Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4402

4402 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا صالح بن محمد الرازي نا أبي نا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس نا محمد بن أبي حميد عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد من نعمة فقال الحمد لله إلا و قد أدى شكرها فإن قالها الثانية حدد الله له ثوابها فإن قالها الثالثة غفر الله له ذنوبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو صالح بن محمد رازی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومعاویہ عبدالرحمٰن بن قیس نے ان کو محمد بن ابوحمید نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے پر کوئی انعام کرتے ہیں اور وہ یہ کہتا ہے الحمدللہ تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کر لیتا ہے اگر دوسری باری کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ثواب متعین فرما دیتے ہیں۔اور اگر وہ اس کو تیسری بار کہتا ہے اللہ اس کے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4402

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4403

4403 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الكديمي نا الضحاك بن مخلد أبو عاصم نا شبيب بن بشر البجلي عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال الحمد لله كان ما أعطى أكثر مما أخذ

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو کریمی نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ان کو ابوعاصم نے ان کو بشیر بن بشر بجلی نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کہتا ہے الحمدللہ تو وہ جو کچھ دیا جاتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے اس سے جو کچھ لیا جاتا ہے۔

أَنَسٍ، ← شبيب بن بشر البجلي ← الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4403

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4404

4404 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو عبد الرحمن السلمي بنيسابور و أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن أحمد بن جانجان بهمذان نا أبو علي حامد بن محمد الرفا الهروي نا علي بن مشكان نا عبد الله بن عبد العزيز عن إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد ينعم عليه نعمة إلا كان الحمد أفضل منها قال الشيخ أحمد رحمه الله : كذا روي بهذا الإسناد و بالذي قبله موصولا مسندا و المحفوظ عن الحسن من قوله مرة و عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا أخرى

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے اور ابوعبدالرحمٰن سلمی نے نیساپور میں اور ابوالعباس احمد بن ابراہیم بن احمد جانجان نے ہمدان میں ان کو ابوعلی حامد بن محمد رفاهروی نے ان کو علی بن مشکان نے ان کو عبداللہ بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم بن طھمان نے ان کو ابوزبیر نے حامد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جس بندے پر کوئی انعام کیا جائے کسی بھی نعمت کا مگر الحمد اس سے افضل ہوتی ہے۔ شیخ احمد رحمہ اللہ نے فرمایا اسی طرح روایت کیا گیا ہے اسی اسناد کے ساتھ اور اس کے ساتھ جو اس سے قبل ہے بطور موصول روایت اور مسند روایت۔ اور حسن سے محفوظ اس قول سے ہے مرۃ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً دوسری روایت ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4404

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4405

4405 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن رجل عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد نعمة فحمد الله عليها إلا كان حمد الله تعالى أعظم منها كائنة ما كانت

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ایک آدمی سے اس نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بندے پر اللہ تعالیٰ انعام کر تے ہیں پھر وہ اس پر اللہ کی حمد کرتا ہے مگر وہ اللہ کی حمد ہر نعمت سے بہت بڑی ہوئی ہے خواہ وہ کوئی سی بھی نعمت ہو۔

الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4405

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4406

4406 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي نا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا أبو السائب نا وكيع عن يوسف الصباغ عن الحسن قال : ما أنعم الله على عبد نعمة فقال : الحمد لله إلا كان ما أعطى أكثر مما أخذ

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ابوالسائب نے ان کو وکیع نے ان کو یوسف صباغ نے ان کو حسن نے وہ کہتے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر جو نعمت انعام کرتا ہے پھر وہ یوں کہتا ہے الحمدللہ ۔ مگر جو کچھ انعام لے چکا اس سے زیادہ اور اس کو عطا ہو جاتا ہے۔

ما أنعم الله على عبد نعمة ← الْحَسَنِ، ← يوسف الصباغ ← وَكِيعٌ، ← أبو السائب، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4406

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4407

4407 - قال ابن أبي الدنيا و بلغني عن سفيان بن عيينة : أنه سئل عن هذا فقال لا يكون فعل العبد أفضل من فعل الله قال الشيخ أحمد : هذه غفلة من عالم و ذلك لأن العبد لا يصل إلى حمد الله و شكره إلا بتوفيقه و إنما فضله لما فيه من حسن الثناء على الله عز و جل و منحه إياه و ليس ذلك في النعمة الأولى

ابن ابوالدنیا نے کہا کہ مجھے خبر پہنچی ہے سفیان بن عینیہ سے کہ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ بندے کا فعل اللہ کے فعل سے افضل نہیں ہوسکتا۔ شیخ احمد نے فرمایا یہ عالم کی طرف سے غفلت ہے۔ اس لئے کہ بندہ اللہ کی حمد اور اس کے شکر تک نہیں پہنچ سکتا مگر اسی کی توفیق کے ساتھ۔ باقی اس کی فضیلت اس لئے ہے کہ اس میں اللہ کی اچھی ثنا ہے اور خاص اس کی عنایت کا اقرار ہے جو کہ پہلی والی نعمت میں یہ چیز نہیں ہے۔

لا يكون فعل العبد أفضل من فعل الله ← ھَذَا ← سفيان بن عيينة أنه سئل ← ابن أبي الدنيا و بلغني

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4407

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 507

506 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح أنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق بن راهويه أنا محمد بن بشر العبدي عن عمر بن راشد اليمامي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سيروا سبق المفردون قيل يا رسول الله و من المفردون ؟ قال : المستهترون لذكر الله عز و جل يضع الذكر عنهم أثقالهم فيأتون يوم القيامة خفافا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد صبیح نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحاق بن راھویہ نے ان کو محمد بن بشر عبدی نے ان کو عمر بن راشد یمامی نے ان کو یحیی بن ابی کثیر نے ۔ ان کو سلمہ نے ان کو حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایاکہ چلو مفردون سبقت کر گئے ہیں ۔ کہا گیا یا رسول اللہ مفر دون کون ہیں ؟ فرمایا للہ کے ذکر کی کثرت کرنے والے ذکر کے رسیا ذکر میں مگن رہنے والے ذکر اللہ ان سے ان کے ثقل اور بوجھ ہلکے کر دے گا لہذا قیامت کے وہ ہلکے پھلکے آئیں گے۔

سيروا سبق المفردون قيل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ الْيَمَامِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 507

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 508

507 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد ثنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن يزيد العجلي ثنا محمد بن بشر : فذكره بإسناده بنحوه غير أن قال الذين اهتروا بذكر الله يضع الذكر عنهم أوزارهم و لم يذكر ما بعده و الإسناد الأول أصح و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشر ان نے بغداد میں ۔ ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو الدنیا نے ان کو محمد بن یزید عجلی نے ان کو محمد بن بشر نے پھر انہوں نے اس کو اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اسی مذکور کی مثل سوائے اس کے کہ یہ کہا ہے ۔ کہ وہ ولوگ جو ذکر کے ساتھ کثرت کرتے ہیں ذکر ان سے ان کے بوجھ اتاردے گا ۔ اور اس کا مابعدذکر نہیں فرمایا اور پہلی اسناد زیادہ صحیح ہے و اللہ اعلم ۔

محمد بن بشر فذكره بإسناده بنحوه غير أن ← محمد بن يزيد العجلي ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 508

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 509

508 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من عجز منكم عن الليل أن يكابده و بخل بالمال أن ينفقه و جبن عن العدو أن يجاهده فليكثر من ذكر الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ۔ اور صادق عطار نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم میں سے رات کی عبادت کرنے سے اور اس کی مشقت اٹھانے سے قاصر ہے اور مال خرچ کرنے سے بخیل ہے ۔ اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے بزدل ہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے ذکرکی کثرت کرے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 509

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 510

509 - أخبرنا الشيخ الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا إسحاق بن بكر عن أبيه عن جعفر بن ربيعة عن ربيعة بن يزيد الدمشقي عن إسماعيل بن عبيد الله مولى بني مخزوم قال : دخلت على أم الدرداء رضي الله عنها فلما سلمت جلست سمعت كريمة بنت الحسحاس المزنية قال : و كانت من صواحب أم الدرداء و تقول : سمعت أبا هريرة رضي الله عنه في بيت هذه تشير إلى أم الدرداء يقول : سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل قال : أنا مع عبدي ما ذكرني و تحركت بي شفتاه

ہمیں خبر دی شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو اسحاق بن بکر نے ان کو ان کے والد نے ان کو جعفر بن ربیعہ بن یزید دمشقی سے ان کو اسماعیل بن عبداللہ مولیٰ بنی مخزوم نے کہتے ہیں کہ میں بی بی ام دردا ء ضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا جب میں نے سلام کیا تو بیٹھ گیا کہ میں کریمہ بنت خسحاس مزنیہ سے سنا فرمایا کہ وہ بی بی ام دردا ءکی سہیلی تھی کہتی تھیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنا ان کے گھر میں ام درداء کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کتنے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں جب تک وہ میرے ذکر کرتا رہتا ہے ۔ اس کے دونوں ہونٹ میرے ذکر کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں ۔

مع عبدي ما ذكرني و تحركت بي شفتاه ← أبا القاسم صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل ← أبا هريرة في بيت هذه تشير إلى أم الدرداء ← و كانت من صواحب أم الدرداء و تقول ← كريمة بنت الحسحاس المزنية ← دخلت على أم الدرداء فلما سلمت جلست ← إسماعيل بن عبيد الله مولى بني مخزوم ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← الشيخ الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 510

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 511

510 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن الوليد بن مزيد أنبا أبي قال : سمعت ابن جابر : يقول حدثني إسماعيل بن عبيد الله عن كريمة بنت الحسحاس المزنية أنها قالت حدثنا أبو هريرة و نحن في بيت هذه يعني أم الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال ربك عز و جل أنا مع عبدي ما ذكرني وتحركت بي شفتاه هكذا روياه عن إسماعيل بن عبيد الله ورواه الأوزاعي عن إسماعيل عن أم الدرداء عن أبي هريرة موقوفا مرة و مرة مرفوعا و روايتهما أصح من رواية الأوزاعي و ذكر أيضا معنى :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا ابن جابر سے ان کو بیان کیا اسماعیل بن عبیداللہ نے کریمہ بنت حسحاس مزنیہ نے وہ کہتی ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور ہم ان کے یعنی ام درداء کے گھر میں تھے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ تیرے رب نے فرمایاہے ۔ میں اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا جب تک کہ وہ مجھےیاد کرتا ہے اور جب تک اس کے ہونٹ میرے ساتھ متحرک رہتے ہیں ۔ اسی طرح بخاری مسلم نے اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن عبیداللہ سے اور روایت کیا ہے اس کو اوزاعی نے اسما عیل سے انہوں نے ام درداء سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ مرفوع اور دوسری دفعہ موقف طریقہ سے اور دونوں کی روایت اوزاعی کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور آنے والی روایت کی معنی و مفہوم بھی ذکر کیا ہے۔

كريمة بنت الحسحاس المزنية ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← ابْنِ جَابِرٍ ← العباس بن الوليد بن مزيد انبأ أبي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 511

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 512

511 - ما أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا الحسين بن علي الحافظ ثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ثنا يزيد بن سنان ثنا عمرو بن حصين ثنا محمد بن علاثة عن إبراهيم بن أبي عبلة عن عمر بن عبد العزيز عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ساعة تمر بابن آدم لم يذكر الله فيها إلا تحسر عليها يوم القيامة و في هذا الإسناد ضعف غير أن له شواهد من حديث معاذ

اس کی ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسین بن علی حافظ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم بن یونس نےمصر میں ، ان کو یزید بن سنان نے ان کو عمرو بن حصین نے ان کو محمد بن علاثہ نے ابراہیم بن ابی عبلہ سے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے عدوۃ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی ساعت نہیں گذرتی ابن آدم پر جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہوگا ۔ مگر اس ساعت پرقیامت کے دن افسوس کر ے گا ۔ اس سند میں ضعف ہے ہاں مگر اس کے حدیث معاذ سے شواہد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← محمد بن علاثة ← عمرو بن حصين ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ← الحسين بن علي الحافظ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← مَا

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 512

chevron_left Previous
1…814815816…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood