شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9605
9606 - قال : و حدثني محمد بن الحسين نا أبو عمر الضرير نا فضالة الشحام قال : كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما قال : لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب فيقول : إنما دخرتها لكم
کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو ابو عمر و ضریر نے ان کو فضالہ شحام نے وہ کہتے ہیں کہ جناب حسن ایسے تھے کہ جب ان کے بھائی ان کے پاس آت تو ان کے پاس وہ چیز پیش کر دیتے جو ان کے پاس موجود ہوتی ۔ کہتے ہیں کہوہ آنے والے بعض لوگوں سے کہتے ہیں کہ چار پائی کے نیچے سے ٹوکری نکالیں ہم لوگ نکال کر دیتے تو ہم کیا دیکھتے کہ اس میں تازہ کھجوریں ہوتی تھیں وہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ تمہارے لئے جمع کر رکھی تھیں۔
إنما دخرتها لكم ← لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب ← كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما ← فضالة الشحام ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و،
Hadith 9605
