شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11134
11134 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن المغيرة عن أبيه قال : انتهيت إلى رجل يحدث قوما فقال : وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا بمنى غاديا إلى عرفات قال : فجعلت أتشرف الركاب كلما رفعت لي جماعة دفعت إليهم حتى أتيت إلى جماعة من ركب فانطلقت فقدمتهم فنظرت فعرفته بالصفة فتقدمت بين يدي الركاب فلما دنوت فقال بعضهم : خل عن وجوه الركاب يا عبد الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوه فأرب ماله قال : فدنوت فأخذت بالزمام أو قال بالخطام فقلت : يا رسول الله حدثني بعمل يقربني إلى الجنة ويباعدني من النار قال : تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تصوم رمضان و تحب للناس ما تحب أن يؤتى إليك و تكره لهم ما تكره أن يؤتى إليك خل عن وجوه الركاب و روينا أيضا في حديث معن بن يزيد عن النبي صلى الله عليه و سلم في الثالث و الخمسين من الأمالي
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے مغیرہ سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں میں ایک آدمی کے پاس پہنچاوہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہا تھا میں بھی بیٹھ گیا اس نے بتایا میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی گئی میں منی ٰمیں تھا صبح عرفات جانے والا تھا چنانچہ میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر سواروں کو دیکھتا تھا جب کوئی جماعت سامنے آتی میں ان کے پاس چلا جاتا یہاں تک کہ میرے پاس ایک جماعت سواری کو پہنچی میں نے آگے بڑھ کر ان کو دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا اس صفت کے مطابق جو بتائی گئی تھی لہذا میں سواریوں کے آگے آگیا جب میں قریب ہوا تو بعض نے کہا کہ سواروں کے سامنے سے ہٹ جائیے اے عبداللہ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اس کو کوئی کام ہے میں حضور کے قریب ہو اور میں نے سواری کی مہار تھام لی اور میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ نماز قائم کیجئے اور زکاۃ ادا کیجئے بیت اللہ کا حج کیجئے رمضان کے روزے رکھئے اور لوگوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ پسند کریں کہ لوگ آپ کے پاس اس طرح آئیں اور ان کے لئے وہی نا پسند کیجئے جو آپ اپنے لئے نا پسند کرتے ہیں۔ اب آپ سواریوں کے سامنے سے ہٹ جائیے۔ اور میں نے اس کو روایت کیا ہے حدیث معن میں یزید سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امالی میں۔
أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11134
