Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4823

4823 - أنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن لي زوجا و لي ضرة و إني أتشبع من زوجي أقول : أعطاني كذا و كساني و هو كذب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور أخرجه مسلم في الصحيح من حديث وكيع و عبدة بن سليمان عن هشام هكذا و أخرجه من حديث عبدة و أبي أسامة و أبي معاوية عن هشام عن امرأته فاطمة عن أسماء

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس اسفاطی نے ان کو ابوالولید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو عبداللہ بن عامر کے غلام نے ان کو عبداللہ بن عامر نے یعنی ابن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے جب کہ میں چھوٹا بچہ تھا میں کھیلنے جانے لگا تو میری امی نے آواز دی میرے پاس آؤ میں کچھ دوں گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس کو کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے بہر حال اگر تم کچھ بھی دینے کا ارادہ نہ کرتیں تو تیرے خلاف جھوٹ بولنا لکھ دیا جاتا۔ اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن ایوب نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو زیاد مولیٰ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے۔

عائشة أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4823

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4824

4824 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر ببغداد أنا أحمد بن سلمان نا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان أنا هشام عن امراته فاطمة بنت المنذر أنه سمعها تحدث عن جدتها أسماء : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المتشبع بما لم ينل كلابس ثوبي زور قال سفيان : يرى الناس عليه ثوبين يظنون أنهما له و ليسا له هو متشبع بما ليس له كذلك المتشبع بمالم ينل و قوله : لم ينل لم يعطه و قال الحميدي و من يسكن الصفراء يعظم طحاله و يغبط بما في بطنه و هو جائع الصفراء مكان ههنا نحو الروحا

ان کو خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عائشہ نے کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بولی کہ یا رسول اللہ میرا شوہر بھی ہے اور میری سوکن بھی ہے۔ چنانچہ میں اپنے شوہر سے تکلیف شکم سیری ظاہر کرتی ہوں۔ میں کہتی ہوں کہ اس نے مجھے یہ دیا ہے وہ دیا ہے مجھے یہ کپڑا پہنایا ہے۔حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ زبردستی بڑ مارنے والا اس چیز کے ساتھ جو اس کو نہ ملی ہو اس شخص کی مثل ہے جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث وکیع سے اور عبدہ بن سلیمان نے ان کو ہشام نے اسی طرح۔اور اس کو نقل کیا ہے حدیث عبدہ سے اور ابوسامہ سے اور ابومعاویہ سے ہشام سے اس نے اپنی عورت فاطمہ بنت منذر سے کہ اس نے سنی تھی وہ حدیث بیان کرتی ہے اپنی دادی اسماء سے کہ رسول اللہ نے فرمایا، شکم سیری کی بڑھا دینے والا اس چیز کے ساتھ جو اس کو کسی نے عطا نہ کی ہو اس کی مثل ہے جیسے کوئی جھوٹ کا لباس پہن لے۔ سفیان نے کہا کہ لوگ دیکھیں کہ فلاں پر دو کپڑے ہیں۔لوگ یہ گمان کر یں کہ یہ دو کپڑے اسی کے ہیں۔حالانکہ وہ دونوں اس کے نہ ہوں تو وہ شخص متشبع ہوتا ہے بڑھا رہتا ہے اس چیز کے لئے جو اس کی نہیں ہے اور اسی طرح وہ بڑ مارنے والا ہوتا ہے جس کو کسی نے دیا نہ ہو اور وہ یہی ظاہر کرے۔ اس کا یہ قول لم ینل کا معنی ہے کہ اس کو کسی نے نہ دیا ہو۔ اور کہا حمیدی نے کہ جس شخص کی صفرا ختم ہو جائے اس کی تلی بڑھ جاتی ہے اور اس بڑھ جانے کی وجہ سے وہ یہ سمجھتا جاتا ہے کہ پیٹ بھرا ہوا ہے حالانکہ وہ بھوکا ہوتا ہے صفرا اس جگہ پر مثل روحاء کے ہے۔

جدتها أسماء ← امراته فاطمة بنت المنذر أنه سمعها تحدث ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر ببغداد

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4824

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4825

4825 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا عبد الله الزبير بن عبد الواحد حدثني أحمد بن علي المدائني نا إسحاق بن إبراهيم الكباش حدثني أسيد بن سعيد حدثني الشافعي قال : قال عمي محمد بن علي قال لنا شيخ : من أظهر شكرك بما لم تأته إليه فاحذر أن يكفر نعمتك فيما أتيت إليه

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو عبداللہ زبیر بن عبد الواحد نے ان کو احمد بن علی مدائنی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم کباش نے ان کو اسید بن سعید نے ان کو شافعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا میرے چچا محمد بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ہم سے شیخ نے جو شخص تیرا شکر کرے اس پر جو تم نے اس کو نہ دیا ہو تو تم اس بات سے ڈرو کہ وہ تمہاری نعمت کی ناشکری کر دے جب تم اس کو عطا کرو۔

عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ← الشَّافِعِیُّ ← أسيد بن سعيد ← إسحاق بن إبراهيم الكباش ← أحمد بن علي المدائني ← عبد الله الزبير بن عبد الواحد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4825

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4826

4826 - حدثنا أبو الحسين بن محمد بن الحسين بن داود العلوي نا أبو حامد بن الشرقي نا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم نا يحيى بن سعيد القطان عن شعبة أخبرني منصور عن ربعي بن حراش عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تكذبوا علي فإنه من كذب علي يلج النار أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین بن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابوحامد بن شرقی نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی منصور نے ان کو ربعی بن حراش نے ان کو علی بن ابوطالب نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر جھوٹ نہ بولا کرو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ بولے گا وہ ختم ہو جائے گا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں شعبہ کی حدیث۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أبو الحسين بن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4826

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4827

4827 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمرو بن السماك نا عبد الرحمن بن محمد الحارثي نا يحيى بن سعيد عن سعيد بن عبيد قال : سمعت علي بن ربيعة قال : سمعت المغيرة بن شعبة خرج يوما فرقي المنبر فحمد الله و أثنى عليه فقال : ما بال هذا النوح في الإسلام و كان مات رجل من الأنصار فنيح عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن كذبا علي ليس ككذب على أحد فمن كذب علي متعمدا فليتبوء مقعده من النار و سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من نيح عليه يعذب بما نيح عليه مخرج من الصحيحين من حديث سعيد بن عبيد و قد مضى الكلام في النوح في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمر بن سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد حارثی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن ربیعہ سے انہوں نے سنا مغیرہ بن شعبہ سے وہ ایک دن گھر سے نکلے اور منبر پر براجمان ہوئے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فرمایا کہ کیا حالت ہے اس نوحے کی بین کی اسلام کے اندر حالانکہ انصاریوں میں سے ایک آدمی کا انتقال ہوگیا تھا تو اس پر نوحہ کیا گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے۔ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں ہے جیسے تم میں سے کسی کا کسی پر جھوٹ بولنا پس جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا جان بوجھ کر اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور میں نے رسول اللہ سے سنا فرماتے تھے۔ جس پر نوحہ کیا جائے اس کو نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔

المغيرة بن شعبة خرج يوما فرقي المنبر فحمد الله و أثنى عليه ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4827

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4828

4828 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان نا محمد بن أبي بكر المقدمي نا يحيى يعني ابن سعيد عن عوف نا رجاء عن سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في رؤياه قال : فانطلقنا فأتينا على رجل مستلق لقفاه و إذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد و إذا هو يأتي أحد شقي وجهه فيشرشر شدقه إلى قفاه و منخره إلى قفاه و عينه إلى قفاه قال : ثم يتجول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ما فعل بالجانب الأول فما يفرغ من ذلك الجانب حتى يصح الأول كما كان ثم يعود فيفعل كما كان فعل به في المرة الأولى قال : قلت سبحان الله ما هذان قالا : انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير فأما الرجل الذي أتيت عليه يشرشر شدقه إلى قفاه و عينه إلى قفاه و منخراه إلى قفاه فإنه الرجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف

ہمیں خبر دی ابوعمر ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن ابن سفیان نے ان کو محمد بن بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ نے یعنی ابن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابورجآء نے ان کو سمرہ بن جندب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خواب کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ (اس نے خواب دیکھا) ہم دو آدمی چلے جا رہے ہیں اتنے ہم ایک ایسے آدمی کے اوپر جا پہنچتے ہیں جو کہ چت لیٹا ہوا ہے اور دوسرا آدمی لوہے کا کدال یا کونڈی سنبھالے ہوئے ہے وہ لیٹنے والے کے چہرے کی ایک طرف سے آتا ہے اور اس اوزار کو اس کے ایک طرف کی باچھ میں ڈال کر کھینچتا ہے جس کے ساتھ وہ اس کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے۔ پھر اس کے ایک نتھنے کو گدی تک چیر دیتا ہے پھر آنکھ گدی تک چیر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوسری جانب آ جاتا ہے اور دوسری باچھ کے ساتھ اور نتھنے کے ساتھ اور آنکھ کے ساتھ بھی وہی حشر کرتا ہے جو اس نے پہلے کے ساتھ کیا تھا اتنے میں پہلا حصہ درست ہو چکا ہوتا ہے پھر وہ اس پر آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی پہلے والا عمل دہراتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ دونوں نے کہا کہ آپ چلے۔ آپ نے حدیث ذکر کی اور اس کی تعبیر میں فرمایا کہ بہر حال وہ آدمی جس کے کلے ے جا رہے تھے اور ناک اور آنکھیں گدی تک وہ انسان تھا جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور جھوٹ بولنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹ تمام اطراف میں پھیل جاتا ہے۔ بخاری نے اس کو نقل کیا حدیث عوف سے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← رَجَاءٍ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4828

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4829

4829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا أيوب قال : سمعت عكرمة يقول : سمعت ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صور صورة عذب و كلف أن ينفخ فيها و ليس بنافخ و من تحلم كاذبا عذب و كلف أن يعقد بين شعرتين و ليس بعاقد و من استمع إلى حديث قوم و هم له كارهون صب في أذنه الأنك يوم القيامة قال سفيان : الأنك الرصاص رواه البخاري في الصحيح عن علي بن عبد الله عن سفيان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عکرمہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص کوئی تصویر بنائے گا قیامت میں اس کو اس بات کی تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس میں روح بھی ڈالے (ظاہر ہے کہ وہ روح کہاں سے لائے گا؟) لہذا نہیں ڈال سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کی تکلیف دیا جائے گا کہ دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگائے (ظاہر ہے کہ وہ کیسے گرہ لگا سکتا ہے؟) لہذا وہ نہیں لگا سکے گا اور جو شخص دوسروں کی بات کی طرف کان لگائے جب کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ حضرت سفیان نے کہا کہ انک سے مراد سیسہ ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں علی بن عبداللہ سے اس نے سفیان سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4829

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4830

4830 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني أسامة بن زيد الليثي أن عبد الوهاب بن بخت بضم الموحدة و سكون المعجمة و بعدها مثناه تقريبا حدثه أنه سمع النصري حدثه أنه سمع واثلة بن الأسقع يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أفرى الفرى أن يرى العبد عينيه في المنام ما لم ترو أن يدعي لغير أبيه و أن يقول علي ما لم أقل

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے اسامہ بن زید لیثی نے ان کو عبدالوہاب بن بخت نے کہ انہوں نے سنا نضری سے انہوں نے سنا واثلہ بن اسقع سے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی بندہ خواب کی آنکھوں میں وہ دیکھے جو حقیقت میں دیکھتا کہ وہ اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے اور یہ کہ وہ مجھ پر وہ بات کہے۔ جو میں نے نہ کہی ہو۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4830

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4831

4831 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن بكر المروزي نا عبد الله بن بكر السهمي نا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للذي يحدث فيكذب فيضحك به الناس ويل له ويل له

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو بہنر بن حکم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہلاکت ہے اس آدمی کے لئے جو حدیث بیان کرے اور جھوٹ بولے ایسی حدیث جس سے وہ لوگوں کو ہنسائے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4831

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4832

4832 - أخبرنا أبو الحسين بن أبي علي الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية نا إسماعيل قال : سمعت يحيى بن عبيد الله التيمي يقول سمعت أبي يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ليضحك بها أهل المجلس يهوي بها أبعد ما بين السماء و الأرض و إن الرجل ليزل على لسانه أشد ما يزل على قدميه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن ابوعلی حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوعتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنایحییٰ بن عبیداللہ تیمی سے انہوں نے سنا اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ بے شک بندہ کوئی کلمہ کہتا ہے وہ اسے صرف اہل مجلس کو ہنسانے کے لئے کہتا ہے وہ اس کے ذریعے اتنی گہرائی میں ڈالا جائے گا جو آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے۔ بیشک آدمی اپنی زبان کی وجہ اتنی زیادہ پھسلتا ہے جتنی کہ اپنے پیروں پر سے نہیں پھسلتا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو الحسين بن أبي علي الحافظ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4832

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4833

4833 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ العدل نا أحمد بن سلمة و محمد بن نعيم نا محمد بن أسلم نا المومل بن إسماعيل نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بجماعة يضحكون و يلعبون فقال : أكثروا ذكر هاذم اللذات يعني الموت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشا دعدل نے ان کو احمد بن سلمہ نے اور محمد بن نعیم نے ان کو محمد بن اسلم نے ان کو مؤمل بن اسماعیل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے گذرے جو ہنس رہے تھے اور کھیل کود کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ کثرت کے ساتھ لذات کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو یاد کرو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ← أحمد بن سلمة و محمد بن نعيم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4833

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4834

4834 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي حدثني إبراهيم بن نصر المنصوري حدثني إبراهيم بن بشار قال : سمعت إبراهيم بن أدهم يقول : مر عبد الله بن عمر على قوم مجتمعين و عليه بردة حسناء فقال رجل من القوم إن أنا سلبته بردته فما لي عندكم ؟ فجعلوا له شيئا فأتاه فقال : يا أبا عبد الرحمن بردتك هذه لي قال : فقال إني اشتريتها أمس قال : قد أعلمتك و أنت في حرج من لبسها قال : فخلعها ليدفعها إليه قال : فضحك القوم فقال : ما لكم ؟ فقالوا : هذا الرجل بطال قال : فالتفت إليه فقال له : يا أخي أما علمت أن الموت أمامك لا تدري متى يأتيك صباحا أو مساء ليلا أو نهارا ثم القبر و هول المطلع و منكر و نكير و بعد ذلك القيامة يوم يخسر فيه المبطلون فأبكاهم و مضى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے ان کو ابراہیم بن نصیر منصوری نے ان کو ابراہیم بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن ادھم سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو جمع ہو رہے تھے۔اور حضرت ابن عمر پر ایک خوبصورت چادر تھی۔لہذا ان لوگوں میں سے ایک نے۔ (ازراہ مذاق یا ازارہ شرارت) یہ کہا کہ اگر میں یہ چادر چھین لوں تو تم لوگ مجھے کیا دو گے؟ انہوں نے اس کے لئے کچھ مقرر کر دیا۔ چنانچہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔اے ابوعبدالرحمٰن یہ آپ کی چادر میری ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ میں نے تو کل ہی یہ خریدی ہے۔ وہ شخص بولا کہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ آپ اس کو پہن کر گنہگار ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں حضرت ابن عمر نے اس کو دینے کے لئے اوڑھی ہوئی چادر اتار لی راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ہنس پڑے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگوں کو کیا ہوا۔ کیوں ہنس رہے ہو؟ ان لوگوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کہ اے بھائی کیا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ موت تیرے سامنے موجود ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ وہ تمہارے پاس کب آ جائے صبح کو یا شام کو رات کو یا دن کو۔اس کے بعد قید ہے اور ہولناک منظر ہے۔ اور منکر نکیر ہیں اور اس کے بعد قیامت ہے جس دن جھوٹے خسارے میں پڑ جائیں گے حضرت ابن عمر نے یہ الفاظ نہایت مؤثر انداز میں کہے جس سے ان کو رلا دیا پھر خود چلے گئے۔

فالتفت إليه ← هذا الرجل بطال ← مَا لَكُمْ؟ ← فضحك القوم ← فخلعها ليدفعها إليه ← قد أعلمتك و أنت في حرج من لبسها ← إني اشتريتها أمس ← يا أبا عبد الرحمن بردتك هذه لي ← سلبته بردته فما لي عندكم فجعلوا له شيئا فأتاه ← رجل من القوم إن ← مر عبد الله بن عمر على قوم مجتمعين و عليه بردة حسناء ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← إبراهيم بن نصر المنصوري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4834

chevron_left Previous
1…484950…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood