Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4583

4583 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي نا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا نا أحمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن إبراهيم حدثني روح بن القاسم : أن رجلا من أهله تنسك فقال : لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره قال : فلقيت الحسن فقلت له في ذلك فقال الحسن : هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : هذا الذي قاله الحسن رحمه الله و إيانا في عجز الخلق عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل صحيح و قد استحب بعض أهل السلف الاقتصاد في اللباس و الطعام علما منهم بأنهم إذا كانوا عاجزين عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل كانوا عن القيام بشكر النعم العظام أعجز

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو روح بن قاسم نے کہ ایک آدمی اس کے اہل میں سے تجھے بھول گیا اور کہنے لگا میں گھی اور کھجور کا حلوا نہیں کھاؤں گا یا کہا کہ فالودہ نہیں کھاؤں گا کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکوں گا۔ کہتے ہیں کہ میں حضرت حسن سے ملا اور کہا کہ فلاں شخص ایسے ایسے کہتا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ بے وقوف ہے کیا وہ ٹھنڈے پانی کا شکر ادا کر لیتا ہے۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا کہ: یہ وہ بات ہے جو حضرت حسن بصری نے فرمائی اس بندے کو عموماً اور خصوصاً ہم لوگوں کو کیونکہ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ نعمت کا شکر ادا کرنے سے بھی ساری مخلوق سے عاجز ترین ہیں۔ اور تحقیق بعض اہل سلف نے لباس میں ہویا طعام میں میانہ روی اختیار کرنے کو پسند کیا ہے۔ بوجہ اس بات کے علم کے کہ وہ جب اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ ترین نعمت کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں تو اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے تو سب سے زیادہ عاجز ہوں گے۔

الشيخ أحمد هذا الذي قاله الحسن و إيانا في عجز الخلق ← الحسن هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد ← فلقيت الحسن فقلت له في ذلك ← لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره ← روح بن القاسم أن رجلا من أهله تنسك ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4583

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4584

4584 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي : فيما قرأ على مالك أنه بلغه أن عيسى ابن مريم عليه السلام كان يقول : يا بني اسرائيل عليكم بالماء القراح و البقل البري و خبز الشعير و إياكم خبز البر فإنكم لن تقوموا بشكره

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو انہوں نے پڑھی مالک کے سامنے کہ ان کوخبر پہنچی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کہتے تھے اے بنی اسرائیل لازم پکڑو تم تازہ پانی کو اور میدانی سبزی کو اور جو کی روٹی کو اور بچاؤ تم اپنے آپ کو گندم کی روٹی سے کیونکہ تم اس کا شکر ادا نہیں کر سکو گے۔

القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه أن عيسى ابن مريم كان ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4584

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4585

4585 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان نا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل نا إسحاق بن محمد الفروي نا سعيد بن مسلم بن بانك أظنه عن أبيه أنه سمع علي بن الحسين عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رضي الله باليسير من الرزق رضي الله عنه باليسير من العمل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوجعفر احمد بن عبید بن ابراہیم حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے ان کو اسحٰق بن محمد فروی نے ان کو سعید بن مسلم بن بانک نے میرا خیال ہے کہ اس نے اپنے والد سے کہ اس نے سنا علی بن حسین سے اس نے علی بن ابوطالب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ سے راضی ہو جائے کم رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا تھوڑے سے عمل کے ساتھ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سعيد بن مسلم بن بانك أظنه ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4585

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4586

4586 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إسماعيل بن إبراهيم حدثني عبد المؤمن بن عبيد الله السدوسي قال : كان الحسن يقول إذا ابتدأ حديثه : الحمد لله اللهم ربنا لك الحمد بما خلقتنا و رزقتنا و هديتنا و علمتنا و أنقذتنا و فرجت عنا لك الحمد بالإسلام و القرآن و لك الحمد بالأهل و المال و المعافاة كبت عدونا و بسطت رزقنا و أظهرت أمننا و جمعت فرقتنا و أحسنت معاملتنا و من كل و الله ما سالناك ربنا أعطيتنا فلك الحمد على ذلك حمدا كثيرا لك الحمد بكل نعمة أنعمت بها علينا في قديم أو حديث أو سر أو علانية أو خاصة أو عامة أو حي أو ميت أو شاهد أو غائب لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو حدیث بیان کی عبدالمؤمن بن عبیداللہ سدوسی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت بصری کہتے تھے جب وہ اپنی بات کا آغاز کرتے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اے اللہ اے ہمارے رب ہر شکر تیرے لئے ہے بوجہ اس کے کہ تو نے ہمیں پیدا فرمایا۔ اور ہمیں رزق عطا کیا اور ہمیں ہدایت عطا کی اور ہمیں علم دیا اور ہمیں بچایا اور ہمارے لئے فراخی فرمائی۔ تیرے لئے شکر ہے اسلام کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ اور تیرے لئے شکر ہے اہل اور مال اور عافیت عطا کرنے پر اپنے سارے دشمن کو سرنگوں کیا اور ہمارا رزق فراخ کیا اور ہمارا امن طاہر کیا اور ہماری فرقت کو وحدت عطا کی۔اور ہماری عافیت کو بہتر بنایا اور ہر چیز کے بارے میں ہم نے آپ سے نہیں مانگا مگر اے ہمارے رب آپ نے ہی ہمیں سب کچھ عطا کیا پس تیرا شکر ہے اس پر کثیر شکر تیری ہی تعریف ہے ہر نعمت کے بدلے میں اور شکر ہے جو نعمت بھی تو نے ہمیں عطا کی ہے جو وہ پرانی ہو یا نئی ہو پوشیدہ ہو یا ظاہر ہو خاص ہو یا عام ہو زندہ ہو یا مردہ ہو موجود ہو یا غائب ہو سب پر تعریف تیرے لئے ہے حتیٰ کہ تو راضی ہو جائے اور تیری تعریف ہے اور تیرا شکر ہے جب تو راضی ہو جائے۔

كَانَ الْحَسَنُ ← عبد المؤمن بن عبيد الله السدوسي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4586

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4587

4587 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن أبيه قال : رأيت وهبا إذا قام في الوتر قال : الحمد لله الحمد الدائم السرمد حمدا لا يحصيه العدد و لا يقطعه الأبد و كما ينبغي لك أن تحمد و كما أنت له أهل و كما هو لك علينا حق

ہمیں خبر دی ابومحمد بکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا وہب کو کہ جب وہ وتر پڑھنے کھڑے ہوتے تو یوں کہتے۔ الحمدللّٰه الحمد الدائم السرمد حمد الا يحصيه العدد ولا يقطعه الا بدو كما ينبغي لك ان تحمد و كما انت له اهل و كما هو لك علينا حق.

رأيت وهبا إذا قام في الوتر ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4587

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4588

4588 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا حدثني عيسى بن عبد الله التميمي أخبرني وليد بن صالح : حدثني شيخ من أهل المدينة قال : كان علي بن حسين بمنى فظهر من دعائه أن قال : كم من نعمة أنعمتها علي قل لك عندها شكري و كم من بلية ابتليتني بها قل لك عندها صبري فيا من قل شكري عند نعمه فلم يحرمني و يا من قل صبري عند بلائه فلم يخذلني و يا من رآني على المعاصي و الذنوب العظام فلم يهتك ستري و يا ذا المعروف الذي لا ينقضي و يا ذا النعم التي لا تحول و لا تزول صل على محمد و على آل محمد و اغفر لنا و ارحمنا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ تمیمی نے ان کو خبر دی ولید بن صالح نے ان کو اہل مدینہ کے ایک شیخ نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن حسین فئی میں تھے لہذا انہوں نے انہیں بعض دعا ظاہر کی یہاں تک کہ انہوں نے کہا کتنی نعمتیں ہیں تیری جو تو نے میرے اوپر انعام کی ہیں۔ ان نعمتوں پر میں نے تیرا شکر قلیل ادا کیا ہے اور کتنی ہی تیری میرے لئے آزمائشیں ہیں ان پر تیرے لئے میں نے قلیل صبر کیا ہے پس اے وہ ذات جس کے پاس میرا شکر قلیل ہے پس مجھے محروم نہ کرنا اور اے وہ ذات جس کے نزدیک اس کے رزق پر میرا صبر قلیل ہے پس مجھے رسوا نہ کرنا بے یارو مددگار نہ چھوڑنا۔اے وہ ذات جس نے مجھے گناہ اور بڑے بڑے جرائم کرتے دیکھا ہے مگر میرا پردہ چاک نہیں کیا اور اے اچھائیوں کے مالک جو ختم نہیں ہوتیں۔ اور اے ان نعمتوں کے مالک جو نہ زائل ہوتی ہیں اور نہ ہی بدلتی ہیں تو رحمت نازل فرما آل محمد پر اور ہماری مغفرت فرما اور ہمارے اوپر رحم فرما۔

كان علي بن حسين بمنى فظهر من دعائه أن ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4588

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4589

4589 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله ابن أبي الدنيا حدثني أبو علي المدائني نا إبراهيم بن الحسن عن شيخ من قريش يكنى أبا جعفر عن مالك بن دينار قال : قرأت في بعض الكتب أن الله عز و جل يقول : يا ابن آدم خيري ينزل إليك و شرك يصعد إلي و أتحبب إليك بالنعم و تتبغض إلي بالمعاصي و لا يزال ملك كريم قد عرج إلي منك بعمل قبيح

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ابوعلی مدائنی نے ان کو ابراہیم بن حسن نے ان کو ان کے شیخ نے قریش سے جن کی کنیت ابوجعفر ہے اس نے مالک بن دینار سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتب میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اے ابن آدم میری بھلائی تیری طرف اترتی ہے۔ اور تیرا شر اوپر میری طرف چڑھتا ہے اور میں تیری طرف نعمتیں پسند کرتا ہوں اور تو میرے ساتھ بعض رکھتا ہے گناہوں کے ذریعے اور ہمیشہ رہتا ہے ایک عزت والا فرشتہ جو تیری طرف سے میری طرف تیرے قبیح عمل لے کر چڑھتا رہتا ہے۔

في بعض الكتب أن الله عز و جل ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُكْنَى أَبَا جَعْفَرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَلِيٍّ الْمَدَائِنِيُّ، ← عبد الله ابن أبي الدنيا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4589

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4590

4590 - قال : و حدثني أبو علي قال : كنت أسمع جارا لي يقول في الليل : اللهم خيرك علي نازل و شري إليك صاعد و كم من ملك كريم قد صعد إليك بعمل قبيح أنت مع غناك عني تتحبب إلي بالنعم و أنا مع فقري إليك و فاقتي أتمقت بالمعاصي و أنت في ذلك تجرني و تسترني و ترزقني

وہ کہتے ہیں۔ مجھے حدیث بیان کی ہے ابوعلی نے وہ کہتے ہیں میں نے ایک پڑوسی کی دعا سنی جو کہ رات میں کہہ رہا تھا۔ اے اللہ تیری بھلائی میرے اوپر اترتی ہے اور میری برائی تیری طرف چڑھتی ہے۔اور کہتے ہیں محترم فرشتے ہیں جو تیری طرف قبیح عمل لے کر کے چڑھتے ہیں اور تو غناء کے باوجود میرے لئے نعمتیں ہی پسند فرماتا ہے اور میں باوجود یکہ تیری طرف محتاج ہوں اور اپنے فاقے کے باوجود گناہوں میں مبتلا ہوں اور آپ ہیں کہ مجھے اسی میں چلائے جاتے ہیں اور مجھ پر پردہ ڈالتے ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔

كنت أسمع جارا لي ← أَبُو عَلِيٍّ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4590

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4591

4591 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان أنا ابن أبي الدنيا حدثني هارون بن سفيان حدثني عبد الله بن صالح بن مسلم العجلي حدثني ابن السماك قال : كتبت إلى محمد بن الحسن حين ولي القضاء بالرقة أما بعد فلتكن التقوى من بالك على حال و خف الله عز و جل في كل نعمة عليك لقلة الشكر عليها مع المعصية بها فإن في النعمة حجة و فيها تبعة فأما الحجة فيها كالمعصية بها و أما التبعة فيها فقلة الشكر عليها فعفا الله عنك كلما ضيعت من شكر أو ركبت من ذنب أو قصرت من حق

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابودنیا نے ان کو ہارون بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن صالح بن مسلم عجلی نے ان کو ابن سماک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خط لکھا محمد بن حسن کی طرف جب وہ قاضی اور جج بنے۔ کہ بہر حال بعد حمد و صلوٰۃ کے تقویٰ تیرے حال سے ایک حال پر ہونا چاہئے۔ اور ہر نعمت میں اللہ سے ڈر اس پر شکر کی کمی وجہ سے اور ساتھ ساتھ معصیت کے ہونے کی وجہ سے ہونا چاہئے۔ بے شک نعمت میں حجت ہے اور اس میں تبعہ ہے بہر حال اس میں حجت تو وہ اس کے ساتھ معصیت ہے۔ اور تبعہ اس میں وہ اس پر قلت شکر ہے پس اللہ معاف کر دے گا تجھ سے جب بھی آپ شکر کو ضائع کریں گے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر یں گے یا کسی حق میں کوتاہی کر یں گے۔ (یعنی تقویٰ اور خوف خدا بنیادی بات ہے۔)

ابن السماك ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ← هَارُونَ بْنَ سُفْيَانَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4591

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4592

4592 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله قال : سمعت أبا بكر محمد بن الحسن النقاش يقول : سمعت يوسف بن الحسن بالري يقول : سمعت ذا النون يقول في مناجاته كم من ليلة بارزتك يا سيدي بما استوجبت منك الحرمان و أسرفت بقبيح فعالي منك على الخذلان فسترت عيوبي عن الإخوان و تركتني مستورا بين الجيران لم تكأفني بجريرتي و لم تهتكني بسوء سريرتي فلك الحمد على صيانة جوارحي و لك الحمد على ترك إظهار فضائحي فأنا أقول كما قال الشيخ صالح : لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ابوبکر محمد بن حسن نقاش سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا یوسف بن حسن سے رے میں انہوں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ اپنی مناجات میں کہتے تھے۔ کتنی ایسی راتیں ہیں جن میں میں اے میرے مالک ان اعمال کے ساتھ تیرے سامنے آیا ہوں جو تیری طرف سے محرومی کو لازم کرتے ہیں۔اور میں نے اپنے برے اعمال کے ساتھ اسراف کیا ہے اور حد سے بڑھ گیا ہوں ذلت و رسوائی پر مگر آپ نے میرے عیبوں پر پردہ ڈالا ہے میرے ہم پیالہ وہم نوالہ لوگوں کے سامنے۔ اور مجھے مستور اور پوشیدہ رکھا ہے تو نے میرے پڑوسیوں کے سامنے اور میری جرأتوں پر میری گرفت نہیں کی اور میری بے عزتی نہیں کی تم نے میری خلوت کی برائی کی وجہ سے۔ پس تیرا شکر ہے میرے اعضاء کو سلامت رکھنے پر۔ اور تیرا شکر ہے میری فضیحتوں کو پوشیدہ رکھنے پر بس میں وہی کہتا ہوں جو کچھ کہا تھا ایک نیک بزرگ نے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالم ہوں۔

ذَا النُّونِ، ← يوسف بن الحسن بالري ← أبا بكر محمد بن الحسن النقاش ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4592

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4593

4593 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا أبو حامد الشاذلي بهراة قال : سمعت أبا بكر البقلاني يقول : سمعت عبد الصمد بن الفضل يقول : مكتوب في التوراة يا بن آدم أمرتك فتوانيت و نهيتك فتماديت و أعرضت عنك فما باليت يا من إذا مرض شكى و بكى و إذا عوفى تمرد و عصى

ہمیں خبر دی ہے ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوحامد شاذلی نے ہراۃ میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر بقلانی سے انہوں نے سنا عبدالصمد بن فضل سے وہ کہتے ہیں کہ تورات میں لکھا ہوا ہے۔اے ابن آدم میں نے تجھے حکم دیا تم نے نافرمانی کی اور میں نے تجھے روکا اور تم نے سرکشی کی اور میں نے تجھ سے منہ پھیرا تو تم نے بے پرواہی کی اے وہ انسان جب بیمار ہو جائے تو شکایت کرتا ہے اور روتا ہے اور جب عافیت مل جائے تو سرکشی کرتا ہے اور گناہ کرتا ہے۔

عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أبا بكر البقلاني ← أبو حامد الشاذلي بهراة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4593

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4594

4594 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن حمشاذ يقول : سمعت أبا القاسم عبد الرحمن بن محمد المذكر يقول : قال بعض الصالحين إلهي ما قدر طاعتي أن تقابل بها نعمك و ما قدر ذنوبي أن تقابل بها كرمك و الله إني لأرجو أن تكون ذنوبنا في كرمك أقل من طاعتنا في نعمك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا علی بن حمشاذ سے انہوں نے سنا ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن محمد مذکر سے وہ کہتے ہیں کہ بعض صالحین نے کہا۔اے میرے معبود میری اطاعت کی اتنی قدر و منزلت نہیں ہے کہ اس سے تیری نعمتوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اور میرے گناہ اتنے بھاری نہیں جو تیرے کرم کا مقابلہ کرسکیں اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے گناہ تیرے کرم کے مقابلے میں بہت کم ہوں گے تیری نعمتوں کے مقابلے میں ہمارے اطاعات سے۔

أبا القاسم عبد الرحمن بن محمد المذكر ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4594

chevron_left Previous
1…282930…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood