Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9581

9582 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب قال : نا الحسين بن محمد بن زياد و جعفر بن محمد بن الحسين و أحمد بن سلمة ح و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري قال : أنا جدي يحيى بن منصور القاضي قال : نا أحمد بن سلمة قالوا : نا إسحاق بن إبراهيم قال : أنا عيسى بن يونس قال : نا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليحسن إلى جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليسكت رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم و أخرجاه من حديث أبي الحصين عن أبي صالح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے اور جعفر بن محمد بن حسین اور احمد بن سلمہ نے ح اور ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہمارے داد یحییٰ منصور قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن مسلم نے انہوں نے کہا کہ اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو اعمش نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کرے ورنہ پھر وہ چپ رہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہم سے بخاری اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ابو حصین کی حدیث سے اس نے ابو صالح سے ۔

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9581

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9582

9583 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر قال : أخبرني جدي يحيى بن منصور قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعيد و هناد بن السري قالا : نا أبو الأحوص عن حصين عن أبي صالح : فذكره غير أنه قال : فلا يؤذي جاره

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر نے ان کو خبر دی میرے دادا یحییٰ بن منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتبیہ بن سعید نے ان کو ہنادیں سری نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو الاحوص نے ان کو حصین نے ان کو حصین نے ان کو ابو صالح نے اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔

فلا يؤذي جاره ← أبي صالح فذكره غير أنه ← حُصَيْنٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قتيبة بن سعيد و هناد بن السري ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو صالح بن أبي طاهر،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9582

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9583

9584 - و كذلك قاله محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أخبرناه أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو حامد بن بلال قال : نا أحمد بن منصور المروزي قال : نا النضر بن شميل قال : أنا محمد بن عمرو فذكره

اور اسی طرح کہا ہے اس کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ ن ے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہمیں اس کی خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو محمد بن عمرو نے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← و كذلك قاله محمد بن عمرو

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9583

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9584

9585 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان قال : نا يحيى بن بكير قال : نا الليث ح و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري قال : أنا أبو محمد يحيى بن منصور قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعيد الثقفي قال : نا الليث بن سعد عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي شريح العدوي أنه قال : سمعت أذناي و أبصرت عيناي حين تكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته قالوا : و ما جائزته ؟ قال : يومه و ليلته و الضياقة ثلاثة فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليه و قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت لفظ حديث قتيبة رضي الله عنه زاد ابن بكير في أول هذا الحديث من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره ثم ذكر الباقي نحوه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و رواه البخاري عن ابن يوسف و غيره عن الليث

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی لیث نے حق اور ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنری نے ان کو ابو محمد یحییٰ بن منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتبیہ بن سعید ثقفی نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو ابو شریح عدوی نے وہ کہتے ہیں کہ میرے دونوں کانوں نے سنا تھا اور میری آنکھوں نے دیکھا تھا جب رسول اللہﷺ نے کلام کیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کوچاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے بطور لطف و احسان کے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ لطف و احسان کب تک ہو گا؟ فرمایا کہ ایک دن اور ایک رت او رضیافت تین دن رات ہو گی ۔ اس کے بعد جو کچھ کرے وہ اس پر صدقہ ہو گا اور فرمایا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ وہ چپ رہے یہ الفاظ قتبیہ کی حدیث کے ہیں اور ابن بکیر نے اس حدیث کے اول میں ذکر کیا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اس کے بعد باقی کو انہوں نے نہ کوئی مثل ذکر کیا ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیاہے صحیح میں قتبیہ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابن یوسف سے اور اس نے لیث سے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو محمد يحيى بن منصور، ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← و، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9584

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9585

9586 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو الفضل بن إبراهيم قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا محمد بن المثنى نا أبو بكر الحنفي نا عبد الحميد بن جعفر حدثني سعيد المقبري أنه سمع أبا شريح يقول سمعت أذناي و بصرت عيناي و وعاه قلبي حين : تكلم به رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته قالوا : و ما جائزته يا رسول الله ؟ قال : يوم و ليلة و الضيافة ثلاثة أيام فما أطعمه سوى ذلك فهو صدقة عليه و لا يحل لأحدكم أن يقيم عند أخيه حتى يؤثمه قال : و ما يؤثمه ؟ قال : يقيم عنده و لا يجد ما يقريه و قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے اس کو محمد بن لیث نے ان کو ابو بکر حنفی نے ان کو عبدالمجید بن جعفر نے ان کو سعید مقبری نے اس نے سنا ابو شریح سے وہ کہتے تھے میرے کانوں نے سنا اور میر آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا تھا جب رسول اللہﷺ نے کلام فرمایا فرمای رہے تھے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرامکرے اس کے ساتھ احسان کرنے کے لئے لوگوں نے کہا کہ کس قدر اس پر احسان اور عنایت ہوتی ہے فرمایا کہ ایک دن رات اور ضیافت کل تین دن ہوتی ہے اس کے بعد وج آپ اس کو کھلائیں گے وہ اس پر صدقہ ہو گا۔ تم میں سے کسی کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اس قدر کے اس کو گناہ ہگار کر دے۔ پوچھا کہ کیا چیز اس کو گناہ ہگار کرے کی فرمایا کہ وہ اس کے پاس ٹھہرے مگر اس کے پاس ا س کو کھلانے کے لئے کچھ بھی نہ ہو۔ اور فرمایا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے ساتھ اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ وہ چپ رہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں محمد بن مثنی سے۔

سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9585

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9586

9587 - أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير نا مالك بن أنس عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي شريح الكعبي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم و ليلة و الضيافة ثلاثة أيام فما كان بعد ذلك فهو صدقة و لا يحل له أن يثوى عنده حتى يحرجه أخرجه البخاري في الصحيح من حديث مالك قال : أبو سليمان الخطابي رحمه الله قوله : جائزته يوم و ليلة معناه أنه يتكلف له إذا نزل به الضيف يوما و ليلة فيتحفه و يزيده في البر على ما يحضره في سائر الأيام و في اليومين الأخريين يقدم له ما حضر فإذا مضى الثلاث فقد مضى حقه فإن زاد عليها استوجب به أجر الصدقة

ہمیں خبر دی ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بو شجخی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک بن انس نے سعید بن ابو سعید مقبری سے انہوں نے ابو شریح کعبی سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام ایک دن رات بطور انعام و احسان کے اور مہمانی تین دن رات ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے وہ صدقہ ہے او رمہمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اس کے پاس اتنی دیر ٹھہرے کہ وہ اس کو نکال دے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث مالک سے اور ابو سلیمان خطابی نے کہا کہ حضور ﷺ کا یہ قول کا مطلب یہ ہے کہ صاحب خانہ ایک رات دن اس کی مہمان داری کا خاص اہتمام کرے اور تکلف اور کوشش سے کھالا کھلائے جب مہمان آئے عام دنوں کے مقابل میں اس کے ساتھ نیکی کرنے میں مبالغہ کرے اور آخری دو دونوں میں وہ چیز اس کو پیش کرے جو اس کو میسر ہو یا موجود ہو جب تین دن اسی طرح گزر جائیں تو اسکا حق پورا ہو چکا اگر اس پر بھی زیادہ کرے گا تو اس کے ساتھ صدقہ کرنے کا اجر و اجب ہوتا رہے گا۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مالک بن أنس ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9586

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9587

9588 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش أنا الحسن بن سفيان نا محمد بن رمح نا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب أن أبا الخير أخبره أنه سمع عقبة بن عامر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا خير فيمن لا يضيف و بإسناده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس القوم قوم لا ينزلون الضيف كذا رواه عن ابن لهيعة و الصحيح بهذا الإسناد ما

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ نے محمد بن قریش سے اس نے حسن بن سفیان سے اس نے محمد بن رمح سے اس نے ابن لجیعہ سے اس نے یزید بن ابو حبیب سے یہ کہ ابو الخیر نے اس کو خبر دی ہے کہ اس نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے جو ضیافت نہ کرے اور اسی اسناد کے ساتھ فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بدترین لوگوں میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو مہمان کو اپنے ہاں نہیں لاتے تھے ۔ اسی طرح۔ اس کو روایت کیا ہے ابن لمہیعہ نے اور اس اسناد کے ساتھ اگلی روایت ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9587

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9588

9589 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا قتيبة بن سعيد نا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر قال : قلنا يا رسول الله إنك تبعثنا فننزل بقوم فلا يقروننا فما ترى ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن نزلتم قوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا و إن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيافة الذي ينبغي لهم رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتبیہ بن سعید نے اس کو لیث نے یزید بن ابو حبیب سے اس نے ابو الخیر سے اس نے عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ آپ ہمیں بھتیجے ہیں ہم ایسے لوگوں کے پاس بھی مہمان بنتے ہیں جو ہمیں کھانا نہیں کھلاتے پھر آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ کسی قوم کے پاس مہمان بنو اور وہ لوگ تمہارا اس طرح خیال کریں جس طرح مہمان کا خیال کیا جاتا ہے تو تم لوگ بھی قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم ان سے حق ضیافت لے لو جو ان کے ذمہ لازم ہے ۔ اس کو بخاری نے روایت کی اہے اور مسلم نے قتبیہ سے/

قُلْنَا ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9588

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9589

9590 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو نعيم و قبيصة قالا : نا سفيان عن منصور ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو الحسين أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أنا خلف بن هشام نا أبو عوانة عن منصور عن الشعبي عن أبي كريمة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليلة الضيف حق على مسلم فإن أصبح فهو عليه دين فإن شاء اقتضى و إن شاء ترك لفظ حديث ابن بشران و في رواية القطان فإن شاء اقتضاه و إن شاء تركه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فجل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم نے اور قبصہ نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو سفیان نے منصور سے ح ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین احمد بن محمد بن جعفر جوزی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو منصور نے ان کو شعبی نے ان کو ابو کریمہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مہمان کی رات کی مہمان حق ہوتا ہے مسلمان پر اگر بغیر ضیافت کے صبح کر لے تو وہ ا س پر قرض ہو جاتا ہے اگر چاہے تو وہ اس کا تقاضا و مطالبہ کر دے اگر چاہے تو معاف کر دے ۔ یہ الفاظ ابن بشران کی روایت کے ہیں اور قطان کی ایک روایت میں ہے کہ اگر چاہیے تو اپنے حق کا وہ شخص تقاضا کر لے ۔ یعنی اپنے حق وصول کر لے اگر چاہے تو معاف کر دے۔

أَبِي كَرِيمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أبو نعيم و قبيصة ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9589

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9590

9591 - و قال : عن المقداد قال : أبو نعيم أبو كريمة الشامي ثم أردفه يعقوب بن سفيان برواية شيبان و شعبة عن منصور عن الشعبي عن المقدام أبي كريمة قال : و هو الصحيح

اور کہا ہے کہ حضرت مقداد سے مروی ہے کہ ابو نعیم ابو کریمہ شامی نے کہا پھر ان کو پیچھے لایا یعقوب بن سفیان نے ساتھ روایت شیبان کے اور شعبہ نے منصور سے اس نے شعبی سے اس نے مقدام ابو کریمہ سے وہ کہتے ہیں وہی صحیح ہے ۔

الْمِقْدَادِ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9590

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9591

9592 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر نا الضحاك ابن مخلد ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إبراهيم بن عبد الله نا أبو عاصم نا يزيد بن أبي عبيد عن سلمة بن الأكوع قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صلى الصبح قال : يذهب كل رجل بطائفة فيذهب الرجل بالرجلين و الثلاثة و يذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم بما بقي لفظ حديث ابن بشران و في رواية ابن عبدان يصلي بأصحابه و يذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم بالباقين

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ح اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ابو عاصم نے ان کو یزید بن ابو عبید نے سلمہ بن اکوع سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے تو فرماتے تھے کہ ہر آدمی اپنے گروپ کو ساتھ لے کر جائے لہٰذا ایک آدمی دودو آدمیوں کو یا تین تین کو لے جاتا اور باقی جو رہتا اس کو رسول اللہﷺ لے جاتے ۔ یہ الفاظ ابن بشران کی روایت کے ہیں ۔ اور ابن عبدان کی ایک روایت میں ہے حضور ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے اور باقی رہ جانے والوں کو ساتھ لے جاتے تھے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الصبح ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← الضحاك ابن مخلد ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9591

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9592

9593 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن العيزار بن حديث : أن ابن عباس أتاه الأعراب فقالوا إنا نقيم الصلاة و نؤتي الزكاة و نحج البيت و نصوم رمضان و إن أناسا من المهاجرين يقولون إنا لسنا على شيء فال ابن عباس من أقام الصلاة و آتى الزكاة و حج البيت و صام رمضان و قرى الضيف دخل الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عیزاربن حدیث نے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے ان لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور بیت اللہ کا حج کرتے ہیں اور ہم رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور جب کہ مہاجرین میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کسی شئی پر نہیں ہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص نماز قائم کرے اور زکوٰۃ کرے اور بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور مہمان کو کھالا کھلائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

العيزار بن حديث أن ابن عباس أتاه الأعراب ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9592

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood