شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1166
1165 - و روينا عن عمران بن حصين : أنه قال نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكي فاكتوينا فما أفلحنا و لا أنجحنا و في هذا ما دل على أنه على غير التحريم إذ لو كان على طريق التحريم لم يكتو عمران بن حصين بعد علمه بالنهي غير أنه ركب المكروه ففارقه ملك كان يسلم عليه فحزن على ذلك و قال هذا القول : ثم قد روي أنه عاد إليه قبل موته و إذا كان الكي بحكم هذه الأخبار مكروها فارق حكمه حكم سائر الأسباب التي ليست فيها كراهية حين استحق تاركه الثناء الذي قدمنا ذكره و أما الاسترقاء فقد روينا الرخصة فيه بما يعلم من كتاب الله أو ذكره من غير كراهية و إنما الكراهية فيما لا نعلم من لسان اليهود و غيرهم فكان التارك لما كان مكروها هو المستحق لهذا الثناء و الله تعالى أعلم و يحتمل أن يكون هذا هو المراد بما روى عقار بن المغيرة بن شعبة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم : من اكتوى أو استرقى فقد برئ من التوكل
ہم نے روایت کیا ہے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے داغ دینے سے منع فرمایا تھا۔ مگر اس کے باوجود ہم نے داغ دئیے لہذا ہم نہ ہی کامیاب ہوئے اور نہ ہی نجات پائی۔" اس روایت میں بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نہی غیر تحریمی ہے ، کیونکہ اگر نہی تحریمی ہوتی تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نہی کا علم ہونے باوجود داغ نہ دیتے ، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ نہی تنزیہی تھی لہذا انہوں نےمکروہ اور غیر مناسب کا ارتکاب کیا، لہذا ان سے وہ فرشتہ الگ ہو گیا جو انہیں سلام کرتا تھا لہذا وہ اس پر افسردہ ہو گئے تھے ۔ اس لئے انہوں نے وہ قول کیا جو اوپر مذکور ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں منع کیا تھا ہم نے داغ دینے کا کام کیا لہذا ہم ناکام ہوئے۔ "داغنے کی تحقیق"۔ پھر تحقیق روایت کی گئی ہے کہ وہ فرشتہ ان کی موت سے پہلے ان کے پاس واپس آگیا تھا۔ جب داغ دینا ان حادیث کی رو سے مکروہ ہے ، تو اس کا حکم بھی تمام اسباب سے جدا ہے وہ اسباب جن میں کراہت نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کا تارک تعریف کا مستحق ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ بہرحال باقی رہا منتر اور (جھاڑ پھونک) ہم اس کے بارے میں رخصت نقل کر چکے ہیں ۔ بسب اس کے جو کتاب اللہ سے معلوم ہوا ہے ۔ یا اس کا ذکر بغیر کراہت کے ہے ۔ باقی کراہت اس میں ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ یہود کی زبان سے یا دیگر کی زبان سے ۔ لہذا جو چیز مکروہ ہے ا س کا تارک اس مذکورہ تعریف کا مستحق ہے ۔ واللہ اعلم۔ اور احتمال ہے کہ یہی مراد ہو اس حدیث سے جس کو غفار بن مغیرہ بن شعبہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ "من اکتوی او استوفی فقد ہری من التوکل"۔ جو شخص داغ دیتا ہے یا منتر پڑھواتا ہے ( دم چھو کر واتا ہے ) تحقیق وہ توکل سے بری ہو جاتا ہے۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← و روينا
Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1166
