Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7614

7614 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى بن بكير حدثني الليث عن عقيل عن ابن شهاب : أن سالم بن عبد الله أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المسلم أخو المسلم لا يظلمه و لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته و من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة و من ستر على مسلم ستره الله يوم القيامة رواه البخاري عن يحيى بن بكير و رواه مسلم عن قتيبة عن الليث

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو ابن شہاب نے یہ کہ سالم بن عبداللہ نے اس کو خبر دی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اس کوخبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگارہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور مشکل کھول دیتا ہے تو اللہ تعالی ٰ اس شخص کی قیامت کی مشکلات میں سے ایک مشکل آسان کر دے گا اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا ۔بخاری نے اس کو روایت کیا یحییٰ بن بکیر سے اور مسلم نے قتیبہ سے اس نے لیث سے۔

ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7614

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7615

7615 - أخبرنا أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الأيادي ببغداد نا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل املاء نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فرج عن مؤمن كربة فرج الله عنه كربته و من ستر على مؤمن ستر الله عورته و لا يزال الله عز و جل في عونه ما دام في عون أخيه مخرج من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوالقاسم علی بن محمد بن یعقوب ایادی نے بغداد میں ان کو ابو جعفر عبداللہ بن اسماعیل نے بطور املاء کے ان کو احمد بن عبدالحمید عطاردی نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کواعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مؤمن کی تکلیف دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں اور جو شخص کسی مومن کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی مددکرنے میں لگا رہتا ہے وہ جب تک اپنے بھائی کی معاونت کرتا رہتا ہے۔ یہ دوسرے طریق سے اعمش سے منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل إملاء ← أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الأيادي ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7615

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7616

7616 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي علي السقا أن محمد بن يزداد نا محمد بن أيوب أنا هشام بن عبد الملك نا شعبة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : على كل مسلم في كل يوم صدقة قيل فإن لم يجد ؟ قال : يعمل بيده فينفع نفسه و يتصدق قيل : فإن لم يستطع أو لم يجد قال : يأمر بالمعروف أو بالخير قيل : فإن لم يستطع و ربما قال فإن لم يجد قال : يعين ذا الحاجة و الملهوف قيل : فإن لم يستطع قال يكف عن الشر فإنها صدقة أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن ابوعلی سقا نے ان کومحمد بن یز داد نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ہشام بن عبدالملک نے ان کو شعبہ نے ان کو سعید بن ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر ہر روز اور ایک صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے عرض کیا گیا کہ اگر وہ کچھ نہ پائے ؟ (یعنی صدقہ کرنے کو کچھ بھی نہ ہو۔) فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ عرض کیا گیا کہ اگر وہ استطاعت نہ رکھے یانہ پائے کوئی چیز ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معروف کا حکم کرے یا کہا کسی چیز کی تلقین کرے۔عرض کیا گیا کہ اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے کبھی راوی کہتا تھا کہ اگر وہ کوئی چیز نہ پائے ۔ فرمایا کہ حاجت مند کی اور مجبور کی مددکرے عرض کیا گیا کہ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے۔ فرمایا کہ شرو برائی سے رک جائے بے شک یہی صدقہ ہے اس کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے۔

أبو الحسن بن أبي علي السقا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7616

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7617

7617 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر محمد بن محمد بن محمد بن أحمد بن رجاء قالا نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء نا محاضر بن المودع نا هشام بن عروة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد أنا أبو القاسم ابن بنت أحمد بن منيع نا خلف بن هشام نا حماد بن زيد عن هشام بن عروة عن أبيه عن أبي مرواح الغطفاني عن أبي ذر قال : قلت يا رسول الله : أي الأعمال أفضل و في رواية محاضر أي العمل أفضل قال : إيمان بالله و جهاد في سبيله قال : قلت أي الرقاب أفضل ؟ قال : أنفسها عند أهلها و أكثرها ثمنا و في رواية محاضر و أغلاها ثمنا قال قلت أرأيت إن لم أفعل ؟ قال : تعين صانعا أو تصنع لأخرق قال : قال : قلت يا رسول الله أرأيت إن ضعفت عن بعض العمل ؟ قال فكف شرك عن الناس فإنها صدقتك على نفسك و في رواية محاضر قال : قلت أرأيت إن ضعفت عن ذلك ؟ قال : تدع الناس من الشر فإنها صدقة تصدق بها على نفسك رواه مسلم عن خلف عن هشام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر محمد بن محمد بن محمد بن احمد بن رجاء نے دونوں کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو محاضر بن مودع نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الولید نے ان کو ابوالقاسم نے ابن بنت احمد بن منیع نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومرواح غطفانی نے ان کو ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ کونساعمل افضل ہے؟ ایمان باللہ ۔ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کونسا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس کے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور قیمت زیادہ ہو۔ اور محاضر کی روایت میں ہے کہ جس کی قیمت زیادہ مہنگی ہو کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یہ فرمایئے کہ اگر میں نہ کرسکوں؟ فرمایا کہ کسی کام کر نے والے کی مدد کر یا مجبور و بے بس کے لئے خودمحنت کر ۔کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ اگر میں بعض عمل سے عاجز آ جاؤں؟ فرمایا پھر تو اپنے شر کولوگوں سے روک دے۔ بے شک وہی صدقہ ہے تیرا تیرے نفس پر اور محاضر کی ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے کہا یہ بتائیے کہ اگر میں اس سے عاجز ہو جاؤں؟ فرمایا کہ پھر تو اپنے شر سے لوگوں کو بچا یہی صدقہ ہے جس کے ذریعہ تو اپنے اوپر صدقہ کر سکتا ہے ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے خلف سے اس نے ہشام سے ۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي مِرْوَاحٍ الْغَطَفَانِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← أَبُو الْقَاسِمِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← محاضر بن المودع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7617

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7618

7618 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أحمد بن عيسى نا أحمد بن عيسى نا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن سعيد بن أبي هلال حدثه عن أبي سعيد مولى المهدي عن أبي ذر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليس من نفس بني آدم إلا عليها صدقة في كل يوم طلعت فيه الشمس فقال قيل : و ما هي يا رسول الله و من أين لنا صدقة نتصدق بها ؟ فقال : إن أبواب الخير لكثيرة التسبيح و التحميد و التكبير و التهليل و تأمر بالمعروف و تنهى عن المنكر و تميط الأذى عن الطريق و تسمع الأصم و تهدي الأعمى و تدل المستدل على حاجته و تسعى بشدة ساقيك مع اللهفان المستغيث و تحمل بشدة ذراعيك مع الضعف فهذا كله صدقة منك على نفسك

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو احمد بن عیسی ٰنے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے کہ سعید بن ہلال نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابوسعید مولی ٰمہدی سے اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اولا د آدم کے ہرفرد پر ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے اس پر صدقہ واجب ہے۔ کہا گیا یا رسول اللہ کہ کیا صدقہ ہے؟ کہاں سے آئے گا ہمارے پاس صدقہ کہ ہم اس کا صدقہ کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر و بھلائی کے دروازے بہت سارے ہیں تسبیح کرنا ۔تحمید کرنا۔ تکبیر کہناتہلیل (لا اله الا اللہ) پڑھنا اچھائی کی تلقین کرنا۔ برائی سے روکنا۔۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بہرے کو سنوانا ۔ اندھے کو راستہ بتانا ۔ حاجت مند کو اس کی حاجت پر رہنمائی کرنا کوشش کر کے اپنے پاؤں کے ساتھ پریشان فریادی کے ساتھ (مدد کے لئے ) چلنا اور اپنے بازوؤں کے ساتھ کوشش کر کے کمزور کا بوجھ اٹھانا یہ سب صدقات ہیں تیری طرف سے تیرے اپنے نفس پر ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْدِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7618

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7619

7619 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز قالا أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك نا أبو جعفر محمد بن عبيد الله المنادي أنا أبو بدر شجاع بن الوليد نا سليمان بن مهران عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن أبي ذر قال : قلت يا رسول الله ذهب الأغنياء بالأجر قال : ألستم تصلون و تصومون و تجاهدون قال : قلت بلى و هم يفعلون كما نفعل يصلون و يصومون و يجاهدون و يتصدقون و لا نتصدق قال : إن فيك صدقة كثيرة إن في فضل بيانك عن الأرتم تقر عن حاجته صدقة و في فضل سمعك على الذي لا يسمع و في رواية الرزاز على ( ) عنه حاجته صدقة و في فضل بصرك على الضرير تهديه الطريق صدقة و في فضل قوتك على الضعيف تعينه صدقة و في إمالتك الأذى عن الطريق صدقة و في مباضعتك أهلك صدقة قال : قالت يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته و يؤجر ؟ قال : أرأيت لو جعلته في غير حله أكان عليك وزر ؟ قال : قلت نعم قال : افتحتسبون بالشر و لا تحتسبون بالخير رواية أبي البختري عن أبي ذر مرسلة و لها شواهد صحيحه في ألفاظه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے اور ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤ درز از نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوعمر وعثمان بن احمد بن سماک نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبیداللہ المنادی نے ان کو ابو بدرشجاع بن ولید نے ان کو سلیمان بن مہران نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابو الجنتر ی نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ ! دولت مند لوگ اجر لے گئے ہیں (یعنی نیکی کے کاموں میں خرچ کر کے سارے اجر کما لیتے ہیں۔) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نماز نہیں پڑھتے ہو۔ روزے نہیں رکھتے ہو۔ جہا د نہیں کر تے ہو ۔ ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یہ کام تو ہم بالکل کرتے ہیں مگر یہ کام تو وہ بھی کرتے ہیں جیسے ہم کر تے ہیں ۔ وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں ، جہاد کرتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں مگر ہم صدقہ نہیں کر سکتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے اندر تو کثیر صدقہ ہے۔ تیرے ذرا سے اضافی بولنے میں جس سے تو حاجت مند کی حاجت پوری کر دے تیرے لئے صدقہ ہے۔ اور جو شخص سن نہیں سکتا اس کو سنوا دینے میں صدقہ ہے۔ اور رز از کی روایت میں یوں ہے کہ حاجت مند کی حاجت پوری کرنا صدقہ ہے اور نابینا آدمی کو راستہ خود دیکھ کر بتا دینا صدقہ ہے اور تیری اضافی طاقت میں جب کہ تو کمزور کی اعانت کر دے صدقہ ہے اور تیرا راستے سے تکلیف دہ شئی کو ہٹا دینا صدقہ ہے اور اپنی گھر والی کے ساتھ تیرا صحبت کرنا بھی صدقہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا ایک انسان ہم میں سے اپنی انسانی وجنسی خواہش پوری کرتا ہے اس میں بھی صدقہ ہے؟ اس میں بھی اجر ملے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بتاؤ ذرا کہ اگر تم اس فعل کو بے محل پر غیر حلال جگہ پر تو کیا تجھ پر گناہ ہوگا ؟ ابوذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ بالکل گناہ ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ برائی کو شمار کرتے اس کا حساب لگاتے ہو اور خیر کو شمار نہیں کرتے اس کا حساب نہیں لگاتے۔ اور ابواالجنتری کی روایت میں ہے ابوذ ر رضی اللہ عنہ سے بطور مرسل روایت کے اور اس کے صحیح شواہد موجود ہیں اس کے الفاظ میں ۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7619

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7620

7620 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا مسدد نا يزيد بن روح ح و قال و نا مسدد نا بشر بن المفضل قالا نا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى الناس عن الأفنية و الصعدات أن يجلسوا بها فقالوا يا رسول الله لا نستطيع ذلك و لا نطيقه قال : فأما لا فأدوا حقها قالوا : و ما حقها يا رسول الله قال : رد التحية و تشميت العاطس إذا حمد الله و غض البصر و إرشاد السبيل

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو یزید بن روح نے ’’ ح ‘‘ اور انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے مسدد سے ان کو بشر بن مفضل نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے عبدالرحمن ٰبن اسحٰق نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا میدانوں اور اونچائیوں پر بیٹھنے سے ۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم اس کی طاقت رکھتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مگر یہ کہ تم اس کا حق ادا کرو لوگوں نے پوچھا کہ اس کا حق کیا ہے یا رسول اللہ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ سلام کا جواب دینا۔ چھینکنے والے کا جواب دینا جب وہ

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← و، ← و، ← يزيد بن روح ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7620

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7621

7621 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا الحسين بن عيسى النيسابوري نا ابن المبارك نا جرير بن حازم عن إسحاق بن سويد عن أبي حجر العدوي قال : سمعت عمر بن الخطاب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة و تعينوا الملهوف و تهدوا الضال

ہمیں خبر دی ابوعلی رودباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو درداء نے ان کو حسین بن عیسی ٰنے نیساپوری نے ان کو ابن مبارک نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو اسحٰق بن سوید نے ان کو ابو حجیر عدوی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ میں کہ تم لوگ مدد کرو مجبورو مظلوم کی اور راستہ بتاؤ بھٹکے ہوئے کو۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أبي حجر العدوي ← إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7621

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7622

7622 - أخبرنا أبو الحسن العلوي نا أبو عبد الله محمد بن سعيد بن حمويه النسوي نا جعفر بن محمد بن شاكر نا يونس بن عبيد الله نا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بهم و هم جلوس على الطريق فقال : أما إن كنتم فاعلين فاهدوا السبيل و ردوا السلام و أعينوا المظلوم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حمویہ نسوی نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو یونس بن عبید اللہ نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو براء نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گذرے وہ لوگ راستے پر بیٹھےہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہر حال اگر تم لوگ راستے پر بیٹھتے ہی ہو تو پھر راستے کی رہنمائی کیا کرو ۔۔ اور سلام کا جواب دیا کرو اور مظلوم کی اعانت کیا کرو۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أبو عبد الله محمد بن سعيد بن حمويه النسوي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7622

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7623

7623 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن حكيم المروزي نا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله نا مالك بن مغول أنا الشعبي قال : ما جلس الربيع بن خيثم مجلسا على ظهر الطريق : أخاف أن يظلم رجل فلا أنصره أو يعتدي رجل على آخر فأكلف عليه الشهادة أو يسلم علي فلا أرد السلام أو يقع عن حاملة حملها فلا أحمل عليها قال فأنشأ الشعبي يذكر هذا و كنا ندخل عليه بيته

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن حکیم مروزی نے ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبد اللہ نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو شعبیٰ نے نہ بیٹھے ربیع بن خثیم کسی نشست پر کسی راستے میں مگر فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کسی آدمی پر ظلم ہو اور میں اس کی مدد نہ کر سکوں یا کوئی آدمی کسی پر زیادتی کرے اور میں اس کے بارے میں گواہی دینے کا مکلف نہ بن جاؤں یا کوئی شخص مجھے سلام کرے اور میں اس کا جواب نہ دے سکوں۔ یا کسی سوار سے کوئی شئی گر جائے اور میں اٹھا کر اس کو نہ دے سکوں۔ کہتے ہیں شعبی نے یہ ذکر کیا تھا اور ہم لوگ ان کے پاس ان کے گھر میں آتے جاتے تھے۔

ما جلس الربيع بن خيثم مجلسا على ظهر الطريق أخاف ← الشَّعْبِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الْحَسَنُ بْنُ حَكِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7623

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7624

7624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن صفوان عن عمرو عن أبي اليمان عن يزيد بن الأسود قال : لقد أدركت أقواما من سلف هذه الأمة قد كان الرجل إذا وقع في هوي أو دجلة نادى يا لعبد الله فيتوثبوا إليه فيسخرجونه و دابته مما هو فيه و لقد وقع رجل ذات يوم في دجلة فنادى يا لعباد الله فتواثب الناس إليه فما أدركت إلا مقاصه في الطين فلأن أكون أدركت من متاعه شيئا فأخرجه من تلك الوحلة أحب إلي من دنياكم التي ترغبون فيها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابواسحٰق فزاری نے اس نے صفوان بن عمرو سے اس نے ابوالیمان سے اس نے یزید بن اسود سے انہوں نے کہا کہ البتہ تحقیق میں نے ایسے لوگوں کو بھی پایا ہے۔ اس امت کے سلف میں سے کہ ایک آدمی اگر دریائے دجلہ میں گر جاتا تو آواز لگاتا اے اللہ کے بندو پہنچو مدد کے لئے۔ تو لوگ اس کے پیچھے کود جاتے تھے اور اس کو نکال لاتے تھے اور اس کی سواری کو بھی اس مصیبت سے جس میں وہ واقع ہوتا۔ اور البتہ تحقیق ایک دن ایک آدمی دجلہ میں جا گرا اس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو مد دکو پہنچو لوگ اس کے پیچھے کود گئے مگر کچھ بھی نہ ملا مگر اس کے ٹکڑے ملے کیچڑ میں اگر میں وہاں ہوتا اور میں اس کے سامان میں سے کچھ پالیتا تو میں ضرور اس کیچڑ سے اسے نکال لاتا اور مجھے یہ عمل تمہاری اس دنیا سے زیادہ محبوب ہونا جس میں تم رغبت رکھتے ہو۔

يزيد بن الأسود ← أَبِي الْيَمَانِ ← عَمْرٍو، ← صَفْوَانُ؛ ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7624

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7625

7625 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أبو قصي إسماعيل بن محمد نا سليمان بن عبد الرحمن نا محمد بن عبد الرحمن القشيري نا ثور بن يزيد عن محمد بن المنكدر عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قاد أعمى أربعين خطوة وجبت له الجنة

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابو قصٰی اسماعیل بن محمد ان کو سلیمان بن عبد الرحمن نے ان کو محمد بن عبد الرحمن ٰقشیری نے ان کو ثو د بن یزید نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کوعبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے انسان کو چالیس قدم ( ہاتھ پکڑ کر ) چلائے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو قصي إسماعيل بن محمد ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7625

chevron_left Previous
1…857858859…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood