Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4847

4847 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى نا الليث عن يونس عن ابن شهاب قال ابن المسيب إن أبا هريرة قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الحلف منفعة للسلعة ممحقة للربح رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير و أخرجه مسلم من حديث ابن وهب و غيره عن يونس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ابن مسیّب کہتے ہیں کہ بے شک ابوہریرہ نے فرمایا کہ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ قسم سامان تجارت کو فروخت کرواتی ہے مگر منافع کی برکت مٹاتی ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا یحییٰ بن بکیر سے۔اور مسلم نے اس کو نقل کیا حدیث ابن وھب سے وغیرہ سے اور یونس سے۔

يُونُسَ ← يحيى بن بكير و أخرجه مسلم من حديث ابن وهب و غيره ← الحلف منفعة للسلعة ممحقة للربح رواه البخاري في الصحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4847

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4848

4848 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني مكرم بن أحمد بن مكرم القاضي نا أبو العباس أحمد بن سعيد الجمال نا عبد الله بن بكر السهمي نا حاتم بن أبي صغيرة عن عمرو بن دينار عن البراء بن عازب قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى البقيع فقال : يا معشر التجار حتى إذا إشرءبوا قال : إن التجار يحشرون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى و بر و صدق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو مکرم بن احمد بن مکرم قاضی نے ان کو ابوالعباس احمد بن سعید جمال نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو حاتم بن ابوصغیرہ نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے بقیع کی طرف اور فرمایا اے تاجروں کی جماعت گردن اوپر اٹھاؤ (یعنی میری طرف دیکھو) بے شک تاجر اٹھائیں گے قیامت کے دن دراں حالیکہ وہ فاجر و گنہگار ہوں گے سوائے اس تاجر کے جس نے تقویٰ اختیار کیا(بچ گیا) اور نیک رہا۔ اور سچ بولا۔

يا معشر التجار حتى إذا إشرءبوا ← أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى البقيع ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أبو العباس أحمد بن سعيد الجمال ← مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُكْرَمٍ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4848

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4849

4849 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان عن ابن خيثم عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع الأنصاري ثم الزرقي عن أبيه عن جده رفاعة : أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المصلى فوجد الناس يتسابقون فقال : يا معشر التجار فاستجابوا له و رفعوا إليه أعناقهم و أبصارهم فقال : إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى و بر و صدق

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابن خثیم نے ان کو اسماعیل بن عبید بن رفاعہ بن رافع انصاری نے ثم الزرقی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا رفاعہ نے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ کی طرف نکلے انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے پایا تو حضور نے فرمایا۔ اے تاجر برادری لہذا تاجروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا اور اپنی گردنیں اور نگاہیں اوپر اٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا بے شک تاجر قیامت کے دن نافرمان اٹھائے جائیں گے سوائے ان کے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا اور نیک سلوک کیا ہوگا اور سچ بولا ہوگا۔

أَبِيهِ ← إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع الأنصاري ثم الزرقي ← ابن خيثم ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4849

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4850

4850 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا وهب بن جرير نا أبي قال : سمعت الأعمش يحدث عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يكلمهم الله عز و جل و لا ينظر إليهم يوم القيامة الآية رجل بايع لأمير لا يبايعه إلا للدنيا إن أعطاه وفى له و إن لم يعط لم يف له و رجل باع سلعة بعد العصر فحلف لقد أعطيت بها كذا و كذا كاذبا فباعها على ذلك و رجل على فضل ماء في الطريق فيمنعه ابن السبيل أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اعمش سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابوصالح سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ تین طرح کے لوگ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کلام بھی نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کو نہیں دیکھے گا ایک تو وہ آدمی جس نے کسی امیر کے ہاتھ پر بیعت کی مگر صرف دنیا کے لئے کی۔ کہ اگر اس کو وہ دے گا تو یہ اس کے ساتھ وفا کرے گا ورنہ نہیں کرے گا۔ دوسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد یعنی دن چھپنے کے قریب اپنا سامان بیچتا ہے اور قسم کھاتا ہے کہ میں نے اتنے اتنے میں خریدی ہے حالانکہ جھوٹ بولتا ہے۔ پھر اسی جھوٹ اور جھوٹی قسم کے مطابق اس کو بیچتا ہے۔ تیسرا وہ آدمی جو فاضل پانی پر قابض ہے راستے پر بھی ہے مگر وہ مسافروں کو استعمال نہیں کرنے دیتا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4850

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4851

4851 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه نا جعفر الصائغ نا شعبة حدثني علي بن مدرك قال : سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير يحدث عن خرشة بن الحر عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يكلمهم الله و لا ينظر إليهم يوم القيامة و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم قلت : يا رسول الله من هؤلاء خابوا و خسروا ؟ فأعادها ثلاث مرات قال المسبل و المنان و المنفق سلعته بالحلف الكاذب أو الفاجر أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان بن حسن فقیہ نے ان کو جعفر صائغ نے ان کو شعبہ نے ان کو علی بن مدرک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں خرشہ بن حر سے وہ ابوذر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا تین شخص ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا نہ ہی ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، میں نے کہا یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے؟ وہ ناکام و نامراد ہوگئے؟ اس کو تین بار آپ نے دہرایا۔فرمایا کہ ایک تو ٹخنوں سے نیچے تہہ بند لٹکانے والا۔ نیکی کسی کے ساتھ کر کے احسان جتلانے والا۔جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان بیچنے والا۔حلف کاذب فرمایا تھا یا حلف فاجر کہا تھا۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث شعبہ سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← جَعْفَرٌ الصَّائِغُ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4851

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4852

4852 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا سعيد بن عمرو نا حفص بن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم أشمط زان و عائل مستكثر و رجل جعل الله عز و جل له بضاعة فلا يبيع إلا بيمينه و لا يشتري إلا بيمينه

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسین محمد بن حسین سراج نے ان کو مطین نے ان کو سعید بن عمرو نے ان کو حفص بن عاصم نے ان کو ابوعثمان نے ان کو سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین شخص ہیں قیامت میں نہ تو اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا کالے اور سفید بالوں والا زانی (یا بوڑ ھازانی) عیالدار زیادہ عیال مانگنے والا۔ وہ آدمی جس کو اللہ نے مال اسباب دیا ہے مگر وہ اس کے باوجود سامان فروخت کرتا ہے تو قسم کھا کھا کر اور اگر خرید کرتا ہے تو قسم کھا کھا کر۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4852

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4853

4853 - أخبرنا أبو بكر محمد بن رجا الأديب نا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز نا حجاج نا حماد ح و حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني نا بكير بن أحمد بن سهل الصوفي بمكة نا جعفر بن محمد بن الحسن الفريابي نا إبراهيم بن الحجاج نا حماد بن سلمة عن عبيد الله بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربعة يبغضهم الله البياع الحلاف و الفقير المختال و الشيخ الزاني و الإمام الجائر

ہمیں خبر دی ابوبکر محمد بن رجاء ادیب نے ان کو ابوالحسن محمد بن محمد بن حسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو حجاج نے ان کو حماد نے ”ح“ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو بکیر بن احمد بن سہل صوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو جعفر بن محمد بن حسن فریابی نے ان کو ابراہیم بن حجاج نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو سعید بن ابوسعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار شخص ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بغض رکھتے ہیں قسم کھا کر مال فروخت کرنے والا فقیر و غریب مگر متکبر و مغرور۔ بوڑھا بدکار ظالم بادشاہ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ← بكير بن أحمد بن سهل الصوفي بمكة ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني ← و، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ← أبو بكر محمد بن رجا الأديب

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4853

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4854

4854 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا الحارث بن محمد بن الحارث الصياد نا هشام بن عبد الملك أبو التقى نا بقية حدثني ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أطيب الكسب كسب التجار الذي إذا حدثوا لم يكذبوا و إذا ائتمنوا لم يخونوا و إذا وعدوا لم يخلفوا و إذا اشتروا لم يذموا و إذا باعوا لم يطروا و إذا كان عليهم لم يمطلوا و إذا كان لهم لم يعسروا

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو حارث بن محمد بن حارث صیاد نے ان کو ہشام بن عبدالملک ابوالتقی نے ان کو بقیہ نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک پاکیزہ ترین کسب تاجروں کا ہے وہ تاجر جب بات کریں تو جھوٹ نہیں بولتے اور جب امانت رکھوائے جائیں تو خیانت نہیں کرتے جب وعدہ کرتے ہیں تو خلاف نہیں کرتے جب خریدتے ہیں زیادہ نہیں لیتے جب بیچتے ہیں تو کم کر کے نہیں دیتے جب ان کے ذمہ قرض ہو تو تاخیر نہیں کرتے جب ان کو کسی سے قرض لینا ہو تو تنگی نہیں کرتے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← بَقِيَّةُ ← هشام بن عبد الملك أبو التقى ← الحارث بن محمد بن الحارث الصياد ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4854

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4855

4855 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن عيسى العطار نا كثير بن هشام نا كلثوم بن جوشن عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التاجر الصدوق الأمين المسلم مع الشهداء يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن عیسیٰ عطار نے ان کو کثیر بن ہشام نے ان کو کلثوم بن جوشن نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4855

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4856

4856 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحسين بن مكرم نا عبد الله بن بكر نا الحجاج بن فرافضة : أن رجلين كانا يتبايعان عند عبد الله بن عمر فكان أحدهما يكثر الحلف فبينما هم كذلك إذ مر عليهما رجل فقام عليهما فقال للذي يكثر الحلف منهما يا عبد الله اتق الله و لا تكثر الحلف فإنه لا يزيد في رزقك إن حلفت و لا ينقص من عمرك رزقك إن لم تحلف قال : امض لما يعنيك قال : إن ذا مما يعنيني قالها ثلاث مرات و رد عليه قوله قال : فلما أراد أن ينصرف عنهما قال : اعلم أن من آية الإيمان أن تؤثر الصدق حيث يضرك على الكذب حيث ينفعك و لا يكن في قولك فضل على فعلك ثم انصرف فقال عبد الله بن عمر : إلحقه فاستكتبه هذه الكلمات فقال : يا عبد الله أكتبني هذه الكلمات يرحمك الله فقال الرجل : ما يقدر الله تعالى من أمريكن فأعادهن عليه حتى حفظه ثم مشى معه حتى وضع إحدى رجليه في المسجد فما أدرى أأرض لحسته أو سماء اقتلعته قال : كانوا يرونه الخضر أو إلياس عليهما السلام

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو حسین بن مکرم نے ان کو عبداللہ بن بکر نے ان کو حجاج بن فرافضہ کہ دو آدمی آپس میں خرید وفروخت کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمر کے سامنے۔ ایک ان میں سے کثرت کے ساتھ قسم کھا رہا تھا۔ وہ دونوں اسی حال میں تھے کہ اتنے میں ان کے قریب سے کوئی دوسرا آدمی گذرا جوان کو معاملہ کرتے ہوئے دیکھ کر رک گیا اور ان کو دیکھنے لگا۔ پھر وہ آدمی اس شخص سے کہنے لگا جو زیادہ قسم کھا رہا تھا۔ اے اللہ کے بندے اللہ سے ڈر زیادہ قسمیں نہ کھا اس لئے کہ اگر تم زیادہ قسمیں کھاؤ گے تو اس سے تمہارا رزق زیادہ نہیں ہو جائیگا۔ اور اگر تم قسم نہیں کھاؤ گے تو تمہاری زندگی سے تمہارا رزق کم نہیں ہو جائے گا۔ ( قسم کھانے والے نے اس سے کہا) جاجا تو اپنا کام کر۔ اس نے جواب دیا یہی میرا کام ہے۔ یہی میرا کام ہے۔ یہی میرا کام ہے۔ ( تین بار یہی کہا اور اس کی بات کا جواب دیا) کہتے ہیں کہ جب وہ ان دونوں ( لین دین کرنے والوں سے) لوٹنے لگا تو۔ کہنے لگا یقین کیجئے کہ یہ بات ایمان کی نشانی ہے کہ تم سچ کو جھوٹ پر ترجیح دو جہاں تجھے سچ نقصان دے( اس قدر کہ) پھر وہ سچ تجھے خود نفع دے گا۔ اور تیرا قول تیرے فعل سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کہہ کر جانے لگا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے( قسم کھانے والے سے کہا) جلدی جاؤ تم اس کے پاس اور یہ کلمات اس سے لکھوالو۔ چنانچہ اس نے کہا اے اللہ کے بندے اللہ تم پر رحم کرے مجھے کلمات لکھوادو۔ لہذا اس آدمی نے کہا کہ اللہ نے جو امر مقدر کیا ہے وہ ہوکر رہے گا پھر اس نے وہ کلمات بار بار دہرائے حتیٰ کہ اسے وہ کلمات یاد ہو گئے۔ اس کے بعد یہ اس آدمی کے ساتھ چلے گئے یہاں تک کہ اس آدمی نے دو میں سے ایک قدم مسجد میں رکھا پھر میں نہیں جانتا کہ کیا ہواس کو زمین کھا گئی یا اسے آسمان نے اچک لیا ( بس وہ اچا تک غائب ہو گیا) راوی کہتا ہے وہ لوگ اس کو حضرت خضر علیہ السلام یا حضرت الیاس علیہ السلام کہتے تھے۔

الحجاج بن فرافضة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← الحسين بن مكرم ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4856

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4857

4857 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر عبد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة نا الحسن بن الطيب نا قتيبة نا بكر بن مضر عن صخر بن عبد الله عن زياد بن أبي حبيب قال : بلغني أن من حملة العرش من يسيل من عينيه أمثال الأنهار من البكاء فإذا رفع رأسه قال : سبحانك ما تخشى حق خشيتك قال الله عز و جل : لكن الذين يحلفون باسمي كاذبين لا يعلمون

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یونس نے ان کو ابوبکر عبداللہ بن یحییٰ طلحی نے کوفے میں ان کو حسن بن طیب نے ان کو قتیبہ نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو صخر بن عبداللہ نے ان کو زیاد بن ابوحبیب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ عرش الہی کو اٹھانے والے وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں سے رونے کی وجہ سے نہروں کی مثل آنسوں بہتے ہیں۔ جب وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں تو کہتے ہیں اللہ تو پاک ہے ہم نے تجھ سے ڈرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتے ہیں مگر وہ لوگ جو میرے نام کی قسمیں جھوٹی کھاتے ہیں وہ نہیں جانتے۔

زِيَادِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الطَّلْحِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4857

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4858

4858 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي نا إبراهيم بن أبي عثمان عن أبي حرزة : أن العشر الآيات التي كتب الله تبارك و تعالى لموسى في الألواح : أن اعبدني و لا تشرك بي شيئا و لا تحلف باسمي كاذبا فإني لا أزكي و لا أطهر من حلف باسمي كاذبا و اشكر لي و لوالديك أنسألك في أجلك و أقيك المتالف و لا تسرق و لا تزن فاحجب عنك نور وجهي و تغلق عن دعائك أبواب سمواتي و لا تغدر بحليل جارك و أحب للناس ما تحب لنفسك و لا تشهد بما لم يعه سمعك و يفقه قلبك فإني واقف أهل الشهادات على شهاداتهم يوم القيامة ثم سائلهم عنها و لا تذبح لغيري فإنه لا يصعد إلي من قربان أهل الأرض إلا ما ذكر عليه اسمي أما الكذب الذي يضربه الكذب غيره فنحو أن يشتمه بالباطل و يضيف إليه ما يشينه به و منه القذف بالزنا و قد شرع الله فيه الحد أو يشهد عليه زورا بمال أو طلاق أو عتق أو قتل فيجمع ذلك ذنوبا منها الكذب و منها الإضرار بالمشهود عليه و منها أنه نصب نفسه منصب الأمناء و نصبه الحاكم ذلك المنصب ثم أنه كان و منها الجرأة على الله تعالى فإنه يشهد عليه الحاكم المنفذ عن الله تعالى في مجلس يمضي فيه أحكامه و لم يوضع إلا للعدل بين الناس

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق بن ایوب ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ بن عامری اویسی نے ان کو ابراہیم بن ابوعثمان نے ان کو ابوحرزہ نے کہ وہ دس آیات جنہیں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے تختیوں پرلکھوا دیا تھا یہ تھیں کہ تم میری ہی عبادت کرنا۔ میرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرنا۔ اور میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہ کھانا بیشک میں اس شخص کو پاک نہیں کروں گا نہ ہی مطہر کروں گا جو شخص میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم کھائے گا۔ تم میرا شکر کرنا اور اپنے والدین کا شکر کرنا۔ میں تیرے لئے تیرے اجل میں تاخیر کر دوں گا۔ اور تجھے بچاؤں گا متفق ہوکر۔ اور تم چوری نہ کرنا۔ زنا نہ کرنا۔ ( ورنہ تجھ سے میری ذات کا نور چپ جائے گا۔ اور تیری دعا کے آگے میرے آسانوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اور اپنے پڑوسی کی عزت کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا۔ اور لوگوں کے لئے وہی پسند کرنا جو کچھ تم اپنے لئے پسند کرو۔ اور تم اس چیز کی شہادت نہ دینا جس کو تیرے کانوں نے سن کر محفوظ نہ کیا ہو اور تیرے دل نے اس کو نہ سمجھا ہو۔ بیشک میں اہل شہادات کو ان کی شہادتوں پر قیامت کے دن کھڑا کروں گا۔ پھر میں ان سے ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اور تم میرے سواکسی اور کے نام پر جانور ذبح نہ کرنا( غیر اللہ کے نام پر) بے شک حال یہ ہے کہ اہل زمین کی قربانیاں میری طرف( قبولیت کے لئے) اس وقت تک نہیں چڑھتیں جب تک ان پر میرا نام نہ لیا جائے۔ بہر حال جو جھوٹ کے ذریعے دوسرے کو نقصان پہنچائے اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کو جھوٹی اور باطل گالی اور الزام دے اور اس کے اوپر اس کا اضافہ کرے کہ اس کو عیب لگائے۔ اسی قبیلے سے ہے زنا کی تہمت لگانا حالانکہ اللہ نے اس میں حد مقرر کر رکھی ہے۔ یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے دے۔ مال کے بارے میں یا طلاق کے بارے میں۔ یا غلام آزاد کرنے کے بارے میں۔ یا قتل کے بارے میں( اس طرح کا فعل) کئی کئی گناہوں پر مشتمل ہے منجملہ ان کے ایک ان میں سے جھوٹ بھی ہے۔ ایک ان میں سے اضرار با مشہود ہے( یعنی جس کے خلاف شہادت دی ہے اس کو نقصان پہنچانا۔ اور ان گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہیکہ وہ اپنے آپ کو امینوں کے منصب پر کھڑا کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس منصب کا حاکم گردانتا ہے۔ پھر یہ کہ وہ اس کے بارے گویا حاکم ہے۔ اور ان مجموعہ گناہوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ پر جسارت کرتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے اس طرح کی شہادت وہ حاکم دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے نافذ کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسی مجلس میں جس میں اس کے احکام جاری ہوتے ہیں جو کہ صرف لوگوں کے درمیان انصاف کرنے کے لئے قائم کی گئی اور بر پاہوگئی ہوتی ہے۔

أبي حرزة أن العشر الآيات التي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، ← عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4858

chevron_left Previous
1…505152…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood