Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2609

2609 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا خلف بن محمد البخاري ثنا حامد بن سهل ثنا أحمد بن منيع أنا أبو يوسف القاضي ثنا أبو حنيفة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن عمر : أنه قال لرجل : اقرأ سورة الحجر قال : أو ليست معك يا أمير المؤمنين قال : إما بمثل صوتك فلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد بخاری نے ان کو حامد بن سہل نے ان کو احمد بن منیع نے ان کو ابو یوسف قاضی نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو ابراہیم بن محمد بن منتشر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر نے کہا انہوں نے ایک آدمی سے کہا کہ آپ سورۃ الحجر پڑھئیے اس نے کہا امیر المومنین کیا آپ کے ساتھ نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد تو ہے مگر تیری جیسی آواز کے ساتھ نہیں ہے ، (یعنی تیری خوبصورت آواز کے ساتھ سننا چاہتا ہوں۔ )

إما بمثل صوتك فلا ← أو ليست معك يا أمير المؤمنين ← لرجل اقرأ سورة الحجر ← عُمَرَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ ← خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2609

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2610

2610 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران و أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد في آخرين قالوا ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن عرفة ثنا إسماعيل بن عياش الحمصي عن بحير بن سعد الكلاعي عن خالد بن معدان عن بشر بن مرة الحضرمي عن عقبة بن عامر الجهني قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة و المسر بالقرآن كالمسر بالصدقة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران اور ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو اسماعیل بن عیاش حمصی نے ان کو بحیر بن سعد کلاع نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو بشر بن مروہ حضرمی نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے ۔زور زور سے تلاوت کرنے والا چھپ کر صدقہ کرنے والے کی مثل ہے ( جو صرف اپنے رب کے سامنے کرتا ہے ۔)

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← بشر بن مرة الحضرمي ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعد الكلاعي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2610

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2611

2611 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أحمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن صالح أن معاوية بن صالح حدثه عن بحير بن سعد : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال البيهقي رحمه الله : ـ و قد قال الله عز و جل : { إن تبدوا الصدقات فنعما هي وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم } و هذا و الله أعلم لأن إخفاءها يكون أبعد من الرياء و كذلك قراءة القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو احمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو بحیر بن سعد نے پھر اس کو اس نے اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مذکور کی مثل امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ "ان تبدو الصدقات فنعما ھی وان تخفوھا وتؤ تو ھاالفقر اء فھو خیر لکم" اگر تم لوگ صدقات کو ظاہر کرو تو یہ بہت اچھی بات ہے ( دوسروں کو بھی ترغیب ہوگی) اور اگر تم اسے چھپاؤ اور اسے فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔ یہ اس لیے ہے کہ اس کا اخفار یاء سے بعید ہے ، چنانچہ قرأت قرآن بھی اسی طرح ہے ۔

بحير بن سعد فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← عبد الله بن صالح أن معاوية بن صالح ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبدوس الطرائفي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2611

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2612

2612 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا ابن فضيل عن أشعث عن محمد بن سيرين : في قوله ( و لا تجهر بصلاتك و لا تخافت بها ) قال كان أبو بكر يخافت بصوته فيقول أناجي ربي و كان يرفع صوته عمر و يقول : أزجر الشيطان و أوقظ الوسنان حتى نزلت هذه الآية فأمر أبو بكر فرفع من صوته شيئا و أمر عمر فخافت من صوته هذا مرسل و قد رويناه موصولا من حديث أبي قتادة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو فضیل نے ان کو شعث نے ان کو محمد بن سرین نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ ولا رجھر بصلاتک ولا تخافت بھا الخ" (اے پیغمبر) اپنی نماز (کی تلاوت کے ساتھ) نہ تو جہر کر اور نہ اس کو زیادہ آہستہ کر بلکہ (جہر اً اور مخفی) کے درمیان راستہ تلاش کر ابن سیرین نے کہا کہ ابو بکر صدیق اپنی آواز کو مخفی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں اپنے رب کے ساتھ شر گوشی کرتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی آواز اونچی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں شطان کو بھگاتا ہوں اور سوتے کو جگاتا ہوں ۔ یہاں تک کہ یہ مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی آواز کو کچھ اونچا کر لے اور عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی آواز کو ہلکا کر لے ۔ یہ حدیث مرسل اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے موصول ابو قتادہ کی حدیث سے۔

كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ ← محمد بن سيرين في قوله و لا تجهر بصلاتك و لا تخافت بها ← أَشْعَثَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2612

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2613

2613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن ابن أبي مليكه عن عبد الله بن أبي نهيك عن سعد قال : أتيته فسألني من أنت فأخبرته عن نسبي فقال : سعد تجار كسبة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ليس منا من لم يتغن بالقرآن قال سفيان يغني يستغني به قال البيهقي رحمه الله : و قد ذهب بعض أهل العلم أي أن المراد به تحسين الصوت بالقرآن و ذلك بأن يقرأه حدرا و تحزينا و استدلوا على ذلك برواية عبد الجبار بن الورد عن ابن أبي مليكة هذا الحديث بإسناد ثم قال : قلت لابن أبي مليكة يا أبا محمد أرأيت إذا لم يكن حسن الصوت قال : يحسنه ما استطاع قالوا : و قوله ليس منا يريد ليس على سنتنا فإن السنة في قراءة القرآن الحدر و التحزين فإذا ترك ذلك كان تاركا لسنته و الله أعلم و ذكر جماعا من الأئمة إن المراد بهذا الخبر الإستغناء بالقرآن و التكثير و الاكتفاء به قال : الله عز و جل { أولم يكفهم أنا أنزلنا عليك الكتاب يتلى عليهم }

ہمیں خبر دی عبداللہ حافط نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن ابی نہیک نے ان کو سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں سعد کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو میں نے ان کو اپنے نسب کے بارے میں بتایا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو شخص قرآن مجید کو سر اور خوبصورت آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔ اور حضرت سفیان نے یتغنیٰ کا معنی یستغنی بہ کا کیا ہے ۔ یعنی قرآن کے ساتھ جو مستغنیٰ نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں یعنی حامل قرآن کو مخلوق سے مستغنیٰ ہو جاتا چاہیے ۔

البيهقي و قد ذهب بعض أهل العلم أي ← سفيان يغني يستغني به ← «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ ← سعد تجار كسبة ← نسبي ← أَتَيْتُهُ فَسَأَلَنِي مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُهُ ← سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2613

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2614

2614 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عباد المكي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسين هبة الله بن محمد المقرئ ببغداد إملاء ثنا الحسن بن علي بن شيب المعمري ثنا محمد بن عباد ثنا حاتم بن إسماعيل عن شريك عن الأعمش عن يزيد بن أبان عن الحسن عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ـ القرآن غني لا فقر بعده و لا غني دونه لفظها سواء و روي هذا الحديث من وجه آخر ضعيف عن الحسن عن أبي هريرة و هذا أشبه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو لحسین ہبۃ اللہ بن محمد مقری نے بغداد میں بطور املاء کے ان کو حسن بن علی بن شبیب معمری نے ان کو محمد بن عباد نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے شریک سے اس نے اعمش سے اس نے یزید بن ابان سے اس نے حسن سے اس نے انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن غناء ہے قرآن کے بعد کوئی فقیر فقر نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی غنا ہے ۔ اس کے الفاظ برابر ہیں۔ یہ حدیث ایک دوسرے طریق ضعیف ہے حسن سے اس نے ابوہریرہ سے مروی ہے اور یہ زیادہ مناسب ہے اور درست ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ← الحسن بن علي بن شيب المعمري ← أبو الحسين هبة الله بن محمد المقرئ ببغداد إملاء ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2614

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2615

2615 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكازري أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد ثنا ابن مهدي عن أبي إسحاق عن سليم بن حنظلة عن عبد الله قال : من قرأ سورة آل عمران فهو غني

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابن مہدی نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو سلیم بن حنظلہ نے ان کو عبداللہ نے وہ فرماتے ہیں جس نے سورۃ آل عمران پڑھی ہے وہ غنی ہے ۔

من قرأ سورة آل عمران فهو غني ← عَبْدُ اللَّهِ ← سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2615

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2616

2616 - قال : أبو عبيد و ثنا الأشجعي عن مسعر ثنا جابر قبل أن يقع فيما وقع فيه عن الشعبي عن عبد الله أنه قال : نعم كنز الصعلوك سورة آل عمران يقوم بها من آخر الليل

ابو عبید نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اشجعی نے ان کو مسعر نے ان کو جابر نے اس سے قبل کہ وہ واقع ہو گئے تھے جس چیز میں واقع ہوئے تھے ۔ انہوں نے شعبی سے اس نے عبداللہ سے انہوں نے کہا۔ درویش لوگوں کا بہترین خزانہ آل عمران ہے جس کے ساتھ رات کے پچھلے حصے میں قیام کرتے ہیں۔

نعم كنز الصعلوك سورة آل عمران يقوم بها من آخر الليل ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← جابر قبل أن يقع فيما وقع فيه ← مِسْعَرٍ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أبو عبيد و

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2616

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2617

2617 - قال : أبو عبيد و عنه الحديث الآخر : ـ : من قرأ القرآن فرأى أن أحدا أعطى أفضل مما أعطي فقد عظم صغيرا و صغر عظيما

ابو عبید نے کاہ کہ انہیں سے دوسری حدیث بھی ہے جو شخص قرآن بھی پڑھتا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ کوئی دوسرا اس سے بہتر لے چکا ہے اس نے گھٹیا چیز کو عظیم اور عظیم چیز کو حقیر اور چھوٹا سمجھا ہے ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2617

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2618

2618 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أخبرني ابن جريج أخبرني يونس بن يوسف عن سليمان بن يسار قال : تفرق الناس عن أبي هريرة فقال : له ناتل أهل الشام يا أبا هريرة حدثنا حديثا سمعته من رسول الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ـ إن أول الناس يقضي فيه يوم القيامة ثلاثة رجل استشهد فأتى به فعرفه نعمته فعرفها فقال ما عملت فيها فقال : قاتلت في سبيلك حتى استشهدت قال : كذبت إنما أردت أن يقال : فلان جريء فقد قيل فيؤمر به فيسحب على وجهه حتى ألقي في النار و رجل تعلم العلم و قرأ القرآن فعرفه نعمته فعرفها فقال ما علمت فيها قال : تعملت العلم و قرأت القرآن و علمته فيك قال : كذبت و إنما أردت أن يقال فلان عالم و فلان قارئ فقد قيل فأمر بعه فسحب على وجهه حتى ألقي في النار و رجل أتاه الله من أنواع المال فأتى به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما عملت فيها قال : ما تركت من شيء أن تحب أن أنفق إلا أنفقت فيه لك قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل فيأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار أخرجه مسلم في الصحيح من حديث خالد بن الحارث و حجاج بن محمد عن ابن جريج قال الحليمي رحمه الله : ـ و أيضا إن قراءة القرآن عبادة و المباهاة بها مراءاة و الرياء فيها كالرياء في غيرها من العبادات و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل حسن بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطا نے ان کو خبر دی ابن جریج نے انکو خبر دی یونس بن یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو سلیمان بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے علیحدہ ہو گئے تھے ۔ سلیمان بن یسار نے ان سے کہا آپ اہل شام سے آگے بڑھیے ان کو چھوڑئیے اے ابو ہریرہ ہمیں حدیث بیان کیجئے وہ حدیث جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنی ہو ۔ انہوں نے فرمایا میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ فرما رہے تھے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ آدمی جو شہید ہو گیا تھا اسے پیش کیا جائے گا کہ میں نے تیری راہ میں قتال کیا تھا یہاں تک کہ میں خود شہید ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ یہ کہیں کہ تو بہادر ہے اور وہ لوگوں نے تیرے بارے میں وہاں کہہ دیا تھا۔ چنانچہ حکم ہوگا اس کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ آدمی جس نے علم سیکھا تھا اور قرآن مجید پڑھا تھا اللہ اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اس سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ دنیا میں کیا عمل کیا تھا وہ کہتے گا کہ میں نے علم پڑھا تھا اور قرآن پڑھا تھا اور تیری رضا کے لیے اسے پڑھایا تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے جھوٹ بولا ہے تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ تو عالم ہے اور تو قاری ہے ۔ اور کہہ دیا گیا تھا۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کا مال دیا تھا اسے لایا جائے گا۔ وہ بھی اللہ کی ساری نعمتیں پہچانے گا اس سے سوال ہو گا کہ دنیا میں کیا عمل کیا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا جہاں پر تو چاہے کہ میں خرچ کروں مگر میں نے ہر اس جگہ پر تیرے لئے خرچ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے جھوٹ بولا ۔ تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ یہ کہیں کہ فلاں بڑا سخی ہے اور وہ کہہ دیا گیا تھا ۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہوگا وہ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں خالد بن حارث اور حجاج بن محمد سے ابن جریج سے نقل کیا ہے ۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثًا ← له ناتل أهل الشام يا أبا هريرة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← تَفَرَّقَ النَّاسُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2618

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2619

2619 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو صالح محبوب بن موسى ثنا الفزاري يعني أبا إسحاق عن سعيد الجريري عن ابن نصره عن أبي فراس قال : خطبنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال في خطبته و لقد أتى علي زمان و ما أدري أحدا أظنه قال يقرأ القرآن يريد به إلا الله و ما عنده و لقد يخيل إلي أن أناسا يقرؤن القرآن يريدون به ما عند الناس فأريد و الله بقراءتكم و أعمالكم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابو صالح محبوب بن موسیٰ ان کو فزاری نے یعنی ابو اسحٰق نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابن نصرہ نے ان کو ابو فراس نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت عمر بن خطابرضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے ۔ میں نہیں جانتا کسی ایک کو بھی جس کو میں گمان کروں کہ کوئی یہ کہے کہ (قرآن صرف اللہ کے لیے پڑھا جائے) بلکہ ان کا مقصود غیر اللہ ہوتا ہے ، اور جوان کے پاس ہے ۔ البتہ تحقیق مجھے تو خیال آتا ہے کہ بے شک لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور ارادہ کرتے ؟ ہیں اس مال کا جو لوگوں کے پاس ہے ۔ اللہ کی قسم میں ارادہ کرتا ہوں تمہاری قرأت کے ساتھ اور تمہارے اعمال کے ساتھ (اللہ کی رضا کا)۔

في خطبته و لقد أتى علي زمان و ما أدري أحدا أظنه ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي فِرَاسٍ ← ابن نصره ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الفزاري يعني أبا إسحاق ← أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2619

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2620

2620 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان العطار ببغداد ثنا أحمد بن سلمان ثنا محمد بن يونس القرشي ثنا يحيى بن كثير العنبري ثنا ابن عبيد عن الحسن : أن هذا القرآن قرأه ناس ثلاثة : ـ قوم اتخذوه بضاعة ينقلونه من بلد إلى بلد لا أكثرهم الله و هم كثيرون و قوم تدانوا من السلطان وراءوا به في أعمالهم و قوم وجدوا فيه دواء قلوبهم على داء قلوبهم فقاموا به في محاريبهم و خفوا في برانسهم فبمثل هؤلاء يدل على الأعداء و يستنزل القطر

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالعزیز بن محمد بن شیبان عطار نے بغداد میں ۔ ان کو احمد بن سلمان نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو یحییٰ بن کثیر عنبری نے ان کو ابن عبیدی نے ان کو حسن نے کہا اس قرآن مجید کو تین طرح کے لوگوں نے پڑھا ہے ۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کوسامان تجارت کے طور پر حاصل کیا ہے وہ اس کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ ان کی تعداد میں اضافہ نہ کرے ایسے لوگ (بہت ہیں) اور دوسرے لوگ وہ ہیں جو بادشاہوں کے قریب ہو گئے ہیں اور انہوں نے ریاکاری کی قرآن کے ذریعے اپنے اعمال میں اور تیسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن میں اپنے دلوں کی دواء پالی ہے انہوں نے اس کو استعمال کیا اپنے دلوں کی بیماری پر پس وہ لوگ اس کو لے کر کھڑے ہوگئے ہیں اپنے حجروں میں (یا مساجد کےمحرابوں میں ) اور وہ لوگ ٹوپیوں میں چھپ گئے ہیں پس ایسے لوگ اعداء کی اور خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں اور بارش پر سوائے ہیں ( یعنی اس کا سبب بنتے ہیں)۔

ابْنُ عُبَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← محمد بن يونس القرشي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان العطار ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2620

chevron_left Previous
1…676869…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood