شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11230
11230 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن جعفر بن مطر ثنا يحيى بن محمد ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا شعبة عن سماك عن عبد الله بن أبي سفيان يعني ابن الحارث بن عبد المطلب قال : جاء يهودي يتقاضى النبي صلى الله عليه و سلم فأغلظ للنبي صلى الله عليه و سلم فهم به أصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما قدس الله أو قال : ما يرحم الله أمة لا يأخذون للضعيف منهم حقه غير متعتع ثم أرسل إلى خولة بنت حكيم فاستقرضها تمرا فقضاه ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : كذلك يفعل عباد الله المؤمنون أما إنه قد كان عندنا تمر و لكنه قد كان غبرا أو قال : خبزا هذا مرسل
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن جعفر بن مطر نے ان کو یحییٰ بن محمد نے ان کو عبید اللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک نے ان کو عبداللہ بن ابوسفیان نے یعنی ابن الحارث بن عبد المطلب نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی آیا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض کا تقاضا کر رہا تھا۔ اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سختی کی جس کی وجہ سے صحابہ کرام اس کے ساتھ ناراض ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ماقدس اللہ ۔نہ مقدس کرے اللہ ۔ یا یوں فرمایا کہ اللہ تعالی ٰاس امت پر رحم نہیں کرے گا جو اپنے میں سے ایک کمزور کا حق نہیں لیتے سوائے رک رک کر کرنے کے پھر آپ نے بی بی خولہ بنت حکیم کے پاس بندہ بھیج کر اس سے کھجور ادھاری لیں اور اس یہودی کا قرض ادا کر دیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے مؤمن بندے اسی طرح کرتے ہیں۔ خبر دار تحقیق ہمارے پاس بھی کھجوریں تھیں مگر وہ اچھی نہیں تھیں ۔ یا یوں کہا تھا خبزایہ روایت مرسل ہے۔
عبد الله بن أبي سفيان يعني ابن الحارث بن عبد المطلب ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن جعفر بن مطر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11230
