Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11122

11122 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا عمرو بن تميم بن سيار ثنا أبو نعيم و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن عبيد الله بن يزيد ثنا إسحاق بن يوسف الأزرق قالا : ثنا زكريا عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو و في رواية أبو نعيم سمعت عبد الله بن عمرو يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سلم الناس من يده و لسانه و المهاجر من هجر ما نهى الله عنه رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو عمرو بن تمیم بن سیار نے ان کو ابونعیم نے اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو محمد بن عبید اللہ بن یزید نے ان کو اسحاق بن یوسف رزاق نے دونوں نے کہا کہ ان کو زکریا نے ان کو شعبی نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے اور ابو نعیم کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے سنا عبد اللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس شخص کے ہاتھ سے اور زبان سے لوگ سلامتی میں ہوں، اور مہاجر وہ ہے جو شخص ترک کر دے ہر اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے منع فرمایا ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابونعیم سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عبد الله بن عمرو و في رواية أبو نعيم ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← أبو نعيم و ← عمرو بن تميم بن سيار ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11122

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11123

11123 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة ثنا أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق الرازي ثنا يوسف بن يزيد بن كامل ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث بن سعد عن أبي هانىء الخولاني عن عمرو بن مالك الجنبي عن فضالة بن عبيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع : ألا أخبركم بالمؤمن من أمنه الناس على أموالهم و أنفسهم و المسلم من سلم الناس من لسانه و يده و المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله و المهاجر من هجر الخطايا و الذنوب

ہمیں خبر دی ابو عبد الله محمد بن فضل بن نظیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو العباس احمد بن حسن بن اسحاق رازی نے ان کو یوسف بن یزید بن کامل نے ان کو عبد اللہ بن صالح نے ان کولیث بن سعد نے ابو ہانی خولانی سے ان کو عمرو بن مالک جنبی نے فضالہ بن عبید سے وہ کہتے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجتہ الوداع میں۔ کیا میں تمہیں خبر دوں مؤمن کے بارے میں ( کہ مؤمن کون ہوتا ہے ) وہ شخص جس کو لوگ اپنے مالوں پر اور اپنی جانوں پر امین سمجھیں۔ اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامتی میں ہوں اور محفوظ ہوں اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو گنا ہوں اور خطاؤں کو چھوڑ دے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، ← أبي هانىء الخولاني ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ ← أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق الرازي ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11123

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11124

11124 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو عمرو بن السماك ثنا يحيى بن أبي طالب أنا محمد بن عبيد الطنافسي ثنا إسماعيل عن قيس عن جرير بن عبد الله قال : بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم على إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و النصح لكل مسلم أخرجاه في الصحيح من أوجه عن إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو محمد بن عبید طنافسی نے ان کو اسماعیل نے قیس سے اس نے جریر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے بیعت کی نماز کو قائم کرنے زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرط پر بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں کئی طریقوں سے اسماعیل بن ابو خالد سے۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11124

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11125

11125 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي بهمدان ثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شعبة ح و ثنا محمد بن أيوب ثنا مسدد ثنا يحيى عن شعبة عن قتادة عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه رواه البخاري في الصحيح عن مسدد

ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو القاسم عبد الرحمن بن حسن اسدی نے ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل سے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے ’’ ح ‘‘ ان کو حدیث بیان کی محمد بن ایوب نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے شعبہ سے اس نے قتادہ سے اس نے انس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ انہوں نے فرمایا نہیں مؤمن ہو سکتا کوئی ایک تم میں سے یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو کچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مسدد سے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← و، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11125

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11126

11126 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي إملاء أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ثنا عبد الله بن هاشم ثنا وكيع عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن عبد رسول الله الكعبة عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يزحزح عن النار و يدخل الجنة فلتدركه منيته و هو يؤمن بالله و اليوم الآخر و يأتي إلى الناس ما يحب أن يؤتى إليه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر و ابن نمير و الأشج عن وكيع من حديث طويل

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبد اللہ بن ہشام نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو زید بن وہب نے ان کو عبد الرحمن ٰبن عبد رب الکعبہ نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پسند کرتا ہے کہ وہ جہنم سے دور ہو اور جنت میں داخل کیا جائے تو اس کو چاہئے کہ اس کی موت اس کو اس حالت میں پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہو اور آخرت کے دن کے ساتھ ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو وہ خود پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ وہ سلوک کریں مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابوبکر سے اور ابن نمیر سے اور اشج نے وکیع سے طویل حدیث میں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عبد الرحمن بن عبد رسول الله الكعبة ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي إملاء

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11126

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11127

11127 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري الحمامي ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا أحمد بن محمد بن عيسى ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا سلام بن مسكين حدثني أبو طاهر عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له : يا أبا هريرة كن ورعا تكن أعبد و ارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس و أحب للمسلمين المؤمنين ما تحب لنفسك و أهل بيتك و اكره لهم ما تكره لنفسك و أهل بيتك تكن مؤمنا و جاور من جاورت من الناس بإحسان تكن مسلما و إياك و كثرة الضحك فإن في كثرة الضحك فساد القلب

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن احمد بن عمر مقرئی الحامی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰنے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو سلام بن مکین نے ان کو حدیث بیان کی ابو طاہر نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے ابو ہریرہ آپ پرہیزگار بن جائیے آپ سب سے زیادہ عبادت گزار بن جائیں گے۔ اور اللہ آپ نے کے لئے جو کچھ مقسوم بنایا ہے آپ اس پر راضی ہو جائیے آپ سب لوگوں سے زیادہ غنی ہو جائیں گے اور آپ مسلمانوں اور مؤمنوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ اپنے نفس کے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے پسند کرتے ہیں۔ اور وہ چیز ان کے لئے نا پسند کیجئے جو آپ اپنے نفس کے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے نا پسند کرتے ہیں آپ مومن ہو جائیں گے اور آپ پڑوس اختیار کیجئے جس کے آپ پڑوسی بنیں لوگوں میں سے نیکی کے ساتھ آپ مسلمان ہو جائیں گے اور آپ بچائیے اپنے آپ کو ہنسنے کی کثرت سے بے شک ہنسنے کی کثرت میں دل کا فساد ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري الحمامي ببغداد

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11127

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11128

11128 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن أبي قماش ثنا عبد السلام بن مظهر عن جعبر بن سليمان عن أبي طارق و أخبرنا أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة أنا أحمد بن إبراهيم بن الضحاك أبو عبد الله ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو يعقوب المروزي ثنا جعفر بن سليمان ثنا أبو طارق السعدي عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأخذ عني هذه الكلمات فيعمل بهن أو يعلمهن من يعمل بهن قال فقلت : أنا يا رسول الله فأخذ بيدي فعقد بها خمسا و قال : اتق المحارم تكن أعبد الناس و ارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس و أحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما و أحسن إلى جارك تكن مؤمنا و لا تكثر الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو عبد السلام بن مظہر نے جعبر بن سلیمان سے اس نے ابو طارق سے۔ اور ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن احمد بن ابراہیم بن فراس نے مکہ مکرمہ میں ان کو احمد بن ابراہیم بن ضحاک نے ابو عبد اللہ نے ان کو علی بن عبد العزیز نے ان کو ابو یعقوب مروزی نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ابو طارق سعدی نے حسن سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون لے گا مجھ سے یہ کلمات پھر وہ ان کے ساتھ عمل کرے یا کسی ایسے شخص کو ان کی تعلیم دے جو ان پر عمل کرے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا میں سیکھوں گا یا رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ پانچ گرہ بنائیں اور فرمایا کہ محارم سے ( حرام شدہ امور ) بچنا آپ سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بن جائیں گے۔ اللہ نے جو آپ کے لئے تقسیم کی ہے اس پر راضی ہو جائے آپ سب لوگوں سے زیادہ غنی بن جائیں گے اور لوگوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں آپ پکے مسلمان بن جائیں گے اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے آپ کے مومن بن جائیں گے اور آپ کثرت کے ساتھ نہ ہنسئے کیونکہ کثرت کے ساتھ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← أبو طارق السعدي ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو يَعْقُوبَ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أحمد بن إبراهيم بن الضحاك أبو عبد الله ← أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة ← أبي طارق و ← جعبر بن سليمان ← عبد السلام بن مظهر ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11128

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11129

11129 - أخبرنا أبو بكر محمد بن محمد بن أحمد بن رجاء الأديب من أصله ثنا يحيى بن منصور القاضي إملاء ثنا أبو عبد الله محمد بن أيوب الرازي أنا عمرو بن عون الواسطي عن هشيم عن سيار أبي الحكم قال : سمعت خالد بن عبد الله القسري يحدث عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا يزيد بن أسد أحب للناس ما تحب لنفسك

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن محمد بن احمد بن رجاء ادیب نے اپنی اصل کتاب سے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے بطور املاء کے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ایوب راوی نے ان کو عمرو بن عون واسطی نے ان کو ہیثم نے سیار ابوالحکام سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبد اللہ قسری سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے وہ دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے یزید بن اسد آپ لوگوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ اپنے لئے پسند کریں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← خالد بن عبد الله القَسرى ← سيار أبي الحكم ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب الرازي ← يحيى بن منصور القاضي إملاء ← أبو بكر محمد بن محمد بن أحمد بن رجاء الأديب من أصله،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11129

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11130

11130 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن علي الوراق ثنا عبد الله بن رجاء أنا عبد الله بن حسان حدثني حبان بن عاصم و صفية و دحيبة بنتا عليبة : أن حرملة بن عبد الله أخبرهم أنه خرج حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث إلى أن قال : قلت : يا رسول الله ما تأمرني قال : يا حرملة ائت المعروف و اجتنب المنكر و انظر الذي يسر أذنيك أن يقول لك القوم إذا قمت من عندهم فآته و انظر الذي تكره أن يقولوه لك إذا قمت من عندهم فاجتنبه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو عبد اللہ بن رجاء نے ان کو عبد اللہ بن حسان نے ان کو حبان بن عاصم نے اور صفیہ اور دحیبہ نے یہ دونوں بیٹیاں ہیں علیبہ کی یہ کہ حرملہ بن عبد اللہ نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ نکلا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر اس نے حدیث ذکر کی ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کہا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا اے حرملہ آپ معروف کام کیجئے اور منکر سے اجتناب کیجئے اور دیکھئے جو تیرے کانوں کو خوش کرے کہ لوگ تیرے لئے کہا کریں جب تو ان سے اٹھے تو بس تو بھی وہی سلوک ان کے ساتھ کر اور دیکھئے جو کام آپ نا پسند کرتے ہیں کہ وہ آپ کے بارے میں لوگ نہ کہیں جب تو ان سے اٹھے تو بس اس کام سے تو بھی اجتناب کرے۔

حبان بن عاصم و صفية و دحيبة بنتا عليبة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11130

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11131

11131 - و رواه عبد الصمد بن عبد الحارث عن حبان بن عاصم قال : حدثني حرملة بن إياس : فذكره و هو حرملة بن عبد الله بن إياس

اور اس کو روایت کیا ہے عبد الصمد بن حارث نے حبان بن عاصم سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی حرملہ بن ایاس نے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے اور حرملہ وہ ابن عبد اللہ بن ایاس ہے۔

حرملة بن إياس فذكره و هو حرملة بن عبد الله بن إياس ← حبان بن عاصم ← و رواه عبد الصمد بن عبد الحارث

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11131

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11132

11132 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك البزار ثنا سليمان يعني ابن عبد الرحمن ثنا عيسى بن يونس ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن المغيرة بن سعد عن أبيه أو عن عمه : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة فأخذت بزمام الناقة أو خطامها فدفعت فقال : دعوه فأرب ما جيء به قلت : نبئني بعمل يقربني من الجنة و يباعدني من النار فرفع رأسه إلى السماء ساعة ثم قال : لئن كنت أوجزت في الخطبة لقد أعظمت و أطلت تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تصوم رمضان و تأتي إلى الناس الذي تحب أن يأتوه إليك و ما كرهت لنفسك فدع الناس منه خل عن زمام الناقة و رواه يحيى بن عيسى الرملي عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن المغيرة بن سعد بن الأخرم عن أبيه أو عن عمه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک بزار نے ان کو سلیمان نے یعنی ابن عبد الرحمنٰ نے ان کو عیسی ٰبن یونس نے ان کو اعمش نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو مغیرہ بن سعد نے اپنے والد سے اس نے اپنے چچا سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرفہ میں گیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھام لی اور جھٹکا دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑئیے آپ مقصد کی بات کیجئے جس کے لئے آئے ہو۔ میں نے پوچھا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے بعید کر دے آپ نے اپنا سر او پر کو آسمان کی طرف اٹھایا تھوڑی دیر تک اسکے بعد فرمایا اگرچہ تم نے مختصر بات کی ہے مگر آپ نے بڑی لمبی بات کہی ہے۔ آپ اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کریں۔ اور نماز کو قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں اور بیت اللہ کا حج کریں اور رمضان کے روزے رکھیں اور لوگوں کے پاس آپ اس طرح آئیں جس طرح آپ پسند کرتے ہیں کہ لوگ آپ کے پاس آیا کریں جو چیز آپ اپنے لئے نا پسند کرتے ہیں آپ لوگوں کو اس سے بچائیے۔ بس چھوڑئیے اونٹنی کی مہار ۔ روایت کیا ہے اس کو یحییٰ بن عیسی ٰرملی نے اعمش سے اس نے عمرو بن مرہ سے اس نے مغیرہ بن سعد بن اخرم سے اس نے اپنے والد سے یا چچا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

أَبِيهِ أَوْ ← المغيرة بن سعد، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سليمان يعني ابن عبد الرحمن ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11132

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن يحب الرجل لأخيه المسلم ما يحب لنفسه و يكره له ما يكره لنفسه و يدخل فيه إماطة الأذى عن الطريق · حديث 11133

11133 - و أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا علي بن الجعد ثنا همام عن محمد بن جحادة عن المغيرة بن عبد الله اليشكري عن أبيه قال : قدمت الكوفة أنا و صاحب لي لأجلب منها نعالا فعدونا إلى السوق و لما تقم فقلت لصاحبي : لو دخلنا المسجد فإذا رجل من قيس يقال له ابن المنتفق و هو يقول وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وصلى لي فطلبته بمكة فقيل هو بمنى فطلبته بمنى فقيل لي هو بعرفات فانتهيت إليه و هو في ركب من أصحابه فقيل تنح عن طريق رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوا الرجل أرب ماله فدنوت حتى اختلفا عناق راحلتنا و أخذت بزمام راحلته فما يرعني أو ما عاب علي فقلت : شيئان أسألك عنهما ما يدخلني الجنة و ينجيني من النار قال علي بن الجعد في هذا الحديث مرة أخرى لئن كنت أوجزت في المسألة لقد سألت عن عظيم احفظ على تعبد الله لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة المكتوبة و تؤدي الزكاة المفروضة و تصوم رمضان و ما تحب أن يفعله الناس بك فافعله بهم و ما تكره أن يفعله الناس بك فذر الناس منه خل سبيل الناقة أو قال الراحلة قال همام : و أما الحج فقد حج حيث سأله هذا الإسناد أولى بالصحة و قد رواه ابن عون عن محمد بن جحادة فخلط في إسناده و رواه أبو إسحاق عن المغيرة غير أنه لم ينسبه و لم ينسب ابن المنتفق

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ہمام نے محمد بن جحادہ سے اس نے مغیرہ بن عبد اللہ یشکری سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں کوفے میں گیا میں اور میرا ایک دوست تا کہ ہم وہاں سے جوتے لے آئیں۔ ہم لوگ بازار میں گئے ۔ جب کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے ساتھی ہے کہا کہ اگر ہم مسجد میں جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ( چنانچہ ہم لوگ مسجد میں چلے گئے ) وہاں دیکھتے ہیں ایک آدمی موجود ہے اس کا نام ابن مثفق تھا قبیلہ بنو قیس میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی گئی تھی چنانچہ میں ان کی تلاش میں نکلا میں نے مکے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں ہیں وہاں تلاش کیا تو بتایا گیا کہ آپ عرفات میں ہیں میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ اپنے قافلے میں سواری پر تھے اپنے اصحاب کے ساتھ مجھے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوڑ دیں اس آدمی کو اس کو کوئی کام ہے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا یہاں تک کہ ہماری اونٹوں کی گردنیں باہم مل گئیں میں نے ان کی سواری کی مہار پکڑ لی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ہی مجھے ڈانٹا نہ ہی میری اس حرکت کو برا مانا ۔ میں نے کہا مجھے دو چیزیں صرف آپ سے پوچھنی ہیں ایک تو وہ جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور دوسری وہ جو مجھے جہنم سے نجات دے دے علی بن جعد کہتے ہیں دوسری مرتبہ اس حدیث میں کہ اگرچہ آپ نے سوال میں اختصار کیا ہے مگر آپ نے بہت بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے مجھ سے یاد کر لیجئے ۔ آپ اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کرنا فرض نماز قائم کرنا ۔ فرض زکوٰۃ ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا۔ اور جو چیز آپ پسند کرتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں آپ خود بھی لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا۔ اور جو چیز آپ لوگوں سے اپنے لئے نا پسند کریں کہ وہ آپ کے ساتھ ایسا نہ کریں آپ لوگوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرنا۔ اچھا اب اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیجئے ۔ یا سواری کا کہا تھا۔ ہمام نے کہا۔ رہی بہر حال حج کی بات تو وہ اس وقت کہی تھی جب اس شخص نے حج کے بارے میں پوچھا تھا یہ اسناد صحت کے لحاظ سے بہتر ہے۔ اور تحقیق اس کو روایت کیا ابن عون نے محمد بن حجادہ سے اس نے اسناد میں خلط کر دیا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو اسحاق نے مغیرہ سے سوائے اس کے کہ اسنے اس کو منسوب نہیں کیا اور ابن مثفق کا نسب بھی نہیں بتایا۔

قدمت الكوفة ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › And it is the door for a man to love for his Muslim brother what he loves for himself and to hate for him what he hates for himself and which enters into removing harm from the road · Hadith 11133

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood