Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11230

11230 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن جعفر بن مطر ثنا يحيى بن محمد ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا شعبة عن سماك عن عبد الله بن أبي سفيان يعني ابن الحارث بن عبد المطلب قال : جاء يهودي يتقاضى النبي صلى الله عليه و سلم فأغلظ للنبي صلى الله عليه و سلم فهم به أصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما قدس الله أو قال : ما يرحم الله أمة لا يأخذون للضعيف منهم حقه غير متعتع ثم أرسل إلى خولة بنت حكيم فاستقرضها تمرا فقضاه ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : كذلك يفعل عباد الله المؤمنون أما إنه قد كان عندنا تمر و لكنه قد كان غبرا أو قال : خبزا هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن جعفر بن مطر نے ان کو یحییٰ بن محمد نے ان کو عبید اللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک نے ان کو عبداللہ بن ابوسفیان نے یعنی ابن الحارث بن عبد المطلب نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی آیا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض کا تقاضا کر رہا تھا۔ اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سختی کی جس کی وجہ سے صحابہ کرام اس کے ساتھ ناراض ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ماقدس اللہ ۔نہ مقدس کرے اللہ ۔ یا یوں فرمایا کہ اللہ تعالی ٰاس امت پر رحم نہیں کرے گا جو اپنے میں سے ایک کمزور کا حق نہیں لیتے سوائے رک رک کر کرنے کے پھر آپ نے بی بی خولہ بنت حکیم کے پاس بندہ بھیج کر اس سے کھجور ادھاری لیں اور اس یہودی کا قرض ادا کر دیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے مؤمن بندے اسی طرح کرتے ہیں۔ خبر دار تحقیق ہمارے پاس بھی کھجوریں تھیں مگر وہ اچھی نہیں تھیں ۔ یا یوں کہا تھا خبزایہ روایت مرسل ہے۔

عبد الله بن أبي سفيان يعني ابن الحارث بن عبد المطلب ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن جعفر بن مطر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11230

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11231

11231 - و روي من وجه آخر عن عروة : عن عائشة في ابتياعه جزورا من أعرابي بوسق من تمر و أنه لم يجده عنده فاستقرضه من خويلة و أوفاه لم يذكر كلمة التقديس فقال : إن لصاحب الحق مقالا و قال في آخر فقال الأعرابي : جزاك الله خيرا و بارك عليك فقد أوفيت و أطيت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أولئك خيار عباد الله يوم القيامة الموفون الطيبون أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا الإمام أبو سهل ثنا الحسين بن إسماعيل المحاملي ثنا الحسن بن أحمد بن شعيب ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة عن عائشة بهذا الحديث

روایت کی گئی ہے دوسرے طریق سے عروہ سے اس نے سیدہ عائشہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جزور اونٹ خریدنے کے بارے میں ایک دیہاتی سے کھجوروں کے ایک وسق کے بدلے میں مگر اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود نہیں تھیں تو آپ نے اس کو خویلہ سے ادھاری بطور قرض لے کر دے دیں اور یوں اس کی ادائیگی پوری کر دی۔ یہاں پر راوی نے تقدیس والا کلمہ ذکر نہیں کیا ۔ ( جو گذشتہ روایت میں تھا۔ ) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک صاحب حق کے لئے کہنے کی ایک بات ہوتی ہے (یعنی اس کو گرم گفتگو کرنے کا حق ہوتا ہے)۔ اور راوی نے آخر میں کہا ہے کہ پھر اس دیہاتی نے کہا تھا اللہ تعالی ٰآپ کو جزائے خیر دے اور آپ کے اوپر برکت دے آپ نے پوری ادائیگی کر دی اور عطاء اور بخشش بھی دی لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی لوگ قیامت کے دن اللہ کے بہترین بندے ہوں گے جو بطیب خاطر خوش دلی سے ادائیگی کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو امام ابو سہل نے ان کو حدیث بیان کی حسین بن اسماعیل محاملی نے ان کو حسن بن احمد بن شعیب نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن جعفر بن زبیر نے عروہ سے اس نے عائشہ سے اسی حدیث کے ساتھ ۔

عُرْوَةَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11231

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11232

11232 - و أخبرنا أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا أبو عمرو الفراء حفص بن عمرو و كان من عباد الله الصالحين ثنا حبان بن علي عن سعد بن طريف عن موسى بن طلحة عن خولة امرأة حمزة قالت : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يذاكر حمزة عن الدنيا فقال : إن الدنيا حلوة خضرة فمن أخذها بحقها له فيها و رب متخوض في مال الله و ما رسوله له النار يوم القيامة قالت : و كان على رسول الله صلى الله عليه و سلم وسقان من تمر لرجل من بني ساعدة فأتى الساعدي يتقاضاه فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا يقضيه فأعطاه تمرا دون فرده عليه فقال له الرجل : أترد على رسول الله قال : نعم و من أحق بالعدل من رسول الله قال : صدق و من أحق بالعدل مني و اكتحلت عينا رسول الله صلى الله عليه و سلم بدموعه ثم قال : لا قدس الله أو كيف يقدس الله أمة لا يأخذ ضعيفها حقه من شديدها و هو غير متعتع ثم قال : يا خولة غديه و ادهنيه و اقضيه فإنه ليس من غريم يرجع من عنده غريمه راضيا إلا صلت عليه دواب الأرض و نون البحار و لا غريم يلوي غريمه و هو يقدر إلا كتب الله عليه في كل يوم و ليلة إثما

ہمیں خبر دی ابو منصور محمد بن محمد بن عبد اللہ نخعی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو ابو غرزہ نے ان کو ابو عمروفراج حفص بن عمرو نے جو کہ اللہ کے نیک ترین بندوں میں سے تھے۔ ان کو حبان بن علی نے ان کو سعد بن طریف نے موسی بن طلحہ سے اس نے خواہ حمزہ کی بیوی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ حمزہ کو دنیا سے ڈرا کر نصیحت کر رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا بے شک دنیا میٹھی ہے ہری بھری ہے ( ترو تازہ ہے ) جو اس کو حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ اس کے لئے اس میں خیر ہے ۔بہت سارے لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کے مال میں اور اللہ کے رسول کے مال میں گھستے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہوگی ۔کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی آدمی کے دو وسق کھجور تھے بنو ساعدی میں سے چنانچہ ساعدی آدمی آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کا تقاضا کرنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ذمے لگایا کہ اس نے جا کر اس قرض خواہ کو کھجوریں دے دیں جو کہ کمتر تھیں لہذا اس نے واپس کردیں اس شخص کو۔ اس نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واپس کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ بالکل ۔ اس نے کہا کہ جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون زیادہ حق دار ہے عدل کے ساتھ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے کون زیادہ حق دار ہے انصاف کے لئے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کے بعد فرمایا لا قدس اللہ ۔ یا فرمايا : كيف يقدس الله امۃ : الله تعالى ٰاس امت کو کیسے مقدس بنائے گا جو اپنے میں سے کمزور کے لئے اپنے میں سے شدید کے لئے حق وصول نہیں کر سکتی حالانکہ وہ نا جائز تقاضا کرتے والا نہیں ہے۔ جو سختی اور مشکل پیدا کر رہا ہو اس کے بعد فرمایا اے خواہ آپ صحیح صحیح آئیے اور اس کی ادائیگی کر دیجئے اس لئے کہ نہیں کوئی قرض خواہ جواپنے مقروض سے راضی ہو کر جاتا مگر اس پر زمین پر چلنے پھرنے والے چوپائے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور دریاؤں کی مچھلیاں اور جو مقروض اپنے قرض خواہ کو خواہ مخواہ ٹالتا ہے حالانکہ وہ ادا کرنے پر قدرت رکھتا ہے مگر اللہ تعالی ٰاس پر ہر روز گناہ لکھتا ہے۔

الدُّنْيَا ← خولة امرأة حمزة ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سعد بن طريف ← حبان بن علي ← أبو عمرو الفراء حفص بن عمرو و كان من عباد الله الصالحين ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11232

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11233

11233 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي ثنا أبو توبة أنا عبد الرحمن بن سليمان بن أبي الجون العبسي عن أبي سعد القاص عن معاوية بن إسحاق عن سعيد بن جبير قال : سمعت ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مشى إلى غريمه بحقه صلت عليه دواب الأرض و نون الماء و كتب الله تبارك و تعالى له بكل خطوة شجرة تغرس في الجنة و ذنب يغفر

ہمیں خیر دی ابوعلی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابوتوبہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن سلیمان بن ابو جون عبسی نے ان کو ابو سعید قاضی نے ان کو معاویہ بن اسحاق نے ان کو سعید بن جبیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے قرض خواہ کو اس کا حق دینے کے لئے چل کر جاتا ہے اس کے اوپر زمین پر چلنے والے جانور اور پانی کی مچھلیاں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے میں جنت میں ایک درخت اس کے لئے لگادیتے ہیں اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبي سعد القاص ← عبد الرحمن بن سليمان بن أبي الجون العبسي ← أَبُو تَوْبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11233

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11234

11234 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو جعفر بن مناذر الجوهري ثنا عيسى بن سالم ثنا بقية عن عبد الرحمن بن سليمان عن أبي سعد القاص : فذكره بإسناده غير أنه قال : ربت له بكل خطوة شجرة في الجنة و ذنب يغفر و المحفوظ عن سعيد عن ابن عباس من قوله موقوفا

اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو جعفر بن مناذر جوہری نے ان کو عیسیٰ بن سالم نے ان کو بقیہ نے ان کو عبد الرحمن ٰبن سلیمان نے ان کو ابو سعید قاضی نے اس نے اسی کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے کہ اس کے ہر ہر قدم پر اس کے لئے ایک درخت پالا جاتا ہے جنت میں۔ اور گناہ معاف ہوتا ہے۔ اور وہ روایت جو محفوظ کی گئی ہے سعید سے اس نے ابن عباس سے ان کے قول سے وہ موقوف روایت ہے۔

ابن عباس من قوله موقوفا ← سَعِيدٌ، ← ربت له بكل خطوة شجرة في الجنة و ذنب يغفر و المحفوظ ← أبي سعد القاص فذكره بإسناده غير أنه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← بَقِيَّةُ ← عيسى بن سالم ← أبو جعفر بن مناذر الجوهري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11234

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11235

11235 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر ثنا يحيى بن يحيى بن محمد ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا شعبة عن حبيب القصاب قال : سمعت سعيد بن جبير يقول : قال ابن عباس : من عزل أذى عن الطريق كانت له صدقة و من مشى بدينه إلى غريمه كانت له صدقة و من أعان ضعيفا على حمل دابة كانت له صدقة و كل معروف صدقة قال سعيد : و من قتل وزغا كانت له صدقة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو یحییٰ بن یحیی ٰبن محمد نے ان کو عبید اللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو حبیب قصاب نے وہ کہتے ہیں میں نے سناسعید بن جبیر سے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا جس نے راستے سے ایذا دور کردی اس کے لئے ایک صدقہ ہوا۔ اور جو شخص اپنا قرض ادا کرنے کیلئے اپنے قرض خواہ کے پاس خود چل کر گیا اس کے لئے صدقہ ہے اور جس نے کسی ضعیف کو اپنی سواری پر سوار کر کے اس کی مدد کی اس کے لئے صدقہ ہے اور ہر اچھا کام کرنا صدقہ ہے۔ سعید نے کہا کہ جس نے گرگٹ یعنی زہریلی چھپکلی کو مار دیا اس کے لئے صدقہ ہے۔

ابن عباس من عزل أذى ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حبيب القصاب ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يحيى بن يحيى بن محمد ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11235

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11236

11236 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الرفا ثنا إبراهيم بن زهير ثنا علي بن الحسن بن شقيق عن أبي حمزة السكري عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : من مشى إلى غريمه بحقه كان له بكل خطوة يخطوها صدقة

اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی بن حامد بن محمد رفانے ان کو ابراہیم بن زہیر نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو ابو حمزہ سکری نے ان کو حبیب بن ابو عمرہ نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں۔ جو شخص اپنے قرض خواہ کا حق دینے کے لئے خود چل کر اس کے پاس گیا اس کے لئے ہر قدم پر جو دو قدم اٹھاتا ہے صدقہ ہے۔ یعنی اس پر اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

من مشى إلى غريمه بحقه كان له بكل خطوة يخطوها صدقة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← أَبِي حَمْزَةَ السَّكُرِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← أبو علي حامد بن محمد الرفا ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11236

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11237

11237 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسين بن عبدة ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أبو صالح محبوب بن موسى الفراء أنا عبد الله بن المبارك عن حمزة الزيات حدثني حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأله فاستسلف له رسول الله صلى الله عليه و سلم شطر وسق فأعطاه إياه فجاء الرجل يتقاضاه فأعطاه وسقا و قال : نصف لك قضاء و نصف لك تائل من عندي

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوا لحسین بن عبدہ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بوشجی نے ان کو ابو صالح محبوب بن موسی ٰفراء نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو حمزہ زیات نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ ان سے کچھ مانگ رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے آدھا وسق ادھار مانگ کر اس کو کھجوریں دیں۔ پھر وہی آدمی آیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض کا تقاضا کرنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پورا ایک وسق دیا اور فرمای کہ آدھا تو تیرے قرض کی ادائیگی ہے اور باقی آدھا تیرے لئے عطیہ ہے میری طرف سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أبو صالح محبوب بن موسى الفراء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو الحسين بن عبدة ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11237

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11238

11238 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أحمد بن عدي ثنا عبد الله بن محمد بن مسلم ثنا ابن مصفى ثنا بقية عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان : عن معاذ بن جبل أنه سئل عن استقراض الخمير و الخبز فقال : سبحان الله هذا من مكارم الأخلاق فخذ الصغير و أعط الكبير و خذ لك كبيرا و أعط الصغير أو قال : الكبير خيركم أحسنكم قضاء سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ذلك

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن مسلم نے ان کو بن مصفی نے ان کو بقیہ نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ ان سے پوچھا گیا تھا آٹا اور روٹی ( غلہ ) قرض ادھار مانگنے کے بارے میں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ یہ تو اچھے اور عمدہ اخلاق کی بات ہے آپ چھوٹے سے لیجئے اور بڑے کو دیجئے اور اپنے لئے بڑے سے لیجئے اور چھوٹے کو دیجئے ۔ یا یوں کہا تھا کہ بڑا تم میں سے بہتر وہ ہے جو تم میں ادائیگی کے لحاظ سے اچھا ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ اسی طرح فرماتے تھے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← بَقِيَّةُ ← ابْنُ مُصَفَّى، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أحمد بن عدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11238

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11239

11239 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه الهروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خديج بن معاوية عن أبي إسحاق قال : سمعت صلة بن زفر يقول : ثنا أبو اليقظان عمار بن ياسر قال : ثلاث من جمعهن جمع الإيمان الإنفاق من الإقتار ينفق و أن يعلم أن الله عز و جل سيخلف لكم و بإنصاف الناس من نفسك لا تلجىء أحدا إلى سلطان ليذهب بحقه و بذل السلام للعالم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمیرویہ ھروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خدیج بن معاویہ نے ان کو ابو اسحاق نے اس نے سنا صلہ بن زفر سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوالیقظان عمار بن یاسر نے وہ کہتے ہیں کہ تین کام ہیں جس نے وہ جمع کر لئے اس نے ایمان جمع کر لیا۔ ناداری اور غربت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اور یہ جان کہ اللہ تعالی ٰتمہیں اس کے خرچ کرنے کے پیچھے اور دے گا۔ اپنے نفس سے لوگوں کو انصاف دلوانا اس طرح کہ کسی کو مجبور نہ کر دے تو کہ اسے اپنے بادشاہ یا حکمران کے پاس لے جائے تاکہ وہ اس سے حق وصول کرے اور سلام کو عام کرنا سارے عالم کے لئے ۔

أبو اليقظان عمار بن ياسر ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11239

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11240

11240 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد بن محمد بن علي الروذباري أنا أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الهمداني ثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا أخي عن سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن أبي الرجال محمد بن عبد الرحمن عن أمه عمرة بنت عبد الرحمن قالت : سمعت عائشة تقول : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت خصوم بالباب عالية فإذا أحدهما مستوضع الآخر و يسترفقه في شيء و هو يقول : و الله لا أجعل فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم عليهما فقال : أين المتآلي على الله لا يفعل المعروف قال : أنا يا رسول الله له أي ذلك أحب رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل و رواه مسلم عن بعض أصحابه عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی روذباری نے ان کو ابو قاسم بن ابو صالح ہمدانی نے ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے ان کو اسماعیل بن ابواولیس نے ان کو ان کے بھائی نے سلیمان بن بلال سے اس نے یحییٰ بن سعید سے اس نے ابوالرجال محمد بن عبد الرحمٰن سے اس نے اپنی والدہ بنت عبد الرحمن ٰسے وہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے پاس دو آدمیوں کو اونچی آواز کے ساتھ جھگڑتے سنا کہ ایک ان میں سے دوسرے سے کمی کرنے کی بات کر رہا تھا اور کسی چیز میں نرمی مانگ رہا تھا اور دوسرا یہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم میں نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم با ہر نکل کر ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ کون تھا جو اللہ کی قسمیں کھا رہا تھا اس بات سے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا۔ کہتے ہیں کہ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے قسم کھائی تھی مگر اب جو چیز اس کو پسند ہو ( اس کو میری طرف سے اجازت ہے۔) اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں اسماعیل سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے اپنے بعض اصحاب سے اس نے اسماعیل سے۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الهمداني ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ محمد بن عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11240

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11241

11241 - أخبرنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا محمد بن إبراهيم يعني البوشنجي ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير حدثني الليث عن جعفر بن ربيعة عن عبد الرحمن بن هرمز عن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري عن كعب بن مالك : أنه كان له مال على ابن أبي حدرد الأسلمي فلقيه فلزمه فتكلما حتى ارتفعت الأصوات فمر بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فأشار بيده كأنه يقول : النصف فأخذ نصفا مما عليه و ترك نصفا رواه البخاري في الصحيح عن ابن بكير و أخرجه مسلم فقال : رواه الليث

ہمیں خبر دی ابونصر محمد بن علی بن محمد فقیہ شیرازی نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو محمد بن ابراہیم یعنی بوشنجی نے ان کو ہر مزنے ان کو عبد اللہ بن کعب بن مالک انصاری نے ان کو کعب بن مالک نے کہ اس کا مال تھا علی بن ابی حدرد اسلمی کے ذمے وہ اس کو جا کر ملا اور اس سے تقاضا کیا دونوں نے با ہم کلام کیا اور دونوں کی آواز بلند ہوگئی اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گذرے اور آپ نے اشارہ کیا گویا آپ یہ کہہ رہے تھے کہ آدھا کر لو چنانچہ قرض خواہ نے اس سے آدھا لے لیا اور باقی آدھا چھوڑ دیا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابن بکیر سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس کو روایت کیا ہے لیث نے۔

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← محمد بن إبراهيم يعني البوشنجي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11241

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood