شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4402
4402 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا صالح بن محمد الرازي نا أبي نا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس نا محمد بن أبي حميد عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد من نعمة فقال الحمد لله إلا و قد أدى شكرها فإن قالها الثانية حدد الله له ثوابها فإن قالها الثالثة غفر الله له ذنوبه
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو صالح بن محمد رازی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومعاویہ عبدالرحمٰن بن قیس نے ان کو محمد بن ابوحمید نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے پر کوئی انعام کرتے ہیں اور وہ یہ کہتا ہے الحمدللہ تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کر لیتا ہے اگر دوسری باری کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ثواب متعین فرما دیتے ہیں۔اور اگر وہ اس کو تیسری بار کہتا ہے اللہ اس کے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔
جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4402
