شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1091
1090 - أخبرنا أبو سعيد بن شبانة ثنا أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي العدل أنا علي بن أبي صالح ثنا أبو حاتم ثنا محمد بن عبد الكريم قال : سمعت سعيد بن عنبسة بن سعيد قال : بينما رجل جالس في الكعبة و هو يعبث بالحصا و يخذفها إذ رجع حصاة منها فصارت في أذنه فعالجوه بكل الحيل فلم يقدروا على إخراجها فبينما هو ذات يوم جالسا إذ سمع قارئا يقرأ هذه الآية : { أمن يجيب المضطر إذا دعاه و يكشف السوء } فوثب الرجل فقال : يا رب أنت المجيب و أنا المضطر اكشف ضر ما أنا فيه قال : فندرت الحصاة من أذنه
ہمیں خبر دی ابو سعید بن شبانہ نے ان کو ابو العباس فضل بن فضل کندی عدل نے ان کو علی بن ابو صالح نے ان کو ابو حاتم نے ان کو محمد بن عبدالکریم نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن عنبسہ بن سعید سے انہوں نے فرمایا:یکایک آیک آدمی حرم میں بیٹھا ہو ا کنکریوں سے کھیل رہا تھا اور کنکریاں پھینک رہا تھا اچانک ایک کنکری ان میں سے واپس پلٹی اور اس کے کان میں چلی گئی چنانچہ اس کے نکالنے کے لیے ہر علاج ہر حیلہ اور ہر تدبیر کر لی گئی مگر اسے نہ نکلا سکے ایک دن پریشان بیٹھا تھا کہ اچانک اس نے کسی پڑھنے والے کی آواز سنی جو یہ آیت پڑھ رہا تھا:۔ امن یجیب المضطر اذادعاہ ویکشف السوء (النمل64) کون ہے جو پریشان کی دعا قبول کرتا ہے جس وقت وہ اس کو پکارتا ہے اور پھر وہ تکلفی دور بھی کرتا ہے ۔ (آواز کا سننا تھا کہ) وہ آدمی اچھل پڑا ۔ اور کہنے لگا : اے میرے رب تو قبول کرنے والا ہے ، اور میں پریشان مجبور ہوں میری تکلیف بھی کھول دے جس میں مبتلا ہوں۔ یا رب انت المجیب ، وانا المضطر اکشف ضرماانا فیہ۔ چنانچہ وہ کنکری کان سے خود بخود گرگئی۔
سعيد بن عنبسة بن سعيد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أَبُو حَاتِمٍ ← علي بن أبي صالح ← أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي العدل ← أبو سعيد بن شبانة
Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1091
