Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2465

2465 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس الضبعي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا إسماعيل بن أبي أويس ح و أخبرنا أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد المالكي بمكة ثنا أبو عبد الله بشر بن محمد بن عبد الله المزني أنا محمد بن عبد الرحمن الشامي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الجدعاني من قريش من بني تميم من أهل مكة عن سليمان بن مرقاع الجندي عن هلال عن الصلت أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سورة يس ( تدعى من التوراة ) في التوراة تدعى المعمة قيل و ما المعمة ؟ قال : نعم صاحبها بخير الدنيا و الآخرة و تكابد عنه بلوى الدنيا و تدفع عنه أهوال الآخرة و تدعى الدافعة القاضية تدفع عن صاحبها كل سوء و تقضي له كل حاجة من قرأها عدلت له عشرين حجة و من سمعها عدلت له ألف دينار في سبيل الله من كتبها ثم شربها أدخلت جوفة ألف دواء و ألف نور و ألف يقين و ألف بركة و ألف رحمة و نزعت عنه كل غل و داء تفرد به محمد بن عبد الرحمن هذا عن سليمان و هو منكر

ہمیں خبر دی ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو ابو العباس ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو ذر عبد بن احمدبن محمد مالکی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو عبداللہ بشر بن محمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن شامی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر جدعانی نے قریش سے بنو تمیم سے اہل مکہ سے سلمان بن مرقاع جندی سے ہلال سے اس نے صلت سے یہ کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما تھا ۔ سورۃ یٰسین کو توراۃ میں معمہ کہا جاتا ہے ۔ کہا گیا کہ معمہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں صاحب یٰسین دنیا اور آخرت کی بھلائی اور خیر کے رہتا ہے اور دنیا آزمائشیں اور مصیبتیں اس سے تھک جاتی ہیں اور آخرت کے ہول اور ڈر اس سے رفع ہو تے ہیں اور دفع کرنے والی اور فیصلہ کرنے کے نام سے پکاری جاتی ہے صاحب یٰسین سے ہر برائی دفع ہوتی ہے اور اس کی ہر حاجت پوری ہوتی ہے جو شخص اسے پڑھ لیتا ہے اس کے لیے بیس حج کے برابر ہو جاتی ہے اور جو شخص اس کو سنتا ہے اس کے لیے ہزار دینار اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے برابر ہوتی ہے جو شخص اس کو لکھ کر پھر اس کو پی جائے اس کے پیٹ میں ہزار دو ا داخل ہوتی ہے اور ہزار روشنی اور ہزار یقین اور ہزار برکت اور ہزار رحمت اور کھینچ لیا جاتا ہے اس سے ہر کھوٹ اور ہر بیماری منفرد ہوا اس کے ساتھ محمد بن عبدالرحمٰن اس نے نقل کی سلیمان سے وہ منکر ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2465

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2466

2466 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا المعتمر عن طالوت بن عباد ثنا سويد أبو حاتم عن أبي سليمان التيمي عن أبي عثمان أن أبا هريرة قال : من قرأ يس مرة فكأنما قرأ القرآن عشر مرات و قال أبو سعيد : من قرأ يس مرة فكأنما قرأ القرآن مرتين قال أبو هريرة : حدثت أنت بما سمعت و أحدث أنا بما سمعت

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معتمر نے ان کو طالوت بن عباد نے ان کو سویدابو حاتم نے ابو سلیمان تیمی سے اس نے ابو عثمان سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ جو شخص ایک مرتبہ یٰسین پڑھے گویا اس نے دس بار قرآن پڑھ لیا اور کہا ابو سعید نے جس نے یٰسین پڑھی ایک بار پڑھی گویا کہ اس نے دو بار قرآن پڑھ لیا ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے وہ حدیث بیان کی ہے جو میں نے سننی ہے اور آپ نے وہ حدیث بیان کی ہے جو آپ نے سنی ہے ۔

بِمَا ← و أحدث ← أنت بما ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أبو سعيد من قرأ يس مرة فكأنما قرأ القرآن مرتين ← من قرأ يس مرة فكأنما قرأ القرآن عشر مرات و ← أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← أبي سليمان التيمي ← سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ← طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، ← الْمُعْتَمِرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2466

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2467

2467 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا معمر عن الخليل بن مرة عن أيوب السختياني عن أبي قلابة قال : من حفظ عشر آيات من الكهف عصم من فتنة الدجال و من قرأ الكهف في يوم الجمعة حفظ من الجمعة إلى الجمعة و إن أدركه الدجال لم يضره و جاء يوم القيامة و وجهه كالقمر ليلة البدر و من قرأ يس غفر له و من قرأها و هو جائع شبع و من قرأها و هو ضال هدى و من قرأها و له ضالة وجدها و من قرأها على طعام خاف قلته كفاه و من قرأها عند ميت هون عليه و من قرأها عند امرأة يخشى عليها ولدها يسر عليها و من قرأها فكأنما قرأ القرآن أحد عشر مرة و لكل شيء قلب و قلب القرآن يس هذا نقل إلينا بهذا الإسناد من قول أبي قلابة و كان من كبار التابعين و لا يقوله إن صح ذلك عنه إلا بلاغا

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعد ان بن نصر نے ان کو معمر نے ان کو خلیل بن مرہ نے ان کو ایوب سختیانی نے ان کو ابو قلابہ نے انہوں نے کہا جو شخص سورۃ کہف کی دس آیات یا کر لے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا اور جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھ لے وہ اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک حفاظت میں رہے گا اگر اس کو دجال پا لے تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور قیامت کے دن وہ شخص اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گا۔ اور جو شخص اسے پڑھے اور وہ گمراہ ہو ہدایت پائے گا یا بھٹکا ہو ا پڑھے تو راستہ مل جائے گا اور جو شخص پڑھے جب کہ اس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو ۔ اسے گم شدہ چیز مل جائے گی اور جو شخص طعام یا غلے کی قلت کا کم پڑنے کا خوف کرے اور اسے پڑھے اس کو پورا ہو جائے گا اور جو شخص اسے میت کے پا س پڑھے اس پر موت آسان ہو جائے جو شخص اس کو عورت کے پاس پڑھے جس کے بچہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہو یا عورت کی ہلاکت کاڈر ہو اس پر ولادت آسان ہو جائے گی جو اسے ایسے پڑھے ایسے ہوگا جیسے اس نے گیارہ مرتبہ قرآن پڑھا ہو ۔ ہر شے کا قلب ہوا کرتا ہے اور قرآن کا قلب یٰسین ہے۔ اسی طرح نقل ہوا ہے ہماری طرف سے اس اسناد کے ساتھ ابو قلابہ کے قول سے جب کہ وہ بڑے تابعین میں سے تھے وہ اس کو نہ کہتے اگر یہ صحیح ہو اس سے مگر پہنچانے کے لیے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← الخليل بن مرة ← مَعْمَرٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2467

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2468

2468 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عبد الرحمن السبيعي ثنا الحسين بن الحكم الحيري ثنا الحسن بن الحسين العرني ثنا عمرو بن ثابت بن أبي المقدام عن محمد بن مروان عن أبي جعفر محمد بن علي قال : من وجد في قلبه قسوة فليكتب يس و القرآن الحكيم في جام بزعفران ثم يشربه قال البيهقي رحمه الله : كذا روي في هذه الحكاية و في الحديث قبلها و كان إبراهيم يكره ذلك و لو صح الحديث لم يكن للكراهة معنى إلا أن في صحته نظر و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن سبیعی نے ان کو حسین بن حکم حیری نے ان کو حسن بن حسین عرنی نے ان کو عمرو بن ثابت بن ابو لمقدام نے ان کو محمد بن مروان نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی نے انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے دل میں قسوت اور سختی پائے اسے چاہیے کہ وہ لکھے یٰسین والقرآن الحکیم ایک پیالے میں پھر اس کو پی جائے۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا۔ ایسے ہی روایت کیا گیا ہے اس حکایت میں اور اس سے قبل والی حدیث میں اور ابراہیم اس کو ناپسند کرتے تھے اگر حدیث صحیح ہو تو پھر کراہت کا اور ناپسند کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی صحت میں شک ہو ۔ واللہ اعلم ۔

أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← محمد بن مروان ← عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ، ← الحسين بن الحكم الحيري ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2468

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2469

2469 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا مصعب بن ماهان عن سفيان الثوري عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم : إن رجلا كان يكتب القرآن فيسقيه فقال : إني أرى سيصيبه بلاء

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو مصعب بن ماہان نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو ابراہیم نے کہ ایک آدمی تھا جو کہ قرآن مجید لکھا کرتا تھا اور اسے پی جاتا تھا پھر فرمایا کہ میں یہ خیال کرتا تھا عنقریب اس پر کوئی مصیبت آئے گی۔

إبراهيم إن رجلا كان يكتب القرآن فيسقيه فقال إني أرى سيصيبه بلاء ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2469

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الزمر · حديث 2470

2470 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا الحسين بن الفضل البجلي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد حدثني أبو لبابة قال : سمعت يعني عائشة رضي الله عنها تقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم حتى نقول ما يريد أن يفطر و يفطر حتى نقول ما يريد أن يصوم و كان يقرأ في كل ليلة سورة بني إسرائيل و الزمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح ابن ہانی نے ان کو حسین بن فضل بجلی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ابو لبابہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا تھا وہ فرماتی تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفلی روزے رکھتے رہتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے کہ روزے شاید آپ چھوڑنا نہیں چاہتے اور کبھی چھوڑ دیتے تو ہم یہ کہتے کہ آپ شاید روزے نہیں رکھیں گے اور آپ ہر رات سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ زمرد پڑھ لیا کرتے تھے ۔

أَبُو لُبَابَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel and Zumar · Hadith 2470

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2471

2471 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان و حدثني حبيب عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : قال عبد الله بن مسعود : الحواميم ديباج القرآن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے حبیب نے ابن ابو نحیح سے اس نے مجاہد سے انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ حوامیم قرآن کا دیباج اور ریشم ہیں( یا جوان خوبصورت اونٹنیاں ہیں یعنی بلاغت اور کوبصورتی میں)

عبد الله بن مسعود الحواميم ديباج القرآن ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← حَبِيبٍ ← سفيان و ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2471

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2472

2472 - قال سفيان و حدثني حبيب بن أبي ثابت عن رجل : أنه مر على أبي الدرداء و هو في مسجد أو قال يبني مسجدا فقال في مسجد أو قال ما هذا ؟ فقال : هذا لآل حاميم

سفیان نے کہا اور مجھے حدیث بیان کی ہے حبیب بن ابو ثابت نے ایک آدمی سے کہ وہ حضرت ابو داؤد کے پاس گئے وہ مسجد میں تھے یا یوں کہا کہ وہ مسجد بنارہے تھے انہوں نے فرمایا مسجد میں یا کہا کہ یہ کیا ہے ؟ یعنی کس لیے ابو داؤد نے فرمایا کہ یہ آل حامیم کے لیے ہے۔

ما هذا فقال هذا لآل حاميم ← يبني مسجدا فقال في مسجد أو ← رجل أنه مر على أبي الدرداء و هو في مسجد أو ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سفيان و

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2472

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2473

2473 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفارسي قالا : ثنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا معاوية عن عبد الرحمن بن أبي بكر ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو سهل بن زياد ثنا أحمد بن محمد بن عيسى ثنا أبو حذيفة نا عبد الرحمن بن أبي بكر المليكي عن زرارة بن مصعب عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ حين يصبح آية الكرسي و آيتين من أول حم تنزيل الكتاب من الله العزيز العليم الحكيم حفظ في يومه ذلك حتى يمسي و إن قرأهما حين يمسي حفظ من ليلته تلك حتى يصبح

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے اور ابوبکر احمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو معاویہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ۔ (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو سہل بن زیاد نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو حذیفہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی بکر ملیکی نے ان کو زرارہ بن مسعب نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت آیت کرسی اور دو آیات شروع کی حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم پڑھ گا ۔ اس دن شام تک اس کی حفاظت ہوگی اور اگر ان کو شام کو پڑھ لے اس رات کو صبح تک حفاظت ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2473

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2474

2474 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الغداني ( الهمداني ) ثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا محمد بن أيوب بن جعفر بن أبي سعيد المقبري ( القرشي ) ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك حدثني إسحاق بن إبراهيم و عبد الرحمن بن أبي مليكة عن زرارة بن مصعب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ هاتين الآيتين آية الكرسي و حم الأولى حتى ينتهي { و إليه المصير } حفظ بها حتى يصبح و من قرأها مصبحا حفظ بها حتى يمسي

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو احمد قاسم بن ابو صالح غدانی (ہمدانی ) نے ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے ان وک محمد بن ایوب بن جعفر بن ابو سعید مقبری (قرشی) نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے ان کو اسحاق بن ابراہیم اور عبدالرحمٰن بن ابو ملیکہ نے ان کو زرارہ بن مصعب نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ دو آیات آیت الکرسی اور حم (مومن) والیہ المصیر تک پڑھے رات کو تو صبح تک صبح پڑھے تو رات تک حفاظت اس کی رہے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، ← إسحاق بن إبراهيم و عبد الرحمن بن أبي مليكة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← محمد بن أيوب بن جعفر بن أبي سعيد المقبري القرشي ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الغداني الهمداني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2474

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2475

2475 - أخبرنا علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان ثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا عبد الله بن محمد بن سليمان الحضرمي ثنا محمد بن يزيد ثنا زيد بن الحباب ثنا عمرو بن عبد الله عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ الدخان في ليله أصبح و هو يستغفر له سبعون ألف ملك و كذلك رواه عمر بن يونس عن عمر بن عبد الله بن أبي خثعم و عمر بن عبد الله منكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے علی بن ابراہیم بن حامد بزار نے (ہمدان میں ) ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن سلیمان حضرتمی نے ان کو محمد بن یزید نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عمرو بن عبداللہ نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ابو سلمہ سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا ۔ جو شخص رات کو سورۃ دخان کو پڑھ لے صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کےلیے بخشش مانگتے ہیں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے عمرو بن یونس نے عمر بن عبداللہ بن ابو خثعم سے اور عمر بن عبداللہ منکر الحدیث سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← عبد الله بن محمد بن سليمان الحضرمي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← علي بن إبراهيم بن حامد البزاز

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2475

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2476

2476 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ثنا عبد الله بن أحمد الدحيمي ثنا أبو يحيى بن أيوب ثنا مصعب بن سلام عن هشام بن أبي المقدام عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة الدخان في ليلة جمعة أصبح مغفورا له

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین احمد بن اسحٰق طیبی نے ان کو عبداللہ بن احمد دحیمی نے ان کو ابو یحییٰ بن ایوب نے ان کو مصعب بن سلام نے ہشام بن ابو مقدام سے ان کو حسن نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شب جمعہ میں سورۃ دخان پرھ لے صبح کو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← هشام بن أبي المقدام ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أبو يحيى بن أيوب ← عبد الله بن أحمد الدحيمي ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2476

chevron_left Previous
1…555657…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood