Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4475

4475 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله نا أحمد بن إبراهيم نا سعيد بن عامر حدثني اسما بن عبيد عن الحسن قال : يا لها من نعمة فأكل لذة و بخروج سرحا لقد كان ملك من ملوك هذه القرية يرى غلاما من غلمانه يأتي إلي فيكتال ثم يجرجر قائما فيقول يا ليتني مثلك ما يشرب حتى يقطع عنقه العطش و إذا شرب كان في تلك الشربة موتات يا لها من نعمة نأكل لجة و يخرج سرحا يعني سهلا

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو اسماعیل بن عبید نے ان کو حسن نے انہوں نے کہا ہے۔ افسوس انسان پر کہ کھاتا ہے لذت کے ساتھ اور نکالتا ہے آسانی کے ساتھ۔اس ملک کے بادشاھوں میں سے ایک بادشاہ۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے خادموں میں سے ایک خادم میرے پاس آتا تھا سامان کی ناپ تول کرتا پھر ہٹ کر کھڑے ہو کر پیشاب کر لیتا پھر کہتا اے افسوس تیری جیسے پر اتنی پیتا ہے کہ اس سے اس کی پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ جب پی لیتا ہے تو اس کے ان گھونٹوں میں کئی کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔اے افسوس اس کے نعمت کا سمندر ہم کھاتے ہیں۔اور وہ آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← اسما بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4475

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4476

4476 - قال الشيخ أحمد رضي الله عنه و قد روينا في كتاب الدعوات حديث أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أكل قال الحمد لله الذي أطعم و سقى و سوغه و جعل له مخرجا

شیخ احمد نے کہا کہ ہم نے کتاب الدعوات میں روایت کی ہے حدیث ابوایوب نبی کریم سے کہ بے شک وہ جب کھانا کھاتے تو یوں فرماتے: الحمدللّٰه الذي اطعم وسقٰى وسوغه وجعل له مخرجاً اللہ کا شکر ہے جس نے کھلایا پلایا اور آسانی سے اسے پیٹ میں اتارا اور پھر اس کے فضلے کے خرچ کی جگہ بنائی۔

الحمد لله الذي أطعم و سقى و سوغه و جعل له مخرجا ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أكل ← الشيخ أحمد و قد روينا في كتاب الدعوات حديث أبي أيوب

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4476

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4477

4477 - و أخبرناه أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني الفضل بن سهل نا عبد الله بن محمد بن عمارة نا مخرمة بن بكير عن أبيه عن زهرة بن معبد عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابی دنیا نے ان کو فضل بن سہل نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عمارہ نے ان کو مخرمہ بن بکیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو زہرہ بن معبد نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حبلی نے ان کو ابوایوب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر راوی نے مذکورہ دعا ذکر کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم فذكره ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4477

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4478

4478 - أخبرنا أبو حازم الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ أنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث نا أحمد بن صالح أنا ابن وهب حدثني عبد الله بن سعيد عن عبد الجليل بن حميد أنه سمع ابن شهاب يقول : في قول الله عز و جل : { اعملوا آل داود شكرا } قال : قولوا الحمد لله

ہمیں خبر دی ابوحازم حافظ نے ان کو ابواحمد حافظ نے ان کو عبداللہ بن سلیمان بن اشعث نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو عبداللہ بن سعید نے ان کو عبدالجلیل بن حمید نے کہ اس نے سنا ابن شہاب سے وہ کہتے ہیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں اعملوا ال داؤد شکراً (عمل کروانے آل داؤد شکر کا) کہتے ہیں کہ یوں کہو الحمدللہ (اللہ کا شکر ہے۔)

قولوا الحمد لله ← في قول الله عز و جل اعملوا آل داود شكرا ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عبد الجليل بن حميد أنه ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4478

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4479

4479 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سليمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا علي بن الجعد أنا فضيل بن مرزوق عن جابر عن أبي جعفر : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا شرب الماء قال : الحمد لله الذي جعله عذبا فراتا برحمته و لم يجعله مالحا أجاجا بذنوبنا

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے علی بن جعد نے ان کو فضیل بن مرزوق نے ان کو جابر نے ان کو ابوجعفر نے کہ رسول اللہ جب پانی پیتے تھے تو یوں شکر کرتے تھے۔ الحمدللّٰه الذي جعله عذبا فراتا برحمته ولم يجعله مالحا اجاجاً بذنوبنا اللہ کا شکر ہے جس نے اس (پانی کو) میٹھا نفیس بنایا اپنی رحمت کے ساتھ اور اس کو نمکین اور کڑوا نہیں بنایا ہمارے گناہوں کے سبب سے۔

جَابِرٍ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4479

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4480

4480 - قال و نا عبد الله نا إسحاق بن إسماعيل نا حريز بن عثمان عن عبد الله بن شبرمه : أن الحسن كان يقول ذلك إذا شرب الماء

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ نے ان کو اسحٰق بن اسماعیل نے ان کو جریر بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن شبرمہ نے ان کو حسن نے وہ کہتے تھے (یہی دعا) جب پانی پیتے تھے۔

ذلك إذا شرب الماء ← عبد الله بن شبرمه أن الحسن كان ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← إسحاق بن إسماعيل ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4480

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4481

4481 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان نا محمد بن عبد الله بن عمرويه قال : قال صالح بن أحمد بن حنبل : كان أبي رحمه الله لا يدع أحدا يستقي له الماء للوضوء إلا هو فكان إذا خرج الدلو ملأ قال الحمد لله قلت يا أبه أي شيء الفائدة ؟ قال : يا بني ما سمعت الله عز و جل يقول : { أرأيتم إن أصبح ماؤكم غورا فمن يأتيكم بماء معين }

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عمرویہ نے کہتے ہیں کہ صالح بن احمد حنبل نے کہا۔ کہ میرے والد (امام حنبل) رحمۃ اللہ وضو کا پانی دینے کے لئے کسی کو نہیں بلاتے تھے بلکہ خود ہی پانی نکالتے جب کنویں میں سے پانی کا ڈول بھرا ہوا نکلتا تو کہتے الحمدللہ (اللہ کا شکر ہے) میں نے ان سے کہا ابا جان اسی طرح کہنے کا کیا فائدہ ہوگا۔ فرمایا۔ بیٹا تم نے سنا نہیں اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ارئیتم ان اصبح ماء كم غوراً فمن ياتيكم بماء معين بتاؤ تم اگر تمہارا پانی نیچے سے نیچے چلا جائے کون ہے ایسا جو لے آئے تمہارے پاس جاری پانی۔

محمد بن عبد الله بن عمرويه ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4481

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4482

4482 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن عبدان النيسابوري أنا أبو بكر محمد بن المومل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد البيهقي نا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن أبي حلبس يزيد بن ميسرة أنه قال : سمعت أم الدرداء تقول : سمعت أبا الدرداء يقول : سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم ما سمعته يكنيه قبلها و لا بعدها يقول إن الله عز و جل قال : يا عيسى ابن مريم إني باعث بعدك أمة إن أصابهم ما يحبون حمدوا و شكروا و إن أصابهم ما يكرهون احتسبوا و صبروا و لا حلم و لا علم قال : يا رب كيف يكون هذا لهم و لا حلم و لا علم ؟ قال : أعطيهم من حلمي و علمي

ہمیں خبر دی ابوعتان سعید بن محمد بن عبدان نیساپوری نے ان کو ابوبکر محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد بیہقی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو حدیث بیان کی ہے معاویہ بن صالح نے ان کو ابوحلبس یزید بن میسرہ نے کہ انہوں نے کہا میں نے سنا ہے ام درداء سے وہ کہتی ہے میں نے سنا ہے ابودرداء سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نہیں سنا کہ انہوں نے اس سے پہلے یا بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت بولی ہو فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا اے عیسیٰ بن مریم میں تیرے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں۔اگر ان کو وہ حالت پہنچے گی جس کو وہ پسند کریں گے تو وہ اللہ کی حمد اور شکر کریں گے اور اگر انہیں ایسی کیفیت سے دو چار ہونا پڑا جس کو وہ ناپسند کریں گے تو وہ اس میں حصول اجر و ثواب کی نیت کریں گے اور صبر سے کام لیں گے۔ حالانکہ نہ حلم ہوگا نہ علم۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے رب یہ کیسے ممکن ہوگا ان کے لئے حالانکہ نہ حلم ہوگا نہ علم ہوگا؟ فرمایا میں دوں گا ان کو اپنے حلم میں سے بھی اور اپنے علم میں سے بھی۔

أبا القاسم صلى الله عليه و سلم ما ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: ← أبي حلبس يزيد بن ميسرة أنه ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الفضل بن محمد البيهقي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أبو عثمان سعيد بن محمد بن عبدان النيسابوري

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4482

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4483

4483 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر بن خنب نا عبد الله بن روح المدني نا عاصم بن علي نا قيس بن الربيع عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أول من يدعا إلى الجنة الذين يحمدون الله في السراء و الضراء

ہمیں خبر دی ابوالقاسم بن عبدالخالق بن علی مؤذن نے ان کو ابوبکر بن خنب نے ان کو عبداللہ بن روح مدینی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پہلے پہلے جو شخص جنت میں بلایا جائے گا وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی حمد و شکر کریں گے آسائش میں بھی اور سختی میں بھی۔

أول من يدعا إلى الجنة الذين يحمدون الله في السراء و الضراء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عبد الله بن روح المدني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4483

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4484

4484 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين نا أبو العباس بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا نصر بن جماد نا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت : بإسناده نحوه

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے آخرین میں ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو نصر بن حماد نے ان کو شعبہ نے ان کو حبیب بن ثابت نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل۔

حبيب بن أبي ثابت بإسناده نحوه ← شُعْبَةُ، ← نصر بن جماد ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4484

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4485

4485 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله املاء أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا حامد بن محمود المقري نا إسحاق بن سليمان الرازي نا أبو سنان عن أبي إسحاق عن عمر بن سعد عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عجبت للمؤمن إن أعطي قال الحمد لله فشكر و إن ابتلي قال الحمد لله فصبر فالمؤمن يؤجر على كل حال حتى اللقمة يرفعها إلى فيه

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے بطور املاء کے ان کو ابوطاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو حامد بن محمود مقری نے ان کو اسحاق بن سلمان رازی نے ان کو ابوسنان نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو عمر بن سعد نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں حیران ہوں اس مؤمن پر جس کو کچھ ملے تو وہ کہتا ہے الحمدللہ اور شکر کرتا ہے اور اگر آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو کہتا ہے الـحـمـدللّٰہ اور صبر کرتا ہے۔ مؤمن کو تو ہر حال میں اجر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک وہ لقمہ جس کو وہ اپنے منہ کی طرف اٹھاتا ہے اس میں۔

أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو سِنَانٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حامد بن محمود المقري ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الحَسَن محمد بن الحُسَين بن داود العلوي إملاء

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4485

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4486

4486 - و رواه معمر عن أبي إسحاق عن العيزاز بن حريث عن عمر بن سعد : بمعناه

اس کو معمر نے روایت کیا ہے ابواسحٰق سے اس عیزار بن حریث سے عمرو بن سعد سے اسی مفہوم میں۔

عمر بن سعد بمعناه ← العيزاز بن حريث ← أَبِي إِسْحَاقَ ← و رواه معمر

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4486

chevron_left Previous
1…192021…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood