Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2441

2441 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى و محمد بن عبد الوهاب الفراء و محمد بن الحجاج أبو جعفر و جعفر بن محمد قالوا : ثنا يحيى بن يحيى أنا أبو خيثمة عن أبي إسحاق عن البراء قال : كان رجل يقرأ سورة الكهف و عنده فرس مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدور و تدنو و جعل فرسه ينفر منها فلما أصبح أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : تلك السكينة تنزلت للقرآن رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أخرجه البخاري عن عمرو بن خالد عن أبي خيثمة زهير بن معاوية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے اور محمد بن عبدالوہاب فراء نے اور محمد بن حجاج ابو جعفر اور جعفر بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بیان کی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو ابو اسحٰق نے براء سے انہوں نے کہا ۔ ایک آدمی سورۃ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا دو رسیوں دو باگوں کے ساتھ ۔ اس آدمی کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا چنانچہ بادل گھومنے لگا اور قریب آگیا اور گھوڑا اس سے ڈرنے لگا جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سکینہ تھی جو قرآن کی وجہ نازل ہوا ۔ اس مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے اور بخاری نے اس کو عمر و بن خالد سے اس نے ابو خیثمہ زہیر بن معاویہ سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2441

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2442

2442 - و أخبرنا الفقيه أبو القاسم عبيد الله بن محمد بن علي الفامي ببغداد ثنا أحمد بن سلمان النجاد ثنا جعفر الصائغ و الحسن بن سلام قالا : ثنا عفان ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء قال : قرأ رجل سورة الكهف و له دابة مربوطة فجعلت الدابة تنفر فنظر الرجل إلى سحابة قد غشيته أو ضبابة ففزع فذهب إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : بينما ذاك الرجل يقرأ فذكر له فقال : اقرأ فلان فإن السكينة نزلت للقرآن أو عند القرآن أخرجاه من حديث شعبة

اور ہمیں خبر دی ہے فقیہ ابوالقاسم عبید اللہ بن محمد بن علی الفامی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان نجاد نے ان نے ان کو جعفر ضائع نے اور حسن بن سلام نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی عفان نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحٰق نے انہوں نے کہا میں سنا براء سے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے سورۃ کہف پڑھی اور اس کا جانور بندھا ہوا تھا۔ جانور بدکنے لگا آدمی نے ایک بادل کی طرف دیکھا جس نے اس کو چھپا لیا تھایا کہر اور دھندنے ۔ پس گھبرا گیا لہذا گھبرا کر حضور کی خدمت میں گیا اور ماجرا بتایا کہ میں پڑھ رہا تھا اور ایسے ایسے ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پڑھتے رہنا چاہیے تھا اسے فلا نے بے شک سکینہ نازل ہوئی تھی قرآن کے لیے قرآن کے پاس ۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث شعبہ سے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جعفر الصائغ و الحسن بن سلام ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← الفقيه أبو القاسم عبيد الله بن محمد بن علي الفامي ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2442

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2443

2443 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني و أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب من أصله قالوا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يزيد بن هارون أنا همام بن يحيى عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من الدجال أخرجه مسلم من حديث همام و هشام و شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے اور ابو القاسم حسن بن محمد بن حبیب نے اپنی اصل کتاب سے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ہمام بن یحییٰ نے ان کو قتادہ نے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو معدان بن ابوطلحہ نے ان کو ابو الدرداء نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ جو شخص سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ اس کے مسلم نے نقل ہے ہمام اور ہشام اور شعبہ کی روایت سے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2443

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2444

2444 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم ثنا أبو هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري قال : من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه و بين البيت العتيق هذا هو المحفوظ موقوف و رواه نعيم بن حماد عن هشيم فرفعه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کواحمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ھشیم نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو ابو مجلز نے ان کو قیس بن عباد نے ان کو ابو سعید خدری نے فرماتے ہیں کہ جو شخص سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھے گا اس کے لیے ایک نور روشنی کرے گا اس کے اور بیت اللہ کے درمیان یہی محفوظ ہے موقوف ہے اور اس کو روایت کیا ہے نعیم بن حماد نے ھشیم سے اس نے اسے مرفوع کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أبو هاشم ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2444

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2445

2445 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا : أنا أبو علي حامد بن محمد الرفا ثنا أبو منصور سليمان بن محمد بن الفضل بن جبريل البجلي بنهروان ثنا يزيد بن مخلد بن يزيد ثنا هشيم : فذكره بإسناده مثله مرفوعا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو علی حامد بن محمد رفاء نے ان کو ابو منصور سلیمان بن محمد بن فضل بن جبریل بجلی نے نہروان میں ان کو یزید بن مخلد بن یزید نے ان کو ہثیم نے پھر اس کو ذکر اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل بطور مرفوع روایت کے۔

هشيم فذكره بإسناده مثله مرفوعا ← يزيد بن مخلد بن يزيد ← أبو منصور سليمان بن محمد بن الفضل بن جبريل البجلي بنهروان ← أبو علي حامد بن محمد الرفا ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2445

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2446

2446 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ ثنا عبد الله بن سعد ثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب ثنا أبو قدامة ثنا يحيى بن كثير ثنا شعبة عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ سورة الكهف كما أنزلت كان له نورا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو عبداللہ بن سعد نے ان کو احمد بن نضر بن عبدالوہاب نے ان کو ابو قدامۃ نے ان کو یحییٰ بن کثیر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو ابو مجلز نے ان کو قیس بن عبادنی ان کو ابو سعید خدری نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص سورۃ کہف ایسے پڑھے جیسے نازل ہو ئی ہے اس کے لیے قیامت کے دن روشنی ہو گی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو قُدَامَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2446

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2447

2447 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل أنا أبو شعيب الحراني ثنا علي بن المديني ثنا جرير بن عبد الحميد عن المغيرة عن أم موسى قالت : كان الحسن بن علي إذا آوى إلى فراشه بالليل أتى بلوح فيه بسورة الكهف فيقرأها قالت فكان يطاف بذلك اللوح معه حيث طاف من نسائه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل نے ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو مغیرہ نے ام موسیٰ سے وہ کہتی ہے کہ حسن بن علی جب بستر پر آتے رات کے وقت تو ایک تختی لائی جاتی جس میں سورۃ کہف تھی ۔ وہ اسے پڑھ لیتے تھے فرماتی ہیں کہ یہ لوح ان کے ساتھ گھمائی جاتی تھی وہ جہاں جہاں اپنی عورتوں کے پاس جاتے تھے ۔

أُمِّ مُوسَى، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2447

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2448

2448 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصبغي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا ابن أبي أويس حدثني محمد بن عبد الرحمن الجدعاني عن سليمان بن مرقاع عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قراءة سورة الكهف التي تدعى في التوراة الحائلة تحول بين قارئها و بين النار تفرد به محمد بن عبد الرحمن هذا و هو منكر

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق صبغی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابن ابی اویس نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عبدالرحمٰن جدعانی نے ان کو سلیمان بن مرقاع نے ان کو عمر بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ کہف کا پڑھنا جس کو توراۃ میں الحائلہ کے نام کے ساتھ پکاری جاتی ہے ۔ وہ حائل ہو جاتی ہے اس کو پڑھنے والے اور جہنم کے درمیان ۔ محمد بن عبدالرحمٰن اس کے ساتھ منفرد ہے اور وہ منکر ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سليمان بن مرقاع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَدْعَانِيُّ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّبُغِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2448

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء · حديث 2449

2449 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانس ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت عبد الرحمن بن يزيد يقول : سمعت ابن مسعود يقول في بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء أنهم من العتاق الأول و هن من تلادي رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس و العتاق جمع عتيق و العرب تجعل كل شيء بلغ الغاية في الجودة عتيق يريد تفضيل هذه السور لما تضمن من ذكر القصص و أخبار الأنبياء عليهم الصلاة السلام و أخبار الأمم و التلاد ما كان قديما من المال يريد أنهما من أوائل السور المنزلة في أول الإسلام لأنها مكية و أنها من أول ما قرأه و حفظه من القرآن و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمدیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانس نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن یزید سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابن مسعود سے وہ فرماتے تھے کہ سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ کہف ، سورۃ مریم ، سورۃ طہ ، سورۃ انبیاء ، یہ ساری سورتیں عتاق اول ہیں جو اپنی جودۃ میں اعلیٰ درجے پر ہیں اور قرآن کی پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے آدم بن ابو ایاس نے ۔ عتاق تقیق کی جمع ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ وہ ہر اس چیز کو جو جودۃ میں اچھی ہونے میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اس کو عتیق کہتے تھے گویا کہ بقول ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان سورتوں میں لفظی اور معنوی اعلیٰ درجے کی جودۃ ہے فصاھت ہے بلاغت ہے ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ مذکورہ الفاظ سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سورتوں کی فضیلت مراد لی ہے جو بوجہ اس کے کہ یہ سورتیں مشتمل ہیں ذکر قصص پر اور اخبار انبیاء علیہم السلام پر اور اجتہاد و الم پر اور حلاد کہتے ہیں اس مال کو جو قدیم اور پرانا ہو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد ہے کہ یہ پانچوں سورتیں ان پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں جو ابتداء اسلام میں نازل ہوئی تھیں کیونکہ یہ پانچوں سورتیں مکی ہیں اور ان سورتوں میں سے ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے پہلے پڑھا تھا اور حفظ کیا تھا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جعفر بن محمد القلانس ← أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel, the Cave, Maryam, Taha, and the Prophets · Hadith 2449

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء · حديث 2450

2450 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا يحيى بن محمد بن عمران البالسي و عبد الله بن موسى بن الصقر و أحمد بن موسى بن الحوية و عمران بن موسى السجستاني ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا عبد الله بن الصقر بن موسى بن حلال و خشنام بن بشر بن العنبر قالوا : ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي بمكة عن إبراهيم بن المهاجر بن مسمار حدثني عمر بن حفص بن ذكوان عن مولى الحرقة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك و تعالى قرأ طه و يس قبل أن يخلق آدم بألف عام فلما سمعت الملائكة القرآن قالوا : طوبى لأمة ينزل هذا عليها و طوبى لا جواف تحمل هذا و طوبى لألسن تكلم بهذا قوله : قرأ يعني تكلم بهما و أفهمهما ملائكته

ہمیں خبر دی ابو مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو یحییٰ بن محمد بن عمران بالسی نے اور عبداللہ بن موسیٰ بن صقر نے اور احمد بن موسیٰ بن الحویہ اور عمران بن موسیٰ سجستانی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عمرو بن مطر نے ان کو عبداللہ بن صقر بن موسیٰ بن حلال نے اور خشام بن بشر بن عنبر نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابراہیم بن منذر حزامی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابراہیم بن جہاجرین مسمار نے ان کو عمر بن حفص بن ذکوان نے ان کو مولیٰ الحرقہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے پڑھا تھا طہ کو یٰسین کو آدم کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل جب فرشتوں نے قرآن مجید سنا تو بولے مبارک ہو اس امت کے لیے جس پر ایسا قرآن اترے گا اور مبارک ہوں گے وہ سینے جو اس کو اٹھائیں گے اور مبارک ہوں گی وہ زبانیں جو اس کو تکلم کریں گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول ۔ قراء۔ اس کا مطلب ہے ان دونوں کے ساتھ کلام فرمایا اور ان دونوں سورتوں کو فرشتوں کو سمجھایا تھا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel, the Cave, Maryam, Taha, and the Prophets · Hadith 2450

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2451

2451 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي ثنا يحيى بن عثمان بن صالح السهمي حدثني أبي ثنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن ابن شهاب حدثني حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن المسور بن مخرمة أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : تعلموا سورة البقرة و سورة النساء و سورة المائدة و سورة الحج و سورة النور فإن فيهن الفرائض

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بن عبداللہ بغدادی نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح سہمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن وہب نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مسور بن مخزمہ سے انہوں نے سنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے کہ سورۃ بقرہ ، سورۃ نساء اور سورۃ مائدہ، سورۃ حج اور سورۃ نور کو سیکھو بے شک ان میں فرائض یعنی احکامات ہیں۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2451

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2452

2452 - و روينا عن حصين عن أبي عطية قال : كتب عمر أو قال عمر تعلموا سورة براءه و علموا نساءكم سورة النور

ہمیں نے روایت کی ہے حصین سے اس نے ابو عطیہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے لکھایا فرمایا کہ سورۃ برأۃ ۔ تم لوگ خود سیکھو اور اپنی عورتوں کو سورۃ نور سکھاؤ۔

عمر تعلموا سورة براءه و علموا نساءكم سورة النور ← عُمَرَ، أَوْ ← أَبِي عَطِيَّةَ ← حُصَيْنٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2452

chevron_left Previous
1…535455…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood