شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11085
11085 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا هارون بن معروف ثنا عبد الله بن وهب حدثني سعيد بن عبد الرحمن بن أبي العمياء عن السائب بن مهجان من أهل الشام من أهل إيلياء و كان قد أدرك أصحاب رسول الله في حديث ذكره قال : لما دخل عمر رضي الله عنه الشام حمد الله و أثنى عليه و وعظ و ذكر و أمر بالمعروف و نهى عن المنكر ثم قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فينا خطيبا كقيامي فيكم فأمر بتقوى الله و صلة الرحم و صلاح ذات البين و قال : عليكم بالجماعة فإن يد الله على الجماعة و إن الشيطان مع الواحد و هو من الإثنين أبعد لا يخلون رجل بامرأة فإن الشيطان ثالثهما و من ساءته سيئة و سرته حسنته فهو أمارة المسلم المؤمن و أمارة المنافق الذي لا تسوؤه سيئته و لا تسره حسنته إن عمل خيرا لم يرج من الله في ذلك ثوابا و إن عمل شرا لم يخف من الله في ذلك الشر عقوبة و أجملوا في طلب الدنيا فإن الله قد تكفل بأرزاقكم و كل ميسر له عمله الذي كان عاملا استعينوا بالله على أعمالكم فإنه يمحوا ما يشاء و يثبت و عنده أم الكتاب صلى الله عليه و سلم على نبينا محمد و آله و عليه السلام و رحمة الله السلام عليكم هذه خطبة عمر بن الخطاب على أهل الشام أثرها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو سعید بن عبد الرحمن ٰبن ابو العباس نے سائب بن مہجان سے جو اہل شام میں سے ایلیا ، ( بیت المقدس) کے رہنے والے تھے اور وہ اصحاب رسول کو مل چکے تھے ایک حدیث کے بارے میں جس کو انہوں نے ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب ملک شام میں داخل ہوئے تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کی حمد وثناء کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی تذکیر فرمائی ۔ اور امر بالمعروف کیا نہی عن المنکر کی ( بھلائی کی تلقین کی اور برائی سے روکا۔) اس کے بعد انہوں نے فرمایا : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اندر خطبہ ارشاد فرمانے کھڑے ہوئے تھے جیسے میں آپ لوگوں میں کھڑا ہوں۔ انہوں نے اللہ سے ڈرنے کا حکم فرمایا تھا۔ اور صلہ رحمی کرنے کا اور آپس میں صلاح کا اور بنا کر رکھنے کا۔ اور انہوں نے فرمایا تھا تم لوگ اپنے اوپر جماعت کو لازم رکھنا بے شک اللہ کی تائید والا ہاتھ جماعت کے اوپر ہوتا ہے۔ اور بے شک شیطان اکیلے انسان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے دور رہتا ہے۔ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا خلوت میں نہ رہے بے شک شیطان ان میں تیسر ا ہوتا ہے۔ جس شخص کو اس کی برائی بری لگے اور اس کی نیکی اس کو اچھی لگے تو یہ مسلم مؤمن کی نشانی ہے۔ اور منافق کی علامت وہ ہے جو اس کو اس کی برائی بری نہ لگے اور اس کی نیکی اس کو خوش نہ کرے۔ اگر خیر کا عمل کرتا ہے تو وہ اس پر اللہ سے امید نہیں کرتا ۔ اور اگر وہ برائی کا عمل کرتا ہے تو وہ اللہ سے سزا اور پکڑ کا خوف نہیں کرتا اس برائی پر۔ طلب دنیا میں اجمال و اختصار سے کام لو کیونکہ تمہارے رزقوں کی ذمہ داری اللہ نے لے لی ہے اور ہر شخص کے لئے وہ عمل آسان کر دیئے گئے ہیں جو وہ عمل کرنے والا تھا، اللہ سے مدد مانگو اپنے اعمال پر پس بے شک وہی مٹا سکتا ہے جو چاہے اور باقی رکھتا ہے جو چاہے اسی کے قبضے میں ہے اصل کتاب ۔اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر اور ان پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو ۔ السلام علیکم۔ یہ خطبہ ہے عمر بن خطاب کا اہل شام پر جسے اس نے نقل کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
سعيد بن عبد الرحمن بن أبي العمياء ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11085
