Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 983

982 - قال : و قال مورق : ما وجدت للموت مثلا إلا كمثل رجل على خشبة في البحر فهو يقول يا رب لعل الله أن ينجيه

فرماتے ہیں کہ مورق نے کہا تھا کہ موت کے لئے مجھے کوئی مثال نہیں ملی ۔ مگر اس آدمی کی مثال جو ایک تختے پر سمند میں تیر رہا ہواور وہ کہتا ہو یارب ! شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دے ۔

و،

Hadith 983

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 984

983 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا محمد بن يزيد الكوفي ثنا سعيد بن عبد الله بن الربيع بن خيثم عن عمته قالت : كنت أقول لأبي يا أبتاه ألا تنام فيقول : يا بنية كيف ينام من يخاف البيات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو محمد بن یزید کوفی نے ، ان کو سعید بن عبداللہ بن ربیع بن خثیم نے اپنی پھوپھی جان سے کہ : میں اپنے والد سے کہتی تھی کہ اے ابا کیا آپ سوتے نہیں ہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اے بیٹی وہ شخص کیسے ہو سکتا ہے جو اچانک حملے سے ڈر رہاہو۔ (رات کو اچانک عذاب سے)۔

يا بنية كيف ينام من يخاف البيات ← كنت أقول لأبي يا أبتاه ألا تنام ← عَمَّتِهِ ← سعيد بن عبد الله بن الربيع بن خيثم ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 984

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 985

984 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو أحمد الحسين بن علي أنا أبو القاسم البغوي ثنا أحمد بن حنبل ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان ثنا مالك بن دينار قال : قالت ابنة الربيع بن خيثم : يا أبتاه إني أرى الناس ينامون و أنت لا تنام قال : يا بنية ! إن أباك يخاف البيات

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو احمد حسین بن علی نے ، ان کو القاسم بغوری نے ، ان کو احمد بن حنبل نے ، ان کو سیار بن حاتم نے ، ان کو جعفر بن سلیمان نے ، ان کو مالک بن دینار نے، وہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کی بیٹی نے کہا کہ اے ابا جان میں دیکھتی ہوں کہ لوگ سور ہے ہیں اور آپ جاگ رہے رہیں ۔ فرمایا : اے بیٹی بے شک تیراباپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے جو اچانک رات کو آجائے ۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 985

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 986

985 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الحناط قال : سمعت ذا النون و شكا إليه رجل السبات فقال له : لو خفت البيات لم غلبك السبات ثم أنشأ ذو النون يقول : تحل لمولاك بالطاعة و البس له قناع ذل الفاقة يرى اهتماهك ببلوغ رضوانه فيؤديك بذلك منازل الأبرار 985 - مكرر ـ و بإسناده قال : سمعت ذا النون يقول : ثلاث من أعلام الخوف : الورع عن الشبهات بملاحظة الوعيد و حفظ اللسان من مراقبة النظر العظيم و دوام الكمد إشفاقا من غضب الحليم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان حناط سے ، وہ کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون مصری سے ، ایک آدمی نے ان کی طرف نیند نہ آنے کی شکایت کی ۔ لہذا ان سے کہا اگر آپ رات کو اچانک آنے والے عذاب سے ڈرتے تو آپ کے اوپر نیند اور رات کا آرام کرنا غالب نہ آتا ۔ اس کے بعد ذوالنون مصری نے شعر کہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے مولا کی اطاعت کی قسم کھا لے اور اس کی اطاعت کے لئے فاقہ مستی کا پر دہ اوڑھ لے ، وہ تیری اس کو شش اور اہتمام کا استقبال کرے گا اپنی رضا مندی کے ساتھ۔ وہ اس کی بدولت تجھے نیکوکے مراتب تک پہنچا دے گا۔ یہ مکرر ہے ۔ مذکورہ اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا ، وہ فرماتے تھے کہ تین چیزیں خوف کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ عذاب کی دھمکیوں کو کر شبہات سے پرہیز کرنا ذات باری کو دیکھنے والی عظیم نظر کو زیر غور لا کر زبان کی حفاظ کرنا ۔ بلند حوصلہ ذات کے غضب سے ڈرتے ہوئے سدا مغموم رہنا ۔

Hadith 986

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 987

986 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : سمعت أبا الفتح البغدادي و كان من أصحاب جعفر بن محمد بن نصير الصوفي قال : بت ليلة في مسجد الشونيزية فأقلقني النوم فسمعت قائلا أسمع صوته و لا أرى شخصه يقول : ( فكيف تنام العين و هي قريرة و لم تدر في أي المحلين تنزل ) فذهب عني النوم

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن اسحٰق نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الفتح بغدادی سے سنا جو کہ جعفر بن محمد بن نصیر صوفی کے اصحاب میں سے تھے ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے مسجد شونیز یہ میں ایک رات گذاری ، مجھےنیند نے پریشان کیا ۔ لہذا میں نے کسی کہنے والے کی آواز سنی مگر شکل نہیں دیکھی: کیف تنام العین وھی قریرۃ ۔ ولم تدر فی ای المحلین تنزل ۔ وہ آنکھ کیسے سو سکتی ہے جو خوش تو ہے لیکن یہ نہیں جانتی کہ دو ٹھکانوں میں سے کس ٹھکانے پر اتاری جائیں گی۔ لہذا یہ آواز سن کر مجھ سے نیند اڑ گئی ۔

أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 987

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 988

987 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي قال : سمعت نعيم بن حماد يقول : كان ابن المبارك إذا قرأ كتاب الرقاق يصير كأنه ثور منحور أو بقرة منحورة من البكاء لا يجترئ أحد منا أن يدنو منه أو يسأله عن شيء إلا دفعه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس عنزی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا نعیم بن حماد سے ، وہ فرماتے تھے کہ : حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ جس وقت کتاب الرقاق پڑھتے تو ایسے ہو جاتے جیسے بیل ذبح کیا ہو ا یا گائے ذبح کی ہوئی ۔ رونے کی وجہ سے ہم میں سے کوئی بھی اس بات کی جرات نہیں کرتا تھا کہ ان کے قریب ہویا ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرے ۔ مگر اس کو دفع کر دیتے تھے ۔

نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 988

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 989

988 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر الجراحي ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عبد الكريم السكري ثنا وهب بن زمعة قال : أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن الأشعث قال : مرض ابن المبارك مرضا فجزع حتى رأوه جزعا فقيل له : إنه ليس بك كل ذلك و أنت تجزع هذا الجزع ؟ قال : مرضت و أنا بحال لا أرضاه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر جراحی نے، ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے، ان کو عبدالکریم سکری نے ، ان کو وھب بن زمعہ نے ، ان کو خبر دی ابو اسحاق بن اشعت نے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ بیمار ہوگئے تھے اور وہ گھبراگئے ، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کو گھبرایا ہوا دیکھا اور پریشان دیکھا ۔ لہذا ان سے کہا گیا کہ یہ سب کچھ آپ کے ساتھ نہیں ہے اور آپ اس قدر گھبرارہے ہیں ؟ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ہوں اور میں ایسی حالت میں ہوں جس کو میں پسند نہیں کرتا۔

مرض ابن المبارك مرضا فجزع حتى رأوه جزعا فقيل له ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ ← وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 989

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 990

989 - قال أبو إسحاق و قال الفضيل يوما و ذكر عبد الله ـ و قال : أما إني أحبه لأنه يخشى الله عز و جل

ابو اسحاق نے کہا کہ ایک دن فضیل بن عیاضن نے کہا اور عبداللہ کا ذکر کیا اور کہا کہ بے شک میں ان سے محبت کرتاہوں اس لئے کہ وہ اللہ سے ڈرتے تھے ۔

أما إني أحبه لأنه يخشى الله عز و جل ← عبد الله و ← الفضيل يوما و ← أبو إسحاق و

Hadith 990

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 991

990 - قال أبو إسحاق : قيل لابن المبارك رجلان أحدهما خائف و الآخر قتل في سبيل الله قال : أحبهما إلي أخوفهما

ابو اسحٰق نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے کہا گیا کہ دو آدمی میں سے ایک اللہ کا خوف رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور دوسرا اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ہے ۔ آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا کہ میرے نزدیک زیادہ پسند یدہ وہ ہے جو دونوں میں سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔

أحبهما إلي أخوفهما

Hadith 991

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 992

991 - قال وهب : أخبرني أبو خزيمة العابد قال : دخلت على عبد الله و هو مريض فجعل يتقلب على فراشه من الغم فقلت له : يا أبا عبد الرحمن ما هذا أصبر قال : و من يصبر على أخذ الله إن أخذه أليم شديد

حضرت وھب کہتے ہیں کہ مجھے ابو خزیمہ عابد نے خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ کے پاس گیا اور وہ بیمار تھے ۔ وہ غم کی وجہ سے اپنے بستر پر لوٹنے لگے ۔ میں نے ان سے کہا اے ابو عبدالرحمٰن یہ کیا بات ہے ۔ آپ صبر کیجئے ۔ انہوں نے فرمایا ، اللہ کی گرفت پر کون صبر کرے گا۔ اس لئے کہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔

أبو خزيمة العابد ← وَھْبٍ

Hadith 992

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 993

992 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عبد الله محمد بن العباس يقول أنا أحمد بن محمد بن سعيد الحافظ ثنا أبو جعفر الشامي ثنا عبد الله بن عاصم الهروي : أن شيخا دخل على عبد الله بن المبارك فرآه على وسادة خشنة مرقعة قال : فأردت أن أقول له فرأيت به من الخشية حتى رحمته فإذا هو يقول قال الله عز و جل : { قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم } قال : لم يرض الله أن ننظر إلى محاسن المرأة فكيف بمن يزني بها و قال الله عز و جل : { ويل للمطففين } في الكيل و الوزن فكيف بمن يأخذ المال كله ؟ و قال الله عز و جل : { و لا يغتب بعضكم بعضا } و نحو هذا فكيف بمن يقتله ؟ قال : فرحمته و ما رأيته فيه فلم أقل له شيئا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، کہتے ہیں میں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن عباس سے ، ان کو احمد بن محمد بن سعید حافظ نے ، ان کو ابو جعفر شامی نے ، ان کو عبداللہ بن عاصم زہری نے کہا کہ عبداللہ بن مبارک کے پاس ایک شیخ آیا ، انہوں نے ان کو ایک گدے پر جو کھر دار اور رٹا کی یا پیوند لگا ہو ا تھا بیٹھے دیکھا ، کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں ان کو کچھ کہوں ، مگر میں نے جب ان کے ساتھ خوف خدا کی کیفیت دیکھی تو مجھے ان پر ترس آگیا ۔ بس اچانک وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (1) قل للمؤمنین یغضو ا من ابصارہم (النور 30) اہل ایمان سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں جھکا لیں ۔ ابن مبارک نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں ہے کہ ہم عورت کے حسن کے مقامات کو دیکھیں تو وہ اس شخص سے کیسے راضی رہ سکتا ہے جو اس کے ساتھ زنا کرے ۔ (2) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویل للمطففین ( المطففین 1) بڑی خرابی کم تو لنے والوں کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہلاکت اور بڑی خرابی بتائی ہے ان لوگوں کے لئے جو ناپ یا تول میں کمی کرتے ہیں ۔ غورفرمائیے کہ یہ تنبیہ تو دوسرے کا کچھ حق مارنے پر کی گئی ہے ، ان لوگوں کا پورا پورا مال ہڑپ کر جاتے ہیں ؟ (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یغتب بعضکم بعضاً (الحجرات 12) بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے ۔ اور کی مثل دیگر ممنوعہ باتیں بھی ہیں ۔ غور فرمائیے کہ یہ انتباہ تو غیبت کے بارے میں ہے ، اس کا کیا حال ہوگا جو سرے سے انسان کو قتل کردے ۔ خلاصہ یہ کہ جو رب عورتوں کے ( جو نکاح میں نہیں ) حسن نہیں دیکھنے دیتا وہ زنا کیو نکر کرنے دے گا۔ جو رب حقوق العباد میں ، ناپ تول میں کمی نہیں کرنے دیتا وہ چوری ، ڈاکے سے پورا مال کیسے کھانے دے گا ۔ جو مالک ایک دوسرے کی غیبت کرنا برداشت نہیں کرتا وہ ایک دوسرے کو قتل کرنا کیسے برداشت کرے گا۔ (مترجم) عبداللہ بن مبارک کی یہ تقریر سن کر شیخ کہتے ہیں مجھے ان پر رحم آگیا اور میں نے انہیں بھی کچھ نہیں کہا ۔

عبد الله بن عاصم الهروي ← أبو جعفر الشامي ← أحمد بن محمد بن سعید الحافظ ← أبا عبد الله محمد بن العباس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 993

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 994

993 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحارث بن محمد ثنا العباس بن أبان ذكره عن بعض العلماء قال : ذو الدين يخاف العقاب و ذو الكرم يخاف العار و ذو العقل يخاف التبعة

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا ان ابو اسحٰق نے ، اس کو احمد بن سلمان فقیہ نے ، ان کو حارث بن محمد نے ، ان کو عباس بن ابان نے، انہوں نے اس کوبعض علماء سے ذکر کیا ہے ۔ ان بعض علماء نے کہا ۔ دین والا گرفت سے ڈرتا ہے ، عزت والا عار سے ڈرتا ہے ، عقل والا پیچھا کرنے سے ڈرتا ہے ۔ دیندار عذاب سے ڈرتا ہے ۔ شریف آدمی شرم و عار سے ڈرتا ہے ۔ عقلمند باز پرس سے ڈرتا ہے ۔

بَعْضِ الْعُلَمَاءِ ← العباس بن أبان ذكره ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 994

chevron_left Previous
1…456…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood