Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9970

9970 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل قالا : نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا خالد بن مخلد نا محمد بن جعفر بن أبي كثير حدثني سعد بن إسحاق بن كعب بن عجزة عن زينب بنت كعب عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من شيء يصيبه المؤمن في جسده إلا كفر الله عنه به من الذنوب فقال أبي بن كعب : اللهم إني أسألك أن لا تزال الحمى مضارعة لجسد أبي بن كعب حتى يلقاك لا تمنعه من صلاة و لا صيام و لا حج و لا عمرة و لا جهاد في سبيلك فارتكبته الحمى مكانه فلم تفارقه حتى مات و كان في ذلك يشهد الصلاة و يصوم و يحج و يعتمر و يغزو

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ اور ابو محمد حسن بن علی بن موامل نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو محمد بن جعفر بن ابو کثیر نے ان کو حدیث بیان کی سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ نے زینب بنت کعب سے ان کو ابو سعید خدری نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو مصیبت بھی مومن کو پہنچتی ہے اس کے جسم میں اللہ تعالیٰ اس . کے بدلے میں اس کے گناہ مٹا دیتے ہیں ابی بن کعب نے کہا۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ بخار ہمیشہ ابی بن کعب کے جسم کو کمزور کرتا رہے یہاں تک کہ وہ تجھ سے مل جائے اور وہ بخار ایسا ہو جو نہ تو اس کو نماز سے روکے نہ ہی روزے سے اور نہ ہی حج سے نہ عمرے سے نہ جہاد فی سبیل اللہ سے۔ پس بخار اس پر سوار ہو گیا جو اس سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا اور وہ اسی بخار کے ساتھ نماز میں بھی حاضر ہوتے تھے روزہ بھی رکھتے تھے حج عمرہ اور جہاد بھی کرتے رہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، ← سعد بن إسحاق بن كعب بن عجزة ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو طاهر الفقيه و أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9970

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9971

9971 - و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أخبرنا أبو عبد الله الحافظ الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبيد الله بن عمير الحشمي و أبو خيثمة و غيرهما نا يحيى بن سعيد عن سعيد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن زينب بنت كعب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رجل : يا رسول الله أرأيت هذه الأمراض التي تصيبنا ما لنا بها ؟ قال : كفارات فقال أبي بن كعب : يا رسول الله و إن قلت ؟ قال : شوكة فما فوقها قال : فدعا أبي على نفسه أن لا يفارقه الوعك حتى يموت في أن لا يشغله عن حج و لا عمرة و لا جهاد في سبيل الله و لا صلاة مكتوبة في جماعة قال : فما مس رجل جلده بعدها إلا وجد حرها حتى مات

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو خبر دی ابو عبداللہ حافظ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو عبیداللہ بن عمیر حشمی نے اور ابو خیمہ وغیرہ نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن اسحاق بن کعب بن عجرہ نے ان کو زینب بنت کعب نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں کہ یہ امراض جو ہم لوگوں کو لگتے ہیں ہمارے لئے ان میں کیا فائدہ ہے ؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کفارے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کیا فرما ئیں گے؟ کہ کانٹا یا اس سے بڑھ کر ہم کو تکلیف جو پہنچے۔ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب نے اپنے خلاف دعا کی اس کو بخار ہمیشہ لگا رہے یہاں تک کہ اسی میں اس کا انتقال ہو جائے لیکن اس صورت کے ساتھ کہ بخار اس کو نہ حج سے روکے نہ عمرے سے نہ ہی جہاد فی سبیل اللہ سے نہ فرض نماز با جماعت سے کہتے ہیں کہ کبھی بھی کسی نے اگر ان کو ہاتھ لگایا تو ان کو بخار میں پایا حتٰی کہ اسی حال میں ان کا انتقال ہو گیا۔

رَجُلٌ: ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، ← سعيد بن إسحاق بن كعب بن عجرة ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عبيد الله بن عمير الحشمي و أبو خيثمة و غيرهما ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أبو عبد الله الحافظ الصفار ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9971

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9972

9972 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقبري نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الخضر بن أبان نا سيار بن حاتم نا جعفر بن سليمان نا ثابت قال : بلغنا أن عمران بن حصين اشتكى بطنه ثلاث و ثلاثين سنة قال : فدخل عليه أصحابه فقالوا : إنه ليمنعنا من الدخول عليك طول شكاتك قال : فلا تفعلوا فإن أحب ذلك إلي أحبه إلى الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقبری نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حصر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر پہنچی ہے کہ عمران بن حصین نے تینتیس سال تک پیٹ کی تکلیف جھیلی ان کے دوستوں نے ان سے کہا آپ کی لمبی تکلیف نے ہمیں آپ کے پاس آنے سے روک دیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایسے نہ کہو اگر اللہ نے اس کو میرے لئے پسند کیا ہے؟ تو میں بھی اس کو پسند کرتا ہوں۔

فلا تفعلوا فإن أحب ذلك إلي أحبه إلى الله عز و جل ← فدخل عليه أصحابه فقالوا إنه ليمنعنا من الدخول عليك طول شكاتك ← بلغنا أن عمران بن حصين اشتكى بطنه ثلاث و ثلاثين سنة ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقبري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9972

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9973

9973 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن سنان القزاز نا حيان بن هلال نا مبارك نا الحسن قال : دخلنا على عمران بن حصين في وجعه ذلك الشديد فقال له رجل : يا أبا نجيد و الله إني لأيئس من بعض ما أراك قال : لا تفعل فإن أحبه إلي أحبه إلى الله قال الله : { و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم و يعفو عن كثير } هذا مما كسبت يداي و يأتي عفو ربي فيما يبقى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن سنان قزاز نے ان کو حبان بن بلال نے ان کو مبارک نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عمران بن حصین کے پاس ان کی تکلیف کے دوران گئے انہیں شدید درد تھا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابو نجید اللہ کی قسم میں آپ کی تکلیف کو دیکھتا ہوں تو آپ سے مایوس ہو جاتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو اللہ نے اگر اس کو میرے لئے پسند کیا ہے تو میں بھی اس پر راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیرجو بھی تکلیف تم لوگوں کو پہنچی ہے تو بس وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے (یعنی تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے ) اور بہت ساری باتوں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔

دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي وَجَعِهِ ذَلِكَ الشَّدِيدِ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← حَيَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9973

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9974

9974 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أنا سليمان بن بلال حدثني إسحاق بن يحيى عن المسيب بن رافع أنا أبو بكر الصديق رضي الله عنه قال : إن المرء المسلم يمشي في الناس و ما عليه خطيئة قيل : و لما ذاك يا أبا بكر ؟ قال : بالمصائب و الحجر و الشوكة و الشسع ينقطع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو حدیث بیان کی اسحاق بن یحییٰ نے ان کو مسیب بن رافع نے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک مسلمان آدمی لوگوں کے درمیان چل پھر رہا ہوتا ہے حالانکہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔ پوچھا گیا کہ ایسا کس وجہ سے ہوتا ہے اے ابو بکر؟ آپ نے فرمایا کہ ان مصائب و مشکلات و تکالیف کی وجہ سے کانٹے چھبنے ، جوتے کے تھے ٹوٹنے وغیرہ پریشانیوں کی وجہ سے۔

أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← اسحاق بن يحيى ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9974

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9975

9975 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون ثنا عبد الرحمن يعني ابن عبد الله المسعودي عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر قال : سمعت ابن مسعود يقول : حبذا المكروهان الموت و الفقر و أيم الله ما هو إلا الغنى و الفقر و ما أبالي بأيهما ابتليت لأن حق الله تعالى في كل واحد منهما واجب إن كان الغنى إن فيه العطف و إن كان الفقر إن فيه الصبر

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عبدالرحمٰن یعنی ابن عبداللہ مسعودی نے ان کو علی بن بذیمہ نے قیس بن جبر سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابن مسعود سے وہ کہتے تھے دو ناپسندیدہ اور اوکھی چیزیں کتنی اچھی ہیں ایک موت اور دوسری فقر و غربت قسم بخدا وہ چیز غنی اور فقر ہے میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ دونوں میں سے کس چیز کے ساتھ میں مبتلا کیا جاؤں اس لئے کہ دونوں میں اللہ تعالیٰ کا حق واجب ہے اگر غنی ہو تو اس میں عطف و توجہ ہے اور اگر فقر ہو تو اس میں صبر ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← عبد الرحمن يعني ابن عبد الله المسعودي ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9975

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9976

9976 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنا وكيع عن الأعمش عن أبي ظبيان قال : كنا نعرض المصاحف عند علقمة بن قيس فمرت بهذه الآية : { ما أصاب من مصيبة إلا بإذن الله و من يؤمن بالله يهد قلبه } قال : فسألناه عنها : فقال : هو الرجل تصيبه المصيبة فيعلم أنها من عند الله فيرضى و يسلم و روي هذا عن ابن مسعود

ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن جعفر بن محمد بن علی علوی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ عبسی سے وکیع نے اعمش سے اس نے ابو ضبیان سے وہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت علقمہ بن قیس کے پاس مصاحف کی تعریض و تصحیح کرواتے تھے میں جب اس آیت سے گزرا:ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یؤمن باللہ یھدقلبہ جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے اور جو شخص اللہ کے ساتھ ایمان لائے وہ اس کی دل کو ر ہنمائی کرتا ہے۔ ہم نے ان سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں پوچھا نہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو مصیبت پہنچتی ہے اور وہ یقین کر لیتاہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور وہ اس پر راضی ہو جاتا ہے اور تسلیم کر لیتا ہے۔ اور یہ ابن مسعود سے بھی مروی ہے۔

فسألناه عنها ← كنا نعرض المصاحف عند علقمة بن قيس فمرت بهذه الآية ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9976

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9977

9977 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الخياط قال : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الهدى الإسترجاع عند المصيبة و الإستكانة عند النعمة و نفي الإمتنان عند العطية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ذوالنون مصری سے سنا وہ فرماتے تھے۔ تین چیزیں ہدایت کی علامات میں سے ہیں۔ مصیبت کے وقت انا للہ وانا اليہ راجعون کہنا ( یعنی اللہ کی طرف رجوع ہوتا ) حصول نعمت عاجزی۔ اور کسی کو دے کر احسان نہ جتلانا۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9977

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9978

9978 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو يوسف العبدي نا يعقوب بن إبراهيم نا عامر بن صالح عن هشام بن عروة عن أبيه : أنه خرج إلى الوليد بن عبد الملك حتى إذا كان بوادي القرى وجد في رجله شيئا فظهرت به قرحة و كانوا على رواحل فأرادوه على أن يركب محملا فأبى عليهم ثم غلبوه و رحلوا ناقة له بمحمل فركبها و لم يركب محملا قبل ذلك فلما أصبح تلا هذه الآية : { ما يفتح الله للناس من رحمة فلا ممسك لها } حتى إذا فرغ منها و قال : لقد أنعم الله على هذه الأمة في هذه المحامل بنعمة لا يؤدون شكرها و رقي في رجله الوجع حتى قدم على الوليد فلما رآه الوليد قال : يا أبا عبد الله إقطعها فإني أخاف أن يبالغ فوق ذلك قال : فدونك قال : فدعا له الطبيب و قال له : إشرب المرقد قال : لا أشرب مرقدا أبدا قال : فقدرها الطبيب و احتاط بشيء من اللحم الحي مخافة أن يبقى منها شيء فرقي فأخذ منشارا فأمسه النار و اتكى له عروة فقطعها من نصف الساق فما زاد على أن يقول : حسن حسن فقال الوليد : ما رأيت شيخا قط أصبر من هذا إذ أصيب عروة بابن له يقال له محمد في ذلك السفر دخل اصطبل دواب من الليل ليبول فركضته بغلة فقتلته و كان من أحب ولده إليه فلم يسمع من عروة في ذلك كله كلمة حتى يرجع فلما كان بوادي القرى قال : لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا اللهم كان لي بنون سبعة فأخذت منهم واحدا و أبقيت منهم ستة و كانت لي أطراف أربعة فأخذت مني طرفا و أبقيت لي ثلاثة و أيمك لئن ابتليت لقد عافيت و لئن أخذت لقد أبقيت فلما قدم المدينة جاءه رجل من قومه يقال له عطاء بن أبي ذؤيب فقال : يا أبا عبد الله و الله ما كنا نحتاج أن نسابق بك و لا أن نصارع بك و لكنا كنا نحتاج إلى رأيك و الأنس بك فأما ما أصبت به فهو أمر دخره الله لك و أما ما كنا نحب أن يبقى لنا منك فقد بقي

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ابو یوسف عبدی نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ان کو عامر بن صالح نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے کہ وہ یعنی عروہ ولید بن عبد الملک کے پاس گئے یہاں تک کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو انہوں نے اپنے پیر میں کوئی چیز محسوس کی پھر اس جگہ ایک زخم ظاہر ہو گیا وہ لوگ غالب آئے اور اسے سوار کر لیا اور انہوں نے ان کی اونٹنی پر پالان پر کجاوہ رکھا وہ اس پر سوار ہوئے جب کہ اس سے پہلے وہ کجاوے پر سوار نہیں ہوئے تھے جب صبح ہوئی تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:مابفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا اللہ تعالیٰ اپنی جس رحمت کو لوگوں کے لئے کھول دیتے ہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ یہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ البتہ تحقیق اللہ نے اس امت پر ان کجاوؤں میں بھی نعمت رکھی ہے جس کا لوگ شکر نہیں کرتے ان کا درد پیر سے اوپر ٹانگ میں چڑھ گیا وہ جب ولید کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے دیکھ کر کہا اے ابو عبداللہ آپ اس پیر کو کٹوا دیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ اور زیادہ اوپر کو نہ چڑھ جائے وہ بولے جیسے آپ مناسب سمجھتے ہیں چنانچہ ولید نے طبیب کو بلایا طبیب نے کہا کہ آپ نیند کی اور نشہ آور دوائی لیں وہ کہنے لگے کہ میں کبھی بھی نشہ آور چیز نہیں پیوؤں گا۔ چنانچہ اس کے پیر کو کاٹنا طے ہو گیا معالج نے متاثر جگہ سے اوپر نشان مارا اور کچھ حصہ بغیر زخم کا یعنی زندہ گوشت کا بھی احتیاطاً لے لیا کہ کہیں اس کے جراثیم آگے تک بھی موجود ہوں یا باقی نہ رہ جائیں ۔ اور طبیب نے آری لی اور اس کو آگ میں گرم کیا اور عروہ کو نصف پنڈلی میں داغ دیا اور داغ دے کر اس کو کاٹ دیا مگر ان کی برداشت کا یہ عالم تھا کہ وہ صرف یہی کہتے رہے اچھا ہے، اچھا ہے۔ ولید نے کہا کہ میں نے کسی بھی بوڑھے آدمی کو اس قدر صبر کرنے والا نہیں دیکھا۔ نیز اسی سفر میں ان کو یہ تکلیف بھی پہنچی کہ ان کا بیٹا محمد چوپایوں کے اصطبل میں داخل ہوا پیشاب کرنے کے لئے رات کا وقت تھا خچر نے اس کو لات ماری جس سے وہ مر گیا اور وہ عروہ کا سب سے پیارا بیٹا تھا۔ چنانچہ کسی نے اس صدمہ میں ان سے اناللہ کے سوا کوئی ایک لفظ بھی نہ سنا جب وہ وادی قریٰ میں تھے تو صرف یہی کہا کہ لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً اس سفر نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ اے اللہ میرے سات بیٹے تھے ان میں سے ایک آپ نے لے لیا ہے اور مجھے باقی چھوڑ دیئے ہیں اور میرے ہاتھ پیر چار تھے ان میں سے ایک آپ نے لیا ہے اور تین میرے لئے باقی چھوڑ دیئے ہیں۔ تیری ذات کی قسم ہے اگر آپ نے مجھے آزمایا ہے تو مجھے عافیت بھی دی ہے اور اگر میرا کچھ لیا ہے تو باقی بھی آپ نے رکھا ہے۔ جب وہ مدینے میں آئے تو ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس آیا جس کو عطا بن ابو ذؤیب کہتے تھے۔ اس نے کہا اے ابو عبداللہ اللہ کی قسم ہم لوگوں کو تیرے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی ہم لوگوں کو آپ کے ساتھ کشتی لڑنا تھی ہاں میں آپ کی رائے مشورے اور ہدایت کی ضرورت تھی اور آپ کے ساتھ انسیت کی ضرورت تھی۔ بہرحال جو آپ کا نقصان ہوا وہ تو ایک ایسا امر ہے اللہ نے جس کو آپ کے لئے ذخیرہ بنا دیا ہے۔ اور بہرحال ہم جو چاہتے تھے کہ ہمارے لئے آپ کے ہاں سے باقی رہے الحمدللہ وہ باقی ہے ہمارے لئے ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو يوسف العبدي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9978

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9979

9979 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين حدثني محمد بن الحكم بن رزين نا الوليد بن مسلم نا عبد الملك بن نافع بن ذؤيب عن أبيه قال : قدم عروة بن الزبير على الوليد بن عبد الملك فخرج برجله قرحة الأكلة فبعث إليه الوليد بالأطباء فأجمع على إن لم ينشروها قتلته قال : فنشروها بالمنشار فما حرك عضوا من عضو و صبر فلما رأى القدم بأيديهم دعا بها فقبلها في يده ثم قال : أما و الذي حملني عليك إنه ليعلم إني ما مشيت بها إلى حرام أو قال : معصية قال الوليد : قال عبد الله بن نافع بن ذؤيب أو غيره من أهل دمشق عن أبيه أنه حضر عروة حين فعل به ذلك قال هذه المقالة ثم أمر بها فغسلت و طيبت و لفت في قبطية ثم بعث بها إلى مقابر المسلمين

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حکم بن رزیق نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو عبداللہ بن نافع بن ذویب نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر ولید بن عبدالملک کے پاس پہنچے اور ان کو ایک گوشت خور زخم ہو گیا تھا پیر میں ولید نے ان کے علاج معالجہ کے لئے ان کے پاس کئی طبیب بھیجے انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ان کا پیر نہیں کانٹا گیا تو یہ زخم ان کو ہلاک کر دے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کو آری کے ساتھ کاٹ دیا مگر انہوں نے اپنا کوئی عضو بھی نہیں ہلنے دیا صبر کر کے بیٹھے رہے جب انہوں نے اپنا پیران کے ہاتھوں میں دیکھا تو اس کو اپنے پاس منگوایا اور اس کو اپنے ہاتھوں میں الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اسکے بعد فرمانے لگے خبردار قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو تیرے اوپر سوار کیا تھا بے شک وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں اس کے ساتھ کبھی کسی حرام فعل کی طرف چل کر نہیں گیا تھا یا معصیت کا لفظ کہا تھا ولید نے کہا تھا کہ عبداللہ بن نافع بن ذویب نے کہا۔ یا کسی اور نے اہل دمشق میں سے اس نے اپنے والد سے کہ وہ اس وقت حضرت عروہ کے پاس موجود تھے جب ان کا پیر کاٹا گیا تھا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عروہ نے یہی بات کہنے کے بعد ان لوگوں سے کہا اور اس پیر کو غسل دیا گیا اور خوشبو لگائی گئی اور قبطی کپڑے میں لپیٹا گیا پھر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کے لئے بھیج دیا۔

أَبِيهِ ← عبد الملك بن نافع بن ذؤيب ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن الحكم بن رزين ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9979

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9980

9980 - حدثنا أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو محمد الحسن بن محمد الأسفرايني نا الغلابي نا العباس بن بكار نا أبو بكر الهذلي عن الشعبي أن شريحا قال : إني لأصاب بالمصيبة فأحمد الله عليها أربع مرات أحمده إذ لم تكن أعظم مما هي و أحمده إذ رزقني الصبر عليها و أحمده إذ وفقني للإسترجاع لما أرجو فيه من الثواب و أحمده إذ لم يجعلها في ديني

ہمیں حدیث بیان کی احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو محمد حسن بن محمد اسفرائنی نے ان کو غلابی نے ان کو عباس بن بکار نے ان کو ابو بکر ہذلی نے ان کو شعبی نے یہ کہ قاضی شریح نے کہا میں جب کسی مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہوں تو چار بار اس پر اللہ کا شکر کرتا ہوں ایک تو اس بات پر کہ اللہ نے اس سے کسی بڑی مصیبت سے ہمیں بچایا دوسرے اس بات پر کہ اللہ نے مجھے اس پر صبر کی توفیق بخشی ۔ تیسرے اس پر کہ اللہ نے مجھے اس پر ان اللہ کہہ کر اللہ کی طرف رجوع ہونے اور اس پر ثواب کی امید کرنے کی توفیق دی اور چوتھے اس بات پر کہ اللہ نے یہ مصیبت میرے دین میں مجھے نہیں پہنچائی۔

الشعبي أن شريحا ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← العباس بن بكار، ← الغلابي، ← أبو محمد الحسن بن محمد الأسفرايني ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9980

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9981

9981 - أخبرنا أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب أنا الحسن الكارزي قال : سمعت أبا عبد الله محمد بن يونس المقري قال : سمعت أبا الحسن علي بن أحيد البلخي قال : سمعت محمد بن عبد الوهاب البلخي يقول : إذا رأيت المكروه فاذكر المدفوع 9981 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن علي نا عبد الله بن منازل قال : سمعت أبا صالح يعني حمدون القصار يقول : سمعت أبا النصر يقول : أدخل على أبي بكر بن عياش في مرضه طبيب نصراني فولى وجهه إلى الحائط فلما خرج اتبعه بصره فقال ما بعدما صرفت عني ما هو فيه فاصنع بي ما شئت

ہمیں خبر دی ابو القاسم حسن بن محمد بن حبیب نے ان کو ابو الحسن کارزی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن یونس مقری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسن علی بن احید بلخی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن عبد الوہاب بلخی سے وہ کہتے تھے کہ جب آپ کسی مکروہ نا پسندیدہ امر کر دیکھیں تو مدفوع و محروم کو یاد کریں۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبداللہ بن محمد بن علی نے ان کو عبداللہ بن منازل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو صالح سے یعنی حمدون قصار سے کہتے تھے میں نے سنا ابو النصر سے وہ کہتے تھے ۔ کہ حضرت ابو بکر بن عیاش کے پاس ان کے مرض کے ایام میں ایک عیسائی طبیب بھیجا گیا تو انہوں نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا جب وہ نکل کر چلا گیا تو اس کو پیچھے سے دیکھتے رہے اور فرمایا۔ جب تم مجھ سے ہٹ کر چلے گئے ہو تو اب تم میرے ساتھ جو چاہو کرو۔

أبا النصر ← أبا صالح يعني حمدون القصار ← عبد الله بن منازل، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← المدفوع ← إذا رأيت المكروه فا ← محمد بن عبد الوهاب البلخي ← أبا الحسن علي بن أحيد البلخي ← أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يُونُسَ الْمُقْرِئُ ← الحسن الكارزي ← أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9981

chevron_left Previous
1…936937938939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood