Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2981

2981 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو يحيى بن أبي مسرة ثنا ابن أبي أويس ثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن في الجمعة ساعة من نهار لا يسأل الله عبد شيئا إلا أعطاه إياه أي ساعة هي يا رسول الله ؟ قال : هي حين تكاد الصلاة إلى انصراف منها قال كثير يعني صلاة الجمعة و رواه الدراوردي عن كثير و قال : ما بين نزول الإمام من المنبر إلى الانصراف

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے انکو خبر دی ہے ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک جمعہ کے دن میں ایک ساعت ہے اس میں کہ کوئی بھی بندہ جس چیز کا بھی اللہ سے سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دے دیتا ہے وہی چیز۔ کہا گیا کہ یہ کون سی ساعت ہے یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوتی ہے جب نماز اپنے اختتام کے قریب قریب ہوتی ہے۔ کثیر نے کہا کہ صلوٰۃ سے صلوٰۃ جمعہ مراد ہے اور اس کو روایت کیا دراوردی نے کثیر سے اور کہا ہے کہ (یہ ساعت ہوتی ہے) اس وقت جو امام کے منبر سے اترنے سے لے کر نماز پڑھ کر ہٹنے تک ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو يحيى بن أبي مسرة ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2981

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2982

2982 - أخبرنا أبو نصر محمد بن إسماعيل البزاز بطابران ثنا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ثنا محمد بن إسماعيل الصايغ ثنا روح ثنا هشام عن أبي هريرة قال : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر هكذا رواه روح بن عبادة موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر محمد بن اسماعیل بزاز سے طابر ان میں ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے ان کو محمد بن اسماعیل صایغ نے ان کو روح نے ان کو ھشام نے ان کو ا بو ہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک ان کے درمیان جو اوقات ہیں ان کے گناہوں کو مٹانے والی ہیں جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے روح بن عبادہ نے بطور موقوف روایت کے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هِشَامٍ ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أبو نصر محمد بن إسماعيل البزاز بطابران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2982

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2983

2983 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل ثنا الحسن بن محمد بن زياد ثنا نصر بن علي الجهضمي ثنا عبد الأعلى ثنا هشام عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن رواه مسلم عن نصر بن علي و كذلك رواه عبد الرحمن بن يعقوب و إسحاق مولى زائدة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا و ذكر أن حديثهما اجتناب الكبائر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کو حسن بن محمد بن زیاد نے ان کو نصر بن علی جہضمی نے ان کو عبدالاعلیٰ نے ان کو ہشام نے انکو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہوں نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور جمعہ تک یہ درمیانے اوقات کے لئے کفارہ ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے نصر بن علی سے اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو عبدالرحمٰن بن یعقوب نے اور اسحٰق مولیٰ زائدہ نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بطور مرفوع روایت کے اور یہ ذکر کیا ہے کہ ان دونوں کی حدیث کبائر سے اجتناب ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← الحسن بن محمد بن زياد ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2983

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2984

2984 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك ثنا أبو عوانة عن المغيرة عن زياد بن كليب عن إبراهيم عن علقمة عن قرثع عن سلمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال : قلنا الله و رسوله أعلم قال ثم قال أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال : قلت الله و رسوله أعلم قال ثم قال أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال قلت الله و رسوله أعلم قال فقلت في الثالثة أو في الرابعة هو اليوم الذي جمع فيه أبوك أو أبوكم قال : إني أخبركم عن يوم الجمعة ما من مسلم يتطهر ثم يمشي إلى المسجد ثم ينصت حتى يقضي الإمام صلاته إلا كانت له كفارة ما بينه و بين بهذا المعنى و زاد قال لا و لكن أحدثكم عن يوم الجمعة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو ولید نے ان کو ہشام بن عبدالملک نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو مغیرہ نے ان کو زیاد بن کلیب نے ان کو ابراہیم نے علقمہ سے اس نے قرثع سے اس نے سلمان سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ کہتا ہے کہ ہم نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں سلمان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے سلمان کہتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ سلمان کہتے ہیں تیسری بار یا چوتھی بار میں نے کہا یہ وہ دن ہوتا ہے جس میں تیرا اور تمہارے باپ جمع ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ میں تمہیں یوم جمعہ کے بارےمیں خبر دیتا ہوں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو وضو کرتا ہے اس کے بعد وہ مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اس کے بعد وہ چپ رہتا ہے حتی کہ امام اپنی نماز پوری کر لیتا ہے مگر اس کے لئے کفارہ بن جاتا ہے اس کے درمیان اور اس جمعہ کے درمیان جو اس سے پہلے گزر ا تھا۔ جب تک کہ اجتناب کرے اور بچے نا حق قتل کرنے سے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے سہل بن بکار نے ابو عوانہ سے اس معنی کے ساتھ اور یہ زیادہ کیا ہے اس نے کہ انہوں نے فرمایا کہ نہیں مگر میں تمہیں بتاتا ہوں یوم جمعہ کے بارے میں۔

سَلْمَانَ ← قَرْثَعٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2984

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2985

2985 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس ثنا أبو قلابة ثنا يحيى بن حماد ثنا أبو عوانة : فذكره بإسناده غير أنه قال : قلت الله و رسوله أعلم قال هو اليوم الذي جمع فيه أبويكم لا يتوضأ عبد مسلم فيحسن الوضوء ثم يأتي المسجد لجمعة إلا كانت كفارة ما بينها و بين الجمعة الأخرى ما اجتنبت المقتلة و الأول أصح

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو یحییٰ بن حماد نے ان کو ابو عوانہ نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اس نے اپنی اسناد کے ساتھ سوا اس کے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے کہا اللہ ا ور اس رسول بہتر جانتے ہیں ابو عوانہ کہتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جو تمہارے اور میرے باپوں کو جمع کرتا ہے۔ نہیں وضو کرتا کوئی عبد مسلم جو اچھی طرح وضو کرتا ہے اس کےبعد وہ مسجد میں آتاہے جمعہ کے لئے مگر یہ کفارہ بن جاتا ہے اس وقت سے دوسرے جمعہ تک جب تک جھگڑے سے اجتناب کرے اور پہلی روایت صحیح ہے۔

قلت الله و رسوله أعلم ← أبو عوانة فذكره بإسناده غير أنه ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2985

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2986

2986 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى الجمعة فدنا و أنصت و استمع غفر له من الجمعة إلى الجمعة و زيادة ثلاثة أيام و إن مس الحصى فقد لغا رواه مسلم عن يحيى بن يحيى و غيره عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ انکو حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور وضو کو اچھی طرح کرے اس کے بعد جمعہ پر آئے اور امام کے قریب ہو اور خاموش رہے اور توجہ سے خطبہ سنے اس کو جمعہ تک بخش دیا جائے گا اور تین اضافی بھی اگر اس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا تو اس نے لغو کام کیا۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا اور اس کے سوا ابو معاویہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2986

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2987

2987 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا إسماعيل بن إبراهيم عن محمد بن إسحاق قال : حدثني محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن أبي عبد الرحمن و أبي أمامة بن سهل عن أبي هريرة و أبي سعيد قالا : سمعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من اغتسل يوم الجمعة و استن و مس من طيب إن كان عنده و لبس أحسن ثيابه ثم جاء إلى المسجد و لم يتخط رقاب الناس ثم ركع ما شاء الله أن يركع ثم أنصت إذا خرج الإمام حتى يصلي كانت كفارة لما بينها و بين الجمعة التي كانت قبلها يقول أبو هريرة : و زيادة ثلاثة أيام إن الله قد جعل الحسنة بعشر أمثالها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے محمد بن اسحٰق سے انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کہتے تھے کہ جو شخص جمعے کے دن غسل کرے اور مسواک کرے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس موجود ہو۔ اور خوبصورت کپڑے پہنے اس کے بعد وہ مسجد میں آئے اور لوگوں کی گردنوں کو نہ پھلانگے اس کے بعد وہ نماز پڑھے جس قدر اللہ چاہے اس کے بعد وہ چپ ہو جائے جب امام آ جائے یہاں تک کہ نماز ہو جائےتو یہ کفارہ ہو گا اس جمعہ سے پہلے جمعہ کے درمیان کے لئے۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اور تین دن زیادہ بھی تحقیق اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کو دس گنا بنایا ہے۔

أبي هريرة و أبي سعيد ← أبي سلمة بن أبي عبد الرحمن و أبي أمامة بن سهل ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر القطيعي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2987

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2988

2988 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن حليم المروزي ثنا أبو الموجه ثنا عبدان أنا عبد الله أخبرنا الأوزاعي ثنا حسان بن عطية حدثني أبو الأشعث الصنعاني حدثني أوس الثقفي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من غسل و اغتسل يوم الجمعة ثم بكر و ابتكر فدنا فاستمع و لم يلغ كان له بكل خطوة يخطوها عمل سنة أجر صيامها و قيامها قال البيهقي رضي الله عنه : قوله : غسل يريد و الله أعلم غسل رأسه من الدهن و الخطى و ما كانوا يجعلونه في رؤوسهم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن حلیم مروزی نے ان کو ابو الموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ نے ہمیں خبر دی ہے اوزاعی نے ان کو حسان بن عطیہ نے ان کو ابو الاشعث صنعانی نے ان کو اوس ثقفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا فرماتے تھے جو شخص وضو کرے اور غسل کرے جمعہ کے دن اور جلدی اٹھے اور جمعہ کے لئے جلدی جائے اور قریب بیٹھے اور سنے او ر لغو و بیہودہ کام نہ کرے اس کے لئے ہر اس قدم کے بدلے میں جو وہ چلے گا عمل ہو گا سال بھر کا اس کے روزوں کا اور اس کی نمازوں کا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قولہ غسل سے مراد ہے کہ اس نے سر کو دھویا تیل اور خطمی سے اور ہر اس شے سے جو وہ لوگ سر میں لگاتے تھے۔

أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ← أَبُو الْأَشْعَثَ الصَّنْعَانِيُّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2988

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2989

2989 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا محمود بن خالد الدمشقي ثنا مروان ثنا علي بن حوشب قال : سألت مكحولا عن هذا القول غسل و اغتسل فقال : غسل رأسه و جسده قال أبو داود ثنا محمد بن الوليد الدمشقي ثنا أبو مسهر عن سعيد بن عبد العزيز في غسل و اغتسل فقال سعيد : غسل رأسه و غسل جسده قال البيهقي رحمه الله : و قد روينا في بعض طرق هذا الحديث من غسل رأسه يوم الجمعة و اغتسل

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روزباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمود بن خالد دمشقی نے ان کو مروان نے ان کو علی بن حوشب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مکحول سے پوچھا اس قول غسل اور اغسل کے بارے میں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ اس نے اپنے سر کو دھویا اور جسم کو دھویا۔ ابو داؤد نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ولید دمشقی نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو مسہر نے سعید بن عبدالعزیز سے اس قول کے بارے میں غسل واغسل تو کہا سعید نے کہ غسل سے مراد ہے سر کو دھویا اور اغسل سے مراد ہے کہ اس نے اپنے جسم کو دھویا۔ امام بیہقی نے فرمایا کہ ہم نے اس حدیث کے بعض طرق میں یہ روایت کیا ہے جو شخص اپنے سر کو دھوئے جمعہ کے دن اور غسل کرے۔

سعيد غسل رأسه و غسل جسده ← سعيد بن عبد العزيز في غسل و اغتسل ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← غسل رأسه و جسده ← هذا القول غسل و اغتسل ← سَأَلْتُ مَکْحُولًا ← عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ ← مَرْوَانَ ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2989

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2990

2990 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن ابن إسحاق و حدثني محمد بن مسلم بن عبيد الله بن شهاب الزهري عن طاوس اليماني قال : قلت لعبد الله بن عباس زعموا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اغتسلوا يوم الجمعة و اغسلوا رؤوسكم و إن لم تكونوا جنبا و مسوا من الطيب قال فقال ابن عباس : أما الطيب فلا أدري و أما الغسل فنعم و كذا رواه شعيب بن أبي حمزة عن الزهري و من ذلك الوجه أخرجه البخاري و فيه تأكيد ما قلنا من معنى قوله من غسل و قد قيل من غسل بالتشديد و اغتسل يعني أوجب الغسل على امرأته بوطئها و الأول أصح و أما الحديث الذي

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو ابو لازہر نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو حدیث بیان کی میرے والد نےان کو ابو اسحٰق نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن شہاب زہری نے طاؤس یمانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا عبداللہ بن عباس سے کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنی سروں کو خصوصاً دھوؤ اگر تم ناپاک نہ بھی ہو اور خوشبو لگاؤ۔ طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا کہ بہر حال خوشبووہ تو میں نہیں جانتا بہر حال غسل تو وہ ہے اسی طرح اس کو روایت کیا ہے شعیب بن ابو حمزہ نے زہری سے اور اسی طریق سے اس کو نقل کیا ہے بخاری نے اس میں اس کی تائید کی ہے ہم نے جو کچھ کہا ہے غسل کے مفہوم کے بارے میں اور تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ لفظ باب تفضیل سے ہے یعنی غسل تشدید کے ساتھ اور اغنسل باب افنعال سے تو ہے ہی۔ اس سے مراد ہے دوسرے کو غسل کر وا یا یعنی اس پر غسل واجب کرنا تو مراد ہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی پر غسل واجب کیا اس کے ساتھ صحبت کر کے۔ بہر حال پہلی توجیہ صحیح ہے۔ پ

قلت لعبد الله بن عباس زعموا ← طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابن إسحاق و ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2990

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2991

2991 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي و أحمد بن الحسن قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا يزيد بن سنان عن بكير بن فيروز عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجز أحدكم أن يجامع أهله في كل جمعة فإن له أجرين اثنين أجر غسله و أجر غسل امرأته قال البيهقي رضي الله عنه : ففي روايات بقية نظر فإن صح ففيه المعنى المنقول في الخبر و أيضا فإنه إذا فعل ذلك كان أغض للبصر حال الرواح إلى الجمعة ففي القديم كن النساء يحضرن الجمعة و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو یزید بن سنان نے ان کو بکیر بن فیروز نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک اس سے عاجز ہے کہ وہ اپنی اہلیہ سے ہر جمعہ کو صحبت کرے بے شک اس کے لئے دو اجر ہوں گے ایک اجر اس کے اپنے غسل کرنے کا دوسرا اس کی عورت کے غسل کا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بقیہ کی روایت میں نظر ہے اگر وہ صحیح ہے تو اس میں وہ معنی ہے جو حدیث میں منقول ہے (علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ ) جب ایسا کرے گا تو یہ نگاہ کو نیچے رکھنے اور پاک رکھنے کا سبب ہو گا۔ جمعہ کی طر ف جاتے وقت بے شک پہلے وقت میں عورتیں جمعہ کے لیے حاضر ہوتی تھیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بُكَيْرَ بْنَ فَيْرُوزٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2991

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2992

2992 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي ثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا أبي ثنا ابن لهيعة ثنا عقيل أن ابن شهاب أخبره عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في الجمعة من الجمع : يا معشر المسلمين ما على أحدكم أن يتخذ ثوبين لجمعته سوى ثوبي مهنته و يمس من طيب إن كان لأهله و عليكم بالسواك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر بن محمد بن محمد بغدادی نے ، ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح نے، ان کو ان کے والد نے، ان کو ابن لہیعہ نے ، ان کو عقیل نے کہ ابن شہاب نے اس کو خبر دی ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے اجتماع کے بارے میں۔ اے مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے لاز م تم میں سے ہر ایک پر کہ وہ دو کپڑے جمعہ کے لئے علیحدہ بنائے محنت اور مشقت کے دو کپڑوں کے علاوہ۔ اور خوشبو لگایا کرے اگر وہ گھر میں ہو اور مسواک کالازم رکھو۔

أَنَسٍ، ← عقيلُ، أنَّ ابنَ شهابٍ: ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2992

chevron_left Previous
1…9899100…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood