Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11170

11170 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسين بن شجاع الصوفي أنا أبو بكر بن الأنباري ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا محمد بن سابق ثنا المنهال بن خليفة و أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا أبو أحمد الزبيري ثنا المنهال بن خليفة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك : حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا ما فرحنا بشيء منذ عرفنا الإسلام فرحنا به قال : إن المؤمن يؤجر في هدايته السبيل و إماطته الأذى عن الطريق و في تعبيره بلسانه عن الأعجمي و أنه يؤجر في إتيانه أهله حتى أنه ليؤجر في السلعة تكون في طرف ثوبه فيلبسها فيخطيها كفه فيخفق لها فؤاده فترد عليه و يكتب له أجرها لفظ حديث ابن سابق و حديث الزبيري مختصر

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو حسین بن شجاع صوفی نے ان کو ابوبکر بن انباری نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو محمد بن سابق نے ان کو منھال بن خلیفہ نے اور ہمیں خبردی ابو سعید محمد بن موسی ٰنے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو منھال بن خلیفہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حدیث ہے کہ سب سے ہم نے اسلام کو سمجھا ہے۔ ہمیں اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی جتنی اس حدیث سے ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ بے شک ایک مؤمن کو راستہ بتانے پر بھی اجر ملتا ہے۔ اور راستہ سے تکلیف دینے والی چیز ہٹانے پر بھی اجر ملتا ہے اور کسی کو عجمی سے عربی میں ترجمہ بتانے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اس کو اپنے گھر میں آنے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اس سامان پر بھی اس کو اجر ملتا ہے جو اس کے کپڑے کے رفو میں ڈال لیتا ہے۔ پھر اس کو نکال کر دے دیتا ہے اس پر بھی اس کو اجر ملے گا۔ یہ الفاظ میں حدیث ابن سابق کے اور حدیث زبیری مختصر ہے۔

الطريق و في تعبيره بلسانه ← إن المؤمن يؤجر في هدايته السبيل و إماطته الأذى ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ← المنهال بن خليفة و ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أبو بكر بن الأنباري ← الحسين بن شجاع الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11170

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11171

11171 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري قراءة ثنا محمد بن أبي العوام ثنا أبو عامر العقدي ثنا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام قال : قال أبو ذر : على كل نفس كل يوم طلعت عليه الشمس صدقة على نفسه قال : قلت : يا رسول الله من أين نتصدق و ليس لنا أموال قال : إن من أبواب الصدقة التكبير و سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر و أستغفر الله و تأمر بالمعروف و تنهى عن المنكر و تعزل الشوكة عن طريق الناس و العظم و الحجر و تهدي الأعمى و تسمع الأصم الأبكم حتى يفقه و تدل المستدل على حاجة له قد علمت مكانها و ترفع بشدة ذراعيك مع الضعيف و تسعى بشدة ساقيك إلى اللهفان المستغيث كل ذلك من أبواب الصدقة منك على نفسك و لك في جماعك زوجتك أجر قال أبو ذر : كيف يكون لي أجر في شهوتي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرأيت لو كان لك ولد فأدرك و رجوت خيره ثم مات أكنت تحتسبه قال : نعم قال : فأنت خلقته قال : قلت : بل الله خلقه قال : فأنت هديته قال : قلت : بل الله هداه قال : أفأنت كنت ترزقه قال : قلت : بل الله يرزقه قال : فكذلك فضعه في جلاله و جنبه حرامه فإن شاء الله أحياه و إن شاء أماته و لك أجر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو جعفر محمد بن عمرو بختری نے بطور قرآت کے۔ ان کو محمد بن ابو العوام نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابو کثیر نے زید بن سلام سے اس نے ابو سلام سے وہ کہتے ہیں ابوذر نے کہا کہ ہر نفس پر ہر دن جو اس پر سورج طلوع ہوتا ہے صدقہ ہے۔ اپنے نفس پر ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ہم کہاں سے صدقہ کر سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس تو مال نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقات کے باب میں سے ہے۔ الله اکبر سبحان الله الحمد لله لا اله الا الله والله اكبر استغفر الله کہنا۔ آپ اچھائی کی تلقین کیجئے اور برائی سے منع کیجئے۔ لوگوں کے راستے سے کانٹا ہٹادیجئے اور ہڈی پتھر ہٹا دیجئے۔ اندھے آدمی کو رہنمائی کر دیجئے گونگے بہرے آدمی کو سنوا کر سمجھا دیجئے۔ راہنمائی مانگنے والے کو اس کی حاجت بتا دیجئے آپ جس کا ٹھکانہ جانتے ہوں اپنی قوت بازو کے ساتھ کمزور کی مدد کیجئے اور ٹانگوں کی قوت کے ساتھ پریشان حال فریاد کرنے والے کے لئے سعی کیجئے یہ ساری باتیں تیری طرف سے صدقہ ہیں تیرے نفس پر ۔ اور تیرے لئے تیری بیوی سے جماع کرنے میں بھی تیرے لئے اجر ہے۔ ابوذر نے کہا کہ میرے لئے میری شہوت میں اجر کیسے ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا بتائیے اگر تیرا بیٹا ہو جائے وہ تجھے پالے اور تو اس کی خیر کی توقع کرے پھر وہ مر جائے کیا تو اس پر ثواب کی امید کرے بولا کہ جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ نہیں اللہ نے اس کو پیدا کیا تھا فرمایا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ کہا کہ نہیں اللہ نے اس کو ہدایت دی تھی۔ فرمایا کیا تم نے اس کو رزق دیا تھا اس نے کہا کہ نہیں بلکہ اللہ نے اس کو رزق دیا تھا۔ فرمایا کہ بس اسی طرح رکھئے ان کو ان کے حلال میں اور بچائیے اس کو اس کے حرام سے بس اگر اللہ چاہتا اس کو حیات دیتا اور اگر چاہا اس نے اس کو موت دی اور تیرے لئے اجر ہے۔

أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11171

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11172

11172 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا علي إسماعيل بن محمد الصفار أنا يحيى بن محمد الصفار أنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا إبراهيم الهجري عن أبي عياض عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : على كل مسلم في كل يوم صدقة قالوا : يا رسول الله و من يطيق هذا قال : إن تسليمك على الرجل صدقة و إماطتك الأذى عن الطريق صدقة و عيادتك المريض صدقة و إغاثتك الملهوف صدقة و هدايتك الطريق صدقة و كل معروف صدقة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو علی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو یحییٰ بن محمد صفار نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو ابراہیم ہجری نے ابو عیاض سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر مسلمان پر ہر دن میں صدقہ لازم ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اس کی کون طاقت رکھے گا ؟ فر مایا کہ تیرا سلام کرنا کسی آدمی کو یہ صدقہ ہے تیرا راستے سے تکلیف دہ شئی کو ہٹانا صدقہ ہے۔ تیرا مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے پریشان حال کی فریاد سننا تیرا یہ صدقہ ہے۔ تیرا راستے کی رہنمائی کرنا صدقہ اور ہرا چھائی صدقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عِيَاضٍ، ← إبراهيم الهجري ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← يحيى بن محمد الصفار ← علي إسماعيل بن محمد الصفار ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11172

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11173

11173 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي ح و حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا مهدي بن ميمون عن واصل مولى أبي عيينة عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر و ربما ذكر عن أبي الأسود الديلي عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عرضت على أعمال أمتي حسنها و سيئها فرأيت من أحسن أعمالهم الأذى يماط عن الطريق و رأيت من سيء أعمالهم النخامة في المسجد لا تدفن و في رواية ابن أسماء عن يحيى بن يعمر عن أبي الأسود لم يقل و ربما ذكر رواه مسلم في الصحيح عن ابن أسماء عن مهدي

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحقٰ نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ان کو مہدی نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو واصل مولی ٰابو عینیہ نے یحییٰ بن عقیل سے اس نے یحییٰ بن یعمر سے اور بسا اوقات ذکر کیا گیا ہے ابوالاسود دیلی سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے اعمال مجھ پر پیش کئے گئے اچھے بھی اور برے بھی میں نے ان کے اعمال میں سے یہ عمل بھی دیکھے کہ انہوں نے راستے سے تکلیف دینے والی چیز بنائی تھی۔ اور انہوں نے ان کے برے اعمال میں یہ بھی دیکھا کہ مسجد میں بلغم تھوکا ہوا دیکھ کر انہوں نے دفن نہ کیا۔ اور ابن اسماء کی ایک روایت میں ہے یحییٰ بن یعمر سے اس نے ابوالا سود سے نہیں کہا۔ اور بسا اوقات ذکر کیا۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسماء سے اس نے مہدی سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← يحيى بن يعمر و ربما ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ ← و، ← مَهْدِيٌّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11173

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11174

11174 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن ثنا محمد بن إسحاق معين بن خزيمة ثنا أحمد بن الحسن الترمذي ثنا محمد بن عرعرة ثنا شعبة عن أبي الفيض قال : سمعت أبا شيبة قال : كان معاذ يمشي و رجل معه فرفع حجرا من الطريق فقال : ما هذا فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من رفع حجرا من الطريق كتبت له حسنة و من كتبت له حسنة دخل الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو احمد بن ابوا لحسن نے ان کو محمد بن اسحاق نے معین بن خزیمہ نے ان کو احمد بن حسن ترمذی نے ان کو محمد بن عرعرہ نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو الفیض نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو شیبہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ پیدل چل رہے تھے اور ان کے ساتھ ایک آدمی تھا معاذ نے راستے سے ایک پتھر اٹھایا تو اس شخص نے پوچھا کہ یہ کیا کیا ہے آپ نے معاذ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جو شخص راستے سے پتھر اٹھالیتا ہے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس کے لئے نیکی لکھ دی جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← «مَا هَذَا؟» ← كان معاذ يمشي و رجل معه فرفع حجرا من الطريق ← أبا شيبة ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← محمد بن إسحاق معين بن خزيمة ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11174

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11175

11175 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : ثنا أبو البحتري عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا يحيى بن آدم ثنا مفضل بن مهلهل عن منصور بن المعتمر عن ربعي بن خراش عن طارق بن عبد الله المحاربي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تبزق بين يديك في الصلاة و لا عن يمينك و لكن عن يسارك إن كان فارغا و إلا تحت قدمك ثم أدلكه يعني بالأرض

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوالجنتری عبداللہ بن محمد شاکر نے ان کو یحییٰ بن آدم نے ان کو مفضل بن مھلھل نے منصور بن معتمر سے اس نے ربعی بن خراش سے اس نے طارق بن عبد اللہ محاربی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ نماز کی حالت میں (تھوکنا پڑے تو ) اپنے سامنے نہ تھوکئے اور دائیں جانب بھی نہیں بلکہ بائیں جانب تھو کیئے اگر وہ خالی ہو ورنہ اپنے قدموں کے نیچے اس کے بعد اس کو زمین کے ساتھ مل دیجئے۔

يسارك إن كان فارغا و إلا تحت قدمك ثم أدلكه يعني بالأرض ← يمينك و لكن ← لا تبزق بين يديك في الصلاة و لا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو الْبَحتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شاكر، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11175

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11176

11176 - أخبرنا أبو سعد الزاهد قال : سمعت علي بن الحسن بن الفقيه يقول : سمعت أبي يقول : سمعت المعروف بعمي يقول : حضر بسطام رجل ادعى الولاية فقام أبو يزيد إليه و زاره فبزق الرجل نحو القبلة فقال أبو يزيد : لا يعطى أدبا من آداب رسول الله صلى الله عليه و سلم و سنته كيف يعطى الولاية

ہمیں خبر دی ابو سعد زاہد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن حسن بن فقیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے کہتے تھے میں نے سنا المعروف عمی سے وہ کہتے تھے۔ بسطام کے پاس ایک آدمی پہنچا جو ولی ہونے کا دعویدار تھا ابو یزید اس کی طرف کھڑے ہو گئے اور اس کی زیارت کی۔ اس شخص نے قبلہ کی طرف بلغم تھوکا تو ابو یزید نے کہا کہ یہ شخص ادب نہیں عطا کیا گیا آداب رسول میں سے اور آپ کی سنت میں سے یہ ولایت کیسے عطا کیا جاسکتا ہے۔

المعروف بعمي ← أَبِي ← علي بن الحسن بن الفقيه ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11176

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11177

11177 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن رمح ثنا سفيان عن خالد الحذاء عن أبي نصر عن عبد الله بن الصامت عن معاذ قال : ما بزقت عن يميني منذ أسلمت أبو نصر هو حميد بن هلال

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو خبر دی احمد بن عبید نے ان کو محمد بن روح نے ان کو سفیان نے خالد حذاء سے ان کو ابو نصر بن عبد اللہ بن صامت نے معاذ سے وہ کہتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں میں نے اپنے دائیں طرف بھی نہیں تھوکا۔ ابونصر وہ حمید بن ہلال ہے۔

يميني منذ أسلمت أبو نصر هو حميد بن هلال ← ما بزقت ← مُعَاذٌ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي نَصْرٍ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11177

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11178

11178 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : قرأت بخط أبي عمرو المستملي سمعت محمد بن عبد الوهاب يقول : حفظي عن عبد الرحمن بن بشر أن يحيى بن سعيد القطان خرج ابنه إلى مكة فقال : أليس ركب الشق الأيسر أي لا يبزق عن يمينه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمر مستملی کی تحریر میں پڑھا تھا۔ کہ میں نے سنا محمد بن عبد الوہاب سے وہ کہتے مجھے یاد ہے عبدالرحمن ٰبن بشران سے کہ یحییٰ بن سعید قطان کا بیٹا مکہ جانے کے لئے روانہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کیا بائیں جانب کافی نہیں ہے دائیں جانب نہ تھوکنا ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← حِفْظِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← بخط أبي عمرو المستملي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11178

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11179

11179 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عباس بن الفضل ثنا أحمد يعني ابن يونس ثنا زهير ثنا محمد بن إسحاق حدثني عبد الله بن محمد بن أبي عتيق عن عامر بن سعد عن أبيه قال : سمعت أو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا تنخم أحدكم في المسجد فليغيب نخامته لا يصيب جلد مؤمن أو ثوبه مؤذية أو يؤذيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو احد یعنی ابن یونس نے ان کو زہیر نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابو عتیق نے عامر بن سعد سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں بلغم تھوک بیٹھے تو اس کو چاہئے کہ اپنے بلغم کو چھپا دے کہ وہ کسی مومن کی جلد کو یا کپڑے کو نہ لگے جو اس کو تکلیف پہنچائے۔

أو ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عبد الله بن محمد بن أبي عتيق ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11179

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11180

11180 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام ثنا محمد بن يحيى الذهلي ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ثنا هشام بن أبي عبد الله عن قتادة عن الحسن عن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المعروف و المنكر خليقتان تنصبان يوم القيامة فأما المعروف فليبشر أصحابه و يعدهم الخير و أما المنكر فيقول : إليكم إليكم فما يستطيعون إلا لزما

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عبد الصمد بن عبد الوارث نے ان کو ہشام بن ابوعبداللہ نے ان کو قتادہ نے حسن سے اسنے ابو موسیٰ اشعری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک ( معروف اور منکر ) اچھائی اور برائی دو مخلوقات ہیں جو قیامت کے دن نصب کی جائیں گی بہر حال معروف تو خوشخبری ہو اس کے کرنے والوں کے لئے وہ ان کو خیر کا وعدہ دیتا ہے بہر حال منکر ۔ وہ کہتا ہے اپنے آپ کو دیکھو وہ نہیں استطاعت رکھتے مگر گناہ کی۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11180

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11181

11181 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا هشام بن لاحق أبو عثمان المدائني سنة خمس و ثمانين و مائة ثنا عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي عن سلمان الفارسي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة و إن أهل المنكر في الدنيا هم أهل المنكر في الآخرة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ہشام بن لاحق ابو عثمان مائنی نے ۱۸۵ء میں ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو سلمان فارسی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں معروف کے کام کرنے والے آخرت میں بھی اہل معروف ہوں گے اور دنیا میں اہل منکر آخرت میں بھی اہل منکر ہی ہوں گے۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← هشام بن لاحق أبو عثمان المدائني سنة خمس و ثمانين و مائة ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11181

chevron_left Previous
1…456…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood