شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11133
11133 - و أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا علي بن الجعد ثنا همام عن محمد بن جحادة عن المغيرة بن عبد الله اليشكري عن أبيه قال : قدمت الكوفة أنا و صاحب لي لأجلب منها نعالا فعدونا إلى السوق و لما تقم فقلت لصاحبي : لو دخلنا المسجد فإذا رجل من قيس يقال له ابن المنتفق و هو يقول وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وصلى لي فطلبته بمكة فقيل هو بمنى فطلبته بمنى فقيل لي هو بعرفات فانتهيت إليه و هو في ركب من أصحابه فقيل تنح عن طريق رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوا الرجل أرب ماله فدنوت حتى اختلفا عناق راحلتنا و أخذت بزمام راحلته فما يرعني أو ما عاب علي فقلت : شيئان أسألك عنهما ما يدخلني الجنة و ينجيني من النار قال علي بن الجعد في هذا الحديث مرة أخرى لئن كنت أوجزت في المسألة لقد سألت عن عظيم احفظ على تعبد الله لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة المكتوبة و تؤدي الزكاة المفروضة و تصوم رمضان و ما تحب أن يفعله الناس بك فافعله بهم و ما تكره أن يفعله الناس بك فذر الناس منه خل سبيل الناقة أو قال الراحلة قال همام : و أما الحج فقد حج حيث سأله هذا الإسناد أولى بالصحة و قد رواه ابن عون عن محمد بن جحادة فخلط في إسناده و رواه أبو إسحاق عن المغيرة غير أنه لم ينسبه و لم ينسب ابن المنتفق
ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ہمام نے محمد بن جحادہ سے اس نے مغیرہ بن عبد اللہ یشکری سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں کوفے میں گیا میں اور میرا ایک دوست تا کہ ہم وہاں سے جوتے لے آئیں۔ ہم لوگ بازار میں گئے ۔ جب کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے ساتھی ہے کہا کہ اگر ہم مسجد میں جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ( چنانچہ ہم لوگ مسجد میں چلے گئے ) وہاں دیکھتے ہیں ایک آدمی موجود ہے اس کا نام ابن مثفق تھا قبیلہ بنو قیس میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی گئی تھی چنانچہ میں ان کی تلاش میں نکلا میں نے مکے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں ہیں وہاں تلاش کیا تو بتایا گیا کہ آپ عرفات میں ہیں میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ اپنے قافلے میں سواری پر تھے اپنے اصحاب کے ساتھ مجھے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوڑ دیں اس آدمی کو اس کو کوئی کام ہے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا یہاں تک کہ ہماری اونٹوں کی گردنیں باہم مل گئیں میں نے ان کی سواری کی مہار پکڑ لی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ہی مجھے ڈانٹا نہ ہی میری اس حرکت کو برا مانا ۔ میں نے کہا مجھے دو چیزیں صرف آپ سے پوچھنی ہیں ایک تو وہ جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور دوسری وہ جو مجھے جہنم سے نجات دے دے علی بن جعد کہتے ہیں دوسری مرتبہ اس حدیث میں کہ اگرچہ آپ نے سوال میں اختصار کیا ہے مگر آپ نے بہت بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے مجھ سے یاد کر لیجئے ۔ آپ اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کرنا فرض نماز قائم کرنا ۔ فرض زکوٰۃ ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا۔ اور جو چیز آپ پسند کرتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں آپ خود بھی لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا۔ اور جو چیز آپ لوگوں سے اپنے لئے نا پسند کریں کہ وہ آپ کے ساتھ ایسا نہ کریں آپ لوگوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرنا۔ اچھا اب اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیجئے ۔ یا سواری کا کہا تھا۔ ہمام نے کہا۔ رہی بہر حال حج کی بات تو وہ اس وقت کہی تھی جب اس شخص نے حج کے بارے میں پوچھا تھا یہ اسناد صحت کے لحاظ سے بہتر ہے۔ اور تحقیق اس کو روایت کیا ابن عون نے محمد بن حجادہ سے اس نے اسناد میں خلط کر دیا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو اسحاق نے مغیرہ سے سوائے اس کے کہ اسنے اس کو منسوب نہیں کیا اور ابن مثفق کا نسب بھی نہیں بتایا۔
قدمت الكوفة ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11133
