Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7770

7770 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب حدثني عمرو بن الحارث أن عمر بن السائب حدثه أن القاسم بن أبي القاسم حدثه أنه سمع قاص الأجناد بالقسطنطينية يحدث عن عمر بن الخطاب أنه قال : أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يقعد على مائدة يدار عليها الخمر و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بإزار و من كانت تؤمن بالله و اليوم الآخر فلا تدخل الحمام

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے ان کوا بن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عمر بن سائب نے اس کو حد یث بیان کی ہے یہ کہ قاسم بن ابوالقاسم نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا اجناد کا قصہ کرنے والے سے قسطنطنیہ میں وہ حدیث بیان کرتے تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا اے لوگو! بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرماتے تھے! جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت پر وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چلے ۔اور جو شخص اللہ پر اورآخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں نہ جائے مگر تہبند کے ساتھ ۔ اور جوعورت اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ حمام میں داخل نہ ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← قاص الأجناد بالقسطنطينية ← أَنَّهُ ← أن القاسم بن أبي القاسم ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7770

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7771

7771 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة نا محمد بن الصباح الصنعاني نا محمد بن شرحبيل نا سفيان عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن أبي المليح عن عائشة قالت : أتت عائشة نساء من أهل الشام فقالت : لعلكن من الكورة التي يدخل نساؤها الحمامات ؟ قلت : نعم قالت : فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما امرأة وضعت ثيابها في غير بيتها فقدك هتكت ستر ما بينها و بين الله عز و جل و كذلك رواه شعبة عن منصور

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں ان کو محمد بن صباح صنعانی نے ان کومحمد بن شرحبیل نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو ابوملیح نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل شام کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پوچھا کہ شاید تم اس طبیعت و عادت کی عورتوں میں سے ہو جو عورتیں حماموں میں جاتی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کہیں اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اس حجاب اور پردے کو پھاڑ دیتی ہے جو اللہ اور اس کے درمیان ہے ۔اسی طرح اس کو روایت کیا ہی شعبہ نے منصور سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← محمَّد بن الصباح الصنعاني، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7771

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7772

7772 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد نا أبو جناب يحيى بن أبي حية عن عطاء بن أبي رباح عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس البيت الحمام بيت لا يستر و ماء لا يطهر و ما يسر عائشة أن لها مثل أحد ذهبا و أنها دخلت الحمام و قالت : لو أن امرأة أطاعت ربها و حفظت فرجها ثم آذت زوجها بكلمة باتت و الملائكة تلعنها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے ، دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ابو جناب یحییٰ بن ابوحیہ نے ان کو عطاء بن ابور بارح نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برا گھر حمام ہے اور ایسا گھر ہے جس میں پردہ نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات پر خوش نہیں ہے کہ اس کے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہوگا اس شرط پر کہ وہ حمام میں داخل ہو ۔ اور فرماتی ہیں کہ اگر کوئی عورت اپنے رب کی فرمانبرداری کرتی ہے، اور اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہے مگر اس کے بعد وہ اپنے کسی لفظ کے ساتھ اپنے شوہر کو ایذاء پہنچاتی ہے اسی حالت میں اگر وہ رات گذارتی ہے تو فرشتے اس کے اوپر لعنت کر تے رہتے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، ← يَزِيدُ: ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7772

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7773

7773 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة حدثني عبيد الله بن جعفر أنه بلغه عن عائشة عن عائشة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : أف للحمام حجاب لا يستر و ماء لا يطهر بنيان أو ساب للمشركين و مرج الكفار و مرج الشيطان لا يحل لرجل أن يدخله إلا بمنديل مروا المسلمين لا يفتنون نساءهم الرجال قوامون على النساء علموهن القرآن و مروهن بالتسبيح هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابوزکر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ابن لہیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبید اللہ بن جعفر نے ان کو خبر پہنچی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے حمام کے لئے کیونکہ وہ ایسے حجاب و پردے کی جگہ ہے جو ستر کو نہیں ڈھکتی ۔ اور پانی ہے جو پاک نہیں رہتا۔ یا عمارت کو پاک نہیں کرتا (یعنی یہ جگہ اکثر ناپاک رہتی ہے ) مشرکوں کی میل کفار اور شیطانوں میکنگ میں کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ ان میں بغیر رومال کے یعنی ستر ڈھکے داخل ہو مسلمانوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی عورتوں کو فتنوں میں نہ ڈالیں مرد عورتوں پر ذمہ دار مقرر ہیں انہیں قرآن کی تعلیم دو اور ان کو تسبیح کرنے کا حکم دو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ ← عبيد الله بن جعفر أنه بلغه ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7773

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7774

7774 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن دراج أبا السمح حدثه عن السائب : أن نسوة دخلن على أم سلمة من أهل حمص قالت من أصحاب الحمامات قلن و بها بأس ؟ قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما امرأة نزعت ثيابها في غير بيتها خرق الله عنها سترا قال الإمام أحمد : بهذه الأخبار تنهى النساء عن دخول الحمامات على الإطلاق و ذلك لما بني عليه أمرهن من المبالغة في الستر و قد

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمر و بن حارث نے ان کو دراج ابو سمح نے اس کو حدیث بیان کی ہے۔ سائب سے یہ کہ کچھ عورتیں ام المومنین ام سلمہ کے پاس اہل حمص سے آ ئیں وہ اصحاب حمامات میں سے تھیں انہوں نے پو چھا کہ کیا حمام میں بھی کوئی گناہ ہے؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ماتے سنا کہ جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی جگہ کپڑے اتارتی ہے اللہ تعالی ٰ اس کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ان احادیث کے ساتھ عورتوں کو حماموں میں داخل ہونے سے مطلقا ً منع کر دیا گیا ہے ۔ یہ ان کے لئے اس لئے ہے کہ ان پر پردہ کرنے کا مبالغہ کے ساتھ حکم ہے۔ یہ روایت منقطع ہے ۔

الإمام أحمد بهذه الأخبار تنهى النساء ← أيما امرأة نزعت ثيابها في غير بيتها خرق الله عنها سترا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← من أصحاب الحمامات قلن و بها بأس ← السائب أن نسوة دخلن على أم سلمة من أهل حمص ← عمرو بن الحارث أن دراج أبا السمح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7774

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7775

7775 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبد الرحمن بن رافع عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنها ستفتح عليكم أرض الأعاجم و ستجدون فيها بيوتا يقال لها الحمامات فلا يدخلها الرجال إلا بالإزار و امنعوا النساء أن يدخلنها إلا مريضة أو نفساء فهذا حديث يتفرد به عبد الرحمن بن زياد الأفريقي و أكثر أهل العلم لا يحتج بحديثه و قد أخرجه أبو داود في السنن عن أحمد بن يونس عن زهير عن عبد الرحمن بن زياد و ليس بأضعف من أحاديث النهي على الإطلاق و روي من وجه آخر عن عمر مرفوعا و ليس بالقوي و روينا عن نافع و بكير بن عبد الله بن الأشج أنهما حملا النهي في ذلك على التنزيه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن علی بن مؤمل ما سر جسی نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبد اللہ بصری نے ان کو ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عبدالرحمن ٰبن زیاد بن انعم نے ان کو عبدالرحمن ٰبن رافع نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک تمہارے او پر عجمیوں کی فتح ہوگی تم وہاں پر ایسے مکان پاؤ گے جنہیں حمام کہا جاتا ہوگا تو ان میں مر د بغیر تہبند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کومنع کر دو کہ وہ ان میں داخل نہ ہوا کریں مگر مریضہ یا بچہ جننے والیاں ۔ جو ناپاک ہوں ۔ اس حدیث میں عبدالرحمن ٰبن زیاد افریقی اکیلے ہے جو اس کو روایت کرتے ہیں ۔ اور اکثر اہل علم اس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑ تے ۔اور ابو داؤد نے اس کو نقل کیا ہے سنن میں احمد بن یونس سے اس نے زہیر سے اس نے عبدالرحمن ٰبن زیاد سے یہ حد یث مطلقا ً نہی والی احادیث سے زیادہ ضعیف نہیں ہے۔ اور دوسرے طریق سے مروی ہے حضرت عمر سے بطور مرفوع روایت کے ۔ مگر وہ بھی قوی نہیں ہے اور ہم نے روایت کی ہے نافع سے اور بکبیر بن عبداللہ بن اشح سے کہ انہوں نے اس مسئلہ میں نہی کونہی تنزیہی پر محمول کیا ہے۔ واللہ اعلم ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7775

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7776

7776 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر أن عمر بن الخطاب قال : لا يحل المؤمن أن يدخل الحمام إلا بمنديل و لا مؤمنة إلا من سقم فإني سمعت عائشة تقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : أيما امرأة وضعت خمارها في غير بيتها فقد هتكت الحجاب فيما بينها و بين ربها و في هذا الأثر عن عمر تأكيد لما رواه الإفريقي غير أنه منقطع و روي عن عمر من وجه آخر أقوى كما

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ابن لہیعہ نے ان کو عبید اللہ بن ابو جعفر نے یہ کہ عمر بن خطاب نے فرمایا کسی مؤمن مرد کے لئے حلال نہیں کہ وہ بغیر تہبند کے حمام میں داخل ہو اور نہ ہی کسی ایمان والی عورت کے لئے ہاں مگر بیماری کی وجہ سے ہو ۔ بے شک میں نے سنا سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔ جو عورت اپنے گھر کے سوا دوسری جگہ اپنی اوڑھنی اتارتی ہے وہ اس حجاب کو پھاڑ دیتی ہے جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ اس اثر کے اندر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تاکید ہے اس روایت کے لئے جس کو افریقی نے روایت کیا ہے ہاں مگر یہ کہ وہ منقطع ہے ۔اور حضرت عمر سے دوسرے طریق سے جو اس سے قوی ہے مروی ہے ( جیسے ذیل میں ہے۔ )

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7776

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7777

7777 - أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب و ابن مرحوم بن ميمون أنهما سمعا عيسى بن سيلان يقول : سمعت قبيصة بن ذؤيب يقول : سمعت عمر بن الخطاب يقول : لا يحل لرجل يدخل الحمام إلا بمئزر و لا يحل لامرأة أن تدخل الحمام فقام رجل فقال : لقد منعتها من حين سمعتك تنهى عن ذلك و إنها لسقيمة فقال عمر : إلا من سقم

ہمیں خبر دی ابوزکریا نے ان کو ابوالعباس نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ابن لہیعہ نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے اور ابن مرحوم بن میمون نے کہ ان دونوں نے سنا عیسی ٰبن سیلان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا قبیصہ بن ذویب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں ۔ کسی مرد کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل ہو اور کسی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ حمام میں داخل ہو ۔ ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا البتہ تحقیق میں نے اسے منع کر دیا ہے جب سے میں نے آپ کو منع کرتے سنا ہے حالانکہ وہ بیمار ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جو بیمار ہواس کے لئے منع نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← يزيد بن أبي حبيب و ابن مرحوم بن ميمون أنهما سمعا عيسى بن سيلان ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7777

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7778

7778 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا إبراهيم بن مهدي نا عمر بن عبد الرحمن أبو حفص الأبار عن إسماعيل بن عبد الرحمن الأزدي عن أبي بردة عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول من دخل الحمامات وصنعت له النورة سلميان بن داود فلما دخل وجد حره و غمه فقال : أوه من عذاب الله أوه أوه ثم أوه قبل أن لا يكون أوه تفرد به إسماعيل بن الأزدي قال البخاري : لا يتابع عليه و قال مرة فيه نظر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو ابراہیم بن مہدی نے ان کو عمر بن عبد الرحمن ٰ ابوحفص آبار نے اسماعیل بن عبدالرحمنٰ از دی سے اس نے ابو بردہ سے اس نے ابو موسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلا آدمی جو حماموں میں داخل ہوا اور اس کے لئے نورہ (بال صاف کرنے والا جونہ ) تیار کیا گیا و و سلیمان بن داؤ د تھا جب داخل ہوا اس نے اس کی گرمی اور اس کی تکلیف کو محسوس کیا تو کہنے لگا اف توبہ اللہ کے عذاب سے اف اف میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے عذاب سے قبل اس کے کہ میری آہیں نکلیں ۔ اسماعیل از دی اس روایت میں اکیلے ہیں ۔ بخاری نے کہا اس کا کوئی متابع نہیں ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ اس میں نظر ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← إسماعيل بن عبد الرحمن الأزدي ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7778

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7779

7779 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله الشعيري نا أحمد بن معاذ السلمي نا عبد الرحمن بن علقمة السعدي نا أبو حمزة السكري عن يحيى بن عبيد الله عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم البيت يدخله الرجل الحمام و ذلك لأنه إذا هو دخله سأل الله الجنة و استعاذ بالله من النار بئس البيت يدخله الرجل المسلم بيت العروس و ذلك بأنه يرغب في الدنيا و ينسيه الآخرة و في إسناده ضعف

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوطیب محمد بن عبداللہ شعیری نے ان کو احمد بن معاذ سلمی نے ان کو عبدالرحمن ٰبن علقمہ سعدی نے ان کو ابوحمز ہ سکری نے ان کو یحییٰ بن عبید اللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا گھر جس میں آدمی داخل ہوتا ہے وہ حمام ہے یہ اس لئے کہ وہ جب اس میں داخل ہوتا ہے تو اللہ سے جنت کی دعا کرتا ہے اور جہنم سے پناہ مانگتا ہے۔ اور بری جگہ جہاں مسلمان آدمی داخل ہوتا ہے وہ دولہن کا حجرہ ہے یہ اس لئے کہ اس میں جا کر وہ دنیا میں رغبت کرتا ہے اور وہ جگہ اس کو آخرت بھلوا دیتی ہے ۔اس کی سند میں ضعف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← عبد الرحمن بن علقمة السعدي ← أَحْمَدُ بْنُ مُعَاذٍ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّعِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7779

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7780

7780 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن إسحاق نا عبد الله بن عبد الوهاب نا عبد الواحد يعني ابن زياد نا عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : نعم البيت الحمام يذهب الدرن و يذكر النار و هذا موقوف و إسناده صحيح

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو عبد اللہ بن عبدالوہاب نے ان کو عبدالواجد بن زیاد نے ان کو عمار ہ بن قعقاع نے ان کو ابوزرعہ نے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ حمام اچھی جگہ ہے۔ وہاں میل کچیل دور ہوتی ہے اور جہنم کا تذکرہ ہوتا ہے. یہ روایت موقوف ہے ۔ اس کی سند صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7780

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7781

7781 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا قرة بن خالد أخبرني عطية الجدلي عن ابن عمر قال : نعم البيت الحمام يذهب الوسخ و يذكر النار

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب نے بن عطاء نے ان کوقر ہ بن خالد نے خبر دی ان کو عطیہ جدلی نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ اچھی جگہ حمام ہے میل کو دور کرتا ہے اور جہنم کی یاد دلاتا ہے۔

نعم البيت الحمام يذهب الوسخ و يذكر النار ← ابْنِ عُمَرَ ← عطية الجدلي ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7781

chevron_left Previous
1…870871872…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood