شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9673
9674 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم : أن رجلا اعترف على نفسه بالزنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث في جلده ثم قال : أيها الناس ما آن لكم أن تنتهوا عن حدود الله فمن أصاب من هذه القاذورة شيئا فليستتر بستر الله فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو الحسن طرائفی نے ان کو عچمان بن سعید نے ان کو قعبنی نے اس میں جو انہوں نے مالک کے سامنے پڑھا۔ زید بن اسلم سے کہ ایک آدمی نے اپنے خلاف عہد رسول میں زنا کرنے کا اعتراف کیا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس کے سنگسار کرنے کے بارے میں ۔ پھر فرمایا اے لوگو کیا ابھی تک وہ وقت نہیں ایا کہ آپ لوگ اللہ کی حدود سے باز آجاؤ۔ پس جو گندگی اور نجاست کے ساتھ کسی قدر آلودہ ہو جائے اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے بے شک وہ جس کا کچا چھٹا ہمارے سامنے کھل کر سامنے آگیا اس پرکتاب اللہ سزا مسلط کر دے گی۔
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ
Hadith 9673
