شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4775
4775 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم نا جرير عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة بن البحر قال : كنت جالسة في حلقة في مسجد المدينة و فيها شيخ فجعل يحدثهم حديثا حسنا فلما قال القوم من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا ثم قام قلت : و الله لأتبعنه فلأعلمن مكان بيته فتبعته فانطلق حتى كاد أن يخرج من المدينة ثم دخل منزله فاستأذنت عليه فأذن لي فقال : ما حاجتك يا بن أخي ؟ قلت له : أني سمعت القوم يقولون لك لما قمت من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا فأعجبني أن أكون معك قال : الله أعلم بأهل الجنة و سأحدثك مم قالوا ذلك إذ أني بينا أنا نائم إذ أتاني رجل فقال لي : قم فأخذ بيدي فانطلقت معه فإذا أنا بجواد عن شمالي فأخذت لآخذ فيها فقال لي : لا تأخذ فيها فإنها طريق أصحاب الشمال و إذا جواد منهم على يميني فقال : لي خذ هذا قال : فأتى بي حتى أتى بي جبلا فقال لي : إصعد قال : فجعلت إذا أردت أن أصعد جررت على إسقي حتى فعلت ذلك مرارا ثم انطلق بي حتى أتى عمودا رأسه إلى السماء و أسفله في الأرض في أعلاه حلقة فقال لي : إصعد هذا قلت : كيف أصعد و هذا رأسه في السماء قال : فأخذ بيدي فرحل بي فإذا أنا متعلق بالحلقة قال : ثم ضرب العمود فخر و بقيت متعلقا بالحلقة حتى أصبحت فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقصصتها عليه فقال : أما الطريق الذي رأيت عن يسارك فهي طريق أصحاب الشمال و أما الطريق الذي رأيت عن يمينك فهي عروة الإسلام طريق أهل اليمين و أما الجبل فهو منزل الشهداء و لن تناله و أما العمود فهو عمود الإسلام و أما العروة فهي عروة الوثقى الإسلام فلن تزال مستمسكا بالإسلام حتى تموت ثم قال : أتدري كيف خلق الله الخلق ؟ قلت : لا قال : خلق الله آدم فقال تلد فلانا و تلد فلانة و يلد فلان فلانا و تلد فلانة فلانة أجله كذا و عمله كذا و كذا و رزقه كذا و كذا ثم ينفخ فيه الروح رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم دون ما في آخره من ذكر كيفية الخلق و الأشبه أن يكون من قول عبد الله بن سلام و قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم ثم أصحابه ثم الصالحون من المسلمين كل واحد منهم في منامه ما وجد تصديق تعبيره و قد ذكرت صدرا من ذلك في آخر كتاب دلائل النبوة و في ذلك تذكير النعمة التي وضعها الله تعالى في المنام
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن مسلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے اعمش سے ان کو سلیمان بن میسر نے ان کو خرشہ بن بحر نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور اس میں ایک شیخ تھے وہ ان لوگوں کو اچھی اچھی حدیث بیان کر رہے تھے جب لوگوں نے کہا کہ جس کو یہ خوش لگے کہ وہ اہل جنت کے ایک آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس شیخ کو دیکھے پھر وہ شیخ کھڑے ہو گئے میں نے سوچا کہ میں ضرور ان کے پیچھے پیچھے جاؤں گا اور میں ان کا گھر ضرور دیکھوں گا میں ان کے پیچھے پیچھے گیا وہ چلتے رہے حتیٰ کہ قریب تھا کہ مدینے سے باہر نکل جائیں گے۔ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ میں نے ان سے اجازت مانگی انہوں نے مجھے اجازت دی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے بھتیجے کیا کام ہے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سنا تھا لوگوں سے وہ کہہ رہے تھے آپ کے بارے میں جب آپ اٹھ گئے تھے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ وہ اہل جنت کے لوگوں میں سے کسی کو دیکھے وہ اسی شیخ کو دیکھے لہذا مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کہتے ہیں کہ اس شیخ نے کہا کہ اہل جنت کو تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اور میں عنقریب اسی بارے میں حدیث بیان کروں گا کہ انہوں نے کیوں یہ کہا ہے اس لئے کہ میں سو رہا تھا اچانک میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور اس نے مجھ سے کہا اٹھ جائیے اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں اس کے ساتھ چلدیا میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو مجھے ایک راستہ دکھائی دیا میں نے اس پر چلنا چاہا تو کہنے والے نے مجھ سے کہا اس راستے کو اختیار نہ کرو یہ بائیں ہاتھ والوں کا راستہ ہے اور دیکھتا ہوں تو ایک راستہ میرے دائیں طرف ہے مجھ سے کہنے والے نے کہا کہ تو اس راستے کو اختیار کر کہتے ہیں مجھے ایک پہاڑ پر لے جایا گیا اور کہنے والے نے کہا کہ تم اوپر کو چڑھو کہتے ہیں کہ جب جب چڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اپنی سرین پر کھینچ کر گرا دیا جاتا ہوں حتیٰ کہ میں نے یہ کام بار بار کیا پھر وہ لے جانے والا مجھے ستون کی طرف لے گیا جس کا سر آسمان تک تھا اور نیچے کا حصہ اس کا زمین میں تھا اس کے اوپر ایک حلقہ تھا اس نے مجھے کہا کہ آپ اس کے اوپر کو چڑھے۔ میں نے کہا کہ میں کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا ایک سرا تو آسمانوں پر ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر چلا کر لے گیا میں اچانک اس حلقے اور کڑے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا پھر اس نے اس ستون کو مارا سو وہ گر پڑا اور میں بدستور اس کے ساتھ لٹکا رہ گیاحتیٰ کہ میں نے صبح کرلی۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا میں نے یہ قصہ آپ کو سنایا آپ نے فرمایا بہر حال وہ راستہ جو تم اپنی بائیں جانب دیکھا یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ اور وہ راستہ جوتم نے اپنی دائیں جانب دیکھا وہ اسلام کا کڑا ہے ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ بہر حال جو پہاڑ دیکھا وہ وہ شہداء کا ٹھکانہ ہے تم اس کو ہرگز نہیں پاؤ گے۔ اور ستون وہ اسلام کے ستون ہیں اور کڑا وہ عروۃ الوثقٰی ہے یعنی مضبوط کڑا تم ہمیشہ اسلام کے ساتھ چمٹے رہو گے حتیٰ کہ مرجاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے مخلوق کو کیسے پیدا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اس کو فر مایا کہ تم فلاں فلاں فلاں کو جنم دو گے اور وہ فلاں فلاں کو جنم دے گا اور فلانی فلانی کو جنم دے گی ان کا اجل ایسے ہوگا اور مل ویسے ہوگا اور ان کا رزق ایسے ہوگا پھر اس میں روح پھونکا جائے گا اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحٰق بن ابراہیم سے ماسوا ان کے جو اس کے آخر میں ہے کیفیت تخلیق کا ذکر زیادہ مناسب ہے کہ یہ عبداللہ بن سلام کا قول ہوا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس کے بعد آپ کے اصحاب کو پھر صالحین مسلمانوں کو ان میں سے ہر ایک کو اپنی نیند میں اس قدر جس سے انہوں نے اپنے خواب کی تعبیر کی تصدیق پالی۔ اور اس کا اول حصہ میں نے کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ذکر کیا ہے اور اس میں اس نعمت کی یاددہانی ہے جسے اللہ نے نیند میں رکھا ہے۔
خرشة بن البحر ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4775
