Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9850

9850 - و في رواية الأعمش عن إبراهيم في هذا الحديث : إلا رفعه الله بها درجة أو حط عنه بها خطيئة

اور اعمش کی روایت میں ہے ابراہیم سے اس حدیث میں کہ مگر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کا درجہ بلند کر دیتے ہیں یا اس کے ذریعے اس کا گناہ مٹا دیتے ہیں۔

و في رواية الأعمش

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9850

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9851

9851 - و هكذا رواه أبو وائل و ابن أبي مليكة عن عائشة : بهذا المعنى و لعله يكون خطه إن كان خطيئة أو زيادة درجة إن صادفه ذلك و الخطايا مكفرة جمعا بين الأخبار

اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو وائل نے سیدہ عائشہ سے اس مفہوم کے ساتھ شاید کہ وہ اس کا حصہ ہو اگر گناہ تھا یا درجہ کا اضافہ اگر یہ اس کے مطابق ہو۔ اور احادیث میں جمیع گناہوں کے مٹنے کی بات ہے۔

ائل و ابن أبي مليكة ← و هكذا رواه أبو

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9851

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9852

9852 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن إبراهيم بن الفضل نا الحسين بن علي بن مهران الدقاق ابن أخت سلمة بن شبيب نا عمرو بن زرارة نا أبو المليح الرقي حدثني محمد بن خالد و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا داود بن رشيد نا أبو المليح عن محمد بن خالد السلمي عن أبيه عن جده : و كانت لجده صحبة أنه خرج زائرا لرجل من إخوانه فبلغه أنه شاك قبل أن يدخل عليه فدخل عليه فقال إني أتيتك زائرا و أتيتك عائدا و مبشرا قال : كيف جمعت هذا كله ؟ قال : خرجت و أنا أريد زيارتك فبلغني شكاتك فكانت عيادة و أبشرك بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا سبقت للعبد من الله منزلة لم يبلغها بعمله ابتلاه الله في جسده أو في ولده ثم صبره حتى يبلغه المنزلة التي سبقت له من الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن ابراہیم بن فضل نے ان کو حسین بن علی بن مہران دقاق سلمہ بن شبیب کے بھانجے نے ان کو عمرو بن زرارہ نے ان کو ابو الملیح رقی نے ان کو محمد بن خالد نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبدالله محمد بن عبدالله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو ابو الملیح نے ان کو محمد بن خالد سلمی نے ان کو ان کے والد نے اپنے دادا سے اور ان کے دادا کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ۔ وہ اپنے دوستوں میں سے کسی کو ملنے کے لئے نکلے انہیں پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔ لہٰذا وہ گئے اور جا کر کہا کہ میں آپ کو ملنے آیا ہوں اور عیادت کرنے آیا ہوں اور بشارت دینے بھی آیا ہوں۔ اس دوست نے پوچھا آپ نے یہ ساری چیزیں کیسے جمع کر لیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نکلا تو تھا ملنے کے لئے۔ پھر مجھے اطلاع ملی کہ آپ بیمار ہیں۔ پھر عیادت کی نیت بھی کر لی ۔ اور میں آپ کو ایک چیز کی بشارت دیتا ہوں میں نے جس کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا : جب کسی بندے کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی مقام ملے ہو جائے جس مقام تک وہ اپنے عمل سے نہ پہنچ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی اس کی جسمانی تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں یا اس کی اولاد کی آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔ پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے حتٰی کہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جو اس کے لئے اللہ کی طرف سے طے تھا۔

أَبِيهِ ← محمد بن خالد السلمي ← أَبُو الْمَلِيحِ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← محمد بن خالد و ← أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← الحسين بن علي بن مهران الدقاق ابن أخت سلمة بن شبيب ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9852

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9853

9853 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا منصور محمد بن أحمد الصوفي يقول : سمعت حمش المزكي يقول سمعت أحمد بن أبي الحواري يقول : سمعت أبا سليمان يقول : مر موسى عليه السلام على رجل في متعبد له ثم مر به بعد ذلك و قد مزقت السباع لحمه فرأس ملقى و فخذ ملقى و كبد ملقي فقال موسى : يا رب عبدك كان يطيعك فابتليته بهذا فأوحى الله عز و جل إليه يا موسى إنه سالني درجة لم يبلغها بعمله فابتليته بهذا لأبلغه بذلك الدرجة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابو منصور محمد بن احمد صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمش مزکی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابو الحواری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک آدمی پر ایک مرتبہ گزر ہوا اس کے عبادت خانے میں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کے پاس سے گزر ہوا تو کیا دیکھا کہ اسکو درندوں نے پھاڑ دیا ہے سر کہیں پڑا ہے تو ران کہیں پڑی ہے اور جگر کہیں پڑا ہے تو گوشت کہیں موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے میرے رب یہ تیرا بندہ تیری اطاعت کرتا تھا۔ آپ نے اس کو اس حالت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو وحی کی اے موسیٰ اس نے مجھ سے ایک ایسا مقام مانگا تھا جس مقام تک وہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لہٰذا میں نے اس کو اس مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے تاکہ میں اس کو اس کے بدلے میں اس مقام تک پہنچا دوں۔

أَبَا سُلَيْمَانَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← حمش المزكي ← أبا منصور محمد بن أحمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9853

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9854

9854 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا سعيد بن محمد الجرمي نا أبو تميلة نا أبو حمزة السكري عن جابر قال : نا أبو تميلة نا أبو حمزة السكري عن جابر قال : نا من سمع بريدة الأسلمي يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما أصاب رجلا من المسلمين نكبة فما فوقها حتى ذكر الشوكة إلا لإحدى خصلتين إلا ليغفر الله من الذنوب ذنبا لم يكن له ليغفر له إلا بمثل ذلك أو بلغ به من الكرامة كرامة لم يكن يبلغها إلا بمثل ذلك

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو سعید بن محمد جرمی نے ان کو ابو تمیلہ نے ان کو ابو حمزہ سکری نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس نے خبر دی ہے جس نے بریدہ اسلمی سے سنا تھا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے۔ کہ نہیں پہنچتی مسلمانوں میں سے کسی آدمی کو کوئی تنگ دستی یا اس سے بڑی تکلیف یہاں تک کہ اس نے کانٹے کا بھی ذکر کیا مگر دو میں سے کسی ایک صفت کے لئے۔ تاکہ اس کے گناہوں میں سے کسی گناہ کو معاف کر دے کہ جس گناہ کو وہ معاف کرنے والا نہیں تھا مگر اسی کیفیت کے ساتھ یا کسی مرتبے کو اس کو پہنچانا ہوتا ہے جس تک وہ اس کے بغیر نہیں پہنچ سکتا ہوتا ۔

"ما أصابَ رجُلاً مِنَ المسلميِنَ نَكْبَةٌ فما فوْقَها -حتى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← مَنْ ← جَابِرٍ ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← جَابِرٍ ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9854

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9855

9855 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا يونس بن بكير نا يحيى بن أيوب البجلي نا أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الرجل ليكون له المنزلة عند الله تبارك و تعالى فما بلغها بعمل فما يزال يبتليه بما يكره حتى يبلغه ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو یحییٰ بن ایوب بجلی نے ان کو ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک ایک آدمی کا اللہ کے نزدیک ایک خاص مقام ہوتا ہے‘ اپنے عمل سے وہ اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اس کو اس کی نا گوار کیفیت کے ساتھ ہمیشہ آزماتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9855

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9856

9856 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان نا يحيى بن بكير نا الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن محمد بن أبي حميد أن أبا عقيل الذرقي أخبره عن ابن أبي فاطمة عن أبيه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيكم يحب أن يصح فلا يسقم ؟ قالوا كلنا يا رسول الله قال : أتحبون أن تكونوا كالحمير الضالة ألا تحبون أن تكونوا أصحاب كفارات و الذي نفسي بيده إن العبد ليكون له الدرجة في الجنة لا يبلغها بشيء من عمله حتى يبتليه الله بالبلاء ليبلغ به تلك الدرجة في الجنة لا يبلغها بشيء من عمله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابو بلال نے ان کو محمد بن ابو حمید نے یہ کہ ابو عقیل ذرقی نے اس کو خبر دی ہے ابن ابو فاطمہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے؟ جو یہ پسند کرے کہ صحت میں ہو پھر کبھی بیمار نہ ہو۔ جولوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے آپ نے فرمایا کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تم بھٹکے ہوئے گدھے کی طرح ہو جاؤ۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرو گے؟ کہ تم لوگ اصحاب کفارات بن جاؤ ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک بندے کا جنت میں ایک مقام طے ہوتا ہے جس مقام تک وہ اپنے کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ تاکہ وہ اس کے ذریعے جنت کے اس مقام کو پہنچ جائے جس مقام تک وہ اپنے کسی عمل سے نہیں پہنچ سکتا۔

كُلُّنَا ← أَيُّكُمْ يُحِبُّ أنْ يَصحَّ فَلَا يسْقَم؟ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← ابن أبي فاطمة ← محمد بن أبي حميد أن أبا عقيل الذرقي ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9856

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9857

9857 - ذكر البخاري في التاريخ في ترجمة مسلم بن عقيل مولى الزرقيين أبو عقيل فقال : قال لي ابن أبي أويس حدثني أخي عن حماد بن أبي حميد عن مسلم بن عقيل مولى الزرقيين قال : دخلت على عبد الله بن أبي إياس بن أبي فاطمة الضمري فقال : يا أبا عقيل حدثني أبي عن جدي قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره معناه قال الشيخ أحمد و هو فيما أجاز أبو عبد الله روايته عن أحمد بن محمد بن واصل البيكندي عن أبيه البخاري

بخاری نے اپنی تاریخ میں مسلم بن عقیل مولیٰ زرقین ابو عقیل کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے کہتے ہیں کہ ابن ابو اویس نے مجھے سے کہا تھا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے بھائی نے حماد بن ابو حمید سے اس نے مسلم بن عقیل مولیٰ زرقین سے وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابوا یاس ابن ابو فاطمہ ضمری کے پاس گیا۔ اس نے کہا اے ابو عقیل مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ہے میرے دادا سے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پھر اس نے مذکورہ حدیث کا مفہوم ذکر کیا ہے۔ شیخ احمد نے فرمایا ہو ان میں تھا جن کو اجازت دی ابو عبداللہ نے اس کی روایت کرنے کی احمد بن محمد بن واصل بیکندی سے اس نے اپنے والد بخاری سے۔

أبيه البخاري ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاصِلٍ الْبِيكَنْدِيُّ، ← الشيخ أحمد و هو فيما أجاز أبو عبد الله روايته ← كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره معناه ← جَدِّي، ← أَبِي ← يا أبا عقيل ← دخلت على عبد الله بن أبي إياس بن أبي فاطمة الضمري ← مسلم بن عقيل مولى الزرقيين ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← أَخِي ← لي ابن أبي أويس ← البخاري في التاريخ في ترجمة مسلم بن عقيل مولى الزرقيين أبو عقيل

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9857

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9858

9858 - و رواه أبو عامر العقدي عن محمد بن أبي حميد عن مسلم بن عقيل عن عبد الله بن أبي إياس بن أبي فاطمة حدثني أبي أن أباه أخبره قال : بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره إلا أنه قال : مثل حمر الصيالة و سألت عنه بعض أهل الأدب فزعم أنه أراد حمر لوحشي التي تصول و هو أصح الحيوانات جسما و أقيمت الياء مقام الواو

اور اس کوروایت کیا ہے ابو عامر عقدی نے ان کو محمد بن ابو حمید نے ان کو مسلم بن عقیل نے ان کو عبد الله بن ابو ایاس بن ابو فاطمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے کہ ان کو خبر دی ان کے والد نے وہ کہتے کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا۔ انہوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ مگر انہوں نے کہا: مثل صیالہ گدھوں کے ہو۔ لہٰذا میں نے اس بارے میں بعض اہل ادب سے پوچھا کہ تو انہوں نے بتایا کہ اس سے ان کی مراد ہیں حمار وحشی جو حملہ کرے وہ حیوانات میں سے سب سے زیادہ تندرست جسم والا ہوتا ہے (یہاں پر) یا واؤ کےقائمقام کر دی گئی ہے۔ ( کیونکہ صیالہ اصل صوالہ تھا اصول سے مشتق ہے۔)

بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره إلا أنه ← أبي أن أباه ← عبد الله بن أبي إياس بن أبي فاطمة ← مُسْلِمَ بْنَ عَقِيلٍ، ← محمد بن أبي حميد ← و رواه أبو عامر العقدي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9858

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9859

9859 - قال الشيخ أحمد و ذكر أبو أحمد العسكري : في كتابه أيضا أنه كالحمير الصالة الصاد غير معجمة يقال للحمار الوحشي الحاد الصوت صلصال

شیخ احمد نے کہا اور ذکر کیا ابو احمد عسکری نے بھی اپنی کتاب میں کہ وہ لفظ کا اخمیر الصالۃ سے بے نقطہ صاد کے ساتھ لفظ ہو تو حمار وحشی کو کہتے ہیں ( جو تیز آواز کو کھٹکھٹاتی آواز دار ہوتا ہے۔ )

الشيخ أحمد و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9859

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9860

9860 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا أسد بن موسى نا عمران بن زيد الثعلبي عن عبد الرحمن بن القاسم عن سالم بن عبد الله بن عمر عن عائشة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما ضرب من مؤمن عرق إلا حط الله عنه به خطيئة و كتب له به حسنة و رفع له بها درجة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو عمران بن زید ثعلبی نے ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم نے ان کو سالم بن عبداللہ بن عمر نے ان کو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن کی کوئی رگ نہیں کاٹی جاتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کا کوئی گناہ منا دیتے ہیں۔ اور اس کے لئے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کے لئے اس کے ذریعے درجہ بلند کر دیتے ہیں۔

له به حسنة و رفع له بها درجة ← ما ضرب من مؤمن عرق إلا حط الله عنه به خطيئة و ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عمران بن زيد الثعلبي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9860

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9861

9861 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا محمد بن يحيى نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن عن عمرو بن أبي عمرو عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال الله تبارك و تعالى : ما لعبدي المؤمن من عندي جزاء إذا قبضت صفيه من الدنيا بما احتسب إلا الجنة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے ان کو سعید مقبری نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس میرے اس بندے کے لئے کوئی جزا نہیں ہے میں جس کے پیارے کو موت دے دوں دنیا میں جس پر وہ ثواب کا طالب ہو سوائے جنت کے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9861

chevron_left Previous
1…927928929…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood