Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9661

9662 - أخبرنا أبو زكريا أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا زكريا عن عامر قال : جاءت امرأة إلى عمر فقالت : يا أمير المؤمنين إني وجدت صبيا و وجدت معه قبطية فيها مائة دينار فأخذته و استأجرت له ظئرا و إن أربع نسوة يأتينه فيقبلنه لا أدري أيهن أمه فقال لها : إذا هن أتينك فأعلمني ففعلت فقال لامرأة منهن : أيتكن أم هذا الصبي ؟ فقالت و الله ما أحسنت و لا أجملت يا عمر تعمد إلى امرأة ستر الله عليها فتريد أن تهتك سترها قال : صدقت ثم قال للمرأة : إذا أتينك فلا تسأليهن عن شيء و أحسني إلى صبيهن ثم انصرف

ہمیں خبر دی ابو زکریا نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عوج نے ان کو زکریا نے ان کو عامر نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر پاس آئی اور کہنے لگی اے امیر المومنین میں ن ے ایک بچہ پایا ہے اس کے ساتھ ایک تہمعی کہی سے جس کے اندر ایک سو دینار ہیں میں نے اسے لے لیا ہے اور میں نےاس کے لئے اجرت پر ایک دودھ پلانے والی عورت رکھ لی ہے ۔ بے شک چار عورتیں اس کے پاس آتی ہیں اور اس کو پیار کرتی ہیں مگر مجھے نہیں معلوم کہ کونسی ان میں سےا س کی ماں ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب وہ عورتیں تیرے پاس آئیں تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے ان میں سے ایک عورت سےکہا تم میں سے کون سی اس بچے کی ماں ہے؟ وہ بولی اللہ کی قسم آپ نے اچھا نہیں کیا اور نہ کوئی اچھا کام کیا۔ اے عمر آپ ایک عورت کا عیب ظاہر کرانا چاہتے ہیں جس پر اللہ نے پردہ کیا ہوا ہے ؟ آپ چاہتے ہیں کہآپاس کی پردہ دری کر دیں۔ حضرت عمر نے کہا تم سچ کہتی ہو اس کے بعد اس عورت سے کہا جب دو عورتیں تیرے پاس آئیں تو ان سے کچھ نہ پوچھنا اور ان کے بچے کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا یہ کہہ کر واپس چلے گئے ۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ، ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Hadith 9661

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9662

9663 - أنشدنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنشدني أبو الحسن بن سفيان الكوفي أنشدني أبو العباس الرهبي : ( لا تهتكن الله من مساوىء الناس ما سترا فيهتك الله سترا عن مساوئكا ) ( و اذكر محاسن ما فيهم إذا ذكروا و لا تعب أحدا منهم بما فيكا ) و أما الحديث الذي

ہمیں شعر سنائے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے ابو الحسن نے جبت ک لوگ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے رہیں اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کا پردہ فاش نہیں کرتے کسی برائی کی وجہ سےا للہ تعالیٰ اس شخص کا پردہ فاش کرتا ہےجو اپنے ہاتھ خود برائی کرتا ہے یا دوسرے کا پردہ فاش کرتا ہے جب لوگوں کاتذکرہہو تو ان کے محاسن ذکر کیا کرو۔ اور جو عیب تمہارے اندر خود موجود ہو اس کے ساتھ اور کوئی عیب نہ لگاو۔

Hadith 9662

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9663

9664 - أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا الربيع بن نافع أن وارد بن الجراح حدثهم عن أبي سعد عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ألقى جلباب فلا غيبة له فهذا إن صح في الفاسق المعلن بفسقه و في إسناده ضعف و الله أعلم و أما الحديث الذي

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ابو الربیع بن نافع نے ان کو وارد بن جراح نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو سعد نے اس نے انس رضیاللہ عنہسے یہ کہ نبیکریم ﷺ نے فرمایا جو خاتون اوڑھنی اتار پھینے اس کی توکوئی غیبت نہیں ہے ۔ یہ روایت اگر صحیح ہے تو پھر یہ اس فاسق کے بارے میں ہے جو فاسق معلن ہو یعنیجو علانیہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہو۔ اور اس کی اسناد میں ضعف ہے ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي سَعْدٍ ← الربيع بن نافع أن وارد بن الجراح ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 9663

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9664

9665 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الإمام أبو بكر أحمد بن إسحاق في آخرين نا محمد بن عبد الله الحضرمي نا جعدية بن يحيى نا العلاء بن بشر نا سفيان و هو ابن عيينة عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس للفاسق غيبة فقد قال أبو عبد الله هذا حديث غير صحيح و لا معتمد و أما الحديث الذي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو امام ابو بکر احمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن عبداللہ حضرمی نے ان کو جعدیہ بن یحییٰ نے ان کو علا بن بشر نے ان کو سفیان بن عیینہ نےان کو بہنر بن حکیم نے اپنے والد سے اس نےاپنے دادا سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فاسق آدمی کی کوئی غیبت نہیں یعنی اس کے فسق کو ذکر کرنا۔ کہا ابو عبداللہ نے یہ حدیث غیر صحیح ہے اس پر کوئیا عتماد نہیں ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← سفيان و هو ابن عيينة ← الْعَلَاءُ بْنُ بِشْرٍ ← جعدية بن يحيى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← الإمام أبو بكر أحمد بن إسحاق في آخرين ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9664

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9665

9666 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا أبو شجاع أحمد بن مخلد الصيدلاني نا الجارود بن يزيد عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أترعون عن ذكر الفاجر اذكروه بما فيه كي يعرفه الناس و يحذره الناس فهذا حديث يعد في إفراد الجارود بن يزيد عن بهز و قد روى عن غيره و ليس بشيء و هو إن صح فإنما أراد به فاجرا معلنا بفجوره أو فاجرا يأتي بشهادة أو يعتمد عليه في أمانة فيحتاج إلى بيان حاله لئلا يقع الإعتماد عليه و بالله التوفيق و قد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابو شجاح احمد بن مخلد صیدلانی نے ان کو جارودبن یزید نے ان کو بہنر بن حکیم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رفمایا کیا تم لوگ فاجر آدمی کا تذکرہ کرنے سے ڈرتے ہو اس میں جو فسق و فجور ہے اس کو ذکر کیا کرو تاکہ لوگ اس کو پہچان کر اس سے بچیں۔ یہ ایسی حدیث ہے جو جدارود کے افراد میں شمار ہوتی ہے اس سے اور یہ اس کے ماسوا سے بھیمروی ہے مگر وہ کئی شئ نہیں ہے اگر وہ صحیح ہے تو اس سے مراد فسق معلن ہے جس کا فجوع علانیہ ہو یا وہ فاجر جو شہادت دیتا ہے ۔ یا اس پر امانت میں اعتماد کیا جاتا ہے اور اس لئے اس کی حالت کو بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ اس پر اعتماد کر کے کوئی دھوکہ نہ کھائے وباللہ اکروفیق۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ، ← أبو شجاع أحمد بن مخلد الصيدلاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9665

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9666

9667 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني أنا أبو بكر بن الإسماعيلي نا أبو القاسم حماد بن أحمد بن حماد المروزي قاضي جرجان نا أبو عبد الرحمن أحمد بن مصعب المروزي نا الجارود بن يزيد عن بهز بن حكيم بن معاوية عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أترعون عن ذكر الفاجر اذكروه بما فيه كي يعرفه الناس قال أبو عبد الرحمن فقلت للجارود لم يرو هذا الحديث أحد غيرك قال : عرفت قول الحسن قلت : و ما قول الحسن ؟

ہمیں خبر دی ابو منصور احمد بن علی دامغانی نے ان کو ابو بکر بن اسماعیل نے ان کو ابو القاسم حماد بن احمد بن حماد مروزی قاضی جرجان نے ان کو ابو عبدالرحمٰن احمد بن مصعب مروزی نے ان کو جار ود بن یزید نے ان کو بہنر بن حکیم بن معاویہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ فاجر کا تذکرہکرنےسے ڈرتے ہو اس میں جو خرابی ہو اس کو ظاہر کرو تاکہ لوگ اس کو پہچانیں۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ میں نے جارود سے کہا آپ کے سوا کسی نے بھی اس حدیث کو روایت نہیں کیا انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے حضرت حسن کا قول جان لیا ہے میں نے کہا کہ حسن کا قول کیا ہے؟

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ، ← أبو عبد الرحمن أحمد بن مصعب المروزي ← أبو القاسم حماد بن أحمد بن حماد المروزي قاضي جرجان ← أبو بكر بن الإسماعيلي ← أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني

Hadith 9666

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9667

9668 - قال : نا روح بن مسافر عن يونس عن الحسن : ذكر رجل عند الحسن فنال منه فقيل له : يا أبا سعيد ما نراك إلا اغتبت الرجل فقال : أي لكع هل عبت من شيء فيكون غيبة أيما رجل أعلن بالمعاصي و لم يكتمها كان ذكركم إياه حسنة تكتب لكم و أيما رجل عمل بالمعاص فكتمها الناس كان ذكركم إياه غيبة

وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی روح مسافر نے یونس نے اس نے حسن سے کہ ان کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا۔ تو انہوں نے بھی اس کی کچھ برائی کی ۔ لہٰذا ان سے کہا گیا اے ابو سعیدہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس آدمی کی غیبت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ اے بے وقوف آدمی کیا میں نےا س کو کوئی عیب لگایا ہے کہ وہ غیبت ہو جائے گی۔ جو شخص گناہوں کو اعلانیہ کرے اور ان کو نہ چھپائے تم لوگوں کا اس کو برائی سمیت ذکر کرنا عبادت ہے جو تمہارے لئے لکھی جائے گی جو شخص گناہ کا عمل کرے اور لوگوں سے اس کو چھپائے تمہارا اس کا تذکرہ کرنا غیبت ہے ۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ،

Hadith 9667

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9668

9669 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر الخواص نا أبو العباس بن مسروق نا إبراهيم بن سعد و سفيان بن وكيع عن مندل بن علي عن موسى بن عبيدة عن سليمان بن مسلم قال : قال الحسن البصري ثلاثة ليست لهم حرمة في الغيبة : فاسق يعلن الفسق و الأمير الجائر و صاحب البدعة المعلن البدعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر خواص نے ان کو ابو العباس بن مسروق نے ان کو ابراہیم بن سعد نے اور سفیان بن وکیع نے ان کو مندل بن علی نے موسیٰ بن عبیدہ سے اس نے سلیمان بن مسلم سے اس نے کہا کہ حسن بصری نے فرمایا کہ تین آدمیوں کی غیبت حرام نہیں ہے ۔ وہ فاسق آدمی جو ظاہر اور اعلانیہ فسق اور گناہ کرے ۔ اور وہ حکمران جو ظالم ہو اور وہ بدعتی ادمی جو ظاہر اور اعلانیہ کا ارتکاب کرتا ہو۔

سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، ← موسى بن عبيدة ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← إبراهيم بن سعد و سفيان بن وكيع ← أبو العباس بن مسروق ← أبو جعفر الخواص ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9668

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9669

9670 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي انا علي بن عبد العزيز قال : قال أبو عبيدة : في حديث علي رضي الله عنه و ذكر آخر الزمان و الفتن قال : خير أهل ذلك الزمان كان نومه أولئك مصابيح الهدى ليس بالمسابيح و لا المذاييع البذر يروى ذلك عن عوف بن أبي جميلة قوله نومه يعني الخامل الذكر الغامض في الناس الذي لا يعرف الشر و لا أهله و أما المذاييع فإن واحدهم مذياع و هو الذي إذا سمع عن واحد بفاحشة أو رآها منه أفشاها عليه و أذاعها و المسابيح الذين يسيحون في الأرض بالشر و النميمة و الإفساد بين الناس و البذر أيضا نحو ذلك و هو مأخوذ من البذر يقال : بذرت الحب و غيره إذا فرغت في الأرض فكذلك هذا يبذر الكلام بالنميمة و الفساد و الواحد منهم بذور

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبید نے کہا حارث علی کے بارے میں کہ انہوں نے آخر زمانے کا اور فتنوں کا ذکر فرمایا تو کہنے لگے کہ اس زمانے کے بہتر لوگ نیند والے ہوں گے ۔ فرمایا: کہاس دور کے بہترین لوگ نیند میں ہوں گے وہی لوگ ہدایت کے چراغ ہوں گے نہ زمین پر لوگوں کے عیب ذکر کرتے پھرتے ہوں گے۔ نہ کسی کے عیب و گناہکو دیکھ کر افشا کرنے والے ہوں گے ۔ نہ جگہ جگہ عیبوں کے تذکرے کرنے والے ہوں گے۔

عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 9669

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9670

9671 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا يعلى بن عبيد نا أبو سنان حدثني غير واحد عن علي أنه قال : طوبى لعبد يعرف الناس و لا يعرفونه يعرفه الله برضوان أولئك مصابيح الهدى ليسوا بالمذاييع و لا البذر ينجيهم الله من كل فتنة غبراء مظلمة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو ابو سنان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے متعدد لوگوں نے حضرت علی سے کہ انہوں نے فرمایا مبارک باد ہے اس بندے کے لئے جو لوگوں کو پہچانے مگر اس کو نہ پہچانیں۔ اللہ اس کو اپنی رضا مندی کے ساتھ پہچانے ۔ وہی لوگ ہدایت کے چراغ ہوں گے نہ وہ عیبوں کو پھیلانےاور ظاہر کرنے والے ہوں گے اور نہ برائی کا بیچ بونے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہر فتنے کے غبار و تاریکی سے نجات عطا کرے گا۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← غَيْرُ وَاحِدٍ، ← أَبُو سِنَانٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9670

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9671

9672 - و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله بن أحمد الأديب نا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي نا بن بن العباس أنا أبو إسحاق نا يعلي بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليافي قال : قال عبد الله : قولوا خيرا تعرفوا به و اعملوا به تكونوا من أهله و لا تكونوا عجلاء مذاييع بذرا

ہمیں خبر دی ابو عمرو اور محمد بن عبداللہ بن احمد ادیب نے ان کو ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ان کو احمد بن عباس نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو زبید بافی نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا خیر کی بات کہو اور اسی خبر کے ساتھ پہچانے جاؤ اور خیر کے ساتھ عملکرو اور اہل خیر بن جاؤ اور جلد باز برائی کو سن کر یاد دیکھ کر پجیلانے والے اور برائی کا بیچ بونے والے نہ بنو۔

زبيد اليافي ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← بن بن العباس ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أبو عمرو محمد بن عبد الله بن أحمد الأديب ← و،

Hadith 9671

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9672

9673 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي نا محمد بن سعد العوفي نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا ابن أخي اين شهاب عن عمه قال : قال سالم سمعت أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل أمتي معافى إلا المجاهدين و إن من الإجهار أن يعمل الرجل في الليل عملا ثم يصبح و قد ستره ربه فيقول : يا فلان عملت البارحة كذا كذا و قد بات يستره ربه يبيت في ستر ربه و يصبح يكشف ستر الله عنه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم و زهير بن حرب و إن من الجهار فإن كان محفوظا فلعله من الهجر و هو الفحش و الإفجار إفحاش في الكلام رواه البخاري عن الأوس عن إبراهيم بن سعد عن ابن أخي بن شهاب و قال و إن من المجانة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن کامل بن خلف قاضی نے ان کو محمد بن سعد عونی نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن اخی ابن شہاب نے اپنے چچا سے وہ کہتے ہیں کہ کہا سالم سے کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ سے وہ فرما رہے تھے ۔ میری پوری امت چھٹکارا پائے گی سوائے مجاہرین کے بے شک اجہاریہ ہے کہ کوئی آدمی رات کوئی برائی کرے جب صبح ہو تو یہ دیکھے کہ اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالا ہوا ہے ۔ مگر وہ شخص خود لوگوں سے یوں کہے کہ اے فلا نے میں نے گذشتہ رات فلاں فلاں برائی کا کام کیا ہے ۔ حالانکہ اس نے جب رات گذاری تھی تو اس کے رب نے اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیا تھا اس نے رات رب کے ڈالے ہوئے پردے تلے گذاری تھی ۔ مگر صبح کرتا ہے تو خؤد اس عیب و گناہ کو ظاہر کر دیتا ہے تو گویا وہ اپنے اوپر سے اللہ کے پردے کو خود کھول دیتا ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔ صحیح میں محمد بن حاتم اور زہیر بن حرب سے کہ بے شک اجہار میں سے یہ بات ہے کہ اگر یہ الفاظ محفوظ ہیں تو اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔ صحیح میں محمد بن حاتم اور زہیر بن حرب سے کہ بے شک اجہار میں سے یہ بات ہے کہ اگر یہ الفاظ محفوظ ہیں تو شاید یہ ہجر سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے فحش ۔ اور افجار کا مطلب ہے افحاش فی الکلام۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اس سے اس نے ابراہیم بنسعد سے اس نے ابن اخی ابن شہاب سے اور اس نے کہا کہ بے شک مجانت میں سے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمٍ ← عَمِّہٖ ← ابن أخي اين شهاب ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9672

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood