شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في رفع الصوت بالقرآن إذا لم يتأذى به أصحابه أو كان وحده أو كانوا يستمعون له · حديث 2609
2609 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا خلف بن محمد البخاري ثنا حامد بن سهل ثنا أحمد بن منيع أنا أبو يوسف القاضي ثنا أبو حنيفة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن عمر : أنه قال لرجل : اقرأ سورة الحجر قال : أو ليست معك يا أمير المؤمنين قال : إما بمثل صوتك فلا
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد بخاری نے ان کو حامد بن سہل نے ان کو احمد بن منیع نے ان کو ابو یوسف قاضی نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو ابراہیم بن محمد بن منتشر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر نے کہا انہوں نے ایک آدمی سے کہا کہ آپ سورۃ الحجر پڑھئیے اس نے کہا امیر المومنین کیا آپ کے ساتھ نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد تو ہے مگر تیری جیسی آواز کے ساتھ نہیں ہے ، (یعنی تیری خوبصورت آواز کے ساتھ سننا چاہتا ہوں۔ )
إما بمثل صوتك فلا ← أو ليست معك يا أمير المؤمنين ← لرجل اقرأ سورة الحجر ← عُمَرَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ ← خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on raising the voice of the Qur’an if its companions were not offended by it or if it was alone or they were listening to it · Hadith 2609
