Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11254

11254 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانىء ثنا أبو بكر محمد بن إسماعيل بن مهران ثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير ثنا أبي ثنا أبو غسان محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رحم الله عبدا سمحا إذا باع سمحا إذا اقتضى سمحا إذا اشترى رواه البخاري عن علي بن عياش عن أبي غسان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو ابوبکر محمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کو عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو غسان محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس بندے پر جو خوش مزاج ہے جب فروخت کرتا ہے تو خوش مزاجی سے کرتا ہے جب تقاضا کرتا ہے تو خوش مزاج ہوتا ہے جب خریدتا ہے تو خوش مزاج ہوتا ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا علی بن عیاش سے ان کو ابو غسان نے

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبو غسان محمد بن المنكدر ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ کَثِيرٍ ← أبو بكر محمد بن إسماعيل بن مهران ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11254

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11255

11255 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنا إسرائيل عن زيد بن عطاء بن السائب عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غفر الله لرجل كان قبلكم كان سهلا إذا باع سهلا إذا اشترى سهلا إذا قضى سهلا إذا اقتضى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو عباس بن عطاء بن سائب نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدمی کو معاف کر دیا تھا۔ جو تم لوگوں سے پہلے گذرے ہیں۔ نرم مزاج تھا جب بیچتا تھا جب خرید کرتا تھا آسانی کرتا تھا جب ادائیگی کرتا آسانی کرتا اور جب قرض کا تقاضا کرتا تو آسانی کرتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زيد بن عطاء بن السائب ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11255

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11256

11256 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن عبيد الله النرسي ثنا شبابة بن سوار ثنا هشام بن الغاز عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين قال : ابتاع عثمان بن عفان حائطا من رجل فساومه حتى تاومه على الثمن الذي رضي به البائع فقال : أرنا يدك قال : و كانوا لا يستوجبون البيع إلا بالصفقة فلما رأى ذلك الرجل قال : لا أبيعك حتى تزيد لي عشرة آلاف فالتفت عثمان إلى عبد الرحمن بن عوف فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل أدخل الجنة رجلا سمحا بائعا و مبتاعا و قاضيا و مقتضيا اذهب فقد زدتك هذه العشرة آلاف تستوجب لها بهذه الكلمة التي سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبید اللہ نرسی نے ان کو شبابہ بن سوار نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو عبد اللہ بن عبد الرحمن ٰبن ابو حسین نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان نے ایک باغ کی حویلی خرید کی ایک آدمی کے ہاتھ سے دونوں نے اس کے دام طے کئے حتی کہ ایک خاص قیمت پر دونوں راضی ہو گئے جس پر فروخت کرنے والا راضی ہوا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اپنا ہاتھ دکھائیے یعنی ہاتھ ملائیے بتایا کہ وہ لوگ بیع پکی نہ کرتے تھے مگر صفقہ اور ہاتھ بجانے کے ساتھ ۔ جب اس کو دیکھا اس آدمی نے اس نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ بیع نہیں کروں گا یہاں تک کہ آپ میرے لئے دس ہزار کا اضافہ کریں چنانچہ حضرت عثمان بن عبد الرحمن ٰبن عوف کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ بے شک اللہ تعالی ٰنے ایک آدمی کو جنت میں داخل کر دیا تھا جو نرمی کرنے والا تھا فروخت کرتے ہوئے خرید کرتے ہوئے ادا کرنے میں وصول کرنے میں، جائیے میں نے دس ہزار تجھے زیادہ کر دیئے ہیں جو واجب ہیں اس کلمے کے بدلے میں جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11256

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11257

11257 - أخبرنا أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الفقيه أنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري ثنا محمد بن مسلم بن واره ثنا محمد بن شعبة بن سابق ثنا عمرو بن أبي قيس عن ابن أبي ليلى عن أخيه عن أبيه عن أبي بن كعب قال : دخل نبي الله صلى الله عليه و سلم المسجد و أبي بن كعب ملازم رجلا قال : فصلى و قضى حاجته قال : ثم خرج و هو ملازمه قال : حتى الآن يا أبي حتى الآن يا أبي من طلب أخاه فليطلبه بعفاف واف أو غير واف فلما سمع ذلك تركه و تبعه قال : فقال يا نبي الله قلت : قيل من طلب أخاه فليطلبه بعفاف واف أو غير واف قال : نعم قال : يا نبي الله ما العفاف قال : غير شاتمه و لا متشدد عليه و لا متفحش عليه و لا مؤذيه قال : واف أو غير واف قال : مستوف حقه أو تارك بعضه

ہمیں خبر دی ابو طاہر محمد بن محمد بن محمش فقیہ نے ان کو ابوالحسن علی بن ابراہیم بن معاویہ نیساپوری نے ان کو محمد بن مسلم بن وارہ نے ان کو محمد بن شعبہ بن سابق نے ان کو عمرو بن ابو قیس نے ان کو ابولیلیٰ نے ان کو ان کے بھائی نے اپنے والد سے اس نے ابی بن کعب سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ابی بن کعب نے ایک آدمی کوگھیر رکھا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اپنی کوئی اور حاجت پوری کر لی مگر ابھی تک انہوں نے اس آدمی کو پھوڑا نہیں تھا ( یعنی وہ مقر ض تھا یہ اس سے اپنے قرض کا تقاضا کررہے تھے ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابی ابھی تک ( آپ نے اس شخص سے تقاضا جاری رکھا ہوا ہے۔ ) جو شخص اپنے کسی بھائی سے مطالبہ کرے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے مطالبہ کرے درگذر کے ساتھ خواہ وہ پورا وصول کرے یا نہ کرے جب ابی بن کعب نے یہ بات سنی تو اس کو چھوڑ دیا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولئے کہتے ہیں کہ ابی بن کعب نے کہا اے اللہ کے نبی کیا آپ نے یہ فرمایا ہے؟ کہ جو شخص اپنے بھائی سے مطالبہ کرے اس کو چاہئے کہ وہ شرافت کے ساتھ اس سے طلب کرے وہ پورا وصول کرے یا نہ کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں میں نے یہی کہا ہے۔ ابی بن کعب نے کہا اے اللہ کے نبی آپ نے فرمایا عفاف کے ساتھ مطالبہ کرے یہ عفاف کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ تقاضا کرتے ہوئے نہ تو گالیاں دے نہ اس پر سختی کرے نہ بکواس کرے اس کو اور نہ ہی اس کو ایذا پہنچائے۔ فرمایا کہ واف اور غیر واف کا مطلب ہے چاہنے اپنے حق پورا وصول کرے یا کچھ معاف کر دے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← محمد بن شعبة بن سابق ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11257

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11258

11258 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن بن عبدة ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا الحكم بن موسى ثنا الوليد بن مسلم ثنا ابن جريج أنه سمع عطاء يحدث عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اسمع يسمع لك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن بن عبدہ نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن جریج نے کہ اس نے سنا عطاء سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابن عباس سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ دوسرے کی بات سنئے آپ کی بات بھی سنی جائے گی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو الحسن بن عبدة ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11258

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11259

11259 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة أخبرني أبو جعفر الخطمي عن محمد بن كعب عن أبي قتادة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من نفس عن غريم أو محى عنه كان في ظل العرش يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عباس ادیب نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو خبر دی ابو جعفر خطمی نے ان کو محمد بن کعب نے ان کو ابو قتادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا جو شخص اپنے مقروش سے نرمی کرے یا اس کو معاف کر دے وہ قیامت کے دن عرش کے سائے تلے ہو گا۔

غريم أو محى عنه كان في ظل العرش يوم القيامة ← مَنْ نَفَّسَ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11259

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11260

11260 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني فروة بن أبي المغراء أنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن حسان عن المهاجر بن غانم الربضي و هو حي من مذحج قال : سمعت أبا عبد الله الصنابحي يقول : سمعت أبا بكر الصديق يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يسمع الله دعوته و يفرج كربته في الدنيا و الآخرة فلينظر معسرا و ليدع له و من سره أن يظله الله من فور جهنم يوم القيامة و يجعله في ظله فلا يكونن على المؤمنين غليظا و ليكن بهم رحيما

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو فروہ بن ابو مغراء نے ان کو عبد الرحیم بن سلیمان نے محمد بن حسان سے اس نے مہاجر بن غانم ربضی سے وہ قبیلہ ہے مذحج سے انہوں نے سنا ابو عبداللہ ضابحی سے وہ کہتے میں میں نے سنا ابوبکر صدیق سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کی دعا کو قبول کرے اور دنیا آخرت میں اس کی مشکل کشائی کردے پس اس کو چاہئے کہ تنگ دست کو مہلت دیا کرے اور اس کے لئے دعا کرے اور جس کو یہ بات خوش لگے کہ اللہ اس کو سایہ کرے جہنم کے شعلوں سے قیامت کے دن اور اس کو اپنے (عرش کے ) سائے تلے رکھے اس کو چاہئے کہ وہ مومنوں پر سخت دل نہ بنے بلکہ ان کے ساتھ رحم دل ہو جائے۔

أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← أبا عبد الله الصنابحي ← المهاجر بن غانم الربضي و هو حي من مذحج ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11260

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11261

11261 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماس ثنا أبو معمر ثنا عبد الوارث عن محمد بن حجادة عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أنظر معسرا كان له بكل يوم صدقة ما لم يحل فإذا حل الدين فإن أنظره بعد الحل فله بكل يوم مثله صدقة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو ابو معمر نے ان کو عبد الوارث نے محمد بن حجادہ سے ان کو سلیمان بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے اس کے لئے ہر روز ایک صدقہ ہوگا جب تک کہ ادائیگی کا وقت نہ آجائے جب قرضہ کی ادائیگی کا وقت آجائے اگر وہ بعد میں پھر مہلت دیتا ہے اس کے لئے ہر روز اسی کی مثل صدقہ ہوگا۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ حُجَادَةَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← ابن أبي قماس ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11261

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11262

11262 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا إبراهيم بن إسحاق الزهري ثنا معلى بن منصور ثنا عبد الوارث بن سعيد عن محمد بن حجادة عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أنظر معسرا كان له بكل يوم صدقة قال : ثم سمعته يقول له : بكل يوم صدقة فقلت يا رسول الله إني سمعتك تقول : فله بكل يوم صدقة و قلت : الآن فله بكل يوم مثله صدقة فقال : أنه ما لم يحل الدين فله بكل يوم صدقة و إذا حل الدين فأنظره فله بكل يوم مثله صدقة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے ان کو ابراہیم بن اسحاق زہری نے ان کو معلیٰ بن منصور نے ان کو عبد الوارث بن سعید نے ان کو محمد بن حجادہ نے ان کو سلیمان بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے اس کے لئے ہر روز صدقہ ہوگا (یعنی ہر روز صدقہ کرنے کا ثواب ہوگا۔) کہتے ہیں کہ بعد میں سنافر ماتے تھے۔ اس کے لئے ہر روز کے بدلے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میں نے آپ سے سنا تھا آپ فرماتے تھے اس شخص کے لئے ہر دن کے بدلے صدقہ ہے۔ اور اب آپ نے یوں فرمایا ہے اس کے لئے ہر روز کے بدلے اس کی مثل صدقہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک قرض کی ادائیگی کا وقت نہ ہو تو اس کے لئے ہر دن کے بدلے میں صدقہ ہے۔ اور جب قرضہ کی ادائیگی کا وقت آجائے پھر اس کو مہلت دے تو اس کے لئے ہر یوم اسی کی مثل صدقہ ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ حُجَادَةَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11262

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11263

11263 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي قال : سالت الأوزاعي عن الرجل يكون له الحق على الرجل فيموت الذي عليه الحق فيريد طالب الحق أن يحله له إن كان أفضل أو يتركه قال : إن لم يحله أخذ قدر حقه لم يزد عليه و أن يحلله منه فتركه له ضعف له بعشرة أضعاف لأن الحسنة بعشرة أمثالها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی سے پوچھا اس آدمی کے بارے میں جس کا کسی دوسرے شخص پر حق ہو پھر وہ شخص مر جائے۔ جس پر حق ہے۔ پھر حق کا مطالبہ کرنے والا یہ ارادہ کرے کہ وہ اس کو یعنی قرضے کو اس سے وصول کرلے۔ اگر افضل ہو یا اس کو ترک کردے۔ انہوں نے جواب دیا اگر وہ اس کو معاف نہ کرے تو اپنے حق کے بقدر اس کو وصول کر لے اس پر زیادہ نہ لے اور اگر وہ اس سے مہلت لے چکا تھا پھر وہ اس کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے دس گونہ دہرا اس لئے کہ نیکی اپنے دس مثلوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11263

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11264

11264 - أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب حدثني ابن لهيعة عن عبد الملك بن هبيرة أن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : لأن أقرض رجلا دينارا فيكون عنده ثم أخذه فأقرضه آخر أحب إلي من أن أتصدق به فإن الصدقة إنما تكتب لك أجرها حين يتصدق بها و هذا يكتب لك أجره ما كان عند صاحبه

ہمیں خبر دی یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو حدیث بیان کی ابن لہیعہ نے ان کو عبد الملک بن ہبیرہ نے یہ کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے کہا اگر میں کسی آدمی کو ایک دینار قرض دوں وہ اس کے پاس رہ جائے پھر میں اس سے لے لوں پھر میں اس کو قرض دوں دوسری بار مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں اس کو ایک دینار صدقہ دے دوں اس لئے کہ بے شک صدقہ کا اجر تیرے لئے لکھا جائے گا جب اس کا صدقہ کیا جائے گا اور یہ قرضہ کا دینار اس کا اجر اس وقت تک تیرے لئے لکھا جاتا رہے گا جب تک وہ اس کے پاس رہے گا۔

عبد الملك بن هبيرة أن عبد الله بن عمرو بن العاص ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11264

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11265

11265 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا مطين ثنا حسن بن عبد الأول ثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل بن أبي خالد عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير كثير و من يعمل به قليل

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو حسن بن عبدالاول نے ان کو ابو خالد احمر نے اسماعیل بن ابو خالد سے اس نے عطاء بن سائب سے اس نے اپنے والد سے اس نے عبداللہ بن عمر و سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تو کثیر ہے اور اس کے ساتھ جو عمل کرتے ہیں وہ قلیل ہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← حسن بن عبد الأول ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11265

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood