Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4775

4775 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم نا جرير عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة بن البحر قال : كنت جالسة في حلقة في مسجد المدينة و فيها شيخ فجعل يحدثهم حديثا حسنا فلما قال القوم من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا ثم قام قلت : و الله لأتبعنه فلأعلمن مكان بيته فتبعته فانطلق حتى كاد أن يخرج من المدينة ثم دخل منزله فاستأذنت عليه فأذن لي فقال : ما حاجتك يا بن أخي ؟ قلت له : أني سمعت القوم يقولون لك لما قمت من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا فأعجبني أن أكون معك قال : الله أعلم بأهل الجنة و سأحدثك مم قالوا ذلك إذ أني بينا أنا نائم إذ أتاني رجل فقال لي : قم فأخذ بيدي فانطلقت معه فإذا أنا بجواد عن شمالي فأخذت لآخذ فيها فقال لي : لا تأخذ فيها فإنها طريق أصحاب الشمال و إذا جواد منهم على يميني فقال : لي خذ هذا قال : فأتى بي حتى أتى بي جبلا فقال لي : إصعد قال : فجعلت إذا أردت أن أصعد جررت على إسقي حتى فعلت ذلك مرارا ثم انطلق بي حتى أتى عمودا رأسه إلى السماء و أسفله في الأرض في أعلاه حلقة فقال لي : إصعد هذا قلت : كيف أصعد و هذا رأسه في السماء قال : فأخذ بيدي فرحل بي فإذا أنا متعلق بالحلقة قال : ثم ضرب العمود فخر و بقيت متعلقا بالحلقة حتى أصبحت فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقصصتها عليه فقال : أما الطريق الذي رأيت عن يسارك فهي طريق أصحاب الشمال و أما الطريق الذي رأيت عن يمينك فهي عروة الإسلام طريق أهل اليمين و أما الجبل فهو منزل الشهداء و لن تناله و أما العمود فهو عمود الإسلام و أما العروة فهي عروة الوثقى الإسلام فلن تزال مستمسكا بالإسلام حتى تموت ثم قال : أتدري كيف خلق الله الخلق ؟ قلت : لا قال : خلق الله آدم فقال تلد فلانا و تلد فلانة و يلد فلان فلانا و تلد فلانة فلانة أجله كذا و عمله كذا و كذا و رزقه كذا و كذا ثم ينفخ فيه الروح رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم دون ما في آخره من ذكر كيفية الخلق و الأشبه أن يكون من قول عبد الله بن سلام و قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم ثم أصحابه ثم الصالحون من المسلمين كل واحد منهم في منامه ما وجد تصديق تعبيره و قد ذكرت صدرا من ذلك في آخر كتاب دلائل النبوة و في ذلك تذكير النعمة التي وضعها الله تعالى في المنام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن مسلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے اعمش سے ان کو سلیمان بن میسر نے ان کو خرشہ بن بحر نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور اس میں ایک شیخ تھے وہ ان لوگوں کو اچھی اچھی حدیث بیان کر رہے تھے جب لوگوں نے کہا کہ جس کو یہ خوش لگے کہ وہ اہل جنت کے ایک آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس شیخ کو دیکھے پھر وہ شیخ کھڑے ہو گئے میں نے سوچا کہ میں ضرور ان کے پیچھے پیچھے جاؤں گا اور میں ان کا گھر ضرور دیکھوں گا میں ان کے پیچھے پیچھے گیا وہ چلتے رہے حتیٰ کہ قریب تھا کہ مدینے سے باہر نکل جائیں گے۔ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ میں نے ان سے اجازت مانگی انہوں نے مجھے اجازت دی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے بھتیجے کیا کام ہے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سنا تھا لوگوں سے وہ کہہ رہے تھے آپ کے بارے میں جب آپ اٹھ گئے تھے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ وہ اہل جنت کے لوگوں میں سے کسی کو دیکھے وہ اسی شیخ کو دیکھے لہذا مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کہتے ہیں کہ اس شیخ نے کہا کہ اہل جنت کو تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اور میں عنقریب اسی بارے میں حدیث بیان کروں گا کہ انہوں نے کیوں یہ کہا ہے اس لئے کہ میں سو رہا تھا اچانک میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور اس نے مجھ سے کہا اٹھ جائیے اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں اس کے ساتھ چلدیا میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو مجھے ایک راستہ دکھائی دیا میں نے اس پر چلنا چاہا تو کہنے والے نے مجھ سے کہا اس راستے کو اختیار نہ کرو یہ بائیں ہاتھ والوں کا راستہ ہے اور دیکھتا ہوں تو ایک راستہ میرے دائیں طرف ہے مجھ سے کہنے والے نے کہا کہ تو اس راستے کو اختیار کر کہتے ہیں مجھے ایک پہاڑ پر لے جایا گیا اور کہنے والے نے کہا کہ تم اوپر کو چڑھو کہتے ہیں کہ جب جب چڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اپنی سرین پر کھینچ کر گرا دیا جاتا ہوں حتیٰ کہ میں نے یہ کام بار بار کیا پھر وہ لے جانے والا مجھے ستون کی طرف لے گیا جس کا سر آسمان تک تھا اور نیچے کا حصہ اس کا زمین میں تھا اس کے اوپر ایک حلقہ تھا اس نے مجھے کہا کہ آپ اس کے اوپر کو چڑھے۔ میں نے کہا کہ میں کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا ایک سرا تو آسمانوں پر ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر چلا کر لے گیا میں اچانک اس حلقے اور کڑے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا پھر اس نے اس ستون کو مارا سو وہ گر پڑا اور میں بدستور اس کے ساتھ لٹکا رہ گیاحتیٰ کہ میں نے صبح کرلی۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا میں نے یہ قصہ آپ کو سنایا آپ نے فرمایا بہر حال وہ راستہ جو تم اپنی بائیں جانب دیکھا یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ اور وہ راستہ جوتم نے اپنی دائیں جانب دیکھا وہ اسلام کا کڑا ہے ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ بہر حال جو پہاڑ دیکھا وہ وہ شہداء کا ٹھکانہ ہے تم اس کو ہرگز نہیں پاؤ گے۔ اور ستون وہ اسلام کے ستون ہیں اور کڑا وہ عروۃ الوثقٰی ہے یعنی مضبوط کڑا تم ہمیشہ اسلام کے ساتھ چمٹے رہو گے حتیٰ کہ مرجاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے مخلوق کو کیسے پیدا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اس کو فر مایا کہ تم فلاں فلاں فلاں کو جنم دو گے اور وہ فلاں فلاں کو جنم دے گا اور فلانی فلانی کو جنم دے گی ان کا اجل ایسے ہوگا اور مل ویسے ہوگا اور ان کا رزق ایسے ہوگا پھر اس میں روح پھونکا جائے گا اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحٰق بن ابراہیم سے ماسوا ان کے جو اس کے آخر میں ہے کیفیت تخلیق کا ذکر زیادہ مناسب ہے کہ یہ عبداللہ بن سلام کا قول ہوا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس کے بعد آپ کے اصحاب کو پھر صالحین مسلمانوں کو ان میں سے ہر ایک کو اپنی نیند میں اس قدر جس سے انہوں نے اپنے خواب کی تعبیر کی تصدیق پالی۔ اور اس کا اول حصہ میں نے کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ذکر کیا ہے اور اس میں اس نعمت کی یاددہانی ہے جسے اللہ نے نیند میں رکھا ہے۔

خرشة بن البحر ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4775

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4776

4776 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : جاء إلى ابن المسيب رجل قال : و كان من أعبر الناس يعني ابن المسيب قال : رأيت كأن في يدي قطرة من دم فكلما غسلتها ازدادت إشراقا فقال له ابن المسيب : أنت رجل تنتقي من ولدك فاتق الله و استلحقه

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسیّب کے پاس ایک آدمی آیا کہتے ہیں کہ سب لوگوں سے زیادہ تعبیر بتانے والا تھا یعنی ابن مسیّب وہ آدمی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا گویا کہ میرے ہاتھ میں خون کا ایک قطرہ ہے میں جب بھی اس کو دھوتا ہوں اس کی چمک میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسیّب نے اس کو فر مایا تم ایسے آدمی ہو جواپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اظہار کر تے ہو تم اللہ سے ڈرو اور اس کو اپنے ساتھ لاحق کرو۔

رأيت كأن في يدي قطرة من دم فكلما غسلتها ازدادت إشراقا ← و كان من أعبر الناس يعني ابن المسيب ← جاء إلى ابن المسيب رجل ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4776

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4777

4777 - قال : و سمعت معمرا يقول : جاء رجل إلى ابن سيرين فقال : رأيت في النوم كأن حمامة التقمت لؤلؤة فخرجت منها أعظم مما دخلت و رأيت حمامة أخرى التقمت لؤلؤة فخرجت أصغر مما دخلت و رأيت حمامة أخرى التقمت لؤلؤة فخرجت كما دخلت سواء فقال له ابن سيرين : أما التي خرجت أعظم مما دخلت فذاك الحسن يسمع الحديث فيجوده بمنطقة ثم يصل فيه من مواعظة و أما التي خرجت أصغر مما دخلت فذاك محمد بن سيرين يسمع الحديث فينقص منه و أما التي خرجت كما دخلت فهو قتادة فهو أحفظ الناس

کہتے ہیں کہ میں نے سنا معمر سے وہ کہتے تھے کہ ایک آدمی حضرت ابن سیرین کے پاس آیا اور بولا کہ میں نے نیند میں دیکھا ہے گویا کہ ایک کبوتری نے ایک موتی کو نگل لیا ہے پھر وہ اس سے بڑا ہوکر نکلا ہے جتنا تھا اور میں نے دوسری کبوتری کو دیکھا ہے اس نے بھی ایک موتی کو کھالیا ہے وہ اس سے کم ہوکر نکل آیا اور ایک تیسری کبوتری کو دیکھا ہیاس نے بھی ایک موتی کو کھالیا ہے وہ ویسے ہی اس میں سے نکل آیا جیسے کہ اس کے اندر داخل ہوا تھا برابر۔ حضرت ابن سیرین نے اس کو فرمایا کہ بہر حال وہ جو اس سے بڑا ہو کر نکلا ہے جتنا کہ داخل ہوا تھا۔ یہ حسن ہے حدیث کو سنا ہے اور اس کو اپنی زبان میں اچھا کرتا ہے پھر اس میں اپنے مواعظ میں سے ملاتا ہے۔ اور وہ جو اس سے چھوٹا نکلا ہے جتنا بڑا داخل ہوا تھا۔ یہ محمد بن سیرین ہے حدیث کو سنتا ہے اور اس میں سے کم کر دیتا ہے۔ بہر حال وہ جو ایسے نکلا ہے جیسے داخل ہوا وہ قتادہ ہے وہ سب سے زیادہ حافظے والا ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ سِيرِينَ ← مَعْمَرًا، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4777

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4778

4778 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل الصفار نا عباس نا مسلم الخواص أنا ابن عيينة عن أيوب السختياني قال : كنت مع محمد بن سيرين في السوق فجاءه رجل فقال : إني رأيت في المنام كأني آكل الخبيص و أنا في الصلاة فقال ابن سيرين : الخبيص حلولين و أكله في الصلاة لا ينبغي و لكن لعلك تقبل و أنت صائم ؟ قال : نعم قال : فلا تفعل

ہمیں خبر دی ہے ابومحمدعبداللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عباس نے ان کو مسلم حواص نے ان کو ابن عینیہ نے ان کو ایوب سختیانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بازار میں حضرت محمد بن سیرین کے ساتھ تھا ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں گھی اور کھجور کا حلوا کھارہا ہوں۔ اور میں نماز میں بھی ہوں۔ ابن سیرین نے فرمایا حلوا تو میٹھا ہے اور نرم ہے مگر نماز میں کھانا اچھانہیں مناسب نہیں شاید آپ نے بوسہ دیا ہے اس وقت آپ روزے کے ساتھ تھے؟ بولا جی ہاں آپ نے فرمایا تم ایسے نہ کرو۔

فَلاَ تَفْعَلْ. ← نَعَمْ ← ابن سيرين الخبيص حلولين و أكله في الصلاة لا ينبغي و لكن لعلك تقبل و أنت صائم ← فِي الصَّلاَةِ. ← إني رأيت في المنام كأني آكل الخبيص و ← كنت مع محمد بن سيرين في السوق فجاءه رجل ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مسلم الخواص ← عَبَّاسٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4778

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4779

4779 - أخبرنا مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة نا مسلم بن محمد التميمي نا الحضرمي نا سعيد الأشعثي أنا سفيان عن هشام بن حسان قال : كنت مع ابن سيرين في السوق فجاءه رجل فقال : إني رأيت في المنام كأن عنقي ضربت فقال : أنت عبد تعتق قال : ثم أعدته قال : يموت مولاك قال : فبلغ ذلك مولاه فقال : يا عجبا لابن سيرين هذا يتكلف علم الغيب قال فلم يلبث أن عتق العبد و مات المولى قال : و جاءه رجل فقال إني رأيت في المنام كأن على رأسي تاجا من الذهب فقال : أبوك في أرض غربة قد ذهب بصره قال : فما افترقنا حتى أخرج كتابا من أبيه أنه قد ذهب بصره قال الشيخ : الأخبار و الحكايات في المنام كثيرة فاقتصرنا على ذكر ما يبين به المقصود بالباب

ہمیں خبر دی مجالد بن عبداللہ بن مجالد بجلی نے کوفہ میں ان کو خبر دی مسلم بن محمد تمیمی نے ان کو حضرمی نے ان کو سعید اشعثی نے ان کو سفیان ٍنے ان کو ہشام بن حسان نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن سیرین کے ساتھ بازار میں تھا ایک آدمی ان کے پاس آ کر بولا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میری گردن کاٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا شاید آپ غلام ہیں آپ آزاد ہو جائیں گے۔ اس نے کہا کہ میں نے یہی دوبارہ بھی دیکھا ہے آپ نے فرمایا کہ تیرا مالک بھی مر جائے گا یہ بات اس غلام کے مالک تک پہنچی تو اس نے کہا تعجب ہے ابن سیرین اسی طرح علم غیب کے بارے میں تکلف کرتے ہیں اور غیب کی خبر میں دیتے ہیں لوگوں نے دیکھا کہ بہت جلدی وہ غلام آزادبھی ہوگیا اور مالک بھی فوت ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ ابن سیرین کے پاس ایک آدمی آ کر بولا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرے سر پر ستون کا تاج ہے آپ نے فرمایا کہ تیرے والد سفر میں ہیں اور ان کی بصارت ختم ہوگئی ہے کہتے کہ تھوڑی دیر کے اندر اس شخص نے اپنے والد کا خط نکال کر دیکھا جس میں لکھا تھا کہ میری بینائی ختم ہوگئی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اخبار اور حکایات نیند کے بارے میں بہت ہیں ہم نے اتنی ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے جس کے ساتھ اس باب میں مقصودواضح ہوجائے۔

ما يبين به المقصود بالباب ← الشيخ الأخبار و الحكايات في المنام كثيرة فاقتصرنا على ← فما افترقنا حتى أخرج كتابا من أبيه أنه قد ذهب بصره ← أبوك في أرض غربة قد ذهب بصره ← إني رأيت في المنام كأن على رأسي تاجا من الذهب ← و جاءه رجل ← فلم يلبث أن عتق العبد و مات المولى ← يا عجبا لابن سيرين هذا يتكلف علم الغيب ← فبلغ ذلك مولاه ← يموت مولاك ← ثم أعدته ← أنت عبد تعتق ← إني رأيت في المنام كأن عنقي ضربت ← كنت مع ابن سيرين في السوق فجاءه رجل ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانَ، ← سعيد الأشعثي ← الْحَضْرَمِيِّ ← مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ← مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4779

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4780

4780 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال : كان بين رؤيا يوسف و عبارتها أربعون عاما

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمود صفار نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو سلیمان تمیمی نے ان کو ابوعثمان نے ان کو سلیمان نے انہوں نے کہا کہ حضرت یوسف کے خواب کے اور اس کی تعبیر سامنے آنے میں چالیس سال کا عرصہ گذر گیا تھا۔

كان بين رؤيا يوسف و عبارتها أربعون عاما ← سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4780

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4781

4781 - و حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان بن عيينة عن ابن سنان عن عبد الله بن شداد قال : وقعت رؤيا يوسف عليه السلام بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو ابن سنان نے ان کو عبداللہ بن شداد نے وہ کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کا خواب چالیس سال بعد واقع ہوا تھا اور اتنی مدت میں وہ خواب اپنی تکمیل اور اپنی انتہا کو پہنچا تھا۔

وقعت رؤيا يوسف بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ابن سنان ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4781

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4782

4782 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدرامي نا سعيد بن أبي مريم نا محمد بن جعفر حدثني زيد هو ابن أسلم عن عطاء عن أبي سعيد الخدري : أن رجالا من المنافقين في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا خرج من الغزو تخلفوا عنه و فرحوا بمقعدهم خلاف رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم اعتذروا إليه و حلفوا و أحبوا أن يحمدوا بما لم يفعلوا و لا تحسبنهم بمفازة من العذاب لفظ حديث أبي عبد الله رواه البخاري في الصحيح عن سعيد بن أبي مريم رواه مسلم عن الحلواني و غيره عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسین احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن ابومریم نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء نے ان کو ابوسعید خدری نے یہ کہ کچھ منافق آدمی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جہاد کے لئے نکلتے تھے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل جہاد نہیں ہوتے تھے بلکہ پیچھے رہ جاتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے اور گھروں میں بیٹھے رہنے پر خوش ہوتے اور اتراتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد سے واپس آتے تو یہ لوگ آپ کی خدمت میں معذرت پیش کر دیتے اور قسمیں کھا لیتے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ، جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریف ہو اے پیغمبر مت گمان کر تو ان کو عذاب سے چھٹکارا پانے والا۔ یہ ابوعبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سعید بن ابومریم سے۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا حلوانی وغیرہ سے اس نے سعید بن مریم سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4782

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4783

4783 - أخبرنا الشيخ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب بن عبد القاهر نا أبو داود الطيالسي نا شعبة أخبرني يزيد بن خمير قال سمعت سليم بن عامر يحدث عن أوسط البجلي قال : سمعت أبا بكر رضي الله عنه يخطب فذكر النبي صلى الله عليه و سلم فبكى ثم قال : يعني النبي صلى الله عليه و سلم : عليكم بالصدق فإنه يهدي إلى البر و هما في الجنة و إياكم و الكذب فإنه يهدي إلى الفجور و هما في النار و سلوا الله اليقين و المعافاة فإن الناس لم يعطوا شيئا أفضل من المعافاة أو قال : العافية و لا تحاسدوا و لا تباغضوا و لا تقاطعوا و لا تدابروا كونوا عباد الله إخوانا

ہمیں خبر دی شیخ ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب بن عبدالقاھر نے ان کو ابوداؤد طیالسی نے ان کو سعید نے ان کو خبر دی یزید بن خمیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلیم بن عامر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اوسط بحلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جو کہ خطبہ دے رہے تھے انہوں نے حضور کا تذکرہ کیا تو رو پڑے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، تم لوگ سچ کو لازم پکڑو وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ دونوں جنت میں ہیں،اور تم بچاؤ اپنے آپ کو جھوٹ سے بے شک وہ گناہوں کی طرف راستہ دکھاتا ہے اور وہ دونوں جہنم میں ہیں۔اور اللہ سے یقین مانگو۔ اور عافیت مانگو۔ اس لئے کہ لوگوں کو عافیت سے افضل کوئی شئی عطا نہیں کی جاتی۔ یا یوں فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت مانگو۔اس لئے کہ لوگوں کو عافیت سے افضل کوئی شئی عطا نہیں کی جاتی۔ یا یوں فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت مانگو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے کو پس پشت نہ ڈالو اور ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔

أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ ← أَوْسَطٍ الْبَجَلِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يونس بن حبيب بن عبد القاهر ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4783

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4784

4784 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا عثمان بن أبي شيبة نا جرير عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الصدق يهدي إلى البر و إن البر يهدي إلى الجنة و عن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا و عن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار و عن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ان کو ابووائل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور بے شک ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک صدیق یعنی بہت بڑا سچا لکھ دیا جاتا ہے۔اور بے شک جھوٹ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں بے شک ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک کذاب اور بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اور مسلم نے صحیح میں عثمان بن ابوشیبہ سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4784

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4785

4785 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا سليمان بن حرب نا شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن عبد الله قال : أحسن الحديث كتاب الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم و شر الأمور محدثاتها و إنما توعدون لآت و ما أنتم بمعجزين قال : هذا عن مرة أو غيره عن عبد الله ألا عليكم بالصدق فإنه يقرب إلى الجنة و لا يزال العبد يصدق حتى يكتب عند الله صديقا و يثبت البر في قلبه فلا يكون للفجور موضع أبرة يستقر فيه ألا و إياكم و الكذب فإنه يهدي إلى الفجور أو قال : إلى النار و لا يزال العبد يكذب حتى يكتب عند الله كذابا و يثبت الفجور في قلبه فلا يكون للبر موضع إبرة يستقر فيه رواه البخاري في الصحيح عن آدم عن شعبة ولم يشك في إدراجه في الحديث و قد أخرجناه في آخر كتاب المدخل من حديث آدم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعیہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے فرمایا کہ خوبصورت بات کتاب اللہ ہے اور خوبصورت سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔ اور تمام امور میں سے بدتر امور دین میں نئی بدعات ہیں اور بے شک تمہیں جس چیز کا وعدہ دیا گیا ہے وہ چیز آنے والی ہے اور تم لوگ اس کو روک نہیں سکتے۔ راوی کہتے ہیں کہ مرہ سے مروی ہے یا اس کے غیر سے عبداللہ سے۔ خبر دار تم لوگ سچائی کو لازم پکڑو بے شک سچائی جنت کے قریب کرتی ہے ہمیشہ ایک بندہ سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا سچا لکھ دیا جاتا ہے اور نیکی اس کے دل میں گھر کر لیتی ہے لہذا گناہوں کے لئے اس کے دل میں ایک سوئی کے برابر بھی جگہ باقی نہیں رہتی جس میں برائی ٹھہر سکے۔ خبردار بچاؤ تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بے شک وہ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے۔ یا کہا تھا کہ جہنم کی طرف۔اور ہمیشہ ایک بندہ جھوٹ بولتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے اور گناہ اس کے دل میں گھر کر لیتے ہیں حتیٰ کہ اس کے دل میں نیکی کے لئے ایک سوئی کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی جس میں وہ ٹھہر سکے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اس نے شعبہ سے اس نے اس کو حدیث میں درج کرنے میں شک نہیں کیا۔ اور ہم نے اس کو کتاب المدخل میں حدیث آدم سے نقل کیا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4785

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4786

4786 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن جعفر بن برقان قال : قال : ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا إن البعيد ما ليس بآت ألا لا يجعل الله لعجلة أحد و لا تجد لأمر الناس فإن شاء الله لا ما شاء الناس يريد الله أمرا و يريد الناس أمرا ما شاء الله كان و لو كره الناس لا مقرب لما باعد الله و لا مباعد لما قرب الله و لا يكون شيء ألا بإذن الله أصدق الحديث كتاب الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم و شر الأمور محدثاتها وكل محدثه بدعة و كل بدعة ضلالة قال معمر : و قال : غير جعفر عن ابن مسعود و خير ما ألقى في القلب اليقين و خير الغنى غنى النفس و خير العلم ما نفع وخير الهدي ما أتبه و ما قل و كفى و خير مما كثر و ألهى و إنما يصير أحدكم إلى موضع أربعة اذرع فلا تملوا الناس و لا تسأموهم فإن لكل نفس نشاطا و إقبالا و إن لها سآمة و إدربار ألا و شر الرؤيا رؤيا الكذب الكذب يقود إلى الفجور و إن الفجور يقود إلى النار ألا و عليكم بالصدق فإن الصدق يقود إلى البر و إن البر يقود إلى الجنة واعتبروا في ذلك أنهما الفتيان التقتا يقال للصادق صدق و بر ويقال للفاجر كذب و فجر و قد سمعنا نبيكم صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال العبد يصدق حتى يكتب صديقا و لا يزال يكذب حتى يكتب كذابا ألا و إن الكذب لا يصلح في جد و لا هزل و لا إن يعد الرجل منكم صبية ثم لا ينجز له ألا و لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم قد طال عليهم الأمد فقست قلوبهم وابتدعوا في دينهم فإن كنتم لا محالة سائليهم ما وافق كتابكم فخذوه و ما خالفه فذكر عبد الله كلمة يعني أمسكوا عنه واسكتوا ألا و إن أصغر البيوت البيت الذي ليس فيه من كتاب الله شيء ألا و إن البيت الذي ليس فيه من كتاب الله خرب لخراب البيت الذي لا عامر له ألا و إن الشيطان يخرج من البيت الذي يسمع سورة البقرة تقرأ فيه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو جعفر بن برقان نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے کہا ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔خبر دار دور وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے۔ خبر دار اللہ تعالیٰ کسی ایک کے جلدی کرنے کی وجہ سے جلدی نہیں لائیں گے۔ آپ لوگوں کے امر سے کچھ نہیں پائیں گے۔ بیشک وہی کچھ ہوگا جو اللہ چاہے گا اور وہ نہیں ہوگا جو کچھ لوگ چاہیں گے۔ اللہ ارادہ کرتا ہے ایک امر کا اور لوگ ارادہ کرتے ہیں دوسرے امر کا۔اللہ جو کچھ ارادہ کرتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے اگرچہ لوگ اس کو ناپسند بھی کریں جس چیز کو اللہ دور کرے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو کوئی دور کرنے والا نہیں اس کو اللہ قریب کرے۔ اور کوئی کام نہیں ہوتا مگر اللہ کے حکم سے۔سب سے زیادہ سچی حدیث کتاب اللہ ہے اور خوبصورت سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین کام دین میں نوپیدا کام ہیں اور ہر نوپیدا کام (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ معمر نے کہا ہے کہ ابن مسعود سے جعفر کے علاوہ دیگر نے روایت کیا ہے کہ بہترین چیز جو دل میں ڈالی گئی وہ یقین ہے۔اور بہترین غنیٰ نفس اور دل کا غنیٰ ہوتا ہے۔ اور بہترین علم وہ ہے جو نفع دے اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے جو قلیل ہو اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو بہت ہو اور اس سے غفلت و لاپرواہی برتی جائے۔ یقینی بات ہے کہ ایک تمہارا رجوع کرے گا اور لوٹے گا چار ہاتھ (زمین کی طرف) لہذا لوگوں کو نہ تو اداس کرو نہ ہی ان کو نظر انداز کرو۔ بیشک ہر نفس کے لئے ایک نشاط اور خوشی ہوتی ہے اور بخت کامیابی ہوتی ہے۔ اور بیشک اس کے لئے نحوست اور بدبختی بھی ہوتی ہے۔ خبر دار بدترین خواب جھوٹا خواب ہے۔ جھوٹ گناہوں کی طرف چلاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف چلاتے ہیں۔خبر دار لازم پکڑو تم سچائی کو بے شک سچائی نیکی کی طرف چلاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف چلاتی ہے عبرت و نصیحت پکڑو تم اس بارے میں بے شک وہ دونوں جوان ہیں جو باہم ملتے ہیں صادق کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا اور نیکی کی اور گناہگار کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا اور ہم نے تو تمہارے نبی سے سنا تھا وہ فرماتے تھے ایک بندہ ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ خبر دار بیشک جھوٹ درست نہیں ہوتا نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں۔اور نہ اس طرح مناسب ہے کر تم میں سے کوئی آدمی اپنے بچے کو وعدہ دے بچے سے وعدہ کرے اس کے بعد وہ اس کو پورا نہ کرے۔ خبر دار تم میں سے کوئی آدمی اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھے بے شک ان پر طویل ہوگئی ہے مدت بندان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔اور انہوں نے دین میں بدعت ایجاد کر لی ہے۔ اگر تم لا محالہ ان سے پوچھتے بھی ہو تو جو تمہاری کتاب قرآن کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دو۔ پھر عبداللہ نے ایک کلمہ ذکر کیا یعنی اس سے رک جاؤ۔ اور خاموش رہو۔ بے شک تمام گھروں میں سے ذلیل ترین گھر وہ ہے جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی شئی نہ ہو۔ خبر دار بے شک وہ گھر جس میں کتاب اللہ میں سے کچھ نہ ہو وہ ویران ہے اور ویران گھر وہ ہے جس کو کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ خبر دار بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں وہ سن لے کہ سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4786

chevron_left Previous
1…444546…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood