شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4511
4511 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد المروزي نا محمد بن إبراهيم الرازي قال : سمعت يحيى بن معاذ يقول في قصصه و تلا هذه الآية { اذهبا إلى فرعون إنه طغى } { فقولا له قولا لينا لعله يتذكر أو يخشى } قال يحيى : إلهي و سيدي هذا رفقك بمن يزعم أنه إله فكيف رفقك بمن يقول أنت الإله
ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن ابراہیم رازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ اپنے واقعات میں کہتے ہیں۔ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اذهبا الى فرعون انه طغى فقولا له قولاً لينا لعله يتذكر اویخشی (اے موسیٰ اور ہارون) جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس وہ سرکش ہو چکا ہے بات کرو اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ تا کہ نصیحت مانے یا اللہ سے ڈرے۔ تو یحییٰ نے کہا: اے میرے معبود اور اے میرے سردار یہ تیری شفقت ہے اس کے ساتھ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود الہ اور معبود ہے۔اور تیری کتنی شفقت ہوگی اس شخص کے ساتھ جو یہ اقرار کرے کہ تو ہی معبود ہے۔
يحيى إلهي و سيدي هذا رفقك بمن يزعم ← في قصصه و تلا هذه الآية ← يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4511
