شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الاحتكار · حديث 11218
11218 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن محمد ثنا مكي بن إبراهيم ثنا الهيثم بن رافع البصري حدثني أبو يحيى عن فروخ مولى عثمان بن عفان أن عمر بن الخطاب خرج من المسجد فرأى طعاما منثورا فقال : ما هذا الطعام قالوا : جلب من أرض كذا و كذا قال : بارك الله في هذا الطعام و من جلبه فقال : بعض أصحابه يا أمير المؤمنين احتكره فروخ و فلان مولى عمر فدعاهما فقال : ما حملكما على احتكار طعام المسلمين فقالا : يا أمير المؤمنين نشتري بأموالنا و نضع فقال عمر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من احتكر على المسلمين طعاما ضربه الله بالجذام و الإفلاس قال فروخ : أعاهدك الله عز و جل يا أمير المؤمنين و أعاهد الله عز و جل أن لا أشتري طعاما أبدا و أما مولى عمر فزعم أبو يحيى أنه رآه مجذوما مشدوخا زاد فيه غيره و أما مولى عمر فقال : نشتري بأموالنا و نبيع فزعم أبو يحيى أنه رأى مولى عمر بعد حين مجذوما
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن محمد نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو ھیثم بن رافع بصری نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو فروخ مولی ٰعثمان بن عفان نے یہ کہ حضرت عمر بن خطاب مسجد سے نکلے انہوں نے غلہ پھیلا ہوا دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیسا غلہ ہے؟ بتایا گیا کہ فلاں فلاں سرزمین سے لایا گیا ہے۔ فرمایا اس غلے میں اللہ برکت دے اور اس کو بھی جو اس کو لے کر آیا ہے۔ آپ کے کسی ساتھی نے بتایا اے امیر المؤمنین اس غلے کو فروح نے اور فلاں شخص مولی ٰعمر نے جمع کر کے روک رکھا ہے حضرت عمر نے ان دونوں کو بلایا۔ اور پوچھا کہ تمہیں کسی چیز نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ تم مسلمانوں کا غلہ (کھانا) روک رکھو۔ ان دونوں نے کہا اے امیر المومنین ہم اپنے مال کے ساتھ خرید کر کے رکھ دیتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا جو شخص مسلمانوں کا غلہ وغیر ہ روک رکھے اللہ تعالیٰ اس پر جزام اور افلاس مار دیتے ہیں۔
فَرُّوخَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← أبو يحيى ← الهيثم بن رافع البصري ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in leaving monopoly · Hadith 11218
