Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الاحتكار · حديث 11218

11218 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن محمد ثنا مكي بن إبراهيم ثنا الهيثم بن رافع البصري حدثني أبو يحيى عن فروخ مولى عثمان بن عفان أن عمر بن الخطاب خرج من المسجد فرأى طعاما منثورا فقال : ما هذا الطعام قالوا : جلب من أرض كذا و كذا قال : بارك الله في هذا الطعام و من جلبه فقال : بعض أصحابه يا أمير المؤمنين احتكره فروخ و فلان مولى عمر فدعاهما فقال : ما حملكما على احتكار طعام المسلمين فقالا : يا أمير المؤمنين نشتري بأموالنا و نضع فقال عمر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من احتكر على المسلمين طعاما ضربه الله بالجذام و الإفلاس قال فروخ : أعاهدك الله عز و جل يا أمير المؤمنين و أعاهد الله عز و جل أن لا أشتري طعاما أبدا و أما مولى عمر فزعم أبو يحيى أنه رآه مجذوما مشدوخا زاد فيه غيره و أما مولى عمر فقال : نشتري بأموالنا و نبيع فزعم أبو يحيى أنه رأى مولى عمر بعد حين مجذوما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن محمد نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو ھیثم بن رافع بصری نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو فروخ مولی ٰعثمان بن عفان نے یہ کہ حضرت عمر بن خطاب مسجد سے نکلے انہوں نے غلہ پھیلا ہوا دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیسا غلہ ہے؟ بتایا گیا کہ فلاں فلاں سرزمین سے لایا گیا ہے۔ فرمایا اس غلے میں اللہ برکت دے اور اس کو بھی جو اس کو لے کر آیا ہے۔ آپ کے کسی ساتھی نے بتایا اے امیر المؤمنین اس غلے کو فروح نے اور فلاں شخص مولی ٰعمر نے جمع کر کے روک رکھا ہے حضرت عمر نے ان دونوں کو بلایا۔ اور پوچھا کہ تمہیں کسی چیز نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ تم مسلمانوں کا غلہ (کھانا) روک رکھو۔ ان دونوں نے کہا اے امیر المومنین ہم اپنے مال کے ساتھ خرید کر کے رکھ دیتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا جو شخص مسلمانوں کا غلہ وغیر ہ روک رکھے اللہ تعالیٰ اس پر جزام اور افلاس مار دیتے ہیں۔

فَرُّوخَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← أبو يحيى ← الهيثم بن رافع البصري ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in leaving monopoly · Hadith 11218

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الاحتكار · حديث 11219

11219 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا أبو عامر العقدي عن سعيد بن عبد الرحمن قال : سمعت الحسن يقول : كفى غشا للمسلمين أن يتمنى غلاء سعرهم

ہمیں خبردی ابوطاہر فقیہ نے ان کو بو حامد بن بلال نے ان کو ابوالا ز ہر نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو سعید بن عبدالرحمنٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ فرماتے تھے مسلمانوں کے ساتھ کھوٹ اور دھو کہ کرنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ کوئی ان کے دام چڑھ جانے کی تمنا کرے۔

كفى غشا للمسلمين أن يتمنى غلاء سعرهم ← الْحَسَنِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in leaving monopoly · Hadith 11219

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الاحتكار · حديث 11220

11220 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري ثنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق سمعت الثوري يقول : المحتكر عندنا الذي يشتري من سوق المسلمين ليغليه و الجالب ليس بمحتكر و إذا باع في السوق فلم يغير سعره فلا بأس به

ہمیں خبر دی ابو محمد عبد اللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے اس نے سنا ثوری سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک احتکار کرنے اور روک کر رکھنے والا حقیقت میں وہی ہے جو مسلمانوں کے بازار سے چیز خرید لے تاکہ وہ اس کو مہنگا فروخت کرے گا۔ اور مال کو فروخت کے لئے لانے والا احتکار کرنے والا نہیں ہے اور جب بازار میں فروخت کرے اور اس کے دام نہ بدلے پھر اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔

الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in leaving monopoly · Hadith 11220

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الاحتكار · حديث 11221

11221 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرىء قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن سنان ثنا أبو عاصم عن عبد الله بن المؤمل عن عمر بن عبد الرحمن عن عطاء : أن ابن عمر طلب رجلا فسأل عنه فقال : ذهب ليشتري طعاما فقال : للبيت أو للبيع فقالوا : للبيع فقال : أخبروه أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : احتكار الطعام بمكة إلحاد

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو محمد بن حامد مقری نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن سنان نے ان کو ابو عاصم نے عبداللہ بن مومل سے اس نے عمر بن عبد الرحمنٰ سے اس نے عطاء سے یہ کہ عمر نے ایک آدمی کو طلب کیا اور اس سے پوچھا اس نے بتایا کہ وہ اس لئے گیا ہے تاکہ طعام ( غلہ وغیرہ) خریدے ۔ انہوں نے پوچھا۔ کیا گھر کے لئے یا فروخت کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ اس شخص کو بتا دو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے مکہ میں طعام (غلہ وغیرہ) کا احتکار ( روک رکھنا ) الحاد اور بے دینی ہے۔

احتكار الطعام بمكة إلحاد ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أخبروه أني ← للبيع ← للبيت أو للبيع ← ذهب ليشتري طعاما ← عطاء أن ابن عمر طلب رجلا فسأل عنه ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرىء

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in leaving monopoly · Hadith 11221

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إصابة العين · حديث 11222

11222 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الهروي ثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا وهيب عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : العين حق و لو كان شيء يسبق القدر لسبقته العين و إذا استغسلتم فاغسلوا رواه مسلم في الصحيح عن حجاج بن الشاعر و غيره عن مسلم بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی حامد بن محمد مہروی نے ان کو علی بن عبد العزیز نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو وھب نے ابن طاؤس سے اپنے والد سے اس نے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ نظر لگنا حق ہے (سچ ہے ) اگر کوئی چیز ایسی ہوتی جو تقدیر سے سبقت کر سکتی ہوتی تو وہ نظر بد ہوتی جو اس سے سبقت کر جاتی اور جس وقت تم لوگ ( نظر بد کا اثر ختم کرنے کے لئے ) غسل کرکے دینے کے لئے کہہ دیئے جاؤ تو غسل کر لو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیٰح میں حجاج بن شاعر وغیرہ سے اس نے مسلم بن ابراہیم سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو علي حامد بن محمد الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Separation - in injury to the eye · Hadith 11222

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إصابة العين · حديث 11223

11223 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال : رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف و هو يغتسل فعجب منه فقال : تالله أن رأيت كاليوم و لا جلد محياه خدرها أو قال : جلد فتاة في خدرها قال : فليم به حتى ما يرفع فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هل تتهمون أحدا فقالوا : لا يا رسول الله إلا أن عامر بن ربيعة قال له : كذا و كذا قال : فدعاه عامرا ثم قال : سبحان الله على ما يقتل أحدكم أخاه إذا رأى منه شيئا فعجبه فليدع له بالبركة قال : ثم أمره فغسل وجهه و ظاهر كفيه و مرفقيه و غسل صدره و دخلة إزاره و ركبتيه و أطراف قدميه في الإناء ظاهرهما و باطنهما ثم أمره فصب على رأسه و كفا الإناء من خلفه حسبته قال فأمره فحسا منه حسوات فراح مع الركب فقال جعفر بن برقان : ما كنا نعد هذا إلا جفاء فقال : بل هي السنة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے وہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو دیکھا وہ غسل کر رہا تھا اس نے تعجب کیا اس کو دیکھا اور کہا اللہ کی قسم یہ کہ نہیں دیکھا ہے میں نے مثل آج کے دن کے اور نہ ایسی جلد دیکھی جس کی حفاظت کی جاتی ہو یا اس کی پردہ نشینی نے یا یوں کہا یہ تو کسی لڑکی کی جلد ہے جو اپنی گوشتہ نشینی میں رو رہی ہو۔ کہتے ہیں اس کو نظر بد اثر کرگئی یہاں تک کہ وہ اٹھ نہیں سکا۔ لوگوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ کسی کو اس کی نظر بد کی تہمت لگاتے ہو لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ۔ ہاں یہ بات ہے کہ عامر بن ربیعہ نے اس کو ایسے ایسے کہا تھا۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو بلایا پھر کہا: سبحان اللہ ! کس جرم میں قتل کرتا ہے ایک تمہارا اپنے بھائی کو جب اس کی کوئی چیز دیکھتا ہے جو اس کو اچھی لگتی ہے۔ تو چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اس کو حکم دیا اس نے اپنا منہ دھویا اور اپنی ہتھیلیوں کا اوپر کا حصہ اور دونوں کہنیاں اور اس نے اپنا سینہ دھویا اور اپنے تہہ بند کے نیچے کا حصہ اور دونوں گھٹنے اور اپنے دونوں قدموں کے کنارے برتن میں ان کا ظاہر و باطن۔ پھر آپ نے حکم دیا وہ مغسولہ پانی سہل بن حنیف کے سر پر اونڈیلا گیا۔ میرا خیال ہے کہ ایک برتن اس کے پیچھے (انڈیلا گیا ) کہتے ہیں آپ نے اس کو حکم دیا اس نے اس میں سے چند گھونٹ بھرے پھر وہ سواری کے ساتھ چلے گئے کہتے ہیں کہا جعفر بن برقان نے کہ ہم لوگ اس واقعے کو اکھڑ پن سمجھتے تھے انہوں نے کہا کہ بلکہ یہ سنت ہے۔

«تَاللَّهِ؟» ← رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف و هو يغتسل فعجب منه ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Separation - in injury to the eye · Hadith 11223

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إصابة العين · حديث 11224

11224 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا هيثم عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت : كان العائن يؤمر أن يتوضأ فيغتسل به المعين

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ہثیم نے اعمش سے اس نے ابراہیم سے اس نے اسود سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرماتی ہیں ۔ کہ (اس دور میں ) نظر بد لگانے والے سے کہا جاتا تھا کہ وہ وضو کر کے دے پھر اس پانی کے ساتھ وہ شخص غسل دیا جاتا تھا جس کو نظر بد لگ گئی ہوتی تھی۔

كان العائن يؤمر أن يتوضأ فيغتسل به المعين ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← هَيْثَمٌ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Separation - in injury to the eye · Hadith 11224

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إصابة العين · حديث 11225

11225 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة قال : قالت أسماء : يا رسول الله إن بني جعفر تصيبهم العين قال : استرقي لهم فلو كان شيء سابق القدر سبقته العين و رواه أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة عن عبيد عن أسماء بنت عميش

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو عروہ بن عامر نے ان کو عبید بن رفاعہ نے وہ کہتے ہیں کہ بی بی اسماء نے کہا یا رسول اللہ بے شک بنی جعفر جو ہیں ان کو نظر بد لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے لئے جھاڑ پھونک کروائی جائے گی ۔ یا فرمایا کہ میں ان کے لئے جھاڑ دوں گا۔ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر اس سے سبقت کر جاتی۔ اس کو روایت کیا ہے ایوب نے عمرو بن دینار سے اس نے عروہ سے اس نے عبید سے اس نے اسماء بنت عمیش سے ۔

أَسْمَاءَ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Separation - in injury to the eye · Hadith 11225

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إصابة العين · حديث 11226

11226 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني سعيد بن أسد ثنا ضمرة عن ابن شوذب قال : كان عروة بن الزبير إذا كان أيام الرطب قلم حائطه فيدخل الناس فيأكلون و يحملون و كان إذا دخله ردد هذه الآية فيه حتى يخرج منه : { و لولا إذ دخلت جنتك قلت ما شاء الله لا قوة إلا بالله }

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے ان کو نمرہ نے ان کو ابن شوذب نے وہ کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر جب تازہ کھجوروں کے ایام ہوتے تھے ۔ اور وہ اپنے باغ میں داخل ہوتے تو لوگ بھی داخل ہوتے تھے اور لوگ اس میں سے کھاتے اور ساتھ لے کر بھی جاتے۔ اور وہ جب داخل ہوتے تو یہ آیت پڑھتے رہتے تھے یہاں تک کہ اس کو بار بار پڑھتے پڑھتے آپ باغ سے باہر نکل جاتے۔ ولولا اد دخلت جنتك قلت ماشاء الله لاقوة الا بالله۔ ( کیوں ایسا نہ کیا ) کہ جب آپ اپنے باغ میں داخل ہوتے تو یوں پڑھ لیا کرتے ماشاء اللہ اللہ جو کچھ چاہے ( وہی کچھ ہوتا ہے ) لاقوة الا با اللہ ۔ اللہ کی دین کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے کسی کے لئے۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Separation - in injury to the eye · Hadith 11226

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11227

11227 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا شعبة أخبرني سلمة بن كهيل عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يقتضيه قال أبو محمد : قال عفان يتقاضان فأغلظ له فهم به أصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تفعلوا فإن لصاحب الحق مقالا ثم قال : أعطوه سنا مثل سنه فقالوا : يا رسول الله ما نجد إلا ما هو أجود من سنه فقال : أعطوه فإن من خيركم أحسنكم قضاء أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ور ز از نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی سلمہ بن کھیل نے ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ( قرض) کا تقاضا کر رہا تھا ابومحمد کہتے ہیں کہ عفان نے کہا تقاضا کر رہے ہیں آپ ان کے لئے سخت روی اختیار کیجئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اس کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ایسا نہ کرو بے شک صاحب حق کو گرم بات کرنے کا حق ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو نوجوان اونٹوں میں سے اس کے اونٹ کی مثل اونٹ دے دیجئے صحابہ کرام نے بتایا یا رسول اللہ ہمارے پاس جتنے جانور ہیں وہ اس سے زیادہ قیمت کے ہیں اس نے جو اونٹ دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہی اس کو دے دو بے شک تم لوگوں میں سے اچھا وہی ہے جو احسن طریقے پر ادا ئیگی کرے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں شعبہ کی حدیث سے۔

أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ ← عفان يتقاضان فأغلظ له فهم به أصحابه ← أَبُو مُحَمَّد ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يقتضيه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11227

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11228

11228 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المهرجاني بن أبي علي الحافظ أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا محمد بن غالب بن حرب ثنا ثابت بن محمد ثنا مسعر عن محارب بن دثار عن جابر قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم و كان لي عليه دين فقضاني و زادني رواه البخاري في الصحيح عن ثابت بن محمد

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مھر جانی بن ابو ثابت بن محمد نے ان کو مسعر نے محارم بن دثار سے اس نے جابر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ادا کر دیا اور مجھے انصافہ بھی کرکے دیا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ثابت بن محمد سے۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← مِسْعَرٍ، ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِهْرَجَانِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11228

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11229

11229 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي أنا محمد بن أحمد الميداني عن محمد بن يحيى الذهلي ثنا بشر بن عمر حدثني إسماعيل بن إبراهيم بن عبد الله بن أبي ربيعة عن أبيه عن جده قال : استقرض مني رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعين ألفا فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بمال فقال : ادعو لي ابن أبي ربيعة فقال : هذا مالك فبارك الله لك في مالك إنما جزاء السلف الوفاء و الحمد

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو محمد بن احمد میدانی نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو بشر بن عمر نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن عبد اللہ بن ابو ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے قرض لیا چالیس ہزار۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آ گیا۔ آپ نے فرمایا ابوربیعہ کو میرے پاس بلا لاؤ ( میں آ گیا تو ) آپ نے فرمایا یہ لیجئے آپ کا مال ہے اللہ تعالیٰ آپ کے لئے آپ کے مال میں برکت دے۔ یقینی بات ہے کہ پہلے دینے کا بدلہ پوری پوری ادائیگی کر دینا ہے اور شکریہ ادا کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَيْدَانِيُّ، ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11229

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood