Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9617

9618 - و قال : أبو أسامة فزادني يعلى بن خالد عن سفيان عن أبيه عن عكرمة : لكي لا يفوته أحد

ابو اسامہ نے کہا مجھے یعلیٰ بن خالد نے سفیان سے اس نے اپنے والد سے اس نے عکرمہ سے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا تھا چار دروازت اس لئے تھے تاکہ کوئی بھی ان سے نہ جائے۔

عكرمة لكي لا يفوته أحد ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← أبو أسامة فزادني يعلى بن خالد ← و،

Hadith 9617

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9618

9619 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار و أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قالا : نا سعدان بن نصر نا وكيع نا طلحة بن عمرو عن عطاء قال : كان إبراهيم عليه السلام خليل الله إذا أراد أن يتغدى طلب من يتغدى معه ميلا في ميل فقال عطاء : أحب الطعام إلى الله عز و جل ما كثرت فيه الأيدي هذا هو المحفوظ موقوف على عطاء و قد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے او ر ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے وہ دونوں کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے سعدان بن نصر نے ان کو وکیع نے ان کو طلحہ بن عمرو نے ان کو عطا نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ تھے جب وہ صبح ناشتہ کرنا چاہتے تھے تو پہلے ایسای بندہ تلاش کرتے تھے جو ان کے ساتھ ناشتہ کرے وہ مہمان تلاش کرنے کے لئے میلوں دور چلے جاتے تھے ۔ حضرت عطا فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین کھانا وہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ ہاتھ استعمال ہوں کھانے کے لئے ۔ یہی محفوظ ہے جو عطاء پر موقوف ہے۔

عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← وَكِيعٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إسماعيل بن محمد الصفار و أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9618

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9619

9620 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا محمد بن أحمد بن نصر نا صالح بن عبد الله نا مسلم عن ابن جريج عن عطاء قال : جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحب الطعام إلى الله عز و جل ما كثرت عليه الأيدي

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے انکو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن احمد بن نصر نے ان کو صالح بن عبداللہ نے ان کو مسلم نے ان کو ابن جریح نے ان کو عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا وہی ہے جس کو کھانے کے لئے اس پر زیادہ ہاتھ پڑیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُّسْلِمٍ ← صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← محمد بن أحمد بن نصر، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9619

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9620

9621 - و رواه ابن لهيعة عن عطاء : عن أبي هريرة مرفوعا

اور ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن ابراہیم بن فیروز نے ان کو خلاد بن اسلم نے ان کو ابن ابو دردا نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بناحمد بن حمدان نے ان کو ابو یعلیٰ موصلی نے ان کو خلاد بن اسلم نے ان کو عبدالمجید بن ابو رواد نے ان کو ابن جریح نے ان کو ابو زبیر نے ان کو جابر نے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک محبوب ترین کھانا وہ ہے جس پر زیادہ ہاتھ استعمال ہوں۔ اس کے ساتھ عبدالمجید بن عبدالعزیز بنابو رواد کا ابن جریح سے تفرد ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا ← عَطَاءٍ، ← و رواه ابن لهيعة

Hadith 9620

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9621

9622 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن إبراهيم بن فيروز نا خلاد ابن أسلم نا ابن أبي رواد أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن أحمد بن حمدان أنا أبو يعلى الموصلي نا خلاد ابن أسلم نا عبد المجيد بن أبي رواد عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحب الطعام إلى الله ما كثرت عليه الأيدي تفرد به عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن ابن جريج

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو حیوۃ نے ان کو خبر دی ابو ہانی نے یہ کہ اس نے سنا ابو عبدالرحمٰن جبلی سے وہ کہتےہیں کہ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک بستر آدمی کے لئے ہوتا ہے اور دوسرا بستر عور ت کے لئے اور تیسرا بستر مہمان کے لئے ہوتا ہے اور چوتھا شیطان کے لئے ہوتا ہے یعنی جب گھر میں اور کوئی فرد نہ ہوجس کے لئے بستر کی ضرورت ہو۔ اس کو مسلم نےر وایت کیا ہے جیسے باب لباس میں گزری ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ← خلاد ابن أسلم ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← ابن ابي رواد، ← خلاد ابن أسلم ← محمد بن إبراهيم بن فيروز ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Hadith 9621

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9622

9623 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا علي بن حمشاد العدل نا الحارث بن أبي أسامة نا أبو عبد الرحمن المقري عبد الله بن يزيد نا حيوة أخبرني أبو هانىء أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : إن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فراش للرجل و فراش لامرأته و فراش للضيف و الرابع للشيطان أخرجه مسلم كما مضى في باب اللباس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو بکر بن سہل دیاطی نے ان کو عبداللہ بن صالح کاتب لیث نے ان کو کچیر بن سلیمان نے انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خیر بڑی تیزی کے ساتھ اس گھر کی طرف جاتی ہےاس چھری سے بھی تیز جو اونٹ کی کوہان میں تیزی کے ساتھ چلتی ہے ۔ اس روایت کے ساتھ کثیر بن مسلم کا تفرد ہے ۔

أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أبو هانىء أنه ← حَيْوَةُ، ← أبو عبد الرحمن المقرئ عبد الله بن يزيد ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← علي بن حمشاد العدل ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 9622

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9623

9624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بكر بن سهل الدمياطي نا عبد الله بن صالح كاتب الليث حدثني كثير بن سليمان عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخير أسرع إلى البيت الذي يغشى من الشفرة إلى سنام البعير تفرد به كثير بن سليم عن أنس و روى في معناه بإسناد آخر ضعيف عن جابر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو بکر بن سہل دیاطی نے ان کو عبداللہ بن صالح کاتب لیث نے ان کو کچیر بن سلیمان نے انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خیر بڑی تیزی کے ساتھ اس گھر کی طرف جاتی ہےاس چھری سے بھی تیز جو اونٹ کی کوہان میں تیزی کے ساتھ چلتی ہے ۔ اس روایت کے ساتھ کثیر بن مسلم کا تفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← كثير بن سليمان ← عبد الله بن صالحٍ كاتب الليث، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9623

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9624

9625 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ نا إسحاق بن إبراهيم بن أحمد الوراق نا أحمد بن إبراهيم بن عبد الله نا الحسين بن منصور نا أبو إسحاق الطلقاني نا حماد بن موسى أخو مسرور بن موسى الفراء نا شيخ يقال : له أبو سعيد سمعت أبي يحدث : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخير إلى البيت الذي يغشى أسرع من الشفرة من سنام البعير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو خبر دی ابو اسحٰق ابراہیم بن احمد وراق نے ان کو احمد بن ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو حسین بن منسور نے ان کو ابو اسحٰق طلقائی نے ان کو حماد بن موسیٰ مسرور کے بھائی نے مسرور ابن موسیٰ فراء ہیں ان کو ایک شیخ نے جسے ابو سعید کہا جاتا تھا اس نے سنا اپنے والد سے وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ خیر اس گھر کی طرف اونٹ کی کوہان میں تیزی کے ساتھ چلنے والی چھری سے بھی زیادہ تیز چلتی آتی جس گھر میں عشاء کا کھانا کھلایا جاتا ہے۔

الخير إلى البيت الذي يغشى أسرع من الشفرة من سنام البعير ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي ← شيخ يقال له أبو سعيد ← حماد بن موسى أخو مسرور بن موسى الفراء ← أبو إسحاق الطلقاني ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← إسحاق بن إبراهيم بن أحمد الوراق ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ ← و،

Hadith 9624

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9625

9626 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد بن علي نا عبد الله بن محمد المديني نا إسحاق بن راهويه أنا الملائي يعني أبا نعيم نا مندل عن عبد الله بن يسار عن عائشة بنت طلحة عن عائشة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الملائكة لا تزال تصلي على أحدكم ما دامت مائدته موضوعة تفرد به بندار بن علي

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن علی نے ان کو عبداللہ بن محمد مدینی نے ان کو اسحاق بن راہویہ نے ان کو خبر دی ملائی یعنی ابو نعیم نے ان کو مندل نے ان کو عبداللہ بن یسار نے ان کو عائشہ بنت طلحہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ سے کہ آپ نے فرمایا: بے شک فرشتے ہمیشہ تم میں سے اس آدمی کے لیے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک اس کا دستر خوان مہمانوں کے لئے بچھار ہے ۔ اس روایت کے ساتھ بندار بن علی کا تفرد ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← مِنْدَلٌ ← الملائي يعني أبا نعيم ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عبد الله بن محمد المديني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 9625

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9626

9627 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا سويد بن سعيد نا بقية عن حمزة بن حسان عن عبد الحميد قال : سمعت أنس بن مالك يقول : إن زكاة الرجل في داره أن يجعل فيها بيتا للضيافة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بسران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے اس کو سوید بن سعید نے ان کو بقیہ نےحمزہ بن حسان سے اس نے عبدالجید سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا انس بن مالک سے وہکہتے ہیں کہ گھر میں انسان کے گھر کی زکوٰۃ یہ ہے کہ وہ اس میں مہمان داری کے لئے جگہ مخصو ص کر دے۔

إن زكاة الرجل في داره أن يجعل فيها بيتا للضيافة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← حمزة بن حسان ← بَقِيَّةُ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9626

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9627

9628 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن الحجاج بن فرافصة عن أبي العلاء عن بديل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن أطعم أخا في الله لقمة أحب إلي من أن أتصدق بدرهم و لأن أعطي أخا في الله درهما أحب إلي من أن أتصدق بعشرة دراهم و لأن أعطي أخا في الله عشرة دراهم أحب إلي من أن أعتق رقبة و في معناه روى عن الشعبي من قوله

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے زکر کیا حجاج بن رفافصہ سے اس نے ابو العلاء سے اس نے بدیل سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ اگر میں اللہ کے دین کیلئے بنائے ہوئے بھائی کو ایک درہم صدقہ کروں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی اور کو دس دراہم صدقہ دوں۔ اور اگر میں اللہ کیلئے بنائے ہوئے بھائی کو دس درہم صدقہ کروں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک غلام آزاد کروں ۔ اور اسی مفہوم میں شعبی سے بھی مروی ہے ۔

بُدَيْلٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 9627

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9628

9629 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانىء نا السري بن خذيمة نا حفص بن غياث نا أبي عن ابن أبي بحر عن الشعبي قال : لأن أعطى درهمين في نائبه أحب إلي من أن أتصدق بخمسة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہیں محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو السری بن خزیمہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ابن بحر سے انہوں نے شعبی سے کہا یہ کہ میں دو درہم اپنے نائب کو دوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں پانچ درہم صدقہ کروں۔

لأن أعطى درهمين في نائبه أحب إلي من أن أتصدق بخمسة ← الشَّعْبِيِّ، ← ابن أبي بحر ← أَبِي ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← السري بن خذيمة ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9628

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood