Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 610

609 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي ثنا حرمي بن حفص أبو علي ثنا عبيد بن مهران قال سمعت الحسن يحدث عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجزكم أحدكم أن يعمل كل يوم عملا مثل أحد ؟ قالوا يا رسول الله و من يستطيع أن يعمل كل يوم مثل أحد ؟ قال : كلكم يستطيعه قالوا : يا رسول الله ما ذاك ؟ قال : سبحان الله أعظم من أحد و لا إله إلا الله أعظم من أحد و الله أكبر أعظم من أحد قال الحليمي رحمه الله : و قد خصت هذه الأذكار صلاة شرع التنفل بها لمن أحب فذكر صلاة التسبيح و قد ذكرنا إسنادها في كتاب الدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو اسحٰق بن حسن بن میمون حربی نے بن حفص نے ان کو ابو علی نے ان کو عبید بن مہران نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا جس سے وہ حدیث بیان کرتا تھا عمران بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، کیا تم میں سے ایک آدمی عاجز ہے اس بات سے یعنی کہ روزانہ اوحد پہاڑ کےبرابر نیکیاں کر لے ؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون طاقت رکھتا ہے کہ اوحد پہاڑ کے برابر نیکیاں کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اس کی طاقت رکھتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ وہ کیسے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ احد پہاڑ سے بہت بڑا ہے ۔ الحمد اللہ احد سے بہت بڑا ہے ۔ لا الٰہ الا اللہ احمد پہاڑ سے بہت بڑا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ یہ مذکورہ تمام از کار تو نماز کے ساتھ مختص کر دیئے گئے ہیں ، ان کے ساتھ اضافی عبادت کے طور پر جو پسند کرے ۔ شیخ نے صلوٰۃ تسبیح کا ذکر بھی کیا ہے ۔ ہم نے اس کی اسناد کتاب الدعوات میں ذکر کی ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← عُبَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، ← حرمي بن حفص أبو علي ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 610

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 611

610 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي بنيسابور ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب أنا أبو بكر يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن حباب أنا موسى بن عبيدة الربذي ثنا يزيد بن أبي سعيد مولى أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبي رافع رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للعباس رضي الله عنه : يا عم ألا أصلك ؟ ألا أحبوك ؟ ألا أنفعك ؟ قال : بلى ! يا رسول الله قال : صل أربع ركعات و اقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب و سورة فإذا انقضت القراءة فقل الله أكبر و الحمد لله و سبحان الله و لا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثانية ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم فتلك خمسة و سبعون في كل ركعة و هي ثلاثمائة في أربع ركعات لو كانت ذنوبك مثل رمل عالج لغفرها الله لك فقال يا رسول الله و من يستطيع أن يقولها في كل يوم ؟ قال : فإن لم تستطع فقلها في كل جمعة فإن لم تستطع فقلها في كل شهر فإن لم تستطع فقلها في كل سنة قال البيهقي رحمه الله : هذا الحديث أخرجه أبو عيسى الترمذي في كتاب الجامع بهذا الإسناد و أخرجه أبو داود بالإسناد الذي ذكرناه في كتاب الدعوات و في كتاب السنن و كان عبد الله بن المبارك يفعلها و تداولها الصالحون بعضهم من بعض و فيه تقوية للحديث المرفوع و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو سھل محمد بن نصر و یہ بن احمد مروزی نے نیساپوری میں ، ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنب نے، ان کو ابو بکر یحییٰ بن ابو طالب نے ، ان کو زید بن حباب نے ، ان کو موسیٰ بن عبدہ زیدی نے ، ان کو یزید ابو سعید مولیٰ ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم نے ، ان کو ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اے چچا جان ، کیا میں تیرے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں؟ کیا میں تیری حفاظت نہ کروں ؟ کیا میں تجھے فائدہ نہ پہنچاؤں ۔ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں یار سول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ چار رکعت پڑھئے ، اس طرح کہ ہر ہررکعت میں پہلے سورہ فاتحہ پڑھئے ، ان کے بعد اور کوئی سی سورۃ بھی جب سورۃ پوری ہو جائے تو پھر رکوع میں جانے سے قبل یہ پڑھئے ، اللہ اکبر ۔ والحمد اللہ و سبحان اللہ ولا الٰہ الا اللہ پندرہ مرتبہ ۔ اس کے بعد آپ رکوع کیجئے ۔ پھر رکوع ہی میں سر اٹھانے سے قبل اسے دس مرتبہ پڑھئے ۔ پھر رکوع سے سر اُٹھایئے ( او رقورمہ میں ) سجدہ میں جانے سے قبل دس مرتبہ پڑھئے ۔ اس کے بعد سجدہ کیجئے اور پہلے سجدہ میں سر اٹھانے سے قبل دس مرتبہ پڑھئے ۔ اس کے بعد سر اٹھائیے اور (جلسے میں ) دوسرے سجدے سے قبل دس مرتبہ ۔ اس کے بعد دوسرا سجدہ کیجئے اور دوسرے سجدہ میں سر اٹھانے سے قبل دس مرتبہ ۔ اس کے بعد اپنا سر اٹھایئے اور دس مرتبہ پڑھئے کھڑا ہونے سے قبل ۔ یہ پچھتر ہوا ہر رکعت میں اور یہ چاروں رکعات میں تین سو بار ہے ۔ ( اس کو پڑھنے سے اللہ تعالیٰ) تیرے سارے گناہ معاف کردیں گے اگر چہ وہ تہہ بہ تہہ ریت کی مثل ہوں ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ہر روز کون پڑھ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو روزانہ پڑھنے کی استطاعت نہ رکھے تو پھر ہر جمعہ کے دن (یعنی ہفتے میں ایک بار ) اگر تو اس کی استطاعت نہ رکھے تو ہر مہینے میں ایک بار پڑھ لئے ۔ اگر تو اس کی استطاعت نہ رکھے تو اسے پڑھ لے ہر سال میں ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسی حدیث کو ابو عیسیٰ ترمذی نے جامع ترمذی میں نقل کیا ہے اسی مذکورہ اسناد کے ساتھ اور اس کو داؤد نے اسی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جس کو ہم نے کتاب الدعوات اور کتاب السنین میں ذکر کیا ہے ۔ اور حضرت عبداللہ بن مبارک اس پر عمل کرتے تھے اور صالحین نے اس کو ایک دوسرے سے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور اس میں حدیث مرفوع کی تائید ہے اور تو فیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 611

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 612

611 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجراح بمرو ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عبد الكريم بن عبد الله ثنا أبو وهب محمد بن مزاحم قال : سألت عبد الله بن المبارك عن الصلاة التي يسبح فيها فقال يكبر ثم يقول سبحانك اللهم و بحمدك و تباك اسمك و تعالى جدك و لا إله غيرك ثم يقول خمس عشرة مرة سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم يتعوذ و يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم و فاتحة الكتاب ثم يقول عشر مرات سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله ثم يركع فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا ثم يسجد فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا ثم يسجد الثانية فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا فصل أربع ركعات على هذا فذلك خمس و سبعون تسبيحة في كل ركعة و ذلك تمام الثلاثمائة فإن صلاها ليلا فأحب أنبأ يسلم في الركعتين و إن صلاها نهارا فإن شاء سلم و إن شاء لم يسلم قال البيهقي رحمه الله : هكذا اختار ابن المبارك في موضع التسبيح و قوله في آخره ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا أظنها زيادة من الكاتب فإنها قد تمت خمسة و سبعين دون ذلك 611 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المقرئ أنا أبو شيبة داود بن إبراهيم البغدادي ثنا محمد بن حميد ثنا جرير قال : و جدت في كتابي بخطي عن أبي جناب الكلبي عن أبي الجوزاء عن عبد الله بن عمرو قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أحبوك ألا أعطيك ألا أصلك ألا أجيزك ؟ أربع ركعات من صلاهن غفر له كل ذنب قديم أو حديث صغير أو كبير خطأ أو عمد تبدأ فتكبر أول الصلاة ثم تقول قبل القراءة خمس عشرة مرة سبحان و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم تقرأ بفاتحة الكتاب و سورة ثم تقولهن عشرا ثم تركع فتقولهن عشرا ثم ترفع رأسك فتقولهن عشرا ثم تسجد فتقولهن عشرا ثم ترفع رأسك فتقولهن عشرا ثم تسجد الثانية فتقولهن عشرا فقال العباس و من يطيق هذا ؟ قال و لو في سنة و لو في شهر و لو في جمعة و لو أن تقرأ قل هو الله أحد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ بن جراح نے مقام مرو میں ، ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ، انکو عبدالکریم بن عبداللہ نے ، ان کو ابو ھب محمد بن مزاحم نے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے صلوٰۃ تسبیح کے بارےمیں پوچھا ۔ انہوں نے فرمایا کہ پہلے تکبیر کہے ، پھر سبحانک اللھم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جد ک ولا الٰہ غیرک پڑھے ۔ اس کے بعد پندرہ مرتبہ یہ پڑھے ۔ سبحان اللہ و الحمد اللہ ولا الٰہ الا للہ و اللہ اکبر ۔ اس کے بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور سورہ فاتحہ پڑھے ۔ اس کے بعد دس مرتبہ پڑھے سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ ۔ اس کے بعد رکوع کرے اور اسی تسبیح کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر دس مرتبہ اس کو پڑھے ۔ اس کے بعد سجدہ کرے اور دس بار اس کو پڑھے ۔ پھر سجدے سے سر اٹھائے اور دس مرتبہ اس کو پڑھے ۔ اس کے بعد دوسرا سجد ہ کرے اور ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھے ۔ دوسرے سجدے سے سر اٹھا ئے اور پھر دس بار ۔ اسی طریقے سے چار رکعات پڑھے ۔ یہ پچھتر تسبیحات ہیں ۔ ہر رکعت میں ۔ اس طرح یہ پوری تین سو ہوں گی ۔ اگر رات کو پڑھے تو میں یہ پسند کرتاہوں کہ دو رکعت پر سلام پھیرے ۔ اگر دن میں پڑھے تو اگر چاہے تو سلام پھیرے اور اگر چاہے تو نہ پھیرے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ ابن مبارک کا اختیار کردہ طریقہ ہے صلوٰہ تسبیح کے بارے میں ۔ آخر میں جو یہ لکھا ہے سر اٹھائے اور اس کو دس مرتبہ پڑھے ، میرا خیال ہے کہ یہ کاتب کی طرف سے اضافہ ہے ۔ اس لئے کہ پچھتر کی تعداد اس کے بغیر پوری ہو جاتی ہے ۔611م ۔ ہمیں خبر دی ہے ابو الفتح محمد بن احمد بن الفوارس نے حافظ سے ، ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن ابراہیم مقری نے ، ان کو ابو شیبہ داؤد بن ابراہیم بغداد ی نے ، ان کو محمد بن حمید نے ان کو جریر نے ، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب یعنی اپنے مکتوب میں اپنی تحریر کے ساتھ پایا ہے ۔ ابو جناب کلبی انہوں نے ابو الجوزا سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کا خیال نہ کروں؟ کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو اجازت نہ دوں ؟ چار رکعات ہیں جو شخص ان کو پڑھ لے اس کا ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے ۔ پرانا ہو یا نیا ہو ، چھوٹا ہو یا بڑا ہو ، قصد اًہو یا غلطی سے ہو ، آغاز کیجئے اور نماز کی تکبیر اولیٰ کہئے ۔ پھر قرات سے پہلے پندرہ مرتبہ پڑھئے۔ سبحان اللہ و الحمد اللہ و لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ اس کے بعد فاتحہ پڑھئے اور کوئی سورۃ پڑھئے ۔ اس کے بعد دس مرتبہ پڑھئے ، اس کے بعد رکوع کیجئے اور رکوع میں د س مرتبہ پڑھئے ، پھر رکوع سے سر اٹھا ئیے اور دس بار پڑھئے ، پھر سجدہ کیجئے اور سجدے میں دس بار پڑھئے ، پھر سر اٹھا ئیے اور دس مرتبہ پڑھئے ، پھر دوسرا سجدہ کیجئے اور سجدے میں دس مرتبہ پڑ ھئے ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا کہ کون اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ سال بھر میں ہو، اگر چہ مہینے میں ہو ، اگر چہ ہفتے میں ہو ، اگر چہ صرف قل ھو اللہ احد پڑھ کر ہو ۔

يكبر ثم ← الصَّلَاةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا، ← سألت عبد الله بن المبارك ← أَبُو وَهْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُزَاحِمٍ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 612

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 613

612 - قال البيهقي رحمه الله : و هذا يوافق ما رويناه عن ابن المبارك و رواه قتيبة بن سعيد عن يحيى بن سليم عن عمران بن مسلم عن أبي الجوزاء قال : نزل علي عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما فذكر هذا الحديث و خالفه في رفعه فلم يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم و لم يذكر التسبيحات ابتداء القراءة إنما ذكر هذا بعد هذا ثم ذكرها في جلسة الاستراحة كما ذكرها سائر الرواة و الله أعلم و كذلك رواه عمرو بن مالك و غيره عن أبي الجوزاء موقوفا

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ اسی کے مطابق ہے جو ہم حضرت عبداللہ بن مبارک سے روایت کر چکے ہیں اور اس کو قتیبہ بن سعید نے روایت کیا ہے یحییٰ بن سلیم سے ، وہ عمران بن مسلم سے ، وہ ابو الجوزاء سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس عبداللہ بن عمرو بن العارص رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لائے اور یہ حدیث ذکر فرمائی اور اس کے مرفوع ہونے کی مخالفت کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع نہیں کیا اور تسبیحات کو قرات سے پہلے بھی ذکر نہیں کیا ۔ انہوں نے تسبیحات کو قرات کے بعد ذکر کیا ہے ۔ پھر اس کا ذکر جلسئہ استراحت میں ( دوسجدوں کے درمیان ) کیا ہے جسے دیگر تمام راویوں نے کیا ہے۔ واللہ اعلم ۔ اسی طرح عمرو بن مالک وغیرہ نے ابو الجوزاء سے مرفوعاً کوروایت کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 613

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 614

613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خصلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة هما قليل و من يعمل بهما قليل قالوا : و هما يا رسول الله ؟ قال : يسبح أحدكم في دبر كل صلاته عشرا و يحمد عشرا و يكبر عشرا فتلك خمسون ومائة باللسان و ألف و خمسمائة في الميزان و إذا أوى إلى فراشه يسبح الله و حمده و كبره مائة فتلك مائة باللسان و ألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم و الليلة ألفين و خمسمائة سيئة ؟ قال : فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يعدهن بيده قالوا يا رسول الله و كيف لا يحصيهما ؟ قال : يأتي أحدكما الشيطان فيقول اذكر حاجة كذا و حاجة كذا حتى ينصرف و لا يذكر و ينام و لا يذكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ سے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو اسید بن عاصم نے ، ان کو حسین بن حفص نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو عطابن یسار نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں ایسی ہیں جو بھی مسلمان ان کی حفاظت کرے گا جنت میں داخل ہوگا ۔ و ہ دونوں قلیل ہیں اور ان کے ساتھ جو عمل کرتے ہیں وہ بھی قلیل ہیں ۔ لوگوں نے سوال کیا، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دونوں کونسی ہیں ؟ فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی ایک بھی ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھے اور دس مرتبہ الحمد اللہ پڑھے اور اللہ اکبر دس بار پڑھے ۔ یہ زبان پر ایک سو پچاس ہیں اور ترازوں میں پندرہ سو ہیں ۔ اور رات کو سونے کے لئے جب بستر پر آئے تو سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر ۔ ایک ایک سو بار پڑھے ۔ یہ زبان پر ایک سو ہیں اور ترازوں میں ایک ہزار ہیں ۔ ( اب سو چو) تم میں سے کونسا ایسا بندہ ہے جو رات دن میں ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہے ؟ حضرت ابن عباس عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اپنے ہاتھوں پرشمار کررہے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو خصلتوں کو کیسے کوئی نہیں کرے گا ؟ اور کیونکر ان کی حفاظت نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے یاد کر فلاں کام ہے، فلاں کام ہے ، یہاں تک کہ وہ یہ ذکر چھوڑ کر چلاجاتا ہے اور سو جاتا ہے اور ذکر چھوڑ دیتا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 614

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 615

614 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن حليم المروزي ثنا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله بن المبارك ثنا مالك بن مغول قال : سمعت الحكم بن عتيبة يحدث عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : معقبات لا يخيب قائلهن أو فاعلهن دبر كل صلاة مكتوبة ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و ثلاثا وثلاثين تحميدة و أربعا و ثلاثين تكبيرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن حلیم مروزی نے ، ان کو ابو الموجہ نے، ان کو عبدان نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے، ان کو مالک بن مغول نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حکم بن عتیبہ سے وہ حدیث بیان کرتا ہے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، اس نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر میں پڑھے جانےوالے چند کلمات میں ان کو کہنے والا رسوانہیں ہوتا یا یوں فرمایا تھا ان کو کرنے والا ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر ۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن محمد بن حليم المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 615

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 616

615 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن الحيري و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالوا أنا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد أنا أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول حدثني حسان بن عطية حدثني محمد بن أبي عائشة قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه قال : قال أبو ذر رضي الله عنهما : يا رسول الله ذهب أصحاب الدثور بالأجور يصلون كما نصلي و يصومون كما نصوم و لهم فضول أموال يتصدقون بها و لا نجد ما نصدق به قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن أدركت من سبقك و لا يلحق بك أحد بعدك ؟ قال : بلى يا رسول الله ! قال : تكبر في دبر كل صلاة ثلاثا و ثلاثين تكبيرة و تحمد ثلاثا و ثلاثين تحميدة و تسبح ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و تختمها بلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو احمد بن حسن حیری نے اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے ، ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو عباس بن ولید بن فروز نے ، ان کو ان کے والد نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اوزاعی سے ، وہ کہتے تھے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے حسان بن عطیہ نے ، ان کو محمد بن ابو عائشہ نے ، وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالدار لوگ سارا ثواب لے گئے ہیں ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں ،ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں ، مگر ان کے پاس فاضل مال ہیں ، جن کے ساتھ وہ صدقہ کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، جس کا ہم صدقہ کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر ! کیا تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں کہ تو وہ کلمات پڑھے تو اس کو پالے جس نے تجھ سے سبقت کی تھی اور تیرے بعد کوئی تجھ سے لاحق نہ ہو سکے ۔ عرض کیا جی ہاں یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھ ،اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر اور اس کے بعد یہ پڑھ : لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی ء قدیر ۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 616

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 617

616 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله السوسي قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا سعيد بن عثمان التنوخي ثنا بشر بن بكر حدثني الأوزاعي : بإسناده نحوه و كذلك رواه عطاء بن يزيد عن أبي هريرة رضي الله عنه : من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور عبداللہ سو سی نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس اصم نے ، ان کو سعید بن عثمان تنوخی نے ، ان کو بشر بن بکر نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اوزاعی نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورکی مثل اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے عطاء بن یزید نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسی طریقہ سے اس کوروایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں ۔

أبي هريرة من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح ← الأوزاعي بإسناده نحوه و كذلك رواه عطاء بن يزيد ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله السوسي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 617

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 618

617 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري الرزاز قراءة عليه ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي ثنا يزيد بن هارون أنا ورقاء عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قالوا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذهب أهل الدثور بالدرجات و النعيم المقيم قال : كيف ذلك ؟ قالوا : صلوا كما صلينا و جاهدوا كما جاهدنا و أنفقوا من فضول أموالهم و ليس لنا أموال و قال : أفلا أخبركم بأمر تدركون من كان قبلكم و تسبقون من جاء بعدكم و لا يأتي أحد بمثل ما جئتم به إلا من جاء بمثله تسبحون في دبر كل صلاة عشرا و تحمدون عشرا و تكبرون عشرا رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر محمد بن عمر بن بختر ی رزاز نے ، ان کو محمد بن عبدالملک دقیقی نے ، ان کو یزید بن ہارون نے ، ان کو ورقاء نے، ان کو سمی نے ، ان کو ابو صالح نے ، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا ، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالدار لو گ درجے بھی لے گئے ہیں اور دائمی نعمتیں بھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کیسے ؟ بولے کہ جیسےہم نماز یں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں ، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں ، جیسےہم جہاد کرتے ہیں وہ بھی کرتےہیں ۔ مگر وہ فاضل مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، مگر ہمارے پاس مال تو نہیں ہیں کہ خرچ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسی بات کی خبر نہ دوں کہ تم اس کے ذریعے اس کےمرتبے کو پالو جو تم سے آگے ہے اور جو تمہارے بعد آئے تم اس سے آگے بڑھ جاؤ اور کوئی ایسی نیکی نہ کر پائے جو تم کر پاؤ ۔ مگر وہ شخص جو وہی نیکی کرے کہ تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد اللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن یزید سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← وَرْقَاءُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري الرزاز قراءة عليه ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 618

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 619

618 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبيد الله بن موسى ثنا مسعر عن المسعودي عن إبراهيم السكسكي عن عبد الله بن أبي أوفى : أن رجلا أتى إلى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر أنه لا يستطيع أن يأخذ من القرآن شيئا و سأله أن يعمله شيئا يجزئ من القرآن فقال له : قل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ، ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ، ان کو مشعر نے مسعودی سے ، ان کو ابراہیم سکسکی نے ، ان کو عبداللہ بن ابی اوفیٰ نے اکہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور ذکر کیا کہ وہ قرآن میں سے کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا اور اس سے سوال کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھادیں جو قرآن کی جگہ اس کو کفایت کرجائے ۔ فرمایا کہ کہو: سبحان اللہ والحمد اللہ و لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم ۔

اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 619

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 620

619 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا الحسن بن ثواب أبو علي حدثني عمار بن عثمان الحلبي أبو عثمان و كان أحمد بن حنبل يوثقه و تأسف على أنه لم يكتب عنه شيئا حدثني جعفر بن سليمان الضبعي عن ثابت عن أنس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله علمني خيرا فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيده فقال : قل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر قال : فعقد الأعرابي على يده و مضى فتفكر ثم رجع فتبسم النبي صلى الله عليه و سلم قال : تفكر البائس فجاء فقال يا رسول الله سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر هذا لله فمالي ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : يا أعرابي إذا قلت سبحان الله قال الله : صدقت و إذا قلت الحمد لله قال الله : صدقت و إذا قلت لا إله إلا الله قال الله : صدقت و إذا قلت الله أكبر قال الله : صدقت و إذا قلت اللهم اغفر لي قال الله : قد فعلت و إذا قلت اللهم ارحمني قال الله : فعلت و إذا قلت اللهم ارزقني قال الله : قد فعلت قال : فعقد الأعرابي على سبع في يده ثم ولى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزا ز نے ، ان کو حسان بن ثواب ابو علی نے ان کو عمار بن عثمان حلبی نے ، ان کو ابو عثمان نے اور احمد بن حنبل ان کی تو ثیق کرتے تھے اور اس بات پر افسوس کرتے تھے کہ آپ نے اس سے کوئی شے نہیں لکھی۔ ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ، ان کو ثابت نے ، ان کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولایا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی خیر سکھلائیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، یہ کہو: سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر پکا عہد کیا اور چل دیا ۔ پھر کچھ سوچنے لگا۔ پھر واپس لوٹ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا یہ سو چنا تا مایوس کا ہے ۔ وہ آگیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر۔ یہ تو ساری بات اللہ کے لئے ۔ میرے لئے کیاہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے دیہاتی جب تم یہ کہتے ہو سبحان اللہ ( اللہ پاک ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، تم نے سچ کہا ہے اور جب تم کہتے ہوا لحمد اللہ (سب تعریف اللہ کے لئے ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے سچ کہا اور جب تم کہتے ہواللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے )۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم نے سچ کہا اور جب تم کہتے ہو اللھم اغفرلی( اے اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمادے ، مجھے بخش دے ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، بالکل میں نے تجھے بخش دیا ہے اور جب تم یہ کہتے ہو اللھم ارحمنی ( اے اللہ مجھ پر رحم فرما)۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بالکل میں نے رحم کر دیا اور جب تم کہتے ہوئے اللھم ارزقنی ( اے اللہ مجھے رزق دے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بالکل میں رزق دوں گا۔ چنانچہ وہ دیہاتی اس رسی پر بیٹھا جو اس کے ہاتھ میں تھا پھر واپس چلا گیا ۔

الحسن بن ثواب أبو علي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 620

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 621

620 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن سليمان ابن أبي داود البرلسي ثنا محمد بن عبيد الطنافسي ثنا يونس بن أبي إسحاق السبيعي حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد بن أبي وقاص حدثني والدي محمد عن أبيه سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوة ذي النون التي دعا بها في بطن الحوت لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين لم يدع بها مسلم في كربة إلا استجاب الله له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ابراہیم بن سلیمان ابن ابی داؤد برلسی نے ، ان کو محمد بن عبید طنافسی نے ، ان کو یونس بن ابی اسحٰق سبیعی نے ، ان کو ابراہیم بن محمد بن سعد بن ابی وقاص نے ، کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد محمد انے انے والد سعد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: حضرت یونس علیہ السلام نے دعا کی، جس کے ساتھ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں دعا کی تھی : لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کوئی معبود نہیں سوائے تیرے ۔ تو پاک ہے ۔ بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ جو شخص بھی کسی تکلیف اور پریشانی میں اس کے ساتھ دعا مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں ۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← وَالِدِي مُحَمَّدٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← إبراهيم بن سليمان ابن أبي داود البرلسي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 621

chevron_left Previous
1…824825826…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood