Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11182

11182 - حدثنا أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ أنا محمد بن عبد الله بن قريش أنا الحسن بن سفيان قال : ثنا هشام بن عمار ثنا مروان بن معاوية عن عاصم الحول عن أبي عثمان النهدي عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة قال أبو حازم و رواه المؤمل بن إسماعيل عن الثوري عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں حدیث بیان کی ابو حازم عمر بن احمد حافظ نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن قرش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا میں اچھے کام کرنے والے آخرت میں بھی اچھے کاموں والے ہوں گے۔ ابو حازم نے کہا اور اسکو روایت کیا ہے مؤمل بن اسمعیل نے ثوری سے اس نے عاصم سے اس نے ابوعثمان سے اس نے ابوموسیٰ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کو روایت کیا ہے ہشام بن لاحق مدائنی نے ان کو عاصم نے ابوعثمان سے اس نے سلمان سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عاصم الحول ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11182

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11183

11183 - و رواه ابن المبارك عن عاصم عن أبي عثمان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مرسلا و الحديث راجع إلى ما رواه ابن المبارك

اور اس کو روایت کیا ہے ابن مبارک نے عاصم سے اس نے ابو عثمان سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرسلاً روایت ہے اور حدیث راجع ہے اس کی طرف جس کو ابن مبارک نے روایت کیا ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← و رواه ابن المبارك

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11183

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11184

11184 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا جعفر بن محمد بن نصير الخواص حدثني أبو العباس بن مسروق ثنا عبد الله بن الخصيب حدثني محمد بن قدامة الجوهري قال : قال رجل لحماد بن زيد الحديث إن أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة من هؤلاء فقال حماد : أنا أخبرك إذا كان يوم القيامة جمع الله أهل المعروف فجاد عليهم بفضل من فضله و بقي لهم حسناتهم فتلقاهم إخوانهم من المؤمنين المقصرين يسألونهم عن حالهم فيقولون ذهبت السيئات بالحسنات و قد بقينا لا ندري إلى ما نصير قال : فيقولون لهم : فإن ربنا قد جاد علينا بفضل من فضله و بقي لنا حسناتنا التي عملناها فهلموا ندفعها إليكم قال : فيدفعونها فيدخلون بها الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر خواص نے ان کو ابو العباس بن مسروق نے ان کو عبد اللہ بن خصیب نے کو محمد بن قدامہ جوہری نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حماد بن زید سے یہ حدیث بیان کی۔ بے شک دنیا میں اہل معروف وہی اہل معروف ہوں گے آخرت میں انہی میں سے ۔ لہذا حماد نے کہا۔ میں آپ کو خبر دیتا ہوں ۔ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ معروف اور اچھے کام کرنے والوں کو جمع کریں گے اور ان پر اپنے فضل میں سے ایک فضل کی سخاوت کریں گے۔ اور ان کی اپنی نیکیاں باقی رہ جائیں گی۔ لہذا ان کے مؤمن بھائی جو کوتاہیاں کرنے والے ہوں گے وہ ان کو پالیں گے اور وہ ان سے الگ حال دریافت کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ برائیاں نیکیوں کو لے گئیں۔ ہم اس حال میں باقی رہ گئے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کس طرف رجوع کریں گے۔ فرمایا کہ اہل معروف ان سے کہیں گے بے شک ہمارے رب نے اپنے فضل میں سے ایک فضل کی سخاوت کی ہے اور ہماری نیکیاں باقی ہیں جو ہم نے عمل کئے تھے آج ہم وہ تمہیں دے دیتے ہیں فرمایا کہ وہ لوگ ان کو دے دیں گے لہذا وہ جنت میں چلے جائیں گے۔

رجل لحماد بن زيد الحديث ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ ← عبد الله بن الخصيب ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11184

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11185

11185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن المعافي بن أحمد الصيداوي بصيدا قال : أنا عمرو بن عثمان ثنا بقية قال : قال لي شعبة أشفي حديثي حديثك حبيب بن صالح عن يزيد بن شريج عن أبي حي المؤذن عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا يحل لامرىء مسلم أن ينظر في بيت رجل إلا بإذنه فإن نظر فقد دخل و لا يؤم قوما فيخص نفسه بدعاء دونهم فمن فعل فقد خانهم و لا يقوم إلى الصلاة حاقن

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن معافی بن احمد صیداوی نے صیدا ء میں انہوں نے کہا ہمیں خبر دی عمرو بن عثمان نے ان کو بقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعبہ نے میری حدیث کو اپنی حدیث کے ساتھ مقابلہ کیجئے حبیب بن صالح اس نے یزید بن شریح ابوحی المؤذن سے اس نے ثوبان مولی ٰرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کسی مسلمان انسان کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر دیکھے اگر نظر مارے تو گویا وہ داخل ہو گیا۔ اور کوئی شخص اس طرح کسی قوم کی امامت نہ کرے کہ (جب دعا کرے تو ) ان لوگوں کے سوا صرف اپنے آپ کو دعا کے لئے مخصوص کر دے ان کو شامل نہ کرے۔ جس نے ایسا کیا اس نے ان کی خیانت کی اور کوئی شخص نماز کی طرف نہ کھڑا ہو اس حال میں کہ اس نے پیشاب پاخانے کو روک رکھا ہو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ← يزيد بن شريج ← لي شعبة أشفي حديثي حديثك حبيب بن صالح ← بَقِيَّةُ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أبو عبد الله محمد بن المعافي بن أحمد الصيداوي بصيدا ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11185

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11186

11186 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا إسماعيل بن إبراهيم ثنا صالح المري سمعت الحسن يحدث عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما يروي عن ربه عز و جل : أربع خصال : واحدة لي و واحدة فيما بيني و بينك و واحدة فيما بينك و بين عبادي فأما التي لي فاعبدني و لا تشرك بي شيئا و أما التي لك فما عملت من خير يجزئك و أما التي بيني و بينك فمنك الدعاء و علي الإجابة و أما التي بينك و بين عبادي فارضى لهم ما ترضى لنفسك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن صفار نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو صالح مری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ حدیث بیان کرتے تھے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں جو آپ اپنے رب سے روایت کرتے ہیں ( فرمایا کہ ) چار خصلتیں ہیں ایک میری ہے اور ایک تیری ہے اور ایک میرے اور تیرے درمیان ہے اور ایک صفت تیرے اور میرے بندوں کے درمیان ہے۔ بہر حال وہ صفت جو میرے لئے ہے وہ ہے میری عبادت کیجئے میرے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کیجئے۔ اور وہ صفت جو صرف تیرے لئے ہے وہ ہے کہ آپ نے جو بھی خیر کا عمل کیا ہے وہ آپ کو کفایت کرے گا ( اس کی جزا آپ کو ملے گی اور وہ جو میرے اور تیرے درمیان ہے وہ ہے تیری طرف سے دعا اور میری طرف سے قبولیت۔ اور جو تیرے اور میرے بندوں کے درمیان ہے وہ ہے کہ میں ان کے لئے وہی پسند کروں گا جو آپ اپنے نفس کے لئے پسند کریں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← صالح المري ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11186

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11187

11187 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا الحسن بن مكرم ثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل ثنا حفص بن أسلم بن وردان الحجدري سمعت ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رجلا فيما يرى النائم بشر عائذ بن عمرو المزني بالجنة فلم يفعل ثم أتى الثانية فلم يفعل ثم أتى الثالثة فلم يفعل فقيل : إذهب فنم حيث كنت إن تكن رؤياك من الله فإنه سيأتيك فإذا جاءك فقال لك بشر عائذا بالجنة فقل لم هو في الجنة ففعل فقال : لم هو في الجنة قال : إنه لا يلقي أذاه في طريق المسلمين حفض هذا ضعيف إلا أنه قد رواه جعفر بن سليمان عن أسماء بن عبيد قال : قال عائذ المزني لأن أصب طستي في حجلتي أحب إلي من أن تصب في طريق المسلمين قال : فكان لا يخرج من داره ماء إلى الطريق من ماء سماء و لا غيره فرؤي له أنه في الجنة فقيل بم فقال : بكفه أذاه عن المسلمين 11187 - مكرر ـ و هذا فيما أنبأني أبو عبد الرحمن السلمي إجازة أنا أبو عبد الله العسكري ثنا أبو القاسم البغوي ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا جعفر بن سليمان ثنا أسماء بن عبيد : فذكره

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حفص بن اسلم بن وردان مجدری نے اس نے سنا ثابت بنانی سے اس نے انس بن مالک سے کہ ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ عائد بن عمرو مزنی کو جنت کی بشارت دے دیجئے اس نے بشارت نہ دی پھر دوسری بار جواب آیا پھر اس نے نہ دی پھر تیسری بار آیا تو اسنے نہ دی۔ چنانچہ کسی نے اس سے کہا کہ آپ پھر ایک بار اسی جگہ جا کر سوئیں جہاں آپ نے خواب دیکھے ہیں اگر خواب اللہ تعالی ٰکی طرف سے ہوا تو وہ پھر آپ کو نظر آئے گا۔ جب خواب آئے اور کہنے والا آپ سے یہ بات کہے کہ عائد کو جنت کی بشارت دے دیجئے تو آپ پوچھئے گا کہ کس وجہ سے وہ جنت میں ہے؟ اس نے ایسا ہی کیا پو چھا کہ وہ کیوں بنتی ہے؟ فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے راستہ میں کوئی تکلیف دینے والی چیز کو چھوڑتا نہیں ہے۔ اس روایت میں حفص ضعیف ہے۔ مگر شان یہ ہے کہ تحقیق روایت کیا ہے اس کو جعفر بن سلیمان نے اسماء بن عبید سے کہتے ہیں کہ عائذ مدنی نے کہا البتہ اگر میں اپنا بھال اپنے خیمے میں انڈیل دوں مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ وہ مسلمانوں کے راستے میں پھینکا جائے۔ کہتے ہیں کہ اس کے گھر سے بارش کا ہو یا غیر کا پانی نکالیں مسلمانوں کے راستہ کی طرف جب بھی ہوتا مگر یہی خواب دیکھا گیا کہ وہ جنت میں پوچھا گیا کیوں تو بتایا گیا بوجہ اس کے مسلمین کے تحفظ دینے کے اپنی ایذاء سے۔ ( مکرر ہے ) یہ روایت ان میں سے ہے جن کی مجھے خبر دی ابو عبدالرحمن ٰسلمی نے بطور اجازت دینے کے لئے ان کو ابو عبداللہ عسکری نے ان کو ابو القاسم بغوی نے ان کو ابوالربیع زہرانی نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو اسماء بن عبید نے۔ اس نے ذکر کیا ہے مذکور کو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حفص بن أسلم بن وردان الحجدري ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11187

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11188

11188 - حدثنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني الحافظ ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون أنا أبو حيان عن أبيه قال : كان سريج لا يشرع شعبا إلى الطريق إلا إلى داره و لا يموت لأهله سنورة إلا دفنها في داره إتقاء أذى الناس

ہمیں حدیث بیان کی ابوزکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب شیبانی حافظ نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوباب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابو حیان نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سریج نامی شخص نہیں گلی کھولتے تھے راستے کی طرف مگر اپنے گھر کی طرف اور نہیں مرتی تھی ان کے گھر والوں کی بلی مگر اس کو بھی اپنے گھر میں دفن کرتے تھے لوگوں کو ایذاء سے بچانے کے لئے۔

أَبِيهِ ← أَبُو حَيَّانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب الفراء ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني الحافظ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11188

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11189

11189 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز و أبو عمرو بن السماك قالا : ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور ثنا يحيى بن سعيد القطان ثنا ابن جريج أخبرني عطاء بن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أكل من هذه الشجرة الثوم ثم قال بعد الثوم و البصل و الكراث فلا يقربن في مسجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنسان لفظ حديث ابن السماك أخرجاه في الصحيح من حديث ابن جريج و أخرجه مسلم عن محمد بن حاتم عن يحيى

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے اور ابو عمرو بن سماک نے دونوں نے کہا کہ ان کو عبد الرحمنٰ بن محمد بن منصور نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو ابن جریج نے ان کو خبر دی عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس پودے لہسن میں سے کچھ کھا لے۔ اس کے بعد لہسن کے بعد پیاز کہا۔ اور گندنا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے بے شک فرشتے اذیت محسوس کرتے ہیں اس چیز سے جس سے انسان اذیت محسوس کرتے ہیں یہ الفاظ ہیں ابن سماک کی حدیث کے۔ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ابن جریج کی حدیث سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن حاتم سے اس نے یحییٰ سے۔

عطاء بن جابر ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أبو جعفر الرزاز و أبو عمرو بن السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11189

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11190

11190 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن محمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد أنا أحمد بن سلمان ثنا بشر بن موسى ثنا الجميدي ثنا سفيان قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في النوم فقلت : يا رسول الله أرأيت هذا الذي يحدث عنك أن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو أدم فقال : حق

ہمیں خبر دی ابو عبد الله محمد بن احمد بن محمد بن ابو طاہر دقاق نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور میں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا فرماتے ہیں آپ اس حدیث کے بارے میں جو آپ کی طرف سے بیان کی جاتی ہے کہ فرشتے اذیت پاتے ہیں ہر اس چیز سے جس چیز سے بنو آدم اذیت پاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حق ہے۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في النوم فقلت ← سُفْيَانَ، ← الجميدي ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن محمد بن أبي طاهر الدقاق

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11190

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المسلم سر أخيه · حديث 11191

11191 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصغاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن سعيد بن عبد الرحمن عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما يتجالس المتجالسان بالأمانة فلا يحل لأحدهما أن يفشي على صاحبه ما يكره هذا مرسل جيد 11191 - مكرر ـ و بإسناده أنا معمر عن قتادة قال : إذا حدثت بالليل فاخفض صوتك و إذا حدثت بالنهار فانظر من حولك قلت هذا يدخل في باب الاحتياط لحفظ الأسرار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو سعید بن عبدالرحمٰن نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ حقیقت ہے کہ دو ہم نشین مجلس کرتے ہیں امانت داری کے ساتھ لہٰذا دونوں میں سے کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی کا راز فاش کرے جو کچھ وہ نا پسند کرتے۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ( مکرر ہے) اپنی اسناد کے ساتھ مروی ہے ان کو خبردی معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب آپ رات کو بات کریں تو اپنی آواز کو پست کر لیں اور جب دن میں بات کریں تو دیکھ لیں آپ کے گرد کون ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات داخل ہے احتیاط کے باب میں حفظ اسرار کے لئے۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in keeping a Muslim the secret of his brother · Hadith 11191

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المسلم سر أخيه · حديث 11192

11192 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أنا سليمان يعني ابن بلال عن عبد الرحمن بن عطاء عن عبد الملك بن جابر بن عتيك عن جابر بن عبد الله : ـ

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو سلیمان نے یعنی ابن بلال نے عبد الرحمٰن بن عطاء نے اس نے عبد الملک بن جابر بن عتیک نے اس نے جابر بن عبداللہ سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيکٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in keeping a Muslim the secret of his brother · Hadith 11192

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المسلم سر أخيه · حديث 11193

11193 - و حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو نصر محمد بن حمدويه بن سهل المروزي ثنا عبد الله بن حماد الأيلي ثنا يحيى بن صالح ثنا سليمان بن بلال حدثني عبد الملك بن عطاء أن عبد الملك بن جابر بن عتيك أخبره لأن جابر بن عبد الله : أخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا حدث الإنسان حديثا فرأى المحدث المحدث يلتفت حوله فهي أمانة لم يذكر العلوي حوله كذا وجدت في كتابي عن العلوي عبد الملك بن عطاء و إنما هو عبد الرحمن بن عطاء المديني كما رواه ابن وهب

اور ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو نصر محمد بن حمدویہ بن سہل مروزی نے ان کو عبداللہ بن حماد ایلی نے ان کو یحییٰ بن صالح نے ان کو سلمان بن بلال نے ان کو عبد الملک بن عطاء نے یہ کہ عبدالملک بن جابر بن عتیک نے اس کو خبر دی یہ کہ جابر بن عبداللہ نے اس کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے کہ جب کوئی انسان کوئی بات بیان کرے کسی کو اور دیکھے کہ جو بات بتلا رہا ہے وہ جس کو بتلا رہا ہے اس کے ماحول کو دیکھ رہا ہے تو یہ بات اس کے لئے امانت ہوگی۔ اور علوی نے نہیں ذکر کیا ماحول کے لفظ کو میں نے اسی طرح پایا ہے اپنی کتاب میں علوی سے اس نے عبد الملک بن عطاء سے سوائے اس کے نہیں کہ وہ عبد الرحمن ٰبن عطاء مدینی ہے جیسے اس کو روایت کیا ہے ابن وھب نے ۔

أَنَّهُ ← لأن جابر بن عبد الله ← عبد الملك بن عطاء أن عبد الملك بن جابر بن عتيك ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← عبد الله بن حماد الأيلي ← أبو نصر محمد بن حمدويه بن سهل المروزي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter in keeping a Muslim the secret of his brother · Hadith 11193

chevron_left Previous
1…567…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood