Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2585

2585 - و روينا في حديث أبي مسعود الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ الآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه

ہم نے ابو مسعود انصاری کی حدیث میں روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو سورۃ بقرہ کے آخر سے دو آیات پڑھے وہ اس کو کفایت کریں گی۔

و روينا في حديث أبي مسعود الأنصاري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2585

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 2586

2586 - و في حديث عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقد أذكرني كذا و كذا آية كنت أسقطتها من سورة كذا و كذا و في حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمعت هشام بن حكيم يقرأ سورة الفرقان

اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ البتہ تحقیق مجھے یاد کرا دیا ہے فلاں فلاں آیت جسے میں فلاں فلاں سورۃ سے ساقط کر چکا تھا۔ اور عمر بن خطاب کی روایت میں ہے کہ میں نے سنا ہشام بن حکیم سے وہ پڑھتے تھے سورہ الفرقان ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 2586

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تقطيع آية آية في القرآن · حديث 2587

2587 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا سعيد بن يحيى الأموي ثنا أبي ثنا ابن جريح عن عبد الله بن أبي مليكة عن أم سلمة : ذكرت أو كلمة غيرها قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم : { بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * مالك يوم الدين } يقطع قراءته آية آية و متابعة السنة أولى مما ذهب بعض أهل العلم بالقرآن من تتبع الأغراض و المقاصد و الوقوف عند انتهائها

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داستہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سعید بن یحییٰ اموی نے ان کو ان کے والد نے ان کو جریج نے ان کو عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ان کو ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرأت ذکر کی ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمٰن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ اپنی قرأت کو آیت کاٹتے اور الگ کرتے تھے ۔ سنت کی متابعت زیادہ بہتر ہے ۔ اس سے جو بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں قرآن کے ساتھ اغراض کی اور مقاصد کی جستجو کرنے اور ان کی اتہا ء اور اختتام پر ٹھہرنے اور وقف کرنے کے بارے میں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on breaking up a verse in the Qur’an · Hadith 2587

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تقطيع آية آية في القرآن · حديث 2588

2588 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خلف بن خليفة ثنا أبو سنان عن ابن أبي الهذيل قال : إذا قال أحدكم الآية فلا يقطعها حتى يتمها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو اب سنان نے نا کو ابن ھذیل نے وہ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی آدمی کسی آیت کو پڑھے تو اسے کاٹ کر (ادھورا نہ چھوڑے ) بلکہ اس کو پوار کرے۔

أحدكم الآية فلا يقطعها حتى يتمها ← «إِذَا ← ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ← أَبُو سِنَانٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← مَنْصُورٌ النَّضْرَوِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on breaking up a verse in the Qur’an · Hadith 2588

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2589

2589 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا أسد بن موسى ثنا مروان بن معاوية أنا بشر بن نمير ثنا القاسم صاحب أبي أمامة عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ من قرأ ثلث القرآن أعطى ثلث النبوة و من قرأ نصف القرآن أعطى نصف النبوة و من قرأ ثلثي القرآن أعطى ثلثي النبوة و من قرأ القرآن كله أعطى النبوة كلها و يقال له يوم القيامة إقرأ وارقة بكل آية درجة حتى ينجز ما معه من القرآن و يقال له أقبض فيقبض فإذا في يده اليمنى الخلد و في الأخرى النعيم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافط نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے فرمایا ۔ جو شخص قرآن مجید کی ایک تہائی پڑھ لے ( کما حقہ ) وہ شخص (علم ) نبوت کی ایک تہائی دے گیا ۔ اور جس نے نصف قرآن مجید پڑھ لیا ( کما حقہ) وہ (علم نبوت ) کا نصف دے دیا گیا ۔ اور جس نے دو تہائی قرآن مجید پڑھ لیا (کماحقہ ) وہ (علم ) نبوت کی دو تہائی دے دیا گیا۔ اور جس نے پورا قرآن مجید (کما حقہ پڑھ سمجھ لیا ) وہ ایسے ہے جسے ( پوری نبوت کا علم) دے دیا گیا ۔ اور قیامت کے دن اس کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھے اور ہر آیت کے ساتھ ایک درجے پر چڑھیے یہاں تک کہ پورا ہو جائے جو اس کے ساتھ قرآن مجید ہے ۔ پھر اسے کہا جائے گا مٹھی بند کر وہ مٹھی بند کرے گا یکایک اس کے دائیں ہاتھ میں جنت خلد ہو گی اور دوسری میں جنت کی نعمتیں ہوں گی۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← القاسم صاحب أبي أمامة ← بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2589

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2590

2590 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن عبيد ثنا محرر أبو رجاء الشامي عن إسماعيل بن عبد الله قال : قال عبد الله بن عمرو من قرأ القرآن فكأنما استدرجت النبوة بين جنبيه إلا أنه لا يوحي إليه و من أعطى القرآن فظن أن أحدا أعطى أفضل مما أعطى فقد حقر ما عظم ما حقر الله و ليس ينبغي لحامل القرآن أن يحد فيمن يحد و لا يجهل فيمن يجهل و لكن ليعف و ليصفح لحق القرآن هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد وری نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو محرر ابورحآ ء شامی نے ان کو اسماعیل بن عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمرو نے کہا جس نے پورا قرآن مجید پڑھ لیا (کما حقہ سمجھ کر) گوایا کہ اس (علم ) نبوت کو اپنے پہلوؤں میں داخل کر لیا مگر یہ کہ اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور جس شخص کو قرآن ( کا علم) عطا کیا گیا پھر اس نے یہ گمان کیا کہ کوئی دوسرا شخص اس سے بہتر دیا گیا ہے اس سے تو اس نے اس چیز کو حقیر سمجھا جس کو اللہ نے عظیم بنایا ہے اور اسی خیر کو اس نے عظیم سمجھا ہے جس کو اللہ حقیر سمجھتا ہے اور حامل قرآن کے لیے یہ شایان شان نہیں ہے کہ وہ تیزی کرے جس چیز میں کوئی تیزی کرے اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ جہالت کرے جس میں کوئی جہالت کرے مگر حامل قرآن کو چاہیے کہ معاف کرے اور درگزر کرے قرآن مجید کے حق کی وجہ سے ، اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے ۔

إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← محرر أبو رجاء الشامي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2590

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2591

2591 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر البغدادي ثنا يحيى بن عثمان بن صالح السهمي ثنا عمرو بن الربيع بن طارق ثنا يحيى بن أيوب ثنا خالد بن أبي يزيد عن ثعلبة بن يزيد عن يزيد عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن فقد استدرج النبوة بين جنبيه إلا أنه لا يوحى إليه إلا ينبغي لصاحب القرآن أن يحد مع من يحد و لا يجهل مع من يجهل و في جوفه كلام الله

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بغدادی نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح سہمی نے ان کو عمرو بن ربیع بن طارق نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو خالد بن ابی یزید نے ان کو ثعلبہ بن یزید نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔جس نے قرآن مجید پڑھا اس نے اپنے دو پہلوں کے درمیان (علم) نبوت کو بھر لیا مگر (فرق یہ ہے کہ) اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی صاحب قرآن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ تیزی کرے اس کے ساتھ جو تیزی کرے اور نہ یہ کہ وہ جاہل بنے اس کے ساتھ جو جاہل بنتا ہے حالانکہ اس کے سینے میں کلام اللہ ہو۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← يَزِيدُ: ← ثعلبة بن يزيد ← خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2591

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2592

2592 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن تمام بن نجيح عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ ثلث القرآن و عمل به فقد أخذ أمر ثلث النبوة و من أخذ نصف القرآن فقد أخذ أمر نصف النبوة و من أخذ القرآن كله فعمل به فقد أخذ النبوة كلها قال أبو بكر البيهقي رضي الله عنه : ـ و يحتمل أن يكون معنى أوتى النبوة أي جمع في صدره ما أنزل على النبي صلى الله عليه و سلم غير أنه لا يوحى إليه فيه عن لاجله نبيا و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ا ن کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو تمتا م بن نجیح نے ان کو حسن نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک تہائی قرآن حاصل کر لیا اور اس کے ساتھ عمل بھی کر لیا اس نے امر نبوت کی ایک تہائی حاصل کر لی ۔ اور جس نے نصف قرآن حاصل کر لیا اس نے امر نبوت کا نصف حاصل کر لیا جس نے پورا قرآن حاصل کر لیا اور اس کے ساتھ عمل بھی کر لیا اس نے گویا پوری نبوت (کا علم یا اس کی ذمہ داری ) لے لی۔ امام ابو بکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے احتمال ہے کہ یہ معنی ہو نبوت دے دیا گیا یعنی اس نے اپنے سینے میں وہ ساری کتاب جمع کر لی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل کی گئی سوائے اس کے کہ اس کی طرف وحی نہیں کی گئی اس بارے میں۔

الْحَسَنِ، ← تمام بن نجيح ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2592

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2593

2593 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري حدثني أحمد بن الحارث حدثتنا ساكنة بنت جعد الغنوية قالت : سمعت رجاء الغنوي يقول و كانت أصيبت يده يوم الجمل قال : النبي صلى الله عليه و سلم : ـ من أعطاه الله حفظ كتابه لو ظن أن أحدا أوتى أفضل مما أوتى فقد غمط أغمط النعم

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو اسحاق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارسی ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو احمد بن حارث نے ان کو حدیث بیان کی ساکنہ بنت جعد عنزیۃ نے وہ کہتی ہے کہ میں نے سنا رجاء غنویٰ سے وہ کہتے ہیں (حالانکہ یوم جمیل میں ساکت ہاتھ کٹ گیا تھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا یاد کرنا نصیب کیا ہے اگر وہ گمان کرے کہ کوئی ایک بھی اس سے بہتر اور افضل عطا کیا گیا ۔ تو اس نے اللہ کی عظیم ترین نعمت کی ناشکری کی ہے ۔

و كانت أصيبت يده يوم الجمل ← رجاء الغنوي ← أحمد بن الحارث حدثتنا ساكنة بنت جعد الغنوية ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2593

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2594

2594 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا السري بن يحيى ثنا قبيصة ثنا سفيان عن أسلم المنقري عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ أنزلت علي سورة و أمرت أن أقرئكها قال : قلت أسميت لك قال : نعم قال : قلت لأبي أفرحت بذلك يا أبا المنذر قال : و ما يمنعني و الله تبارك و تعالى يقول : { قل بفضل الله و برحمته فبذلك فليفرحوا }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقب نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو اسلم منقری نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک سورۃ اتری ہے اور مجھے اس کے پڑھنے کا حکم ملا ہے ابن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا آپ کے لیے میرا نام لیا گیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے کہا کہ کیا آپ اس کے ساتھ خوش ہوئے اے ابو لمنذر انہوں نے کہا کس چیز نے مجھے منع کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :"قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا"فرما دیجیے کہ فضل الٰہی اور اس کی رحمت اور اس (قرآن ) سے ان کو خوش ہونا چاہیے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2594

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2595

2595 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجده ثنا سعيد بن منصور عن مجاهد عن ابن عباس : في قول الله عز و جل : { قل بفضل الله و برحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون } قال : بكتاب الله و الإسلام هو خير مما يجمعون

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے اللہ کے اس قول کے بارے میں۔ "قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذالک فلیفر حوا خیر مما یجمعون" فرما دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ اور اس (قرآن کے ساتھ ) ان کو خوش ہونا چاہیے ۔وہ ان چیزوں سےبہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ساتھ ۔ اور اسلام کے ساتھ یہ بہتر ہے ان میں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

بكتاب الله و الإسلام هو خير مما يجمعون ← ابن عباس في قول الله عز و جل ← مُجَاهِدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2595

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في التكثر بالقرآن و الفرح به · حديث 2596

2596 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : في قوله تعالى : { قل بفضل الله و برحمته } يقول بفضله الإسلام و رحمته القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابی طلحہ نے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ قل بفضل اللہ و برحمتہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس بفضل اللہ و برحمتہ فضؒ سے مراد اسلام ہے وہ رحمتہ اور اللہ کی رحمت قرآن ہے ۔

بفضله الإسلام و رحمته القرآن ← ابن عباس في قوله تعالى قل بفضل الله و برحمته ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on abounding the Qur’an and being happy with it · Hadith 2596

chevron_left Previous
1…656667…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood