شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9661
9662 - أخبرنا أبو زكريا أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا زكريا عن عامر قال : جاءت امرأة إلى عمر فقالت : يا أمير المؤمنين إني وجدت صبيا و وجدت معه قبطية فيها مائة دينار فأخذته و استأجرت له ظئرا و إن أربع نسوة يأتينه فيقبلنه لا أدري أيهن أمه فقال لها : إذا هن أتينك فأعلمني ففعلت فقال لامرأة منهن : أيتكن أم هذا الصبي ؟ فقالت و الله ما أحسنت و لا أجملت يا عمر تعمد إلى امرأة ستر الله عليها فتريد أن تهتك سترها قال : صدقت ثم قال للمرأة : إذا أتينك فلا تسأليهن عن شيء و أحسني إلى صبيهن ثم انصرف
ہمیں خبر دی ابو زکریا نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عوج نے ان کو زکریا نے ان کو عامر نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر پاس آئی اور کہنے لگی اے امیر المومنین میں ن ے ایک بچہ پایا ہے اس کے ساتھ ایک تہمعی کہی سے جس کے اندر ایک سو دینار ہیں میں نے اسے لے لیا ہے اور میں نےاس کے لئے اجرت پر ایک دودھ پلانے والی عورت رکھ لی ہے ۔ بے شک چار عورتیں اس کے پاس آتی ہیں اور اس کو پیار کرتی ہیں مگر مجھے نہیں معلوم کہ کونسی ان میں سےا س کی ماں ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب وہ عورتیں تیرے پاس آئیں تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے ان میں سے ایک عورت سےکہا تم میں سے کون سی اس بچے کی ماں ہے؟ وہ بولی اللہ کی قسم آپ نے اچھا نہیں کیا اور نہ کوئی اچھا کام کیا۔ اے عمر آپ ایک عورت کا عیب ظاہر کرانا چاہتے ہیں جس پر اللہ نے پردہ کیا ہوا ہے ؟ آپ چاہتے ہیں کہآپاس کی پردہ دری کر دیں۔ حضرت عمر نے کہا تم سچ کہتی ہو اس کے بعد اس عورت سے کہا جب دو عورتیں تیرے پاس آئیں تو ان سے کچھ نہ پوچھنا اور ان کے بچے کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا یہ کہہ کر واپس چلے گئے ۔
جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ، ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا
Hadith 9661
