Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 474

473 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو جعفر ثنا عباس ثنا أحمد قال : سمعت أبا عبد الله النباجي يقول : سأل رجل فضيل بن عياض متى يبلغ رجل غاية محبة الله ؟ قال : إذا كان عطاؤه إياك و منعه سواء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو جعفر نے ان کو عباس نے ان کو احمد نے ان کو ابو عبداللہ نباجی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی محبت کی انتہا کو کب پہنچتا ہے؟ فرمایا کہ جب اس کا تجھے عطا کرنا اور اس کا تجھ سے عطا روک دینا برابر ہو جائیں۔

إذا كان عطاؤه إياك و منعه سواء ← سأل رجل فضيل بن عياض متى يبلغ رجل غاية محبة الله ← أبا عبد الله النباجي ← أَحْمَدُ، ← عَبَّاسٍ ← أبو جعفر ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 474

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 475

474 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن محمد الرازي قال : كتبت من كتاب أبي عثمان و ذكر أنه من كلام شاه : علامة المحبة ثلاث : الرضا عنه في المكروه و حسن الظن به في المجهود و التحسين لاختياره في المحذور

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے کہتے ہیں کہ مٰں نے ابو عثمان کی کتاب سے نقل کیا اور اس نے ذکر کیا تھا کہ یہ کلام شاہ میں سے ہے۔ کہ محبت کی علامات تین ہیں: (1)۔ ناپسندی میں اس سے راضی ہونا۔ (2)۔ مشقت میں اس کے ساتھ حسن ظن رکھنا۔ (3)۔ محذور د ممنوع اس کے اختیار کی تحسین کرنا۔

كتبت من كتاب أبي عثمان و ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 475

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 476

475 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن زكريا ثنا محمد بن علي قال : سمعت مضاء أبا سعيد يقول : قال عبد الواحد بن زيد : ما أحسب أن شيئا من الأعمال يتقدم الصبر إلا الرضا و لا أعلم درجة أشرف و لا أرفع من الرضا و هو رأس المحبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد زکریا نے ان کو محمد بن علی نے ان کو مضاء ابو سعید نے کہتے ہیں کہ عبدالواحد بن زید نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اعمال میں سے صبر پر مقدم ہو سوائے رضا کے اور نہیں جانتا کہ رضا سے زیادہ اشرف اور اعلیٰ و ارفع کوئی درجہ ہو وہ محبت جان ہے اور اصل ہے۔

مضاء أبا سعيد ← محمد بن علي ← الحسن بن محمد بن زكريا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 476

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 477

476 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد الأزهري ثنا الغلابي ثنا شعيب بن واقد قال : حدثني رجل من القراء قال : رأيت عتبة الغلام ذات ليلة فما زال ليلته تلك حتى أصبح يقول : إن تعذبني فإني لك محب و إن ترحمني فأنا لك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے محمد ازہری نے ان کو غلابی نے انکو شعیب بن واقد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بات بیان کی ہے قراء میں سے ایک آدمی نے۔ وہ کہتے ہیں کہ عتبہ غلام کو ایک رات میں نے دیکھا کہ پوری رات صبح تک اس نے اس حال میں گذار دی یعنی پور ی رات پھر صبح تک یہ کہتے رہے۔ "ان تعذبنی فانی لک محب وان ترحمنی فانا لک " اگر آپ مجھے عذاب دیں تو میں تیرا ہی چاہنے والا ہوں اور اگر آپ میرے اوپر رحم کریں تو میں تیرا ہی ہوں۔

إن تعذبني فإني لك محب و إن ترحمني فأنا لك ← رأيت عتبة الغلام ذات ليلة فما زال ليلته تلك حتى أصبح ← رجل من القراء ← شعيب بن واقد ← الغلابي، ← محمد الأزهري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 477

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 478

477 - و فيما قرأت على أبي عبد الرحمن السلمي قال : قال يحيى بن معاذ : حقيقة المحبة التي لا تزيد بالبر و لا تنقص بالجفوة

اس میں سے ہے جو میں نے پڑھا علی ابی عبدالرحمٰن سلمی کے سامنے۔ انہوں نے کہا کہ یحییٰ بن معاذ نے فرمایا تھا۔ کہ محبت کی حقیقت یہ ہے کہ نیکی کرنے سے زیادہ نہ ہو ، اور برائی کرنے سے کم نہ ہو۔

عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← و فيما

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 478

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4375

4375 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا أحمد بن علي الأبار نا هشام بن خلد الأزرق نا الوليد بن مسلم نا زهير بن محمد عن منصور بن عبد الرحمن عن أمه عن عائشة أم المؤمنين قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتاه الأمر يسره قال الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات و إذا أتاه الأمر يكرهه قال الحمد لله على كل حال

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو احمد بن علی ابار نے ان کو ہشام بن خلد ازرق نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو منصور بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کی والدہ نے ان کو سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی آتی تو: الحمدللّٰه الذي بنعمته تتم الصالحات : سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی نعمت کے ساتھ نیکیاں مکمل ہوتی ہیں۔ اور جب آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر پیش آتا تو آپ یوں فرماتے تھے۔ الحمدللّٰه على كل حال ہر حال میں اللہ کا شکر۔

«الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ← الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات و إذا أتاه الأمر يكرهه ← كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتاه الأمر يسره ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هشام بن خلد الأزرق ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4375

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4376

4376 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا أحمد بن عصام نا أبو عاصم النبيل نا موسى بن عبيدة الربذي نا محمد بن ثابت عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم انفعني بما علمتني و علمني ما ينفعني و زدني علما والحمد لله على كل حال و أعوذ بك ربي من حال النار

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے۔ ان کو احمد بن عصام نے ان کو ابوعاصم نبیل نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ ربذی نے ان کو محمد بن ثابت نے ان کو ابوہریرہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ اللهم انفعنى بما علمتنى و علمنى ما ينفعنى و زدني علماً و الحمدللّٰه على كل حال و اعوذبک ربی من حال النار اے اللہ مجھے میرے علم کے ساتھ نفع مند فرما اور مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اور ہر حال میں اللہ کا شکر ہے میں پناہ لیتا ہوں اے میرے رب جہنم کے حال سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← موسى بن عبيدة الربذي ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4376

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4377

4377 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله السمار ببغداد أنا أحمد بن سليمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عبد الأعلى بن حماد النرسي و أزهر بن مروان الرقاشي نا بشر بن منصور السليمي عن زهير بن محمد عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن هريرة قال : دعا رجل من الأنصار من أهل قباء النبي صلى الله عليه و سلم فانطلقنا معه فلما طعم و غسل يده أو قال يديه قال : الحمد لله الذي سطعم و لا يطعم من علينا فهدانا و أطعمنا و سقانا و كل بلاء حسن أبلانا الحمد لله غير مودع ربي و لا مكافىء و لا مكفور و لا مستغني عنه الحمد لله الذي أطعم من الطعام و سقى من الشراب و كسى من العري و هدى من الضلالة و بصر من العمى و فضل على كثير من خلقه تفضيلا الحمد لله رب العالمين

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ سمسار نے بغداد میں،ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ان کو عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اور ازھر بن مروان رقاشی نے ان کو بشر بن منصور سلیمی نے ان کو زهیر بن محمد بن نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں اہل قبا کے ایک انصاری آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی ہم لوگ آپ کے ساتھ گئے جب حضور کھانا کھا چکے تو آپ نے اپنا ہاتھ دھویا یا کہا کہ دونوں ہاتھ دھوئے اور فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کسی کے کھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس نے ہم پر احسان کیا ہے سو ہمیں ہدایت عطا کی ہے۔اسی نے ہمیں کھلایا اور پلایا ہے اور ہر اچھی آزمائش سے ہمیں آزمایا ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ دراں حالیکہ نہیں الوداع کہنے والے اپنے رب کو اور نہ ہی بدلہ چکانے والے۔اور نہ ہی ناشکرے اور نہ ہی اس سے بے پرواہی کرنے والے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے طعام کھلایا پینے کی چیز پلائی۔ اور بے لباس ہونے پر لباس عطا کیا۔اور بھٹکے ہوئے ہونے پر ہدایت و رہنمائی فرمائی۔ اور اندھا ہونے پر بینائی بخشی اور اپنی بہت ساری مخلوق پر ہمیں فضیلت عطا کی۔ سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔

ھُرَیْرَۃَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلِيمِيُّ، ← عبد الأعلى بن حماد النرسي و أزهر بن مروان الرقاشي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله السمار

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4377

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4378

4378 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا بشر بن موسى نا أبو الحسن بن موسى الأشيب نا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه قال : الحمد لله الذي أطعمنا و سقانا و كفانا و آوانا فكم من لا كافي له و لا مؤي قال الشيخ أحمد : قد ذكرنا في كتاب الدعوات غير هذا مما دعا به رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الفراغ من الطعام و اللباس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو ابوالحسن بن موسیٰ اشیب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تھے تو یوں کہتے تھے: الحمد للّٰه الذی اطعمنا وسقانا و کفانا و اوانافکم من لا کافی له ولا مؤی اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کفایت کی اور ہمیں جگہ دی کتنے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ہی کوئی جگہ دینے والا۔ شیخ احمد بیہقی کہتے ہیں۔ ہم نے کتاب الدعوات میں ذکر کی ہیں اس کے علاوہ دیگر دعائیں جو حضور نے کھانے اور کپڑے پہننے سے فراغت کے بعد پڑھی تھیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو الحسن بن موسى الأشيب ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4378

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4379

4379 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الخرقي ببغداد أنا أحمد بن سليمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا الحسن بن صباح حدثني محمد بن سليمان أنا هشام بن الزناد عن أبي القاسم بن محمد عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما أنعم الله عز و جل على عبد نعمة فعلم أنها من عند الله إلا كتب الله له شكرها و ما علم الله من عبد ندامة على ذنب إلا غفر الله له ذلك قبل أن يستغفره و إن الرجل ليشتري الثوب بالدينار فيلبسه فيحمد الله فما يبلغ ركبته حتى يغفر له

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حسن بن صباح نے ان کو محمد بن سلیمان نے ان کو ہشام بن زیاد نے ان کو ابوالزناد نے ان کو ابوالقاسم بن محمد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے پر کوئی انعام کرتا ہے اور وہ یقین سے جانتا ہے کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اس نعمت کا شکر کر لینا لکھ دیتے ہیں۔اور جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے اور کر کے نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ندامت جان لیتے ہیں تو اس کے استغفار کرنے سے قبل اس کو معاف کر دیتے ہیں اور ایک آدمی کپڑا خرید کرتا ہے دینار کے بدلے میں پھر اس کو پہنتا ہے اور اللہ کا شکر کرتا ہے تو وہ لباس اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچتا کہ اس کے لئے مغفرت ہو جاتی ہے۔

عَائِشَةَ ← أبي القاسم بن محمد ← هشام بن الزناد ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4379

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4380

4380 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا محمد بن الحسن المقري نا الحسن بن سفيان نا أبو يحيى محمد بن يحيى القصري نا بشر بن إبراهيم نا هشام بن زياد حدثني عبد الله بن ذكوان و هو أبو الزناد : فذكره بمعناه غير أنه لم يذكر الثوب و روى عن الوليد بن هشام عن القاسم بن محمد مثل الأول و رواه يعقوب بن سفيان عن محبوب العبدي عن هشام بن زياد موقوفا على عائشة و رواه مربع بن حسان عن هشام عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم و مربع ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو محمد بن حسن مقری نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابویحییٰ محمد بن یحییٰ قصری نے ان کو بشر بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن زیاد نے ان کو عبداللہ بن ذکوان نے وہ ابوالزناد ہیں۔اس نے اس حدیث مذکور کے مفہوم میں ذکر کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس نے کپڑے کا تذکر نہیں کیا اور ولید بن ہشام سے مروی ہے۔ وہ روایت کرتے ہیں قاسم بن محمد سے پہلی حدیث کی مثل۔ اور اس کو روایت کیا ہے یعقوب بن سفیان نے محبوب عبدی سے اس نے ہشام بن زیاد سے بطور موقوف روایت کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر۔ اور اس کو روایت کیا ہے مربع بن حسان نے ان کو ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مربع ضعیف ہے۔

عبد الله بن ذكوان و هو أبو الزناد فذكره بمعناه غير ← هشام بن زياد ← بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو يحيى محمد بن يحيى القصري ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4380

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4381

4381 - و رواه أحمد بن زيد الفلسطيني عن إبراهيم بن عبد الحميد الواسطي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد من نعمة فعلم أن تلك النعمة من عند الله إلا قبل الله شكره قبل أن يحمده أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن صالح بن هاني نا العباس بن حمزة نا أحمد بن زيد الفلسطيني فذكره

روایت کیا ہے اس کو احمد بن زید فلسطینی نے ان کو ابراہیم بن عبدالحمید واسطی نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر نعمت بھیجتا ہے اور وہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے شکر کرنے سے پہلے اس کا شکر قبول کر لیتے ہیں ہمیں اس کی خبر ابوعبداللہ حافظ نے دی ہے ان کو ابوجعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو عباس بن حمزہ نے ان کو احمد بن زید فلسطینی نے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إبراهيم بن عبد الحميد الواسطي ← و رواه أحمد بن زيد الفلسطيني

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4381

chevron_left Previous
1…809810811…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood