Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4619

4619 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو منصور محمد بن القاسم العتكي نا محمد بن أحمد بن أنس نا عبد الله بن يزيد المقري نا حيوة بن شريح أخبرني شرحبيل بن شريك أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : عن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة رواه مسلم في الصحيح عن ابن نمير حديث العابد و الرمانة

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابومنصور بن قاسم عتکی نے ان کو محمد بن احمد بن انس نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو خبر دی شرحبیل بن شریک نے کہ اس نے سنا تھا ابوعبدالرحمٰن حبلی سے وہ کہتے ہیں روایت ہے عبداللہ بن عمرو سے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کہ دنیا ساری اسباب ہے اور بہترین سامان نیک صالح عورت ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ابن نمیر سے (حدیث عائد اور رمانہ)۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4619

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4620

4620 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا عبد الله بن صالح البصري حدثني سليمان بن هرم القرشي عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : خرج إلينا النبي صلى الله عليه و سلم فقال : خرج من عندي خليلي آنفا جبريل عليه السلام فقال : يا محمد و الذي بعثني بالحق إن لله عبدا من عباده عبد الله خمس مائة سنة على رأس جبل في البحر عرضه و طوله ثلاثون ذراعا في ثلاثين ذراعا يحيط به أربعة آلاف فرسخ من كل ناحية و أخرج الله له عينا عذبة بعرض الأصبع تبض بماء فيستنقع في أصل الجبل و شجرة رمان تخرج كل ليلة رمانة فتغذيه فإذا أمسى نزل فأصاب من الوضوء و أخذ تلك الرمانة فأكلها ثم قام إلى صلاته فتمنى ربه عند وقت الأجل أن يقبضه ساجدا أو أن لا يجعل للأرض و لا لشيء يفسده عليه سبيلا حتى يبعثه و هو ساجد ففعل فنحن نمر عليه إذا هبطنا و إذا عرجنا فنجده في العلم يبعث يوم القيامة فيوقف بين يدي الله عز و جل فيقول له رب : أدخلوا عبدي الجنة برحمتي فيقول : رب بعملي فيقول : أدخلوا عبدي الجنة برحمتي فيقول : بل بعملي فيقول الله للملائكة : قايسوا بنعمتي عليه و بعمله فيوجد نعمة البصر قد أحاطت بعبارة خمس مائة سنة و بقيت نعمة الجسد فضلا عليه فيقول : أدخلوا عبدي النار قال : فيجر إلى النار فينادي رب برحمتك أدخلني الجنة فيقول ردوه فيوقف بين يدي الله تعالى فيقول : يا عبدي من خلقك و لم تك شيئا ؟ فيقول : أنت يا رب فيقول : أكان ذلك من قبلك أم برحمتي ؟ فيقول بل برحمتك فيقول : من قواك لعبادة خمس مائة سنة فيقول : أنت فيقول : من أنزلك في جبل وسط اللجة و أخرج لك الماء العذب من الماء المالح و أخرج لك كل ليلة رمانة و إنما تخرج في السنة مرة و سألتني أن أقبضك ساجدا ففعلت ذلك بك فيقول : أنت يا رب قال : فذلك برحمتي أدخلت الجنة أدخلوا عبدي الجنة برحمتي فنعم العبد كنت يا عبدي فأدخله الجنة قال جبريل عليه السلام : إنما الأشياء برحمة الله يا محمد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابونضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن صالح بصری نے ان کو حدیث بیان کی ہے سلیمان بن ہرم قرشی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابھی میرے خلیل جبرائیل علیہ السلام یہاں سے گئے ہیں انہوں نے کہا ہے اے محمد قسم ہے اس ذات کی جس نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا جس نے پانچ سو سال تک پہاڑکی چوٹی پر عبادت کی تھی۔ جو کہ سمندر کی وسط ہے جس کی لمبائی چوڑائی تیس ہاتھ ہے ضرب تیس ہاتھ۔ ہر کونے سے چار ہزار فرسخ کو اس کو احاطہ کرتے ہیں۔اللہ نے اس کے لئے اس میں ایک میٹھا چشمہ جاری کر دیا تھا جو کہ ایک انگلی کے برابر چوڑا تھا جو پانی پھینکتا تھا۔ اور وہ پانی پہاڑ کی جڑ میں صاف ہو جاتا تھا اور ایک درخت انار کا جس سے ہر رات ایک آنار آتا جو کہ اس کی غذا بنتا جب شام ہوتی وہ نیچے اتر کر وضو کرتا۔اور وہ انار لے لیتا اور اسے کھا کر پھر وہ نماز میں کھڑا ہو جاتا۔ اس نے اپنے رب سے تمنا کی کہ وہ اس کی روح سجدے کی حالت میں قبض کرے یا اللہ تعالیٰ اس کے لئے زمین کو اور ہر شئی کو ایسا کر دے کہ اس کو کوئی شئی خراب نہ کرے مرنے کے بعد یہاں تک کہ اللہ اس کو اس حالت سجدے میں قیامت کے روز اٹھائے اللہ نے قبول کر لی ہم اس پر سے گذرتے ہیں ہمیں جب ہم رو کے پڑھتے ہیں یا نیچے اترتے ہیں ہم اس کو علم میں پاتے ہیں قیامت کے دن وہ اٹھایا جائے گا اور اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اس کے لئے رب فرمائے گا میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو میری رحمت کے بدلے میں وہ کہے گا اے میرے رب میرے عمل کے بدلے میں داخل کر دے اللہ فرمائے گا میرے بندے کو میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل کر دو وہ کہے گا بلکہ میرے عمل کے بدلے میں پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ میری نعمت کا اور اس کے عمل کا مقابلہ کرو پس پہلے آنکھ والی نعمت کو لیا جائے گا وہ پانچ سو سال کی عبادت کو احاطہ کر لے گی اور باقی پورے جسم کی نعمتیں اس پر زائد رہ جائیں کہ جن کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نیکی اس کے پاس نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا لے جاؤ میرے بندے کو جہنم میں فرمایا کہ وہ گھسیٹا جائے گا جہنم کی طرف لہذا وہ بندہ پکارے گا اے میرے رب اپنی رحمت کے ساتھ مجھے جنت میں داخل کر دے اللہ تعالیٰ فرمائے گا واپس لاؤ اس کو پھر اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ کہے گا اے میرے بندے تجھے کس نے پیدا کیا جب کہ تو کوئی شئی نہیں تھا وہ کہے گا اے میرے رب آپ نے ہی تو مجھے پیدا کیا تھا کیا یہ تیری طرف سے تھا یا محض میری رحمت کے ساتھ تھا؟ وہ کہے گا کہ بلکہ تیری رحمت کے ساتھ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ پانچ سو سال کی عبادت کی قوت تجھے کس نے دی تھی وہ کہے گا کہ آپ نے دی تھی پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تجھے سمندر کی موجوں کے بیچوں بیچ پہاڑ میں کس نے اتارا تھا اور تیرے لئے پانی کس نے نکالا تھا نمکین پانی میں سے میٹھا پانی اور رات تیرے لئے انار کس نے بنایا وہ تو سال میں ایک بار لگتا ہے۔اور تم نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں تجھے حالت سجدہ میں قبض کروں میں نے ایسا ہی کیا تھا تیرے ساتھ۔ بندہ کہے گا اے رب آپ نے ہی کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ یہ سب کچھ میری رحمت سے ہوا تھا لہذا آج میں نے جنت میں بھی اپنی رحمت کے ساتھ داخل کیا ہے۔ میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو میری رحمت کے ساتھ پس اچھا بندہ تھا تو میرا اے میرے بندے۔اس کو جنت میں داخل کر دو۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ تمام اشیاء اللہ کی رحمت کے ساتھ ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔

يا محمد و الذي بعثني بالحق ← خرج من عندي خليلي آنفا جبريل ← خرج إلينا النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ هَرِمٍ الْقُرَشِيُّ، ← عبد الله بن صالح البصري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4620

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4621

4621 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن الوليد الفحام نا عبد الوهاب بن عطاء أخبرني سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عقيب حديث عمران بن حصين في البعث قال قتادة : و إن أهل الإسلام قليل في كثير فأحسنوا بالله الظن و ارفعوا الرغبة إليه و لتكن رحمته منكم أوثق عندكم من أعمالكم فإنه لن ينجو ناج إلا برحمته و لن يهلك هالك إلا بعمله

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو عبدالوہاب بن عطا نے ان کو خبر دی سعید بن ابوعروبہ نے ان کو قتادہ نے پیچھے حدیث عمران بن حصین کے بعث کے بارے میں۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ بے شک اہل اسلام قلیل ہیں کثیر لوگوں میں لہذا اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھو اور اس کی طرف رغبت کو بلند کرو چاہئے کہ اس کی رحمت تمہارے نزدیک تمہارے اعمال کی نسبت زیادہ یقینی ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ کوئی نجات پانے والا ہرگز نجات نہیں پائے گا مگر اس کی رحمت کے ساتھ اور ہرگز کوئی ہلاک نہیں ہوگا ہلاک ہونے والا مگر اپنے عمل کے ساتھ۔

قتادة عقيب حديث عمران بن حصين في البعث ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4621

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4622

4622 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا قال : قال الحجاج بن يوسف نا عبد الله بن إبراهيم بن عمر بن كيسان حدثني عبد الله بن صفوان و هو ابن بنت وهب قال : قال وهب بن منبه عبد الله عز و جل عابد خمسين عاما فأوحى الله عز و جل إليه إني قد غفرت لك قال : يا رب و ما تغفر لي و لم أذنب فأذن الله عز و جل لعرق في عنقه فضرب عليه فلم ينم و لم يصل ثم سكن فنام فأتاه ملك الليلة فشكى إليه فقال : ما لقيت من ضربات العرق قال الملك كان إن ربك عز و جل يقول : إن عبادك خمسين سنة تعدل سكون ذلك العرق

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے کہا ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان نے ان کو حدیث بیان کی عبداللہ بن صفوان نے اور وہ وھب کے نواسے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وهب بن فیہ نے کہا کہ ایک عبادت گذار نے پچاس سال تک اللہ کی عبادت کی پھر اللہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ میں نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اس نے کہا یا رب آپ نے مجھے کیا معاف کیا ہے میں نے تو کوئی گناہ ہی نہیں کیا تھا۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن کی ایک رگ کو حکم دیا اس نے درد کرنا شروع کیا لہذا اس بے آرامی کی وجہ سے وہ نہ تو سو سکا اور نہ ہی عبادت کر سکا نہ ہی نماز پڑھی پھر وہ آرام کر گئی تو سو گیا رات کو فرشتہ اس کے پاس آیا اور اس نے اس کے آگے شکایت کی اور اپنی تکلیف اس کو بتائی فرشتے نے کہا بے شک تیرا رب فرماتا ہے کہ تیری پچاس سالہ عبادت ان ایک رگ کے آرام کر جانے کے برابر ہے یعنی وہ اسی کھاتے میں لگ گئی ہے۔

عبد الله بن صفوان و هو ابن بنت وهب ← عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنَ كِيسَانَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4622

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4623

4623 - أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله حدثني أبو أيوب القرشي مولى بني هاشم قال : قال داود عليه السلام : رب أخبرني ما أدنى نعمتك علي فأوحى الله إليه يا داود تنفس فتنفس فقال : هذا أدنى نعمتي عليك

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابوایوب قرشی مولیٰ بنی ہاشم نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے کہا اے میرے رب مجھے بتا دیجئے کہ مجھ پر تیری سب سے کم تر نعمت کون سی ہے اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی۔اے داؤد سانس لیجئے انہوں نے سانس لیا یہ میری ادنیٰ نعمت تھی تیرے اوپر۔

هذا أدنى نعمتي عليك ← ما أدنى نعمتك علي فأوحى الله إليه يا داود تنفس فتنفس ← داود رب ← أبو أيوب القرشي مولى بني هاشم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4623

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4624

4624 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله نا محمد بن صالح قال : كان بعض العلماء إذا تلا و إن تعدوا نعمة الله لا تحصوها قال : سبحان من لم يجعل في أحد من معرفة نعمة إلا المعرفة بالتقصير عن معرفتها كما لم يجعل في أحد من إدراكه أكثر من العلم أنه لا يدركونه فجعل معرفة نعمه بالتقصير عن معرفتها شكرا كما شكر علم العالمين أنه لا يدركونه فجعله إيمانا علما منه أن العباد لا يجاوزون ذلك

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو محمد بن صالح نے انہوں نے کہا کہ بعض علماء ایسے تھے کہ وہ جب یہ آیت تلاوت کرتے۔ و ان تعدوا نعمة اللّٰه لا تحصوها۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو نہیں کر سکتے۔ تو وہ یوں کہتے تھے پاک ہے وہ ذات جس نے نہیں بنائی کسی ایک میں نعمت کی معرفت۔ مگر معرفت کوتاہی کے ساتھ اس کی معرفت سے جیسے کہ اس نے نہیں بنایا کسی ایک میں اپنا ادراک اکثر علم سے کہ بے شک وہ ادراک نہیں کر سکے گا پس اس نے کر دیا ہے اپنی نعمتوں کے معرفت کوتاہی کے ساتھ اس کی معرفت سے ”شکر“ جیسے قدردانی کی ہے اہل عالم کے علم کی کہ بے شک وہ نہیں ادراک کر سکے اس کا پس کر دیا ہے اس کو ایمان بوجہ اس کی طرف سے اس بات کے علم کے کہ بندے اس سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4624

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4625

4625 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد الطوسي نا عبد الرحيم بن منيب نا جرير بن عبد الحميد نا سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس أحد ينجيه عمله يقول : و لا إياك يا رسول الله ؟ قال : و لا إياي إلا أن يتداركني الله منه برحمة رواه مسلم في الصحيح عن زهير عن جرير

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد طوسی نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایک بھی ایسانہیں ہے جس کو اس کا عمل نجات دے سکے۔ لوگوں نے پو چھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ بھی اپنے عمل کے ساتھ نجات نہیں پاسکتے؟فرمایا کہ اور میں بھی نہیں پاسکتا مگر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ مجھے ڈھانپ لے۔ مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے زہیر سے اس نے جریر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4625

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4626

4626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أنشدني عبد الله الكوكبي : في شغل الرجل عن ماله وولده إذا مرض 4626 - مكرر و أنشدنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنشدني أبو القاسم عبد الله بن محمد الفقيه : أنشدني بعض أهل الأدب : ( أخي و إن كان جمع المال يعجبني فليس بعدك عندي صحة الجسد ) ( المال زين في الأولاد مكرمة و السقم ينسيك ذكر المال و الولد ) و في رواية الكواكبي حب المال و الولد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے علی بن محمد مروزی نے ان کو شعر بتائے عبداللہ کوکبی نے ایک آدمی کی مصروفیت کے بارے میں اپنے مال سے اور اولاد سے جب بیمار ہوتا ہے۔

علي بن محمد المروزي أنشدني عبد الله الكوكبي في شغل الرجل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4626

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4627

4627 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد نا أحمد بن عبد الله بن محمد بن سلم المقدسي نا المسيب بن واضح نا ابن عباس عن شرحبيل عن الدرداء قال : الغنى صحة الجسد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن داؤد زاہد نے ان کو احمد بن عبداللہ بن محمد بن مسلم مقدسی نے ان کو مسیّب بن واضح نے ان کو ابن عباس نے ان کو شرحبیل نے ان کو ابودرداء نے۔انہوں نے کہا کہ۔ کہ غنی ہونا جسمانی صحت ہے۔

الغنى صحة الجسد ← الدرداء ← شُرَحْبِيلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← أحمد بن عبد الله بن محمد بن سلم المقدسي ← أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4627

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4628

4628 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب هو ابن عطاء أنا سعيد هو ابن أبي عروبة عن قتادة و الحسن أنهما قالا : في هذه الآية : { إن الإنسان لربه لكنود } قال لكفور قال أبو نصر و هو عبد الوهاب و سمعت الكلبي يقول في قوله تعالى : { إن الإنسان لربه لكنود } قال الكنود بالنعمة البخيل بما أعطى الذي يمنع رفده و يجيع عبده و يأكل وحده و لا يعطي الباسة تكون في قومه و لا يكون كنودا حتى تكون هذه الخصال فيه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو خبر دی عبدالوہاب نے ان کو ابن عطاء نے ان کو سعید بن ابوعروبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے دونوں اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان الانسان لربه لكنود۔ بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے کہ کنود بمعنی کفور ناشکرا ہے۔ ابونصر عبدالوہاب کہتے ہیں میں نے کلبی سے سنا وہ اللہ کے اس قول کے بارے میں کہتے تھے۔ ان الانسان لـربـه لـكـنود۔ فرمایا کہ کنود بالنعمت وہ ہے جو بخیل ہو اس چیز کے ساتھ جو اس کو عطا ہوئی ہے وہ شخص ہے جو دینے سے منع کر دے۔ جو اپنے غلام کو کچھ نہ دے اور اکیلا کھا جائے اور بھوکے کو بھی نہ دے خواہ اس کی قوم میں ہو۔ کنود اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس میں یہ صفات نہ ہوں۔

في قوله تعالى إن الإنسان لربه لكنود ← الكلبي ← أبو نصر و هو عبد الوهاب و ← لَكَفُورٌ ← في هذه الآية إن الإنسان لربه لكنود ← قتادة و الحسن أنهما ← سعيد هو ابن أبي عروبة ← عبد الوهاب هو ابن عطاء ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4628

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4629

4629 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا خالد بن خراش نا مهدي بن ميمون عن شعيب بن الحجاب عن الحسن بن أبي الحسن : ـ { إن الإنسان لربه لكنود } و قال : يعدد المصائب و ينسى النعم

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سبحان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو خالد بن حراس نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو شعیب بن حجاب نے ان کو حسن بن ابوالحسن نے کہ ان الانسان لربه لكنود. بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے مراد یہ ہے کہ وہ مصائب کو گنتا رہتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔

يعدد المصائب و ينسى النعم ← الحسن بن أبي الحسن إن الإنسان لربه لكنود و ← شعيب بن الحجاب ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← خالد بن خراش ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4629

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4630

4630 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله أنا محمود الوراق : في ذلك : ( يا أيها الظالم في فعله و الظلم مردود على من ظلم ) ( إلى متى أنت و حتى متى تشكو المصيبات و تنسى النعم )

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو محمود وراق نے اس بارے میں۔ شعر کہے جن کا مطلب یہ ہے۔اے کوئی شخص جو اپنے عمل میں ظالم ہے۔ ظلم، ظلم کرنے والے پر لوٹ کر آتا ہے۔ کب تک اور کہاں تک مصیبتوں کو گنتا رہے گا اور نعمتوں کو نظر انداز کرتا رہے گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4630

chevron_left Previous
1…313233…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood