Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4859

4859 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور نا أحمد بن سلمة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن إبراهيم بن الفضل نا أحمد بن سلمة نا قتيبة بن سعيد نا الليث عن ابن الهاد عن سعد بن إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من الكبائر شتم الرجل والديه فقالوا : يا رسول الله هل يشتم الرجل والديه ؟ قال : نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے’’ ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کومحمد بن ابراہیم بن فضل نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث نے ان کو ابن ھاد نے ان کو سعد بن ابراہیم نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمر و بن العاص نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالیاں دے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں یہ گالی دیتا ہے کسی کے باپ کو پھر وہ پلٹ کر گالی دیتا ہے اس کے والد کو۔ یہ گالی دیتا کسی کی ماں کو اور وہ گالی دیتا ہے اس کی ماں کو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے بیچ میں حبیبہ سے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4859

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4860

4860 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عبيد الله يعني ابن أبي بكر عن أنس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكبائر فقال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و شهادة الزور أو قال : قول الزور أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی استاذ ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عبیداللہ نے یعنی ابن ابوبکر نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ کسی کوقتل کرنا ۔ جھوٹی گواہی دینا۔ یا شہادت کی جگہ قول زور کہا تھا۔ بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے شعبہ کی روایت ہے۔

قول الزور أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة ← الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و شهادة الزور أو ← الْکَبَائِرُ ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← عبيد الله يعني ابن أبي بكر ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4860

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4861

4861 - فروينا عن حبيب بن النعمان الأسدي عن خريم بن فاتك قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قائما فقال : عدلت شهادة الزور بالشرك بالله ثلاث مرات ثم تلا هذه الآية : { فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور } { حنفاء لله غير مشركين به } أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا محمد و يعلى ابنا عبيد عن سفيان بن محمد العصفري عن أبيه عن حبيب فذكره

ہم نے روایت کی ہے۔ حبیب بن نعمان اسدی سے ان کو حریم بن فاتک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی جب ہٹے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ کہ جھوٹی گواہی دینا اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے برابر ہے۔ تین بار آپ نے یہ اعلان فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ فاجتنبو الرجس من الاوثان . واجتنب اقول الزور حنفاء لله غير مشركين به. بچو تم بتوں کی گندگی سے اور بچو تم جھوٹی مات کرنے سے دراں حالیکہ یکسو ہونے والے اللہ کے لئے اس کے ساتھ شرک نہ کرنے والے۔ ( ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی بات کرنے کو شرک سے اجتناب کے ساتھ اور شرک نہ کرنے کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے ۔ مترجم) ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغز رہ نے ان کو خبر دی محمد نے اور یعلی بن عبید نے۔ ان کو سفیان بن محمد عصفری نے ان کو ان کے والد نے ان کو حبیب نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، ← حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، ← فروينا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4861

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4862

4862 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا الثوري عن عاصم بن بهدلة عن وائل بن ربيعة قال : سمعت عبد الله يقول : عدلت شهادة الزور الشرك بالله ثم قرأ هذه الآية : { فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور } و أما الملق فإنه مذموم إلا في طلب العلم لما جاء من أنه لا حسد و لا ملق إلا في العلم أو في طلب العلم قال الشيخ أحمد و هذا الحديث إنما يروي بإسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابومحمد بن عبداللہ یحییٰ کسری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ان کو عاصم بن بھدلہ نے ان کو وائل بن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبداللہ سے وہ کہتے تھے کہ جھوٹی شہادت دینا شرک باللہ کے برابر ہے پھر انہوں نے بھی یہی مذکورہ آیت پڑھی۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتبنوا قول الزور. بہر حال خوشامد کرنا مذموم ہے مگر طلب علم میں اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ: لاحسد ولا ملق الا في العلم اوطلب العلم کی اور خوشاد کرتا جا رہی ہے حرم میں باطل علم میں: کہ حسد کرنا اور خوشامد کرنا جائز نہیں ہے مگر علم میں یا طلب علم میں۔ شیخ احمد نے کہا کہ یہ حدیث مروی ہے اسنادضعیف کے ساتھ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وَائِلِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4862

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4863

4863 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا محمد بن يزيد السلمي نا حفص بن عبد الرحمن نا الحسن بن دينار عن خصيب بن جحدر عن النعمان بن سالم عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس من خلق المؤمن التملق و لا الحسد إلا في طلب العلم الحسن بن دينار ضعيف بمرة و كذلك خصيب بن جحدر و الله أعلم و روي من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن دلویہ وقاق نے ان کو محمد بن یزید سلمی نے ان کو حفص بن عبدالرحمٰن نے ان کو حسن بن دینار نے ان کو نصیب بن جحدر نے ان کو نعمان بن سالم نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی فطرت میں سے نہیں ہے چاپلوسی کرنا اور نہ ہی حسد کرنا ہاں طلب علم کے لئے (درست ہے)۔ حسن بن دینار ضعیف ہے کئی بار۔ اور اسی طرح خصیف بن جحدر بھی۔ واللہ اعلم اور ایک دوسری ضعیف وجہ سے بھی مروی ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← خصيب بن جحدر ← الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4863

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4864

4864 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا معاذ بن المثني نا عمران بن الحصين نا ابن علاثة عن الأوزاعي عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ملق و لا حسد إلا في طلب العلم قال الحليمي رحمه لله : و الملق من أفعال أهل الذلة و الضعة و مما يزري بفاعله و يدل على سقاطته و قلته مقدار نفسه عنده و ليس لأحد أن يهين نفسه كما ليس لغيره أن يهينه

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤد نے رزاز سے کہ ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو معاذ بن مثنی نے ان کو عمران بن حصین نے ان کو ابن علاثہ نے اوزاعی سے اس نے زہری سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوشامد اور چاپلوسی کرنا اور حسد کرنا طلب علم کے سوا نہیں ہے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چاپلوسی کرنا افضل ذلت و رسوائی میں سے ہے جو اس کے کرنے والے کی کم عزتی یا بے عزتی کرتی ہے اور اس کے گرے پڑے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور اپنے آپ کو اس کے نزدیک حقیر و ذلیل دکھانے کے لئے ہوتی ہے جب کہ جیسے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی توہین کرے اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ کوئی اپنے نفس کو کسی کے سامنے خود ذلیل کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابن علاثة ← عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4864

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4865

4865 - ـ : قال : و جاء إذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب و ذلك لأن الأغلب أنهم يكذبون فيغرون الممدوح فإذا حثى التراب في وجه المادح فقد أمن أن يفتروا و آيس المادح من أن يغره

شیخ کہتے ہیں اسی لئے حدیث میں آیا ہے۔ جب اپنی بہت مدح و تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ پر مٹی کی ٹھی ڈال دو۔ یہ اس لئے فرمایا کہ زیادہ غالب گمان یہی ہے کہ وہ جھوٹ بولیں گے لہذا وہ اس طرح اس شخص کو مغرور کر دیں گے جس کی وہ تعریف کریں گے۔اور وہ دھوکہ اور فریب خوردہ ہونے کا نقصان اٹھائے گا۔ جب تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ڈالے گا تو وہ اس بات سے امن میں واقع ہو جائے گا کہ وہ اس کو فریب دے سکیں اور یہ فریب اور دھوکہ کھا سکے اور تعریف کرنے والا اس کو دھوکہ دینے سے مایوس ہو جائے گا۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4865

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4866

4866 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسين بن سفيان نا عثمان بن أبي شيبة نا عبد الله الشجعي عن سفيان الثوري عن الأعمش و منصور عن إبراهيم عن همام بن الحارث عن المقداد بن الأسود قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رأينا المداحين أن نحثوا في وجوههم التراب رواه مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسین بن سفیان نے ان کو عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو عبداللہ اشجعی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو اعمش نے اور منصور نے ان کو ابراہیم نے ان کو ہمام بن حارث نے ان کو مقدام بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ نے حکم دیا تھا کہ جب ہم زیادہ مدح کرنے والوں کو (یعنی خوشامدیوں کو) دیکھیں تو ان کے منہ پر مٹی ڈال دیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عثمان بن ابوشیبہ سے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الأعمش و منصور ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عبد الله الشجعي ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4866

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4867

4867 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا أحمد بن إسحاق الحضرمي نا حماد بن سلمة عن علي بن الحكم عن عطاء ابن أبي رباح قال : مدح رجل ابن عمر فحثى التراب نحو فيه و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو احمد بن اسحٰق حضرمی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن حکم نے ان کو عطا بن ابورباح نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر کی تعریف کی انہوں نے ان کی طرف مٹی کی مٹھی اٹھا کر پھینک دی تھی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا جب تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ پر مٹی پھینک دو۔

مدح رجل ابن عمر فحثى التراب نحو فيه و ← عطاء ابن أبي رباحٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4867

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4868

4868 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن المومل بن الحسن نا الفضل بن محمد نا محمد بن الصباح نا إسماعيل بن زكريا عن يزيد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجل يثني على رجل و يطريه في المدحة فقال : لقد أهلكتم أو قطعتم ظهر الرجل : رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن الصباح

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن مؤمل بن حسنیٰ نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے ان کو یزید بن عبداللہ بن ابوبردہ نے ان کو ابوبردہ نے ان کو ابوموسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو ایک آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور اس کی مدح کرنے میں مبالغہ کر رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق تم لوگوں نے ہلاک کر دیا ہے اس آدمی کو یا یوں فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے آدمی کی پیٹھ کاٹ دی ہے (یعنی کمر توڑ دی ہے۔) اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن صباح سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهَرَ الرَّجُلِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصحِيحِ، ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4868

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4869

4869 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد نا يحيى بن جعفر بن أبي طالب نا علي بن عاصم نا خالد الحذاء ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم نا أبي نا يحيى بن يحيى أنا يزيد بن زريع عن خالد الحذاء عن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه قال : مدح رجل رجلا عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ويحك قطعت عنق أخيك مرارا إذا كان أحدكم مادحا أخاه لا محالة فليقل أحسب فلانا و الله حسيبه و لا أزكي على أحدا أحسبه أن كان يعلم كذا و كذا رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أخرجاه من حديث شعبة عن خالد و في رواية علي لو سمعها ما أفلح بعدها أبدا قال : فليقل أحسب فلانا كذا و كذا إذا علم منه ذلك و الله أعلم به و لا أزكي على الله أحدا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن اسحاق خراسانی نے بغداد میں ان کو یحییٰ بن جعفر ابوطالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو خالد حذاء نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابراہیم بن عصم بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو خالد حذاء نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے رسول اللہ کے سامنے دوسرے آدمی کی تعریف کی۔لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ہے۔ بار بار یہ فرماتے رہے جب بھی تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی لامحالہ تعریف کرنا چاہے تو یوں کہہ دے میں گمان کرتا ہوں فلاں کو۔ اللہ اس کا حساب لینے والا ہے میں اللہ پر کسی کو پاک قرار نہیں دے سکتا میں گمان کرتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے جانتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ سے اور بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے اس نے خالد سے...... اور علی کی ایک روایت میں ہے کہ (تم نے تعریف کر کے) اس بندے کی گردن کاٹ دی ہے...... اور اگر وہ اس تعریف کو سن لیتا تو وہ اس کے بعد کبھی بھی فلاح نہ پاسکتا فرمایا کہ (تعریف کرنے والے کو) چاہئے کہ یہ کہے کہ میں فلاں کو ایسا ایسا گمان کرتا ہوں۔ اس وقت جب کہنے والا کسی بندے کے بارے میں اسی خوبی کو جانتا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں بہتر جانتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی ایک کو بھی پاک نہیں کہہ سکتا۔

يحيى بن يحيى و أخرجاه من حديث شعبة ← مدح رجل رجلا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4869

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4870

4870 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يزيد بن هارون نا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن معبد الجهني قال : سمعت معاوية و كان قليل الحديث عن النبي صلى الله عليه و سلم و قل ما خطب إلا ذكر هذا الحديث في خطبته سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن هذا المال حلوة خضرة فمن أخذه بحقه بارك الله له فيه و من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين و إياكم و المدح فإنه من الذبح

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ المنادی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو معبد جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاویہ سے اور وہ نبی کریم سے بہت احادیث روایت کرنے والے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ وہ خطبہ دیتے ہوں مگر یہ حدیث اپنے خطبے میں ذکر نہ کرتے ہوں بلکہ ہمیشہ یہ حدیث ذکر کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔ ان هذا المال حلوة خضرة فمن اخذه بحقه بارك اللّٰه له فيه ومن يرد اللّٰه به خيراً يفقهه في الدين. واياكم والمدح فانه من الذبح۔ بے شک یہ مال (دنیا) میٹھا ہے سرسبز (اور دلکش) ہے جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے (یعنی مال کا حق بھی ادا کرتا ہے) اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس میں برکت دیتا ہے۔ اور جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتے ہیں اس کو دین میں سمجھ عطا کرتے ہیں۔اور بچاؤ تم اپنے آپ کو یعنی لوگوں کی تعریف کرنے سے کیونکہ وہ ذبح کرنا ہے (یعنی ذبح کرنے کی طرح ممدوح کے لئے خطرناک ہے)۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← هذا الحديث في خطبته ← النبي صلى الله عليه و سلم و قل ما خطب إلا ← معاوية و كان قليل الحديث ← مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4870

chevron_left Previous
1…515253…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood