Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11134

11134 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن المغيرة عن أبيه قال : انتهيت إلى رجل يحدث قوما فقال : وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا بمنى غاديا إلى عرفات قال : فجعلت أتشرف الركاب كلما رفعت لي جماعة دفعت إليهم حتى أتيت إلى جماعة من ركب فانطلقت فقدمتهم فنظرت فعرفته بالصفة فتقدمت بين يدي الركاب فلما دنوت فقال بعضهم : خل عن وجوه الركاب يا عبد الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوه فأرب ماله قال : فدنوت فأخذت بالزمام أو قال بالخطام فقلت : يا رسول الله حدثني بعمل يقربني إلى الجنة ويباعدني من النار قال : تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تصوم رمضان و تحب للناس ما تحب أن يؤتى إليك و تكره لهم ما تكره أن يؤتى إليك خل عن وجوه الركاب و روينا أيضا في حديث معن بن يزيد عن النبي صلى الله عليه و سلم في الثالث و الخمسين من الأمالي

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے مغیرہ سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں میں ایک آدمی کے پاس پہنچاوہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہا تھا میں بھی بیٹھ گیا اس نے بتایا میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی گئی میں منی ٰمیں تھا صبح عرفات جانے والا تھا چنانچہ میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر سواروں کو دیکھتا تھا جب کوئی جماعت سامنے آتی میں ان کے پاس چلا جاتا یہاں تک کہ میرے پاس ایک جماعت سواری کو پہنچی میں نے آگے بڑھ کر ان کو دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا اس صفت کے مطابق جو بتائی گئی تھی لہذا میں سواریوں کے آگے آگیا جب میں قریب ہوا تو بعض نے کہا کہ سواروں کے سامنے سے ہٹ جائیے اے عبداللہ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اس کو کوئی کام ہے میں حضور کے قریب ہو اور میں نے سواری کی مہار تھام لی اور میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ نماز قائم کیجئے اور زکاۃ ادا کیجئے بیت اللہ کا حج کیجئے رمضان کے روزے رکھئے اور لوگوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ پسند کریں کہ لوگ آپ کے پاس اس طرح آئیں اور ان کے لئے وہی نا پسند کیجئے جو آپ اپنے لئے نا پسند کرتے ہیں۔ اب آپ سواریوں کے سامنے سے ہٹ جائیے۔ اور میں نے اس کو روایت کیا ہے حدیث معن میں یزید سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امالی میں۔

أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11134

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11135

11135 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن رجل عن الحسن : أن موسى صلى الله عليه و سلم سأل ربه : جماعا من الخير فقال : اصحب الناس بما تحب أن تصحب به

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ایک آدمی سے اس نے حسن سے یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ سے پوچھا جامع خیر کے بارے میں اللہ نے فرمایا آپ لوگوں کے ساتھ صحبت رکھئے اس طریقے پر جو آپ پسند کرتے ہیں کہ لوگ اس طرح آپ کے ساتھ صحبت اختیار کریں۔

رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11135

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11136

11136 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد و أخبرنا هلال بن محمد ثنا الحسين بن يحيى بن عياش ثنا إبراهيم بن مجشر ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال : قال عبد الله بن مسعود : من أحب أن ينصف الناس من نفسه فليأت إلى الناس ما يحب أن يؤتى إليه

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہلال بن محمد نے ان کو حسین بن یحییٰ بن عیاش نے ان کو ابراہیم بن مجشر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے خثیمہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کی ذات کے ساتھ انصاف برتیں وہ لوگوں کے پاس اس طرح آئے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے پاس آئیں۔

خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ← هلال بن محمد، ← محمد بن حماد و ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11136

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11137

11137 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون أنا كهمس بن الحسن عن عبد الله بن يزيد قال : شتم رجل ابن عباس إنك تشتمني و في ثلاث إني لأسمع الحكم من حكام المسلمين يعدل في حكمه فأجبه و لعله لا أقاضي إليه أبدا و إني لأسمع بالغيث يصيب البلدة من بلدان المسلمين فأفرح به و ما لي بها سائمة و لا راعية و إني لآتي على آية في كتاب الله فوددت أن المسلمين كلهم يعلمون منها مثل ما أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو خبر دی کھمس بن حسن نے عبداللہ بن یزید نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کو گالیاں دیتا تھا انہوں نے فرمایا کہ آپ تو مجھے گالیاں دیتے ہیں اور میرے اندر تین صفات ہیں۔ بے شک میں جب سنتا ہوں کوئی فیصلہ اور حکم مسلمانوں کے حاکموں سے کسی کا جو انصاف کرتا ہے اپنے حکم میں پس اس کو پسند کرتا ہوں حالانکہ شاید کبھی بھی اس کی طرف فیصلہ لے کر نہیں جاؤں گا۔ اور بے شک میں البتہ سنتا ہوں بارش کے بارے میں جو پہنچتی ہے کسی شہر کو مسلمانوں شہروں میں سے پس میں خوش ہوتا ہوں اس کے بارے میں حالانکہ وہاں پر میرا کوئی ڈرنے والا جانور نہیں ہوتا اور نہ چراگاہ ہوتی ہے اور میں البتہ آتا ہوں کتاب اللہ کی کسی آیت پر پس میں پسند کرتا ہوں کہ سارے مسلمان اس بارے میں جانیں اس کی مثل جیسے میں جانتا ہوں ۔ ( مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں باتیں دلیل ہیں کہ میں جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہوں دوسروں کے لئے بھی وہی کرتا ہوں اور آپ کے لئے بھی وہی پسند کرتا ہوں مگر آپ مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← کهمس بن الحسن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11137

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11138

11138 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عتبة بن عبد الله قال : من ضمن لي ست ضمنت له الجنة لا تجبنوا عن قتال عدوكم و لا تغلوا فيكم و أنصفوا الناس من أنفسكم و خذوا لمظلومكم من ظالمكم و لا تظالموا في قسمة مواريثكم و لا تحملوا ذنوبكم على ربكم فإذا فعلتم ذلك دخلتم الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس احمد بن ہارون فقیہ نے ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ان کو عقبہ بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ کون ضامن ہے میرے لئے چھے باتوں کا میں ضمانت دیتا ہوں اس کے لئے جنت کی۔ تم لوگ اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے سے بزدل نہ بنو۔ اور آپس میں کھوٹ اور دھوکہ نہ کرو۔ اور اپنے نفسوں کی طرف سے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا۔ اور اپنے معاشرے کے ظالموں سے اپنے مظلوموں کا حق لینا اور اپنی میراث کی تقسیم کرنے میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور اپنے گناہوں کو اپنے رب پر نہ رکھو ( یعنی رب کو ذمہ دار نہ ٹھہراؤ اور جب تم ایسے کرو گے تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

من ضمن لي ست ضمنت له الجنة لا تجبنوا ← عتبة بن عبد الله ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11138

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11139

11139 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا العباس هو الدوري ثنا إسحاق بن عيسى بن الطباع ثنا ابن لهيعة عن خالد بن أبي عمران عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون من السابقون إلى ظل الله عز و جل يوم القيامة قالوا : الله و رسوله أعلم قال : الذين إذا أعطوا الحق قبلوه و إذا سئلوه بذلوه و حكمهم للناس كحكمهم لأنفسهم و أهليهم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس روزی نے ان کو اسحاق بن عیسی ٰبن طباع نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو خالد بن ابو عمران نے ان کو قاسم بن محمد نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن اللہ کے سائے کی طرف سبقت کرنے والے لوگ کون ہوں گے ۔ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا کہ وہ لوگ کہ جب حق دیئے جائیں تو اس کو قبول کر لیتے ہیں اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو اس کو خرچ کرتے ہیں اور ان کا فیصلہ لوگوں کے لئے بھی ایسے ہوتا ہے جیسے ان کے اپنے نفسوں کے لئے اور ان کے گھر والوں کے لئے ہوتا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11139

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11140

11140 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد ثنا أبو بكر محمد بن داود التاجر ثنا أبو القاسم بن منيع ثنا ابن زنجويه عن حجاج الأعور عن ابن المبارك قال : كتب ميمون بن مهران إلى يونس بن عبيد إني أحب أن تكتب إلي بما أنت عليه لأكون عليه قال : فكتب إليه يونس أني جهدت بنفسي أن تحب للناس ما تحب لها و تكره لهم ما تكره لها فإذا هي من ذلك بعيدة و إذا الصوم في اليوم الحار الشديد حره أيسر عليها من ترك ذكر الناس قال الحليمي رحمه الله : و لا ينبغي لمسلم أن يتمنى بقلبه لأخيه من الشر ما يكره لنفسه أو يكره له من الخير ما يتمناه و يحبه لنفسه و إذا عرضت لجماعة المسلمين بلية فلا ينبغي لأحد منهم أن يتسبب إلى الخلاص بإيلام الآخرين و الإغراء بهم بل ينظر لهم كما ينظر لنفسه فإن عجز نظر لنفسه من حيث لا يضرهم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمنين في تراحمهم و توادهم و تواصلهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضو منه تداعى له سائر الجسد بالسهر و الحمى

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعید عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابوبکر محمد بن داؤد تاجر نے ان کو ابو القاسم بن منبع نے ان کو ابن زنجویہ نے ان کو حجاج اعور نے ان کو ابن مبارک نے وہ کہتے ہیں میمون بن مہران نے یونس بن عبید کی طرف لکھا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ آپ میری طرف وہ حالت اور وہ کیفیت لکھیں آپ جس حالت اور جس کیفیت پر ہیں تاکہ (میں بھی اسی کو اپناؤں ) اور اسی حالت و کیفیت پر رہوں کہتے ہیں کہ یونس نے ان کی طرف لکھا کہ بے شک میں جہاد کرتا ہوں اور پوری پوری کوشش کرتا ہوں کہ اپنے نفس کے ساتھ کہ تو لوگوں کے لئے وہی کچھ پسند کر جو تو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اور لوگوں کے لئے وہ سب نا پسند کر جو اپنے لئے نا پسند کرتا ہے۔ اور یہ نفس اسی سے بعید ہے۔ اور جب کہ شدید گرمی کے دن میں روز ہ رکھنا نفس پر زیادہ آسان ہے لوگوں کے ذکر کو ترک کرنے سے۔ شیخ حلیمی کا ارشاد۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مسلمان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اپنے دل سے تمنی کرے شر کی اپنے بھائی کے لئے جو وہ اپنے نفس کے لئے نا پسند کرتا ہے۔ یا اس کے لئے کسی خیر کو نا پسند کرے جس خیر کی وہ خود تمنٰی کرتا ہے اور جس کو وہ اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہے۔ اور جس وقت مسلمانوں کی جماعت کے لئے کوئی آزمائش آن پڑے تو ان میں سے کسی ایک کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو اس آزمائش میں چھوڑ کر اپنی خلاصی اور اپنے چھٹکارے کی تدبیر کرے اور ان کے ساتھ دھوکہ کرے بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ ان کے لئے اسی طرح فکر کرے جیسے اپنے لئے فکر کرتا ہے۔ اور اگر عاجز آ جائے تو پھر اپنے نفس کے لئے ایسی چیز کی فکر کرے جس سے ان کو کسی طرح کوئی نقصان نہ پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمنوں کی مثال باہم شفقت کرنے اور باہم محبت کرنے میں ایک جسم جیسی ہے جب اس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پورا جسم اس کے لئے بخار اور بے چینی میں واقع ہو جاتا ہے۔

ميمون بن مهران إلى يونس بن عبيد إني أحب ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ ← ابن زنجويه، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ← أبو بكر محمد بن داود التاجر ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11140

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11141

11141 - أخبرناه محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي ثنا سعيد بن مسعود ثنا يزيد بن هارون ثنا زكريا بن أبي زائدة و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ثنا أحمد بن نصر ثنا أبو نعيم ثنا زكريا سمعت عامرا سمعت النعمان بن بشير يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن زكريا

ہمیں خبر دی اس کی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو زکریا بن ابوزائدہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو منصور محمد بن قاسم عتکی نے ان کو احمد بن مضر نے ان کو ابو نعیم نے ان کو زکریا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عامر سے اس نے سنا نعمان بن بشیر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابونعیم سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے زکریا سے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرًا ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← زكريا بن أبي زائدة و ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11141

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11142

11142 - و أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي ثنا أبو صالح أحمد بن منصور المروزي ثنا علي بن الحسن بن شقيق أخبرني الحسين بن واقد قال : سمعت سماك بن حرب سمعت النعمان بن بشير يخطب على هذا المنبر فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنما المؤمنون كرجل واحد إذا اشتكى عضو من أعضائه اشتكى جسده أجمع و إذا اشتكى مؤمن اشتكى المؤمنون

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو ابو صالح احمد بن منصور مروزی نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو خبر دی حسین بن واقد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سماک بن حرب سے اس نے سنا نعمان بن بشیر سے وہ خطبہ دے رہے تھے اسی منبر پر انہوں نے کہا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے تھے سارے مومن ایک آدمی کی مثل ہیں کہ جب اس کے اعضاء میں سے کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو پورا جسم بیمار ہو جاتا ہے اور جب ایک مؤمن کبھی تکلیف میں مبتلا ہوتا تو سارے مؤمن تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← النعمان بن بشير يخطب على هذا المنبر ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أبو صالح أحمد بن منصور المروزي، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11142

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11143

11143 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف ثنا عثمان بن سعيد ثنا يعقوب بن كعب الأنطاقي ثنا الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم المؤمن من المؤمن بمنزلة الرأس من الجسد يألم الرأس ما يصيب الجسد و كذلك المؤمن يألم بما يصيب المؤمن قال الحليمي رحمه الله : و كذلك ينبغي أن يكونوا و كما لا يحب أحد لإحدى يديه إلا ما يحب للأخرى و لا لإحدى عينيه أو رجليه أو أذنيه إلا ما يحب للأخرى فكذلك ينبغي له أن لا يحب لأخيه المسلم إلا ما يحب لنفسه و إن كان في البلاد وباء أو جور سلطان أو نهب أو أي بلاء كان فيسلم منه سالم و إن فذكر له أن أخا من إخوانه المسلمين بلي به فقال : الحمد لله فهذا على وحهين و إن أراد حمد الله على أن أصاب أخاه البلاء فهذا خطأ و جهل و إن حمد الله على أن لم يصيبهما معا إن كان له مصيبا و سلمت له نفسه أو أسلم له ماله فهذا صالح كرجل يصيب إحدى يديه بلاء فيحمد الله على أن لم يصبهما معا لكن سلمت له إحدى يديه كما روي عن عروة بن الزبير أنه لما قطعت رجله و أصيب في ولده قال

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابو نضر محمد بن محمد یوسف نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یعقوب بن کعب انطاکی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن مؤمن کے لئے بمنزلہ سر کے ہوتا ہے پورے جسم سے سر درد محسوس کرتا ہے اس چیز سے جو جسم کو پہنچتی ہے اسی طرح مؤمن بھی درد محسوس کرتا ہے اس تکلیف سے جو مؤمن کو پہنچتی ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يعقوب بن كعب الأنطاقي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11143

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11144

11144 - ما أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن يزيد الآدمي ثنا سفيان عن هشام بن عروة قال : جاء رجل إلى عروة بن الزبير فعزاه فقال : بأي شيء تعزيني أبرجل قال : لا و لكن بابنك قطعته الدواب بأرجلها فقال عروة : و أيمك لئن ابتليت لقد عافيت و لئن أخذت لقد أبقيت 11144 - مكرر ـ و روينا عنه في باب الصبر أنه قال : اللهم كان لي بنون سبعة فأخذت منهم واحدا و أبقيت منهم ستة و كان لي أطراف أربعة فأخذت منها طرفا و أبقيت لي ثلاثة و أيمك لئن ابتليت لقد عافيت و لئن أخذت لقد أبقيت قال أحمد : و في مثل هذا ورد

جو ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن یزید آدمی نے ان کو سفیان نے ان کو ہشام بن عروہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عروہ بن زبیر کے پاس آیا۔ اس نے آکر اس کی تعزیت کی انہوں نے پوچھا کہ کس چیز کی آپ نے مجھے تعزیت کی ہے کیا پیر کے بارے میں اس نے کہا کہ نہیں بلکہ آپ کے بیٹے کے بارے میں جس کو جانوروں نے اپنے پیروں سے کاٹ دیا ہے۔ حضرت عروہ نے کہا کس چیز کا صبر کروں اور کس کا شکر ۔ اگر مصیبت میں مبتلا ہوں تو عافیت میں بھی تو ہوں اور اگر بیٹا لے لیا ہے تو باقی بھی تو رکھے ہیں۔ ( مکرر ہے) اور ہم نے ان سے روایت کی ہے باب صبر میں کہ انہوں نے کہا تھا۔ اے اللہ میرے سات بیٹے تھے آپ نے ان میں سے ایک کو لے لیا ہے۔ اور چھ کو آپ نے باقی رکھا ہے اور میرے ہاتھ اور پیر مل کر چار اطراف تھے آپ نے ان میں سے ایک کو لے لیا ہے اور تین کو آپ نے میرے لئے باقی چھوڑ دیا ہے۔ ( میں کس چیز کا صبر کروں اور کس کا شکر کروں ) اگر آپ نے ایک چیز لی ہے تو دوسری سلامت بھی تو رکھی ہے۔ ایک چیز میں مصیبت میں مبتلا کیا ہے دوسری میں عافیت بھی تو دی ہے۔ لہذا میں شکر ہی کرتا ہوں۔

بأي شيء تعزيني أبرجل ← جاء رجل إلى عروة بن الزبير فعزاه ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمَيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← مَا

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11144

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11145

11145 - ما أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن سالم بن عبد الله قال : كان يقال إذا استقبل الرجل شيء من هذا البلاء فقال : الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاه به و فضلني على كثير ممن خلق تفضيلا لم يصبه ذلك البلاء أبدا كائنا ما كان قال معمر : سمعت غير أيوب يذكر في هذا الحديث قال : لم يصبه ذلك البلاء إن شاء الله

جس کی ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے معمر سے ان کو ایوب نے سالم بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جب کسی آدمی کو ان مصائب میں سے کوئی شئی آجائے اور وہ یوں کہے الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاه به وفضلني على كثير ممن خلقنا تفضيلاً۔ اس کو وہ مصیبت کبھی بھی نہیں پہنچے گی۔ جو کچھ بھی ہو جائے۔ معمر نے کہا کہ میں نے ایوب کے سوا سے سناوہ اس حدیث میں ذکر کرتے تھے کہ فرمایا اس کو یہ آزمائش نہیں پہنچے گی۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← مَا

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11145

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood