شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4475
4475 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله نا أحمد بن إبراهيم نا سعيد بن عامر حدثني اسما بن عبيد عن الحسن قال : يا لها من نعمة فأكل لذة و بخروج سرحا لقد كان ملك من ملوك هذه القرية يرى غلاما من غلمانه يأتي إلي فيكتال ثم يجرجر قائما فيقول يا ليتني مثلك ما يشرب حتى يقطع عنقه العطش و إذا شرب كان في تلك الشربة موتات يا لها من نعمة نأكل لجة و يخرج سرحا يعني سهلا
ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو اسماعیل بن عبید نے ان کو حسن نے انہوں نے کہا ہے۔ افسوس انسان پر کہ کھاتا ہے لذت کے ساتھ اور نکالتا ہے آسانی کے ساتھ۔اس ملک کے بادشاھوں میں سے ایک بادشاہ۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے خادموں میں سے ایک خادم میرے پاس آتا تھا سامان کی ناپ تول کرتا پھر ہٹ کر کھڑے ہو کر پیشاب کر لیتا پھر کہتا اے افسوس تیری جیسے پر اتنی پیتا ہے کہ اس سے اس کی پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ جب پی لیتا ہے تو اس کے ان گھونٹوں میں کئی کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔اے افسوس اس کے نعمت کا سمندر ہم کھاتے ہیں۔اور وہ آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔
الْحَسَنِ، ← اسما بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4475
