Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4523

4523 - أخبرنا أبو نصر أحمد بن إسماعيل الطابراني بها نا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي نا أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي بمكة نا سفيان بن عيينه عن زياد بن علاقة عن المغيرة بن شعبة قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تورمت قدماه فقيل يا رسول الله أليس قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك و ما تأخر قال : أفلا أكون عبدا شكورا أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں خبر دی ابونصر احمد بن اسماعیل طاہرانی نے۔ (طاہران میں) ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے ان کو ابوبکر یوسف بن یعقوب نجامی نے مکہ مکرمہ میں ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کوزیاد بن علاقہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راتوں کو عبادت کرتے ہوئے اتنا قیام فرمایا کہ قدم سوج گئے وہ کہا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف نہیں فرما دیئے آپ نے فرمایا کہ کیا میں اپنے رب کا شکر گذار نہ بنوں بخاری و مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے ابن عینیہ کی حدیث سے۔

قام رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تورمت قدماه فقيل ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي بمكة ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أبو نصر أحمد بن إسماعيل الطابراني بها

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4523

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4524

4524 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا علي بن الجعد أخبرني مزاحم بن زفر عن مسعر قال : لما قيل لهم اعملوا آل داود شكرا لم يأت على القوم ساعة إلا و منهم مصلي

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو ابوبکر احمد بن یونس نے ان کو عیسیٰ بن عون حنفی نے ان کو عبدالملک بن زرارہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر جو بھی نعمت عطا کرتے ہیں خواہ وہ اس کے اہل میں ہو یا اس کے مال میں سے یا اولاد میں سے پھر وہ یہ کہتا ہے مـا شـاء اللّٰه لا قوة الا باللّٰہ (اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اللہ کی عطا کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے) تو اس نعمتوں میں اس کے لئے کوئی مصیبت نہیں آتی۔سوائے موت کے (جو کہ اپنے وقت پر ضرور آتی ہے)۔

مِسْعَرٍ، ← مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4524

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4525

4525 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أبو بكر أحمد بن سليمان نا عبد الله بن محمد بن عبيد نا الحسن بن صباح نا صباح نا عمر بن يونس نا عيسى بن عون الحنفي عن عبد الملك بن زرارة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله عز و جل على عبد نعمة في أهل و مال وولد يقول : فيقول ما شاء الله لا قوة إلا بالله فيرى فيه آفة دون الموت

Not Found

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زُرَارَةَ، ← عيسى بن عون الحنفي ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← صَبَاحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4525

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4526

4526 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني علي بن داود نا عبد الله بن صالح نا أبو زهير يحيى بن عطارد القرشي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرزق الله عبدا الشكر فيحرمه الزيادة لأن الله عز و جل يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم }

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو علی بن داؤد نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو ابوزبیر نے ان کو یحییٰ بن عصار قرشی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جس کو شکر کی توفیق دیتا ہے پھر اس کو نعمت میں اضافے سے محروم نہیں کرتا کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: لئن شكرتم لازيدنكم۔ اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔

أَبِيهِ ← أبو زهير يحيى بن عطارد القرشي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4526

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4527

4527 - و أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابة الشاهد بهمدان نا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن نا إبراهيم بن الحسن نا خلف يعني ابن خالد المصري نا الليث بن سعد عن عبد الله بن صالح : عن من أخبره يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما أعطى أحد أربعة فمنع أربعة ما أعطى أحد الشكر فمنع الزيادة لأن الله تعالى يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم } و ما أعطى أحد الدعاء فمنع الإجابة لأن الله يقول : { ادعوني أستجب لكم } و ما أعطى أحد الاستغفار ثم منع المغفرة لأن الله عز و جل يقول : { استغفروا ربكم إنه كان غفارا } و ما أعطى أحد التوبة فمنع التقبل لأن الله عز و جل يقول : { و هو الذي يقبل التوبة عن عباده } ثم لقيت أبا صالح فسألته عن ذلك ؟ فقال : نعم أنا حدثته بذلك فسألت أبا صالح عن الحديث فحدثني به ثم قال له من حدثك قال : حدثني أبو زهير يحيى بن عطارد بن مصعب عن أبيه قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر الحديث أظنه إبراهيم بن الحسين الكسائي يقول ذلك و قد روى ذلك بإسناد موصل و ليس بمحفوظ

ہمیں خبر دی ابوسعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبابہ شاہد نے ہمدان میں ان کو احمد ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن حسن نے ان کو ابراہیم بن حسن نے ان کو خلف نے یعنی ابن خالد مصری نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو عبداللہ بن صالح نے اس سے جس نے ان کو خبر دی تھی۔ وہ حدیث کو مرفوع کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کہ آپ نے فرمایا۔ کہ چار نعمتیں ایسی ہیں جس کو وہ عطا ہو جائیں تو چار اور نعمتیں اس کے پیچھے پیچھے ضرور جاتی ہیں وہ اس سے نہیں روکی جاتیں۔ جس کو اللہ کا شکر کرنے کی توفیق مل جائے اس سے نعمتوں میں اضافہ ہو جاتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ (۱) لئن شكرتم لأ زيدنكم۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور اضافہ کر کے دوں گا۔ جس کو دعا مانگنے کی توفیق مل جائے اس کے بعد اس کو اجازت و قبولیت بھی مل جاتی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ (۲) ادعونی استجب لكم۔ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا۔ اور جس کو استغفار کرنے کی توفیق مل جائے اس کو مغفرت ضرور مل جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (۳) استغفروا ربكم انه كان غفاراً۔ اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ اور جس کو توبہ کرنے کی توفیق مل جائے اس سے توبہ کی قبولیت نہیں روکی جاتی وہ ضرور مل جاتی ہے کیونکہ ارشاد فرماتے۔(۴) وهو الذي يقبل التوبة عن عباده۔ صرف وہی اللہ ہے جو اپنے بندوں سے ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد میں حضرت ابوصالح سے ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں میں نے یہ حدیث اس کو بیان کی تھی اور میں نے ابوصالح سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ کو یہی حدیث بیان کی پھر انہوں نے اس سے سنا کہ تجھے کس نے حدیث بیان کی تھی اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ابوزہیر یحییٰ بن عطارد بن مصعب نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اس نے یہی حدیث ذکر کی۔ میں نے خیال کیا کہ وہ ابراہیم بن حسین کسائی ہیں وہ یہی کہتے ہیں۔انہوں نے اس کو روایت کیا ہے اسناد موصول کے ساتھ اور وہ محفوظ نہیں ہے۔

يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← مَنْ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← خلف يعني ابن خالد المصري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابة الشاهد ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4527

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4528

4528 - أخبرناه أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن الحمامي المقريء ببغداد أنا إسماعيل بن علي الخطمي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر ابن ابنه معاوية حدثني خالد بن زيد الدقاق سنة سبع و عشرين و مائتين ثنا عبد العزيز بن أبان القرشي عن سفيان بن سعيد الثوري عن منصور عن إبراهيم عن علقمة و الأسود بن مسعود : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أعطى أربعا لم يحرم أربعا من أعطى الدعاء لم يحرم الإجابة لأن الله عز و جل يقول : { ادعوني أستجب لكم } و من أعطى الشكر لم يحرم الزيادة لأن الله عز و جل يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم } و من أعطى الإستغفار لا يحرم المغفرة لأن الله عز و جل يقول : { استغفروا ربكم إنه كان غفارا } المحفوظ هذا المتن بالإسناد الأول و عبد العزيز بن أبان متروك و روي من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عمر بن حمامی مقری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن علی خطی نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن نضر بن ابن معاویہ نے ان کو خالد بن زید وفاق نے سنہ دو سو ستائیس میں ۲۲۷ھ میں ان کو عبدالعزیز بن ابان قرش نے ان کو سفیان بن سعید ثوری نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے اور اسود نے دونوں نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے جوشخص چار چیزیں عطا کیا جائے وہ چار دیگر نعمتوں سے محروم نہیں کیا جاتا۔ جس کو دعا مل جائے وہ اجابت سے محروم نہیں رہتا۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا۔ ادعونی استجب لكم۔ مجھ سے مانگو میں دعا قبول کروں گا۔ جس کو شکر عطا ہو جائے وہ نعمت میں اضافے سے محروم نہیں رہتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لئن شكرتم لأزيدنكم۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں اور زیادہ کر کے دوں گا۔ اور جس کو استغفار عطا ہو جائے وہ مغفرت سے محروم نہیں رہتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ استغفروا ربكم انه كان غفاراً۔ اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بہت بخشنے والاہے۔ یہ متن اسناد اول کے ساتھ محفوظ ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابان متروک الحدیث ہے اور یہ ایک اور ضعیف سند سے مروی ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4528

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4529

4529 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الباقي بن قانع ثنا محمد بن إسحاق بن موسى المروزي ثنا محمد بن العباس صاحب ابن المبارك المروزي من أصله ثنا هشيم عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعطى أربعا أعطي أربعا و تفسير ذلك في كتاب الله عز و جل من أعطى الذكر ذكره الله لأن الله يقول : { فاذكروني أذكركم } و من أعطى الدعاء أعطي الإجابة لأن الله يقول : { ادعوني أستجب لكم } و من أعطى الشكر أعطي الزيادة لأن الله يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم } و من أعطى الاستغفار أعطي المغفرة لأن الله يقول : { استغفروا ربكم إنه كان غفارا }

جیسے کہ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبدالباقی بن قانع نے ان کو محمد بن اسحٰق بن موسیٰ مروزی نے ان کو محمد بن عباس صاحب ابن مبارک مروزی نے اپنی اصل کتاب سے ان کو ہشیم نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چار چیزیں دیا گیا وہ چار اور بھی دیا گیا۔اور اس کی تفسیر کتاب اللہ میں موجود ہے جو شخص ذکر کی توفیق عطا کیا گیا۔ اس کو اللہ تعالیٰ یاد فرماتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔ (۱) اذ کرونی اذکر کم۔ مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ جو شخص دعا کی توفیق دیا گیا وہ اجابت اور دعا کی قبولیت عطا کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (۲) ادعونی استجب لكم۔ مجھے پکار میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔ جو شخص شکر کی توفیق عطا کیا گیا وہ نعمت میں اضافہ عطا کیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (۳) لئن شكرتم لا زيدنكم۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمت میں اضافہ کر دوں گا۔ اور جو شخص استغفار کی توفیق عطا کیا گیاوہ مغفرت عطا کیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (۴) فاستغفرو ربكم انه كان غفاراً۔ تم اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← هُشَيْمٌ ← محمد بن العباس صاحب ابن المبارك المروزي من أصله ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، ← عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4529

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4530

4530 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني حمزة بن العباس أنا عبدان بن عثمان أنا عبد الله قال : سمعت علي بن صالح في قوله تعالى : { لئن شكرتم لأزيدنكم } أي من طاعتي

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حمزہ بن عباس نے ان کو عبدان بن عثمان نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں میں نے علی بن صالح سے سنا اللہ کے اس قول کے بارے میں لئن شكرتم لازيدنكم ۔ یعنی تمہاری طرف سے اپنی اطاعت میں اضافہ کردوں گا۔

علي بن صالح في قوله تعالى لئن شكرتم لأزيدنكم أي من طاعتي ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4530

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4531

4531 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت محمد بن العباس الضبي يقول : سمعت أبا إسحاق بن سعيد يقول : سمعت أبا زيد عبد الله بن محمد بن إسماعيل الفقيه يقول : سمعت أحمد بن الحريش القاضي يقول : سمعت سفيان بن عيينة يقول في قوله عز و جل { لئن شكرتم لأزيدنكم } قال لئن شكرتم نعمتي لأزيدنكم طاعتي التي تقودكم إلى جنتي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنامحمد بن عباس ضبی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابواسحٰق بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوزید عبداللہ بن محمد بن اسماعیل فقیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن حریش قاضی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عینیہ سے وہ کہتے تھے اللہ کے اس قول کے بارے میں:لئن شکرتم لازیدنکم۔ اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ اگر تم شکر کرو گے میری نعمت کا تو میں اپنی اطاعت میں تمہارے لئے اضافہ کر دوں جو تمہیں میری جنت تک چلا کر لے جائے گی۔

لئن شكرتم نعمتي لأزيدنكم طاعتي التي تقودكم إلى جنتي ← في قوله عز و جل لئن شكرتم لأزيدنكم ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أحمد بن الحريش القاضي ← أبا زيد عبد الله بن محمد بن إسماعيل الفقيه ← أبا إسحاق بن سعيد ← محمد بن العباس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4531

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4532

4532 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي ابنا أحمد بن سلمان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن إديس قال : يروى عن علي رضي الله عنه أنه قال لرجل من همذان : أن النعمة موصولة بالشكر و الشكر متعلق بالمزيد و هما مقرونان في قرن و لن ينقطع المزيد من الله عز و جل حتى ينقطع الشكر من العبد

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو محمد بن ادریس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی سے روایت ہے۔ کہ انہوں نے ہمدان کے ایک آدمی سے کہا تھا کہ نعمت شکر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور شکر اضافے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ دونوں یعنی شکر اور نعمت میں اضافہ۔ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ ایک ہی رشتے میں۔ اضافہ اللہ کی طرف سے اس وقت تک نہیں رکتا جب تک شکر کا سلسلہ منقطع ہو جائے بندے کی طرف سے۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← «يَرْوِي ← محمد بن إديس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو القاسم الخرقي ابنا أحمد بن سلمان

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4532

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4533

4533 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد بن سلمان أنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن علي بن شقيق ثنا إبراهيم بن الأشعث قال : سمعت فضيل بن عياض يقول : كان يقال من عرف نعمة الله عز و جل بقلبه و حمده بلسانه لم يستتم ذلك حتى يرى الزيادة يقول الله عز و جل : { لئن شكرتم لأزيدنكم }

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن علی بن شفیق نے ان کو ابراہیم بن اشعث نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ جو شخص اللہ کی نعمت کو اپنے دل کے ساتھ پہچان لے اور زبان کے ساتھ اس کی حمد کرلے یہ پورا نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ شخص نعمت میں اضافے کو دیکھ لے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لئن شكرتم لازیدنکم۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں اضافہ کردوں گا۔

فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إبراهيم بن الأشعث، ← محمد بن علي بن شقيق ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4533

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4534

4534 - ـ : قال و كان يقال من شكر النعمة أن يحدث بها

فضیل بن عیاض کہتے ہیں۔ اور کہا جاتا تھا یہ بات شکر ان نعمت میں سے ہے کہ اس کو بیان کیا جائے۔

بِهَا ← و كان يقال من شكر النعمة أن

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4534

chevron_left Previous
1…232425…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood