شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9754
9754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يونس بن محمد نا خالد بن ميسرة أبو حاتم البصري و كان ينزل بمكة عن معاوية بن قرة عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس تحلق إليه نفر من أصحابه و فيهم رجل له بني صغير يأتيه من خلف ظهره ففقده بين يديه إلى أن ظعن في جنازة ذلك الصبي قال : فامتنع الرجل من الحلقة لم يحضرها يذكر بنيه حزنا عليه قال : و فقده النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما بالي لا أرى فلانا ؟ قالوا : يا نبي الله هلك الذي رأيته فمنعه الحزن عليه و الذكر له أن يحضر الحلقة فلقيه نبي الله صلى الله عليه و سلم فسأله عن بنيه فأخبره أنه هلك قال : فعزاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا فلان أيما كان أحب إليك أن تمتع به عمرك أو لا تأتي غدا بابا من أبواب الجنة إلا وجدته قد سبقك إليه يفتحه لك قال : يا نبي الله لا بل يسبقني إلى أبواب الجنة أحب إلي قال : فذاك لك فقام رجل من الأنصار فقال : يا نبي الله أهذا لهذا خاصة أم من هلك له طفل من المسلمين كان ذاك له قال : بل من هلك له طفل من المسلمين كان ذلك له
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ المنادی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو خالد بن میسرہ نے ان کو ابو حاتم بصری نے اور وہ مکے میں آیا کرتے تھے وہ روایت کرتے ہیں معاویہ بن قرہ سے وہ اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ جب بیٹھتے تھے تو صحابہ کرام آپ کے گر دحلقہ بنا لیتے تھے ان میں ایک آدمی تھا جس کے ساتھ اسکا چھوٹا بیٹا تھا جو اس کے پیچھے آجاتا تھا۔ وہ بچہ فوت ہو گیا اور وہ آدمی حلقہ رسول سے غیر حاضر رہنے لگا۔ اور اپنے بیٹے کی یاد میں غمگین رہنے لگا حضور ﷺ نے اسے غیر حاضر پایا تو پوچھا کیا بات ہے وہ آج کل نظر کیوں نہیں آتا ۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے اسی کو یاد کرتا رہتا ہے اسی کے غم کی وجہ سے نہیں آتا حضور ﷺ خود جا کر اس سے ملے اور اس کی تعزیت کی اور فمایا اے فلانے دو باتوں میں سے کوئی بات آپ کو زیادہ پسند ہے یہ کہ تو عمر بھر اس کے ساتھ فائدہ اٹھائیے یا یہ بات کہ کل آپ جب جنت کے دروازے پر آئیں تو جس دروازے پر جائیں آپ دیکھیں کہ وہ آپ سے پہلے وہاں موجود ہو اور آپ کے لئے وہ دروازہ کھولے اس نے کہا کہ بلکہ یہی پسند ہے کہ وہ مجھ سے پہلے جنت کے دروازے پر ہو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہی بات ہے تیرے لئے چنانچہ انصار میں سےا یک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی کیا یہ بات صرف اسی شخص کے لئے ہے یا سب کے لئے مسلمانوں میں سے جس کے بھی بچے فوت ہو جائیں فرمایا کہ یہ اس کے لئے تو ہے ہی اور مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص جس کے بچے ہلاک ہو جائیں اس کے لئے بھی ہے ۔
أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خالد بن ميسرة أبو حاتم البصري و كان ينزل ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9754
