شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4427
4427 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عمر بن إسماعيل الهمداني نا محمد بن عبيد عن يوسف الصباغ عن الحسن قال : قال موسى عليه السلام : يا رب كيف يستطيع آدم عليه السلام أن يؤدي شكر ما صنعته إليه خلقته بيدك و نفخت فيه من روحك و أسكنته جنتك و أمرت الملائكة فسجدوا له فقال : يا موسى علم أن ذلك مني فحمدني عليه فكان ذلك شكرا لما صنعته إليه
ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن بن عبداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو عمر بن اسماعیل ہمدانی نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو یوسف صباغ نے ان کو حسین نے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے رب آدم علیہ السلام کیسے تیرا شکر کرنے کی استطاعت رکھے گا ان احسانات کے ہوتے ہوئے جو آپ نے اس کے ساتھ کئے آپ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس کو اپنی جنت میں ٹھہرایا اور آپ نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو سجدہ کریں۔اور انہوں نے سجدہ کیا اس کو اللہ نے فرمایا اے موسیٰ آدم نے یقین کے ساتھ یہ جان لیا تھا کہ یہ سب کچھ میری طرف سے تھا اس نے ان سب کے مقابلے میں میری حمد کی تھی بس یہی اس کا شکر ادا کرنا تھا ان تمام نعمتوں کے لئے جو میں نے اسپر کی تھیں۔
الْحَسَنِ، ← يوسف الصباغ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← عمر بن إسماعيل الهمداني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4427
