شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4607
4607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير نا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين نا محمد بن وهب الدمشقي نا عبد الله بن العلاء بن زبر ح و أخبرنا أبو علي الروذباري نا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهوية النعماني نا عبيد الله بن عبد الواحد البزاز أنا هشام بن عمار نا الوليد نا عبد الله بن العلاء بن زبر عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أول ما يحاسب به العدو يوم القيامة أن يقال له ألم أصح جسمك و أرويك من الماء البارد و لفظ حديثهما سواء غير أن في رواية أبي عبد الله قال : حدثني الضحاك بن عبد الله بن عرزب
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر بن نصیر نے ان کو احمد بن محمد بن حجاج بن رشید بن ان کو محمد بن وھب دمشقی نے ان کو عبداللہ بن علآء بن زبر نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے ان کو ابویعقوب اسحٰق بن ابراہیم بن راھویہ نعمانی نے ان کو عبداللہ بن عبدالواحد بزاز نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو ولید نے ان کو عبداللہ بن علاء بن زبر نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے ان کو ابوہریرہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ پہلی چیز جس کے ساتھ بندہ حساب دے قیامت کے دن وہ یہ ہوگا کہ کیا میں نے آپ کو جسمانی صحت نہیں دی تھی۔ اور میں نے تجھےٹھنڈے پانی کے ساتھ سیراب نہیں کیا تھا۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں۔علاوہ اس کے کہ ابوعبداللہ کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ضحاک بن عبداللہ بن عرزب نے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← الْوَلِیْدُ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عبيد الله بن عبد الواحد البزاز ← أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهويه النعماني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ الدِّمَشْقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ← أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4607
