Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2549

2549 - و بهذا الإسناد الأخير : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أراد أن ينام على فراشه من الليل فنام على يمينه ثم قرأ { قل هو الله أحد } مائة مرة إذا كان يوم القيامة يقول الرب عز و جل يا عبدي أدخل الجنة على يمينك

اور اس آخری اسناد کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ارادہ کرے کہ رات کو اپنے بستر پر نیند کرے وہ سیدھی کروٹ سو جائے ۔ پھر ایک سو بار پڑھے قل ھواللہ احد ایک سو بار ۔ جب قیامت کا دن ہو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے میرے بندے جنت میں داخل ہو جا اپنی دائیں طرف۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2549

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2550

2550 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا علان ثنا عيسى بن حماد ثنا الليث بن سعد عن الخليل بن مرة عن الحسن بن أبي الحسن السدوسي من أهل البصرة عن سعيد بن عمرو عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ { قل هو الله أحد } على طهارة مائة مرة كطهره للصلاة يبدأ بفاتحة الكتاب كتب الله له بكل حرف عشر حسنات و محا عنه عشر سيئات و رفع له عشر درجات و بني له مائة قصر في الجنة و رفع له من العمل في يومه ذلك مثل عمل بني آدم فكأنما قرأ القرآن ثلاثة و ثلاثين مرة و براءة من الشرك و محضر الملائكة و منفرة للشيطان و لها دوي حول العرش تذكر بصاحبها حتى ينظر الله إليه فإذا نظر الله إليه لم يعذبه أبدا

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے، ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو علان نے ، ان کو عیسیٰ بن حماد نے ، ان کو لیث بن سعد نے ، ان کو خلیل بن مرہ نے ، ان کو حسن بن ابوالحسن سدوسی نے اہل بصرہ میں سے ، ان کو سعید بن عمرو ، ان کو انس بن مالک نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص پڑھے قل ھواللہ احد باوضو ہو کر ایک سو بار ، جب نماز کی وضو کرتا ہے ابتدا کرے سورہ فاتحہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں لکھیں گے اور دس غلطیاں مٹادیں گے اور ا اس کے لیے دس درجے بلند کردیں گے اور اس کے لیے جنت میں ایک سو گھر بنائیں گےاور اس کے لیے اس دن بنی آدم کی ساری اولاد کے اعمال کے برابر عمل بلند ہوں گے اور وہ ایسے ہو گا جیسے کہ اس نے تینتیس (33) مرتبہ قرآن مجید ختم کیا ہے ، اور شرک سے برأۃ اور فرشتوں کی حاضری اور شیطان سے بھاگنا اور اس کے لیے عرش کے اردگرد بھن بھناہٹ ہوگی ۔ اس شخص کا تذکرہ ہو گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھیں گے جب اس کی طرف دیکھیں گے تو اس کو کبھی بھی عذاب نہیں دیں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الحسن بن أبي الحسن السدوسي من أهل البصرة ← الخليل بن مرة ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← علان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2550

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2551

2551 - و بإسناده عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ { قل هو الله أحد } مائتي مرة غفر له خطيئة خمسين سنة إذا اجتب أربع خصال الدماء و الأموال و الفروج و الأشربة تفرد به الخليل به مرة و هو من الضعفاء الذين يكتب حديثهم

اور اسی اسناد کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو شخص دو سو مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھے ، اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ جب کہ وہ چار خصلتوں سے پرہیز کرتا ہو ۔ ناحق خون بہانے سے ، ناحق مال کھانے سے ، بدکاری سے اور شراب سے ۔ اس روایت میں خلیل بن مرہ اکیلا ہے اور ضعفاء میں سے ہے جن کی حدیث لکھی جاتی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2551

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2552

2552 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله البيهقي ثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ثنا أبو جعفر الحضرمي ثنا شريح بن يونس ثنا إسماعيل بن مجالد عن مجالد عن الشعبي عن جابر قال : قالوا يا رسول الله أنسب لنا ربك فنزل { قل هو الله أحد } إلى آخرها

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن عبداللہ بیہقی نے، ان کو ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ، ان کو جعفر حضرمی نے ان کو شریح بن یونس نے ، ان کو اسماعیل بن مجالہ نے ، ان کو مجالد نے شعبی سے ، ان کو جابر رضی اللہ عنہ نے ، لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے۔ لہذا یہ سورۃ نازل ہوئی قل ھواللہ احد اللہ الصمد آخر تک۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أبو الحسن علي بن عبد الله البيهقي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2552

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2553

2553 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادى و أبو جعفر ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا صدقة بن أبي سهل عن يونس عن الحسن عن معاوية بن معاوية : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان غازيا بتبوك فأتاه جبريل عليه السلام فقال يا محمد هل لك في جنازة معاوية بن معاوية المزني قال : نعم قال جبريل بيده هكذا ففرج له عن الجبال و الآكام فقام رسول الله يمشي و معه جبريل عليه السلام و مع جبريل سبعون ألف ملك عليهم السلام حتى صلى على معاوية بن معاوية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لجبريل يا جبريل بما بلغ معاوية بن معاوية هذا قال : بكثرة قراءته { قل هو الله أحد } كان يقرأها قائما و قاعدا و راقدا و ماشيا و راكبا فبهذا بلغ ما بلغ هذا مرسل و قد رويناه في كتاب دلائل البنوة و في الجنائز من السنن من وجهين آخرين موصلين و هذا المرسل شاهد لهما و قوله عن معاوية يريد من حديث معاوية بن معاوية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے، دونوں نے کہا کہ ان کو ابو االعباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبداللہ بن ابو داؤد منادی نے اور ابو جعفر نے ان کو یونس بن محمد مؤدب نے، ان کو صدقہ بن ابو سھل نے، ان کو یونس نے ، ان کو حسن نے ، ان کو معاویہ بن معاویہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں جہاد کر رہے تھے ۔ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے محمد ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ کو معاویہ بن معاویہ مزنی کا جنازہ پڑھنے سے دلچسپی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔لہذا آپ کے لیے تمام پہار اور ٹیلے سامنے سے ہٹ گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر چلے ۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے ۔ حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ کی نماز جنازہ پڑھائی اب حضور ق نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ اے جبرائیل ! معاویہ بن معاویہ مزنی اس مقام پر کیسے پہنچا؟ اس نے کہا بوجہ کثرت قراءۃ قل ھواللہ احد کے۔ وہ اسے پڑھتے رہتے تھے ۔ کھڑے ، بیٹھے ، چلتے ، سواری پر ۔ بس اسی سبب سے وہ پہنچے تھے جہاں تک پہنچے تھے۔ یہ روایت مرسل ہے ۔ اور ہم نے کتاب دلائل النبوۃ میں اور کتاب الجنائز میں سنن سے دو طریقوں سے اس کو روایت کیا ہے ۔ دونوں طریقے موصول ہیں (یعنی ان میں انقطاع نہیں ہے ) اور اس مرسل روایت کے بھی شاہد ہیں ۔ اور قولہ عن معاویۃ بن یزید من حدیث معاویۃ بن معاویۃ ہے۔

معاوية بن معاوية ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← صدقة بن أبي سهل ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادى و أبو جعفر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2553

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2554

2554 - أخبرنا أبو بكر القاضي أنا حاجب بن أحمد الطوسي ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا يزيد بن هارون أنا أبو محمد بن العلاء الثقفي قال : سمعت أنس بن مالك يقول : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك فطلعت الشمس ذات يوم و نحن بتبوك بنور و شعاع و ضياء لم نرها قبل ذلك فيما مضى فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يعجب من ضيائها و نورها إذ آتاه جبريل عليه السلام بالوحي قال : فقال لجبريل ما للشمس طلعت لها ضياء و نورا و شعاع لم أرها طلعت فيما مضى قال : يا نبي الله مات اليوم معاوية بن أبي معاوية الليثي فبعث الله إليه سبعين ألف ملك يصلون عليه ثم قال : بم ذاك يا جبريل قال كان يكثر تلاوة { قل هو الله أحد } قائما و قاعدا و ماشيا و آناء الليل و النهار فهل لك يا نبي الله أن تصلي عليه ثم ترجع فأقبض لك الأرض ففعل لك الأرض ففعل فصلى عليه ثم رجع

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر قاضی نے ، ان کو حاجب بن احمد بن احمد طوسی نے ، ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ، ان کو یزید بن ہارون نے ، ان کو ابو محمد بن علاء ثقفی نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تبوک کا جہاد کیا۔ ایک دن سورج طلوع ہوا اور ہم تبوک میں تھے ۔ نور اور شعاع اور ضیاء و روشنی ایسی تھی کہ جس کو ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ جو وقت گذرا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کی ضیاء اور نور سے حیران ہونے لگے ۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل امین آئے اور وحی لائے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا سورج کو کیا ہوا جیسے طلوع ہے ۔ آج اس کی ضیاء اور روشنی او رشعاع ایسی ہے جسے میں نے نہیں دیکھا تھا کہ کبھی ایسا سورج طلوع ہوا ہو۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج معاویہ بن ابو معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کا نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس وجہ سے ہے اے جبرائیل ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ وہ کثرت کے ساتھ قل ھواللہ احد کی تلاوت کرتے تھے ۔ بحالت قیام ہو یا بحالت قعود ہو یا چلنے کی حالت ہو۔ دن رات ہو ۔ اے اللہ کے نبی کیا آپ کو دلچسپی ہے کہ آپ اس کا جنازہ پڑھیں پھر واپس جہاد میں ( تبوک میں) لوٹ آئیں تو میں آپ کے لئے زمین کو قبض کر لوں گا۔ جبرائیل علیہ السلام نے ایسا کیا۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ بن ابو معاویہ کا جنازہ پڑھایا۔ پھر واپس تبوک کے غزوے میں لوٹ آئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو محمد بن العلاء الثقفي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2554

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2555

2555 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا إسباط عن نافع عن ابن عمر قال : رمقت النبي صلى الله عليه و سلم عشرين ليلة أو خمس و عشرين ليلة أو شهرا فلم أسمعه في الركعتين قبل الفجر و بعد المغرب يقرأ إلا بـ { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن علی بن عفان نے ، ان کو اسباط نے نافع سے ، ان کو ابن عمر نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیس یا پچیس راتوں کو دیکھا یا پورے ایک مہینے تک دیکھا۔ میں نے فجر سے قبل دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سورۃ نہیں سنی تھی جسے آپ پڑھتے سوائے قل یا ایھا الکافرون اور قل ھواللہ احد۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَسْبَاطٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2555

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2556

2556 - أخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني و بها ثنا أبو حاتم محمد بن حاتم البستي املاء أنا عمران بن موسى ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون عن سعيد الجريري عن عبد الله بن شقيق عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : نعم السورتان هما تقرآن في الركعتين قبل الفجر { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد }

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر محمد بن احمد بن اسمٰعیل طربرانی نے ، ان کو ابو حاتم محمد بن حبان البستی نے بطور املاء کے ، ان کو عمران بن موسیٰ نے ، ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ، ان کو یزید بن ھارون نے ، ان کو سعید بن جریری نے، ان کو عبداللہ بن شقیق نے ، ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے بہترین بس دو سورتیں ہیں جو فجر سے قبل دو رکعت میں پڑھی جائیں ۔ ایک قل یا ایھاالکافرون اور دوسری قل ھواللہ احد۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أبو حاتم محمد بن حاتم البستي املاء ← أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني و بها

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2556

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2557

2557 - أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقري بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا عمرو بن حماد عن عامر بن يساف عن عبد الكريم يرفعه إلى ابن عباس قال : من صلى ركعتين فقرأ فيهما { قل هو الله أحد } ثلاثين مرة بني له ألف قصر من الذهب في الجنة و من قرأها في غير الصلاة بني له مائة قصر في الجنة و من قرأها إذا دخل على أهله أصاب أهله و جيرانه منها خيرا

ہمیں خبر دی ہے القاسم عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق بن نجاد مقری نے کوفہ میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ، ان کو احمد بن حازم نے ، ان کو عمرو بن حماد نے عامر بن یساف سے ، اس نے عبدالکریم سے ، وہ اس کو مرفوع کرتے ہیں ابن عباس کی طرف سے ، انہوں نےفرمایا جس نے دو رکعت پڑھیں اور دونوں میں قل ھواللہ احد تیس مرتبہ پڑھی ، اس کے لیے جنت میں ایک ہزار محل تیار کیے جائیں گے اور جو شخص اسے بغیر نماز کے پڑھے اس کے لیے جنت میں ایک سو محل تیار کیے جائیں گے اور جو شخص اسے اس وقت پڑھے جب اپنے گھر میں آئے اور اس سے اس کے گھر اور پڑوس کو خیر پہنچے گی۔

عبد الكريم يرفعه إلى ابن عباس ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقري بالكوفة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2557

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2558

2558 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان عن عبدة بن أبي لبابة عن زر بن حبيش قال : سألت أبي بن كعب عن المعوذتين قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المعوذتين فقال : قيل لي فقلت : فنحن نقول مثل ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة و غيره محمد سفيان

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ، ان کو سعدان بن نصر نے ، ان کو سفیان نے عبدۃ بن ابی لبابہ سے ، اس کو ذر بن حبیش نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب سے پوچھا معوذ تین ( آخرت دو سورتوں ) کے بارے میں ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے معوذتین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا ہے ۔ میں کہتا ہوں ( وہ بھی یہی کہتے ہیں ) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قتبہ سے اور محمد بن سفیان سے ۔

المعوذتين فقال قيل لي فقلت فنحن نقول مثل ما ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمُعَوِّذَتَيْنِ ← سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2558

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2559

2559 - حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن الهلالي ثنا يعلى بن عبيد ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن عقبة بن عامر الجهني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد أنزلت علي آيات لم أر و لم يرى مثلهن يعني المعوذتين

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو علی بن حسن الھلالی نے ، ان کو یعلی بن عبید نے ، ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ، ان کو قیس نے ان کو عقبہ بن عامر جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ البتہ تحقیق مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی میں نے دیکھی نہیں تھی یا یوں فرمایا کہ ان جیسی دیکھی نہیں تھیں ۔ یعنی معوذتین۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2559

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2560

2560 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد : فذكره أخرجه مسلم من أوجه في الصحيح عن إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو یعلی بن عبید نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اور مسلم نے اس کو کئی طریقوں سے صحیح میں اسماعیل بن ابو خالد سے نقل کیا ہے ۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يعلى بن عبيد فذكره أخرجه مسلم من أوجه في الصحيح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2560

chevron_left Previous
1…626364…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood