Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4451

4451 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني حمزة نا عبدان نا عبد الله أنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن عمر رضي الله عنه قال : لعلنا نلتقي في اليوم مرارا يسأل بعضنا ببعض لا نريد ذلك إلا ليحمد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حمزہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ نے ان کو مسعر نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ شاید کہ ہم دن میں بار بار ملیں تو ہم ایک دوسرے کی خیریت پوچھیں اس بات سے ہمارا کچھ بھی ارادہ نہ ہو اس کے سوا کہ بس اللہ کا شکر کیا جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مِسْعَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4451

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4452

4452 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا قال حدثت عن ابن أبي الحواري قال : جلس فضيل بن عياض و سفيان بن عيينة ليلة الصباح يتذاكران النعم فجعل سفيان يقول : أنعم الله علينا في كذا أنعم الله علينا في كذا فعل بنا كذا فعل بنا كذا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی گئی ہے ابن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ ایک رات کو صبح تک بیٹھے ہم اللہ کی نعمتوں کا مذاکرہ کرتے رہے سفیان نے کہا کہ اللہ نے ہم لوگوں پر فلاں فلاں انعام کیا ہے۔ اللہ نے ہم لوگوں پر میرے بارے میں یہ احسان کیا ہے ہمارے ساتھ ایسا کیا ہمارے ساتھ ایسا کیا۔

ابْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4452

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4453

4453 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله حدثني محمد بن الحسين نا عبد الله بن محمد عن سعيد بن عامر عن سلام بن أبي مطيع قال : أتانا الجريري و كان من مشايخ أهل البصرة و كان قدم من الحج فجعل يقول أبلانا الله عز و جل في سفرنا كذا و أبلانا في سفرنا كذا ثم قال : كان يقال إن تعداد النعم من الشكر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو سلام بن ابومطیع نے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جریری آئے اور تھے وہ اہل بصرہ کے مشائخ میں سے اور حج سے واپس آئے تھے اور بتانے لگے کہ اللہ نے ہمیں ہمارے سفر میں ایسے ایسے آزمایا پھر کہنے لگے کہ کہا جاتا تھا کہ نعمتوں کی گنتی شکر سے ہوتی ہے۔

سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4453

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4454

4454 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى أنا الحسن بن محمد بن زياد نا أبو قدامة نا أبو عبد الرحمن المقري عن مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد قال : كان يقال تعديد النعم من الشكر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو حسن بن محمد بن زیاد نے ان کو ابوقدامہ نے ان کو ابوعبدالرحمٰن مقری نے ان کو مالک بن انس نے ان کو یحییٰ بن سعید نے کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نعمتوں کا اضافہ شکر سے ہوتا ہے۔

كان يقال تعديد النعم من الشكر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مالک بن أنس ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو قُدَامَةَ، ← الحسن بن محمد بن زياد ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4454

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4455

4455 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد ابن الليث نا محمد بن عبيد بن حاب نا محمد بن ثور عن معمر قال : قال أيوب إن من نعم الله عز و جل على العبد أن يكون مأمونا على ما حدث

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو بن مطرف نے ان کو جعفر بن محمد بن لیث نے ان کو محمد بن عبید بن حاب نے ان کو محمد بن ثور نے ان کو معمر نے وہ کہتے ہیں کہ ایوب کہتے تھے۔ بے شک اللہ کی نعمتوں میں سے ہے بندے پر کہ وہ محفوظ رہے ہر اس بلاء سے جو پیدا ہو یا پیش آئے۔

مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← محمد بن عبيد بن حاب ← جعفر بن محمد ابن الليث ← عمرو بن مطر ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4455

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4456

4456 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا الوليد الفقيه يقول سمعت المومل بن الحسن بن عيسى يقول : سمعت الزعفراني يقول : قدم علينا الخفاف يعني عبد الوهاب بن عطاء و هو لا يعرف فحدث فقبل فكتب إلى أخيه أما بعد فاعلم أن أخاك قد حدث ببغداد فصدق فأحمد الله على هذه النعمة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا زعفرانی سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس خفاف یعنی عبدالوہاب بن عطاء آئے وہ جانتے نہیں تھے۔ چنانچہ اس نے حدیث بیان کی ان کو سچا مان لیا گیا اور حدیث قبول کر لی گئی۔ پھر اس نے اپنے بھائی کو لکھا امابعد تم جان لو کہ تمہارے بھائی نے بغداد میں حدیث بیان کی ہے تو اس کو سچا مان لیا گیا ہے لہذا میں اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

الزَّعْفَرَانِيُّ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ← أبا الوليد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4456

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4457

4457 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ يقول سمعت أبا الحسين بن يعقوب الحافظ يقول : سمعت محمد بن إسحاق يقول : سمعت أبا النصر العجلي يقول : سمعت محمد بن حرب يقول : قال الثوري : حمدا لله ذكر و شكر و ليس شيء ذكرا و شكرا غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن بن یعقوب حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن اسحٰق سے۔ وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابونصر عجلی سے انہوں نے سنا محمد بن حرب سے وہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا اللہ کی حمد کرنا ذکر ہے اور شکر ہے اس کے سوا نہ کوئی شئی ذکر ہے نہ ہی شکر ہے۔

و شكر و ليس شيء ذكرا و شكرا غيره ← الثوري حمدا لله ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← أبا النصر العجلي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبا الحسين بن يعقوب الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4457

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4458

4458 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عمرو بن أبي الحارث الهمداني نا سلم بن قادم نا أبو معاوية هاشم بن عيسى الحميصي أنا الحارث بن مسلم عن الزهري عن أنس بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر إلى وجهه في المرآة قال : الحمد لله الذي سوى خلقي فعدله و كرم صورة وجهي فحسنها و جعلني من المسلمين

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن مسلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیاء نے ان کو عمرو بن ابوالحارث ہمدانی نے ان کو سلم بن قادم نے اور ان کو ابومعاویہ ہاشم بن عیسیٰ حمصی نے ان کو حارث بن مسلم نے ان کو زہری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب آئینے میں دیکھتے تو یہ پڑھتے تھے۔ الحمدللّٰه الذي سوى خلقی فعدله و کرم صورة وجهي فحسنها وجعلني من المسلمين اللہ کا شکر ہے جس نے میرے تخلیق برابر کی پھر اس کو توازن بخشا جس نے میرے چہرے کی صورت کو عزت عطا کی اور اس کو خوبصورت بنایا اور مجھے اپنے فرمانبرداروں میں سے بنایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أبو معاوية هاشم بن عيسى الحميصي ← سَلْمُ بْنُ قَادِمٍ، ← عمرو بن أبي الحارث الهمداني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4458

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4459

4459 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله نا علي بن شعيب نا ابن أبي فديك قال : بلغني عن جعفر بن محمد عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة قال الحمد لله الذي حسن خلقي و خلقي و زان مني ما شان من غيري

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو علی بن شعیب نے ان کو ابن ابوفدیک نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے جعفر بن محمد سے ان کو ان کے والد سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شیشے میں دیکھتے تو یہ کہتے تھے: الحمدللّٰه الذي حسن خلقی و خلقی وزان منی ماشان من غيرى اللہ کا شکر ہے جس نے میری سیرت اور سورت کو خوبصورتی عطا کی اور جو چیز میرے ماسواء سے عیب بنتی ہے اس کو مجھ سے زینت دی۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← بلغني ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4459

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4460

4460 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا طاهر بن عمرو بن الربيع بن طارق نا أبي أخبرني السري عن الحسن أن رجلا قال : الحمد لله ربنا كثيرا كما ينعم ربنا كثيرا فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله ليحبك كثيرا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوالعباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو طاہر بن عمرو بن ربیع بن طارق نے ان کو ان کے والد نے ان کو سری نے ان کو حسن نے کہ ایک آدمی نے کہا۔ الحمدللّٰه ربنا كثيرا كما ينعم ربنا كثيرا اللہ کا شکر ہے ہمارے رب کا کثیر تعداد میں جیسے ہمارا رب کثیر کثیر انعام کرتا ہے۔ نبی کریم نے سنا تو فرمایا کہ بیشک اللہ تجھ سے محبت بھی کثیر کثیر کرتا ہے۔

الحمد لله ربنا كثيرا كما ينعم ربنا كثيرا ← الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً ← السَّرِيُّ، ← أَبِي ← طاهر بن عمرو بن الربيع بن طارق ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4460

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4461

4461 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه نا العباس بن الفضل الاسفاطي نا إسماعيل بن أبي أويس نا سليمان بن بلال عن ابن أبي حرة عمه حكيم بن حرة عن سليمان الأغر عن أبي هريرة : لا أعلمه إلا عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : للطاعم الشاكر مثل ما للصائم الصابر و رواه ابن وهب عن سليمان عن محمد بن عبد الله بن أبي حرة بإسناده و قال : من الأجر و رواه عبد العزيز بن محمد عن محمد بن عبد الله عن أبي حرة عن عمه حكيم بن حرة عن سنان بن سنة الأسلمي صاحب النبي صلى الله عليه و سلم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قيل عن عبد العزيز عن ابن أبي حرة عن أبيه عن سنان بن سنة عن النبي صلى الله عليه و سلم و روى عن موسى بن عقبة عن حكيم بن أبي حرة عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قوله : و رويناه من حديث المقبري و حنظلة بن علي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم من غير شك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو عباس بن فضل اسفاطی نے ان کو اسماعیل بن ابواویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ابن ابوحرہ نے اپنے چچا حکیم بن حمزہ سے ان کو سلیمان اغر نے ان کو ابوہریرہ نے کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا۔ کھانا کھا کر شکر کرنے والے کی مثال روزہ رکھنے اور صبر کرنے والے جیسی ہے۔ ان کو روایت کیا ہے ابن وہب نے سلیمان سے اس نے محمد بن عبداللہ بن ابوحرہ سے اس کی اسناد کے ساتھ اور کہا ’’اجر میں‘‘ (یعنی اجر میں دونوں مذکور برابر ہیں۔) اور اس کو روایت کیا ہے عبدالعزیز بن محمد نے محمد بن عبداللہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم سے اور کہا گیا کہ عبدالعزیز سے۔ ابن ابوحرہ سے۔اس کے والد سے۔ سنان بن سنۃ سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور روایت کی گئی ہے موسیٰ بن عقبہ سے۔اس نے حکیم بن ابوحرہ سے اس نے بعض اصحاب نبی سے اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے مقبری کی حدیث سے اور حنظلہ بن علی سے اس نے ابوہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر شک کے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4461

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4462

4462 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عمرو بن أبي الحارث نا سعيد بن أشعث بن سعيد أنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت أبي يحدث عن أبي عثمان عن سلمان : أن رجلا بسط له من الدنيا فانتزع ما في يده فجعل يحمد الله و يثني عليه حتى لم يكن فراش الاباري فجعل يحمد الله و يثني عليه و بسط لآخر من الدنيا فقال لصاحب الباري أرأيتك أنت على ما تحمد الله ؟ قال : أحمده على ما لو أعطيت به ما لو أعطى الخلق لم أعطهم إياه قال : و ما ذلك قال : أرأيت بصرك أرأيت لسانك أرأيت يديك أرأيت رجليك

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو عمرو ابن ابوالحارث نے ان کو سعید بن اشعث بن سعید نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے تھے۔ابوعثمان سے وہ سلیمان سے کہ ایک آدمی کے لئے بڑی فراخی دی گئی تھی دنیا میں پھر جو کچھ اس کے ہاتھ میں تھا سب چھین لیا گیا۔اس نے اللہ کی حمد و ثنا کرنی شروع کی یہاں تک کہ بچھانے کو چٹائی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ حمد و ثنا کرتا۔ دوسرے ایک آدمی کے لئے فراخی کی گئی تھی اس نے صاحب باری سے کہاتم نے دیکھا کہ تم اس حال میں ہو باوجود یہ کہ تم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہو؟ کہنے لگے کہ میں اس کی حمد کرتا ہوں اس لئے کہ اس نے جو مجھے انعامات دیئے ہیں اگر میں ساری دنیا دے دیتا تو مجھے نہ ملتی انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے بتایا آنکھیں ہیں زبان ہے دو ہاتھ ہیں دو پیر ہیں۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سعيد بن أشعث بن سعيد ← عمرو بن أبي الحارث ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4462

chevron_left Previous
1…171819…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood