن خليفة عن حصين عن إبراهيم قال : كانوا يستحبون أن يلقنوا العبد محاسن عمله عند موته لكي يحسن ظنة بربه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو عمرو بن محمد نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حسین نے ان کو ابراہیم نے وہ فرماتے ہیں : اہل علم مستحب سمجھتے تھے کہ بندے کو اس کے اچھے اعمال یا د دلائے جائیں اس کی موت کے وقت تاکہ وہ اپنے رب کے ساتھ حسن ظن پیدا کرے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حُصَيْنٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← عبد الله بن محمد أبي الدنيا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1008

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1009

1008 - قال و حدثنا عبد الله ثنا سوار بن عبد الله العنبري ثنا المعتمر بن سليمان قال : قال لي أبي ـ حين حضرته الوفاة : يا معتمر حدثني بالرخص لعلي ألقى الله و أنا حسن الظن به

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ نے ان کو سوار بن عبداللہ عنبری نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے کہ مجھ سے میرے والد سلیمان نے بوقت موت کہا:۔ اے معتمر مجھے رخصت کی حدیثیں بیان کر یا رخصت کی باتیں بتلا تا کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میں اس کے ساتھ اچھا گمان لے کر ملوں۔

حسن الظن به ← بالرخص لعلي ألقى الله و ← لي أبي حين حضرته الوفاة يا معتمر ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1009

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1010

1009 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثنا محمد بن الحسين حدثنا خالد بن يزيد الكاهلي ثنا أبو سلمة التيمي قال : سمعت عبد الأعلى التيمي يقول : لجار له قد حضره الموت أكثر من جزعك من الموت و أعد لعظيم الأمور حسن الظن بالله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو خالد بن یزید کاہلی نے ان کو ابو سلمیٰ تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالا علیٰ تیمی سے سنا وہ اپنے پڑوسی سے اس وقت کہہ رہے تھے جب اس کی موت کا وقت آ گیا تھا۔ اے ابو فلاں تیری فکر ما بعد موت کے لیے موت کے ذکر سے زیادہ ہو نی چاہیے اور عظیم امور کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کو تیار کر۔

عَبْدِ الأَعْلَى التَّيْمِيِّ ← أبو سلمة التيمي ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْکَاهِلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1010

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1011

1010 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد الأسفراييني ثنا سعيد بن عثمان قال : سمعت السري بن المغلس يقول : الخوف أفضل من الرجاء ما كان الرجل صحيحا فإذا نزل به الموت فالرجاء أفضل من الخوف فقال له رجل كيف يا أبا الحسن ؟ قال : لأنه إذا كان في صحته محسنا عظم رجاءه عند الموت و حسن ؟ ظنه بربه و إذا كان في صحته مسيئا ساء ظنه عند الموت و لم يعظم رجاءه قال البيهقي رضي الله عنه : و إنما أراد به خوفا يمنعه من معصية الله عز و جل و يحمله على طاعته حتى إذا حضره الموت عظم رجاءه في رحمة ربه و كثر طمعه في إحسان الله ثقة منه بوعد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد اسفرائنی نے ان کو سعید بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری بن مغلس سے سنا کہتے تھے کہ خوف امید سے اس وقت افضل ہے جب تک انسان تندرست ہو اور جب اس کے ساتھ موت اتر پڑے تو پھر امید خوف سے افضل ہے ۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ اے ابو الحسین وہ کیسے؟ فرمایا اس لیے کہ جس وقت وہ اپنی صحت میں ہو گا تو خوف کی وجہ سے نیکی کرے گا۔ جب نیکی کرے گا تو موت کے وقت خود بخود اس کی امید بڑی ہو جائے گی تو رب کے ساتھ اس کا گمان بھی اچھا ہو جائے گا۔ اور جب صحت میں گنہگار ہو گا تو موت کے وقت بھی اس کا گمان براہی ہوگا اور امید بھی بڑی نہیں ہو گی۔

السَّرِيَّ بْنَ الْمُغَلِّسِ، ← سعيد بن عثمان ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1011

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1012

1011 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير التاجر بالكوفة ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : سمعت رسول الله - يقول : ـ قبل أن يموت بثلاث ـ : لا يموتن أحدكم إلا و هو يحسن الظن بالله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش قال البيهقي رحمه الله : و أفضل الرجاء ما تولد من مجاهدة النفس و مجانبة الهوى قال : الله عز و جل : { إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله أولئك يرجون رحمة الله والله غفور رحيم }

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر تاجر نے کوفے میں ان کو ابو جعفر دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات سے تین روز قبل فرما رہے تھے ۔ "لایموتن احد کم الا وھو یحسن الظن باللہ"۔ تم لوگوں میں سے جو بھی وفات پائے وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان لے کر ہی وفات پائے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں اعمش نے حدیث سے نقل کیا ہے ۔

قَبْلَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير التاجر

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1012

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1013

1012 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا محمد بن يحيى ثنا هشام بن عمار ثنا سويد ثنا ثابت بن عجلان عن سليم بن عامر قال : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس أحسنوا الظن برب العالمين فإن الرب عند ظن عبده

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو ہشام بن عمارہ نے ان کو سوید نے ان کو ثابت بن عجلان نے ان کو سلیم بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یا ایھاالناس احسنو الظن برب العلمین فان الرب عند ظن عبدہ"۔ اے لوگو! رب العلمین کے ساتھ اچھا گمان کرو بے شک رب تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے پاس ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ1 ← سُوَيْد ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1013

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1014

1013 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ يعني ـ : يقول الله عز و جل أنا عند ظن عبدي بي و أنا معه حين يذكرني و ذكر الحديث أخرجه مسلم من حديث أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران رضی اللہ عنہ نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" یقول اللہ عزوجل انا عند ظن عبدی بی وانا معہ حین یذکرنی"۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ۔ اس کومسلم نے نقل کیا ہے ابو معاویہ سے اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1014

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1015

1014 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال : قال عبد الله و الذي لا إله غيره ما أعطي عبد مؤمن شيئا قط بعد الإيمان بالله عز و جل أفضل من أن يحسن ظنه بالله و الله الذي لا إله غيره لا يحسن عبد بالله ظنه إلا أعطاه الله إياه و ذلك أن الخير بيده

ہمیں خبر دی احمد بن حسن قاضی نے ان کو حاجب بن محمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو حیثمہ نے کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ بندہ مؤمن ایمان کے بعد اللہ کے ساتھ حسن ظن سے بڑھ کر کوئی افضل شئی عطا نہیں کیا گیا اور اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بندہ جب اللہ کے ساتھ حسن ظن کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہی کچھ عطا کرتے ہیں جس کا اللہ کے ساتھ گمان کیا تھا اور یہ اس کے لیے ہر خیر اسی کے ہاتھ میں ہے ۔

خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1015

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1016

1015 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسى ثنا ابن أبي الزناد أخبرني موسى بن عقبة عن رجل من ولد عبادة بن الصامت عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حضر ملك الموت رجلا بموت فشق أعضاءه فلم يجده عمل خيرا شق قلبه فلم يجد فيه خيرا ثم فك عن لحييه فوجد طرف لسانه لاصقا بحنكه يقال لا إله إلا الله قال النبي صلى الله عليه و سلم : فغفر له بكلمة الإخلاص قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمر الله عز و جل بعبد إلى النار فلما وقف على شفتها التفت فقال : أما و الله يا رب إن كان ظني بك لحسن فقال الله عز و جل : ردوه فأنا عند ظن عبدي بي

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق بن ایوب ضبعی نے ان کو حس بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ان کو ابو الزناد نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے اولاد عبادۃ بن صامت کے ایک آدمی سے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ ملک الموت ایک آدمی کے پاس موت لے کر آیا اس کے تمام اعضاء کو چیرا تو اسے ان میں سے کوئی خیر کا عمل نہ ملا جو اس نے کیا ہو ، اس کے بعد اس نے اس کے دل کو چیرا تو اس میں بھی اس نے کوئی بھی خیر نہ پائی پھر اس نے اس کے دونوں جبڑے توڑ کر دیکھا تو اس نے اس کی زبان تالوں سے لگی ہوئی پائی جو کہہ رہی تھی لا الٰہ الا اللہ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی کلمہ اخلاص کے ساتھ اس کی مغفرت کر دی گئی ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ایک بندے کو جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جب وہ جہنم کے کنارے جاکر ٹھہرا تو پیچھے پلٹا اور کہنے لگا اللہ کی قسم ! اے میرا رب میرا گمان تو تیرے بارے میں اچھا تھا اللہ عزوجل نے فرمایا: اس کو واپسی لاؤ میں اپنے بندے کے میرے گمان کے پاس ہوں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رجل من ولد عبادة بن الصامت ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1016

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1017

1016 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا جامع بن سوادة ثنا زياد بن يونس الحضرمي ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن رجل من ولد عبادة بن الصامت عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أمر الله عز و جل بعبدين إلى الناؤ فلما وقف أحدهما على شفتها التفت فقال : أما و الله إن كان ظني بك لحسن فقال الله عز و جل : ردوه فأنا عند ظن عبدي بي فغفر له قال البيهقي رحمه الله 1016 - مكرر ـ : و قد ذكر في حسن الظن بالله تعالى حكايات في باب التوبة في هذا الكتاب و فيما قرأت على أبي عبد الرحمن السلمي عن عبد الله بن خبيق إنه قال : الرجال ثلاثة : رجل عمل حسنة فهو يرجو ثوابها و رجل عمل سيئة ثم تاب فهو يرجو المغفرة و الثالث : الرجل الكذاب يتمادى في الذنوب و يقول أرجو المغفرة و من عرف نفسه بالأساءة ينبغي أن يكون غالبا على رجائه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشراں نے ان کو ابو الحسین بن علی بن محمد مصری نے ان کو جامع بن سودہ نے ان کو زیاد بن یونس حضرمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو زناد نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو ایک آدمی نے اولاد عبادہ بن صامت سے ان کو ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے دو بندوں کو جہنم میں جانے کا حکم دیا، جب ایک ان میں سے جہنم کے کنارے پر جا پہنچا تو پلٹ کر عرض کیا اے اللہ پاک میرا گمان تو تیرے ساتھ نیک تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: واپس کرو اس کو میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے نزدیک ہوں ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ مکرر ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ حسن ظن کے بارے میں اس کتاب کے باب التوبہ میں کئی حکایات مذکور ہیں۔ جو میں نے پڑھا ہے ۔ ابو عبدالرحمٰن سلمی پر ان کو عبداللہ بن خبیق نے انہوں نے فرمایا کہ لوگ تین قسم کے ہیں۔ اول:۔۔۔۔ وہ آدمی جو نیکی کا کام کرتا ہے اور وہ اس پر ثواب کی امید کرتا ہے ۔ دوم:۔۔۔ وہ آدمی جو گناہ کا کام کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے اور وہ مغفرت کی امید کرتا ہے۔ سوم:۔۔۔ جھوٹا آدمی جو گناہوں میں سر کشی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مغفرت کی امید کرتا ہوں۔ اور وہ شخص جو پہچانتا ہے اپنے نفس کو برائی کے ساتھ مناسب ہے کہ اس کی امید پر غالب ہو ۔ ( یعنی خوف) ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رجل من ولد عبادة بن الصامت ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← زياد بن يونس الحضرمي ← جامع بن سوادة ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1017

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1018

1017 - و حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو جعفر محمد بن أحمد ابن سعيد الرازي قال : سمعت العباس بن حمزة ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان الدراني يقول : إذا غلب الرجاء على الخوف فسد القلب

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو عباس بن حمزہ نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے انہوں نے سنا ابو سلیمان دارانی سے وہ کہتے ہیں جب خوف پر امید غالب آ جائے تو دل خراب ہو جاتا ہے ۔

إِذَا غَلَبَ الرَّجَاءُ عَلَى الْخَوْفِ فَسَدَ الْقَلْبُ ← أبا سليمان الدراني ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ ← أبو جعفر محمد بن أحمد ابن سعيد الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1018

chevron_left Previous
1…678…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood