Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9605

9606 - قال : و حدثني محمد بن الحسين نا أبو عمر الضرير نا فضالة الشحام قال : كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما قال : لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب فيقول : إنما دخرتها لكم

کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو ابو عمر و ضریر نے ان کو فضالہ شحام نے وہ کہتے ہیں کہ جناب حسن ایسے تھے کہ جب ان کے بھائی ان کے پاس آت تو ان کے پاس وہ چیز پیش کر دیتے جو ان کے پاس موجود ہوتی ۔ کہتے ہیں کہوہ آنے والے بعض لوگوں سے کہتے ہیں کہ چار پائی کے نیچے سے ٹوکری نکالیں ہم لوگ نکال کر دیتے تو ہم کیا دیکھتے کہ اس میں تازہ کھجوریں ہوتی تھیں وہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ تمہارے لئے جمع کر رکھی تھیں۔

إنما دخرتها لكم ← لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب ← كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما ← فضالة الشحام ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و،

Hadith 9605

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9606

9607 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر نا أبو خالد يزيد بن عبد الرحمن بن محمد المحاربي عند عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال : نزل بجابر ضيف فجاءهم بخبز و خل فقال : كلوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : نعم الإدام الخل هلاك بالقوم أن يحتقروا ما قدم إليهم و هلاك بالرجل أن يحتقر ما في بيته يقدمه إلى أصحابه

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بنا اسحٰق نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن نضر نے ان کو ابو خالد یزید بن عبدالرحمٰن بن محمد محاربی نے ان کو عبدالواحد بن ایمن نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ہاں کچھ مہمان آئے انہوں نے ان کو گندم کی روتی اور سرکہپیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ سرکہ اچھا سالن ہے ۔ ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو اس کھانے کو حقیر سمجھیں جو ان کو پیش کیا جائے اور اس شخص کے لئے بھی ہلاکت ہے جو اپنے احباب کے لئے اس کو حقیر سمجھے جو کچھ اس کے گھر میں موجود ہو۔

كُلوا، فإنِّي ← نزل بجابر ضيف فجاءهم بخبز و خل ← أَبِيهِ ← أبو خالد يزيد بن عبد الرحمن بن محمد المحاربي عند عبد الواحد بن أيمن ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9606

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9607

9608 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن واقد نا حمزة بن ربيعة عن رجاء بن أبي سلمة عن ابن عون قال : ربما دخلنا على الحسن فقدم إلينا مرقا و ليس فيه لحم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو عبدالرحمٰن بن واقد نے ان کو حمزہ بن ربیعہ نے ان کو رجاء بن ابو سلمہ نے ان کو ابن عون نے وہ کہتے ہیں کہ اکثر ہم لوگ حضرت حسن کے پاس جاتے تھے وہ ہمارے آگے شور باپیش کرتے تھے جس میں گوشت نہیں ہوتا تھا۔

ربما دخلنا على الحسن فقدم إلينا مرقا و ليس فيه لحم ← ابْنِ عَوْنٍ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← حمزة بن ربيعة ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9607

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9608

9609 - أخبرنا ابن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن عبد الدنيا نا المفضل بن غسان عن الأصمعي عن إسحاق بن إبراهيم ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا يحيى هو ابن معين نا الأصمعي أخبرني إسحاق بن إبراهيم قال : دخلنا على كهمس العابد فقدم إلينا إحدى عشرة بسرة حمراء و قال : هذا الجهد من أخيكم و الله المستعان

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الد نیا نے ان کو مفضل بن فسان نے ان کو اصمعی نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو اصمعی نے ان کو خبر دی اسحاق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ ہم داخل ہوئے کھمس عابد پر انہوں نے گیارہ عد سرخ ہمیانیاں ہمیں پیش کیں اور کہا کہ یہ سعی کی کئی تمہاری بھائی کی ہے اللہ تعالیٰ مستعان ہے۔

هذا الجهد من أخيكم و الله المستعان ← دخلنا على كهمس العابد فقدم إلينا إحدى عشرة بسرة حمراء و ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← يحيى هو ابن معين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، ← ابن عبد الدنيا ← أبو الحسين الجوزي، ← ابن بشران،

Hadith 9608

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9609

9610 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا داود بن رشيد نا أبو المليح قال : ميمون بن مهران إذا نزل بك ضيف فلا تكلف له ما لا تطيق و أطعمه من طعام أهلك و القه بوجه طلق فإنك إن تكلفت له ما لا تطيق أوشك أن تلقاه بوجه يكرهه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الد نیان نے ان کو داود بن رشید نے ان کو ابو الملیح نے وہ کہتے ہیں میمون بن عبران نے کہا کہ جب تیرے پاس کوئی مہمان آجائے تو اس کے لئے اتنا تکلف نہ کر جو تیرے اختیار میں نہ ہو بلکہ اس کو اپنے گھر والوں کے کھانے میں سے کھلائیے اور اس کے ساتھ چمکتے اور خوش خوش چیرے کے ساتھ پیش آئیے کیونکہ آپ اگر اس کے لئے تکلف کریں گے جس کی آپ کو استطاعت نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ اس کے ساتھ مسکراتے چہرے کے ساتھ پیش نہ آسکیں بلکہ کسی قدر چہرے پر ناگواری آجائے ۔

أَبُو الْمَلِيحِ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9609

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9610

9611 - أنشدنا أبو نصر بن قتادة أنشدنا الشيخ أبو بكر القفال الشاشي : ـ ( أوسع رحلي على من نزل فزادي مباح على من أكل ) ( نقدم حاضر ما عندنا و إن لم يكن غير خبز و خل ) ( و أما الكريم فيرضى به و أما اللئيم فمن لا أبل )

ہمیں شعر سنائے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو شعر سنائے شیخ ابو بکر قفال شناسی نے میرے پاس جو بھی مہمان بن کر ائے میں اس کے لئے اپنا سامان کھول دیتا ہوں میرا سامان سفر یا میری پونجی ہر اس شخص کے لئے کھانا چاہئے جائز ہے ۔ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہوتا ہے ہم پیش کر دیتے ہیں اگرچہ روٹی اور سرکے کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو ۔ بہر حال شریف انسان تو اسی کو پسند کر لیتا اور اسی پر راضی اور خوش ہو جاتا ہے اور باقی رہا کمینہ انسان تو میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔

Hadith 9610

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9611

9612 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الحسين بن أحمد القاضي البيهقي نا محمد بن يحيى الصولي أنا المغيرة بن محمد المهلبي نا محمد بن عباد قال : نزل ضيف بأعرابية فقدمت إليه خبزا يابسا و لبنا حامضا و لم تكن تملك غيرهما فلامها فقالت : ـ ( ألم تر أن المرء من ضيق عيشه يلام على المعروف و هو يعذر ) ( و ما ذاك من لوم و لا من ضراعة و لكن كما يطبل له الدهر يزمر )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن احمد قاضی بیہقی نے ان کو محمد بن یحییٰ صولی نے ان کو مگیرہ بن محمد مہلبی نے ان کو محمد بن عباد نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی عورت کے ہاں کوئی مہمان اگیا اس عورت نےس وکھی روتی اور کھٹا دودھ اس کے آگے رکھ دیا اس بے چاری کے پاس اس کے سوا اور کچھ تھا بھی نہیں۔ مہمان نے اس کو ملامت کی ۔ تو اس عورت نے شعر کہے جس کا مطلب یہ تھا۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انسان اپنی گزر بسر کی تنگی کیوجہ سے نیکی اور اچھائی کے کرنے پر بھی شرم و عار دلایا جاتا ہے حالانکہ وہ مجبور ہوتا ہے ۔ درحقیقت نہ تو یہ ملامت ہے اور نہ ہی یہ کوئی یہ اعتراض کی اور ذلت کی بات ہے بلکہ جیسے جیسے زمانہاس کے لئے طویل ہوتا جاتا ہے وہ مشہور ہوتا جاتا ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← محمد بن يحيى الصولي ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي الْبَيْهَقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9611

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9612

9613 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا عمرو بن الربيع بن طارق ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي نا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي نا عمرو بن الربيع أنا يحيى بن أيوب عن محمد بن ثابت البناني أن محمد بن المنكدر حدثه عن جابر بن عبد الله عن عمرة بنت حزم : أنها جعلت للنبي صلى الله عليه و سلم صور نخل فغسلته ورشته و طيبته ثم ذبحت له شاه فأكل ثم توضأ فصلى الظهر فقدمت إليه من لحمها فأكل فصلى العصر و لم يتوضأ

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عمرو بن ربیع بن طارق نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو ابو حاتم محمد بن ادریس رازی نے ان کو عمرو بن ربیع نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو محمد بن ثابت بنانی نے یہ کہ محمد بن منکدر نے اس کو حدیث بیان کی ہے جابر بن عبداللہ سے اس نےعمرہ بنت حرم سے کہ اس نے نبی کریم ﷺ کی آمد کے موقع پر گھر میں کھجور کی جہاڑو لگائی۔ پھر اس کو دھویا۔ اور پانی کو چھڑکا اوراس کو معطرو صاف ستھرا کیا۔ اس کے بعد آپ کے لئے بکری زبح کی۔ حضرت ﷺ نے اس میں سے کھایا اس کے بعد آپ نے وضو کیا پھر ظہر کی نماز پرھی اس کے بعد دوبارہ گوشت آپ کو پیش کیا گیا آپ نے کھایا پھر عسر کی نماز پرھی مگر دوبارہ وضو نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن ثابت البناني أن محمد بن المنكدر ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عمرو بن الربيع، ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Hadith 9612

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9613

9614 - أخبرنا أبو عبد الله سمعت أبا جعفر الرازي سمعت أبا حاتم الرازي يقول : فيه غير شيء من الفقه الرخصة للإنسان في التكلف للضيف و كنس البيت للضيف و الرش و التطيب و الذبيحة للضيف و الوضوء في منزل الضيف و أكل اللحم في اليوم مرتين و صلاة الفريضة في منزل الضيف و ذبيحة المرأة قلت : و فيه ترك الوضوء مما مست النار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےسنا ابو جعفر رازی سے وہ کہتے ہیں کہ اس میں دوسری چیز ثابت ہو تو فقہ میں سے یہ کہ انسان کو رخصت ہے مہمان کے لئے تکلف کرنے کے بارے میں اور گھر میں صفائی کرنا مہمان کے لئے اور پانی چھڑکنا اور خوشبو دار معطر کرنا۔ اور عورت کا جانورذبح کرنا ۔ میں کہتا ہوں کہ اسی حدیث میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہآگ سے پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضو نہ کرنا بھی سنت ہے۔

أَبَا حَاتِمٍ الرَّازِيَّ ← أَبَا جَعْفَرٍ الرَّازِيَّ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 9613

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9614

9615 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا محمد بن عبد الله بن المبارك نا أبو أسامة نا محمد بن عمرو نا أبو سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان أول من ضيف الضيف إبراهيم عليه السلام

ہمیں خبر د ی ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن جعفر جوزی نے ان کو ابن ابو الدنیا نےان کو محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ سے اس نے رسول اللہﷺ سے آپ نے فرمایا کہ پہلا شخص جس نے مہمان کو ضیافت دی وہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔

كان أول من ضيف الضيف إبراهيم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9614

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9615

9616 - أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الله بن علي الخسرو جردي أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو جعفر الحضرمي نا موسى بن إبراهيم المروزي نا ابن لهيعة عن أبي قبيل عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يا جبريل لم اتخذ الله إبراهيم خليلا ؟ قال : لإطعامه الطعام يا محمد

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن عبداللہ بن علی خسرو گروی نے ان کو ابو بکر اسماعیل نے ان کو خبر دی ابو جعفر نے ان کو موسیٰ بن ابراہیم مروزی نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو ابو قبیل نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا: اے جبرائیل اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل کیوں بنایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے محمد ﷺ ان کے کھانا کھلانے کی وجہ سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي قَبِيلٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← موسى بن إبراهيم المروزي ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو الحسين علي بن عبد الله بن علي الخسرو جردي

Hadith 9615

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9616

9617 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن محمد بن جعفر نا ابن أبي الدنيا نا أبو عبد الله العجلي نا أبو أسامة نا سفيان الثوري عن أبيه عن عكرمة قال : كان إبراهيم يكنى أبا الضيفان و كان لقصره أربعة أبواب

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن محمد بن جعفر نے ان کو ابن ابو الد نیا نے ان کو ابو عبداللہ عجلی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ان کے والد نے ان کو عکرمہ نے وہ کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لقب ابو ضیفان مہمانوں والا پڑ گیا تھا اور ان کے گھر کے چار دروازے تھے مہمانوں کے آنے جانے کے لئے ۔

كان إبراهيم يكنى أبا الضيفان و كان لقصره أربعة أبواب ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو عبد الله العجلي ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أحمد بن محمد بن جعفر ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9616

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood