شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4583
4583 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي نا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا نا أحمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن إبراهيم حدثني روح بن القاسم : أن رجلا من أهله تنسك فقال : لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره قال : فلقيت الحسن فقلت له في ذلك فقال الحسن : هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : هذا الذي قاله الحسن رحمه الله و إيانا في عجز الخلق عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل صحيح و قد استحب بعض أهل السلف الاقتصاد في اللباس و الطعام علما منهم بأنهم إذا كانوا عاجزين عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل كانوا عن القيام بشكر النعم العظام أعجز
ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو روح بن قاسم نے کہ ایک آدمی اس کے اہل میں سے تجھے بھول گیا اور کہنے لگا میں گھی اور کھجور کا حلوا نہیں کھاؤں گا یا کہا کہ فالودہ نہیں کھاؤں گا کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکوں گا۔ کہتے ہیں کہ میں حضرت حسن سے ملا اور کہا کہ فلاں شخص ایسے ایسے کہتا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ بے وقوف ہے کیا وہ ٹھنڈے پانی کا شکر ادا کر لیتا ہے۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا کہ: یہ وہ بات ہے جو حضرت حسن بصری نے فرمائی اس بندے کو عموماً اور خصوصاً ہم لوگوں کو کیونکہ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ نعمت کا شکر ادا کرنے سے بھی ساری مخلوق سے عاجز ترین ہیں۔ اور تحقیق بعض اہل سلف نے لباس میں ہویا طعام میں میانہ روی اختیار کرنے کو پسند کیا ہے۔ بوجہ اس بات کے علم کے کہ وہ جب اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ ترین نعمت کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں تو اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے تو سب سے زیادہ عاجز ہوں گے۔
الشيخ أحمد هذا الذي قاله الحسن و إيانا في عجز الخلق ← الحسن هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد ← فلقيت الحسن فقلت له في ذلك ← لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره ← روح بن القاسم أن رجلا من أهله تنسك ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4583
