Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9649

9650 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن علي الوراق و لقبه حمدان نا سعيد بن سليمان نا الليث عن عقيل عن الزهري عن سالم عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المسلم أخو المسلم لا يظلمه و لا يسلمه و من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته و من فرج عن مسلم كربه فرج الله عنه كربة من كرب يوم القيامة و من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة أخرجاه في الصحيح من حديث الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کا لقب حمدان ہے ۔ ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو زہری نے ان کو سالم نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہکہ رسول اللہﷺ نے رفمایا کہ مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم و زیادتی کرتا ہے اور نہ ہی اس کو بے یا رومدد گار چھوڑتا ہے جو شخص اپنے بھائی کی حاجب پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرتا رہتا ہے ۔ اور جو شخص کسی مسلمان کسی مشکل و پریشانی دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے روز کی پریشانی دورکرے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔ بخاری و مسلم نے صحیح میں حدیث لیث سے اس کو نقل کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن علي الوراق و لقبه حمدان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9649

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9650

9651 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عمر بن حفص السدوسي نا محمد بن سليمان نا عبد الله بن المبارك عن إبراهيم بن نشيط عن كعب بن علقمة عن أبي الهيثم عن عقبة بن عامر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ستر عورة مؤمن فكأنما استحيا موؤودة من قبرها

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عمر بن حفص سدوسی نے ان کو محمد بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابراہیم بن نشیط نے ان کو کعب بن علقمہ نے ان کو ابو اثیم نے ان کو عقبہ بن عامر نے نبی کریم ﷺ سے آپ نے رفمایا جس شخص نے کسی مؤمن کی عیب پوشی کی گویا کہا س نے زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو زندہ کیا۔

من ستر عورة مؤمن فكأنما استحيا موؤودة من قبرها ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9650

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9651

9652 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا خالد بن مخلد نا سليمان بن بلال حدثني سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يستر عبد عبدا في الدنيا إلا ستره الله يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی شخص دنیا میں جب کسی بندے کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈالے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9651

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9652

9653 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة العدل نا عبد الرحمن بن محمد بن عقيل الخزاعي نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا الوليد بن مسلم و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا محمد بن عبد العزيز نا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن عبد الواحد بن قيس عن أبي هريرة يرويه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أطفأ عن مؤمن سيئة كان خيرا ممن أحيا موؤودة و في رواية إسحاق قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ستر على مؤمن فاحشة فكأنما أحيا موؤودة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ عدل نے ان کو عبدالرحمٰن بن مخلد بن محمد بن عقیل خزاعی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو ولید بن مسلم نے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو محمد بن عبدالعزیز نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو اوزاعی نے ان کو عبدالواحد بن قیس نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ اس کو روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخصکسی مؤمن کی غلطی مٹاتا ہے تو وہ شخص سے بہتر ہوتا ہے جو زندہ دفن کی ہوئی کوزندہ کر دے۔ اور اسحاق کی ایک روایت میں ہے کہوہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مؤمن کے عیب و گناہ پر پردہ ڈالتا ہے گویا کہ وہ زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو زندہ کرتا ہے ۔

مؤمن سيئة كان خيرا ممن أحيا موؤودة و في رواية إسحاق ← مَنْ أَطْفَأَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبي هريرة يرويه ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← الوليد بن مسلم و ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عبد الرحمن بن محمد بن عقيل الخزاعي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9652

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9653

9654 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا أبو معشر عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ستر على أخيه عورة فكأنما أحيا موؤودة

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو ابو معشر نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کے عیب پر پردہ پوشی کرے گویا کہ اس نے زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو زندہ کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو معشر ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9653

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9654

9655 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا حماد بن زيد نا يحيى بن سعيد عن يزيد بن نعيم عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو سترت كان خيرا لك و قال جدي : هو الذي استرجم له يعني هزالا هو الذي أشار على ماعز بالإقرار

ہمیں خبر دی ابو الحسین مقری نےان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے انکو حماد بن زید نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو یزید بن نعیم نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے رفمایا کہ اگر آپ پر دہ پوشی کرتے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوتا۔ اور میرے دادا نے کہا۔ کہ وہ وہی ہے جس کیوجہسے رجم کی گئی تھی۔ یعنی ان کی مراد اس سے ہزال تھا۔ وہ وہی تھے جنہوں نے ماعز اسلمی کو اقرار کا اشارہ کیا تھا۔

جَدِّهِ، ← يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Hadith 9654

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9655

9656 - و رواه زيد بن أسلم عن يزيد بن نعيم عن أبيه : أن ماعزا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأقر عنده أربع مرات فأمر برجمه و قال لهزال : لو سترت بثوبك كان خيرا لك أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا مسدد نا يحيى بن سفيان فذكره

اور اس کو روایت کیا ہے زید بن اسلم نے یزید بن نعیم سے اس نے اپنے والد سے کہ ماعز اسلمی حضور ﷺ کے پاس آیا تھا اوراس نے حضور ﷺ کے سامنے چار بار اپنے گناہ کا اقرار کیا تھا حضور ﷺ نے اس کو سنگ سار کرنے کا حکم فرمایا اور ہزال سے کہا اگر تو اس کو اپنے کپڑے سے چھپا لیتا تو تیرے لئے بہتر تھا۔ اور ہمیں اس کی خبر دی ابو علی روزباری نے ان کو ابو بکر داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ بن سفیان نے پھر اس نے بھی اسی مذکورہروایت کو زکر کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ← و رواه زيد بن أسلم

Hadith 9655

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9656

9657 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا عارم أبو النعمان السدوسي نا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن عبد الرحمن بن هضاض عن أبي هريرة : أن ماعز بن مالك أتى رجلا يقال له هزال فقال : إن الآخر قد زنى فقال له : ائت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره قبل أن ينزل فيك القرآن فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فأعرض عنه أربع مرات ثم أمر برجمه فلجأ إلى شجرة فقتل فقال رجل لصاحبه هذا قتل كما يقتل الكلب فمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بجيفة حمار منتفخ فقال لهما : انهشا من هذا فقال : لا نستطيع جيفة حمار منتفخ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : للذي أصبتما من أخيكما أنتن و الذي نفسي بيده إنه لينغمس في أنهار الجنة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويحك يا هزال ألا كنت رحمته ويحك يا هزال ألا كنت رحمته ويحك يا هزال ألا كنت رحمته

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید سفار نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو عازم ابو النعمان سدوسی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ہضاض نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ ماعز بن مالک ایک آدمی کے پاس آیا اسے ہزال کہا جاتا تھا۔ ماعز نے اس کو بتا دیا کہ بے شک اس نے زنا کیا ہے ہزال نےاس سے کہا کہ جائیے حضور ﷺ کے پاس ان کو خبر دے دیجئے اس سے قبل کے تیرے بارے میں قران نازل ہو جائے ۔ ماعز حضور ﷺ کے پاس آیا اورا ن کو اس نے خبر دے دی حضور ﷺ نے چار مرتبہ اس سے منہ پھر لیا پھر حضور ﷺ نے اس کو رجم کرنے کا حکم فرمایا اس نے ایک درخت کی طرف پناہ لینے کی کوشش کی مگر وہ مار دیا گیا ۔ ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ شخص کتے کی طرح مار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ حضور ﷺ ایک مرے ہوئے گدھے پر جو کہ پھول چکا تھا گزرے حضور ﷺ نے فرمایا کہت م دونوں اس مردار کا گوشت منہ کے ساتھ کاٹ کر کھاؤ گے ۔ وہ بولت کہ ہم مردار اور پھولے ہوئے گدھے کو تو نہیں کھا سکتے حضور ﷺ نے فرمایا وہ بات جو آپ دونوں نے اپنے بھائی کے بارے میں کہی اور غیبت کی ہئ اور اس گدھے سے زیادہ بدبودار ہے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بے شک ماعز تو جنت کی نہروں میں غوطہ لگا رہا ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا تیرا برا ہوا ہزال کیا تو اس پر رحم نہیں کر سکتا تھا؟ کیا تو اس پر ترس نہیں کھا سکتا تھا؟ کیاتو اس پر شفقت نہیں کر سکتا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الرحمن بن هضاض ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عارم أبو النعمان السدوسي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9656

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9657

9658 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي نا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا أبو معاوية عن عبد الله بن ميمون عن موسى بن مسكين عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أشاد على مسلم عورة يشينه بها بغير حق شانه الله بها في الحق يوم القيامة قال أبو عبيد : قوله أشاد يعني : رفع ذكره بها و نوه به و شهره بالقبيح

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو عبداللہ بن میمون نے ان کو موسیٰ بن مسکین نے ان کو ابو ذر نے نبی کریم ﷺ سے آپ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے خلاف کسی عیب کی شہرت پھلائے جس کے ساتھ وہاس کو ناحق داغ دار کرے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو سچ مچ اور حق کے ساتھ داغ دار کرے گا۔ ابو عبید نے کہا کہ حضور ﷺ کا یہ قول کہ اشاد اس کا مطلب ہے کہاس کے عیب کو اسی نے بلند آواز سے ذکر کیا اور اس کو عیب دار بتایا اور اس کی بری شہرت پھیلائی ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوسَى بْنِ مِسْكِينٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 9657

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9658

9659 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن علي بن ميمون الرقي نا الفريابي نا سفيان عن ثور عن راشد بن سعد عن معاوية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنك إن اتبعت عورات الناس أفسدتهم أو كدت أن تفسدهم قال : يقول أبو الدرداء : كلمة سمعها معاوية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نفعه الله بها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی بن میمون رقی نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے ثور سے اس نے راشد بن سعد سے اس نے معاویہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں ن ے سنار رسول اللہﷺ سے فرماتے تھے کہ بے شک آپ اگر لوگوں کےعیبوں کے پیچھے پڑیں گے تو آپ ان کو بگاڑ دیں گے یا یوں فرمایا تھا کہ قریب ہے کہ آپ ان کو بگاڑ دیں۔کہتے ہیں کہ ابو درداء نے ایک کلمہ کہا تھا جس کو معاویہ نے سنا تھا رسول اللہﷺ سے اللہ نے اس کو اس کے ساتھ فائدہ دیا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نفعه الله بها ← أبو الدرداء كلمة سمعها معاوية ← إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمُ. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُعَاوِيَةَ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ثَوْرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← محمد بن علي بن ميمون الرقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9658

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9659

9660 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أحمد بن علي الخزاز نا محمد بن الجنيد الحجام نا مصعب بن سلام عن حمزة الزيات عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى أسمع العواتق في الخدر ينادي بأعلى صوته يا معشر من آمن بلسانه و لم يخلص الإيمان إلى قلبه لا تغتابوا المسلمين و لا تتبعوا عوراتهم فإنه من يتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عورته و من تتبع الله عورته يفضحه في جوف بيته

خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن علی خزار نے ان کو محمد بن جنید حجام نے ان کو مصعب بن سلام نے ان کو حمزہ زیات نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو برا ء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا آپنے بلند آواز کے ساتھ خطاب فرمایا یہاں تک کہ آپ نے اپنی آواز دور پہنچا کر پردہ نشین خواتین تک کو سنوا دیا آپ نےف رمایا کہ اے ان لوگوں کا گروہ جو اپنیزبان کے ساتھ ایمان لائے ہو مگر تا حال ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہو آپ لوگ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیبوں کے پیچھے مٹ پڑو بے شک جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کو تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کےعیبوں پر گرفت کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیبوں پر گرفت کرے گا اس کو اس کے اپنے بیچ گھر کے رسوا کر دے گا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، ← محمد بن الجنيد الحجام ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 9659

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9660

9661 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا أبو أحمد الفراء أنا أبو جعفر بن عون أنا الأعمش عن زيد بن وهب قال : قال أتى عبد الله يعني ابن مسعود فقيل له هل لك في فلان تقطر لحيته خمرا قال : إن الله عز و جل نهانا عن التجسس و إن يظهر إلي شيئا أخذناه

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو ابو احمد فراء نے ان کو ابو جعفر بن عون نے ان کو اعمش نے ان کو زید بن وہب نے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود آئے اور ان سے کہا گیا کہاپ فلاں کے بارے میں کچھ فرمائیں گے ان کی داڑھی شراب سے ٹپک رہی ہے۔ انہوںن ے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبردستی کسی کی جاسوسی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ہاں اگر کوئی چیز ہمارے سامنے ظاہر ہو گئی تو ہم اس کو پکڑ لیں گے۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أبو جعفر بن عون ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 9660

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood