شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4691
4691 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني دعلج بن أحمد السجزي نا أحمد بن علي الأبار نا محمد بن سلام الجمحي قال : زعم عبد القاهر بن السري قال : قال إياس بن معاوية ما من رجل عاقل إلا و هو يعرف عيب نفسه قال : فقيل له فما عيبك يا أبا وائلة ؟ قال : الإكثار قال : ثم ماذا قال : أم و الله مع ذلك و إن كثرت ما تدبر قول عاقل إلا وجد فيه بعض ما ينتفع به
ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو دعلج بن احمد سجزی نے ان کو احمد بن علی ایاز نے ان کو محمد بن سلام جمحی نے انہوں نے کہا کہ گمان کیا ہے عبدالقادر بن سری نے وہ کہتے ہیں کہا ایاس بن معاویہ نے جو عاقل آدمی ہوتا وہ اپنے عیب پہنچانتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کو کہا گیا کہ اے ابوواثلہ آپ کا عیب کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا۔ کہ زیادہ جمع کرنا۔ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا ہے؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس ساتھ اور آپ کثرت سے عقل مند کے قول کو غور کریں تو اس میں ایسی کوئی بات ضرور پائیں گے جس کے ساتھ فائدہ اٹھایا جاتا ہوگا۔
أم و الله مع ذلك و ← ثُمَّ مَاذَا ← الْإِكْثَارُ ← فقيل له فما عيبك يا أبا وائلة ← إياس بن معاوية ما من رجل عاقل إلا و هو يعرف عيب نفسه ← زعم عبد القاهر بن السري ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4691
