Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11096

11096 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن ملحان ثنا يحيى بن كثير ثنا الليث حدثني يونس عن ابن شهاب أنه قال : أخبرني حميد بن عبد الرحمن عن أمه أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط أخبرته إنها : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يقول : ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فيقول خيرا أو ينمي خيرا و لم أسمعه يرخص في شيء مما يقول الناس كذبا إلا ثلاث الحرب و الإصلاح بين الناس و حديث الرجل امرأته و حديث المرأة زوجها أخرجه مسلم من حديث ابن وهب عن يونس مختصرا و أخرجاه من حديث صالح عن الزهري

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ملحان نے ان کو یحیی ٰبن کثیر نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ابن شہاب سے کہ انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے حمید بن عبد الرحمنٰ نے اپنی والدہ ام کلثوم عقبہ بن معیط سے اس خاتون نے اس کو خبر دی کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ فرماتے تھے وہ شخص کذاب نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کر دے خواہ وہ اچھی بات کہے یا چغلی کرے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ وہ کسی چیز میں رخصت دیتے ہوں جس کو لوگ جھوٹ کہتے ہیں مگر تین مواقع پر جنگ میں اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں اور مرد کا اپنی عورت سے اور عورت کا اپنے مرد سے بات کرنا۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث بن وہب سے اس نے یونس سے مختصر طور پر اور بخاری ومسلم نے اسکو نقل کیا ہے حدیث صالح سے اس نےزہری سے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← ابْنُ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 11096

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11097

11097 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن ملاعب بن حسان ثنا عبد الرحمن بن واقد ثنا أبو محمد البصري مسلمة بن علقمة عن داود بن أبي هند عن شهر بن حوشب عن الزبرقان عن النواس بن سمعان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن الكذب لا يصلح إلا في ثلاث الحرب فإنها خدعة و الرجل يرضي امرأته و الرجل يصلح بين اثنين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن حسن غصائری نے اس نے ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز سے اس نے احمد بن ملاعب بن حسان سے اس نے عبد الرحمن ٰبن واقد سے اس نے ابو محمد بصری مسلمہ بن علقمہ سے اس نے داؤد بن ہند سے اس نے شہر بن حوشب سے اس نے زبرقان سے اس نے نواس بن سمعان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جھوٹ بولنا درست نہیں ہے مگر تین مواقع پر جنگ میں کیونکہ وہ دھوکہ ہوتی ہے (اور اس وقت جب ) آدمی اپنی بیوی کو راضی کر رہا ہو ( اور اس وقت جب ) آدمی دو کے درمیان صلح کرا رہا ہو۔

النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ← الزِّبْرِقَانِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أبو محمد البصري مسلمة بن علقمة ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ← أحمد بن ملاعب بن حسان ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري

Hadith 11097

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11098

11098 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف ثنا سفيان عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يصلح الكذب إلا في ثلاث الرجل يكذب لامرأته لترضى عنه أو إصلاح بين الناس أو يكذب في الحرب

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو عبد اللہ بن عثمان بن خثیم نے ان کو شہر بن حوشب نے اسماء بنت یزید سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ درست نہیں ہوسکتا مگر تین مواقع پر آدمی جھوٹ بولے اپنی عورت سے تاکہ وہ اس سے خوش ہو جائے۔ یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرانے کے لئے یا جھوٹ بولے جنگ میں۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 11098

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11099

11099 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم بن أبي هاشم العلوي قالا : أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش قال : سمعت مجاهدا يحدث عن طاوس عن ابن عباس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على قبرين فقال : إنهما ليعذبان و ما يعذبان في كبير أما أحدهما فكان يمشي بالنميمة و أما الآخر فكان لا يستنزه من البول قال وكيع لا يتوقاه قال : فدعا بعسيب رطب فشقه اثنين ثم غرس على هذا واحدا و على هذا واحدا ثم قال : لعله أن يخفف عنهما ما لم ييبسا أخرجاه في الصحيح من حديث وكيع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو القاسم بن ابو باشم علوی نے دونوں نے کہا ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبد اللہ نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مجاہد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں طاؤس سے اس نے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گذرے اور فرمایا کہ وہ دونوں عذاب دیئے جارہے ہیں مگر کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیئے جا رہے بلکہ دونوں میں سے ایک تو چغل خوری کرتا رہتا تھا اور دوسرا ایسا تھا کہ وہ پیشاب سے صفائی نہیں رکھتا تھا۔ حضرت وکیع نے کہا کہ وہ پیشاب سے بچتے نہیں تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی تر چھڑی منگوائی اور اس کو چیر کر دو حصوں میں کیا اور ایک حصے کو ایک قبر پر دوسرے کو دوسری قبر پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا۔ شاید کہ عذاب ہلکا کر دیا جائے ان دونوں سے جب تک وہ خشک نہ ہونے پائیں۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث وکیع سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدًا، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم بن أبي هاشم العلوي

Hadith 11099

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11100

11100 - أخبرنا عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق أنا محمد بن المؤمل بن الحسن ثنا الفضل بن محمد البيهقي ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا خليد بن دعلج عن قتادة عن أنس بن مالك قال : قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يعذب في قبره من الغيبة و رجل يعذب في قبره من البول و برجل يعذب في قبره من النميمة و قوله : ما يعذبان في كبير لا يقصد به تصغير الذنب و إنما يقصد به تسهيل الأمر في توقيهما و الله أعلم

ہمیں خبر دی عبد الخالق بن علی بن عبد الخالق نے ان کو محمد بن مؤمل بن حسین نے ان کو فضل بن محمد بیہقی نے ان کو ابو جعفر نفیلی نے ان کو خلید بن دعلج نے قتادہ سے اس نے اس سے مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو قبر میں عذاب دیا جار ہا تھا غیبت کرنے کی وجہ سے اور دوسرا آدمی عذاب دیا جارہاتھا قبر میں پیشاب کی وجہ سے اور تیسرا آدمی اپنی قبر میں عذاب دیا جارہا تھا چغل خوری سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کرنا کہ نہیں عذاب دیئے جارہے ہیں کسی بڑے گناہ میں اس سے یہ مراد نہیں لی جارہی کہ یہ گناہ چھوٹا ہے بلکہ اس سے مراد ہے معاملے کا آسان ہونا یعنی ان سے بچنا آسان تھا مشکل نہیں تھا۔ واللہ اعلم ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← الفضل بن محمد البيهقي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ ← عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق

Hadith 11100

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11101

11101 - أخبرنا أبو العباس بن بن علي بن الحسن الكسائي المصري بمكة ثنا أحمد بن محمد بن أحمد بن أبي الموت إملاء ثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا سعيد بن منصور ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه ثنا محمد بن نصر المروزي و تميم بن محمد قالا : ثنا شيبان بن فروخ ح و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قالوا : نا مهدي بن ميمون ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قالوا : نا مهدي بن ميمون ثنا واصل الحدب عن أبي وائل عن حذيفة : أنه بلغه أن رجلا ينم الحديث فقال حذيفة : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يدخل الجنة نمام و في حديث شيبان و سعيد أنه بلغه عن رجل ينم الحديث و في حديث سعيد بن واصل الأحدب حدثني أبو وائل رواه مسلم في الصحيح عن شيبان بن فروخ و عبد الله بن محمد بن أسماء

ہمیں خبر دی ابو العباس احمد بن علی بن حسن کسائی مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو احمد بن محمد احمد بن ابو الموت نے بطور املا نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو سعید بن منصور نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو النصر فقیہ نے ان کو محمد بن نصر مروزی نے اور تمیم بن محمد نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی شیبان بن فروخ نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ان سب نے کہا کہ ان کو خبر دی مہدی نے میمون سے ان کو واصل احدب نے ان کو ابو وائل نے حذیفہ سے اس کو خبر پہنچی ہے کہ ایک آدمی بات میں چغل خوری کرتا تھا (یا جھوٹی بات کرتا تھا ) حضرت حذیفہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے چغل خوری کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ اور حد یث شیبان اور حدیث سعید میں ہے کہ اس کو خبر پہنچی ہے اس آدمی کے بارے میں جو بات میں جھوٹ اور چغلی کرتا تھا۔ اور سعید بن واصل حدیث کی روایت میں ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ابو وائل نے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں شیبان بن فروخ اور عبد اللہ بن محمد بن اسماء سے۔

شيبان بن فروخ و عبد الله بن محمد بن أسماء ← أبو وائل رواه مسلم في الصحيح ← رجل ينم الحديث و في حديث سعيد بن واصل الأحدب ← لا يدخل الجنة نمام و في حديث شيبان و سعيد أنه بلغه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ ← أَبِي وَائِلٍ ← واصل الحدب ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء، ← و، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← محمد بن نصر المروزي و تميم بن محمد ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ ← أحمد بن محمد بن أحمد بن أبي الموت إملاء ← أبو العباس بن بن علي بن الحسن الكسائي المصري بمكة

Hadith 11101

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11102

11102 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البحتري ثنا العباس بن محمد بن حاتم الدوري ثنا يعلي بن عبيد ثنا الأعمش عن إبراهيم عن همام قال : كنت جالسا عند حذيفة فمر رجل فقالوا : هذا يرفع الحديث إلى السلطان فقال حذيفة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة قتات قال الأعمش : و القتات النمام أخرجه مسلم من حديث الأعمش و أخرجاه من حديث منصور عن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو بن بختری نے ان کو عباس بن محمد بن حاتم دوری نے ان کو یعلی ٰبن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے ہمام سے وہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا حضرت حذیفہ کے پاس ایک آدمی گذرا لوگوں نے کہا کہ یہ حدیث کو مرفوع کرتا ہے سلطان تک پھر حذیفہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں داخل ہوگا جنت میں قتات ۔اعمش نے کہا کہ قتات نمام (چغل خور ہوتا ) ہے اس کو مسلم نے نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث منصور سے اس نے ابراہیم سے۔

حُذَيْفَةَ ← هذا يرفع الحديث إلى السلطان ← كنت جالسا عند حذيفة فمر رجل ← هَمَّامٌ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البحتري ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 11102

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11103

11103 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا أحمد بن سلمة و عبد الله بن محمد قالا : ثنا محمد بن بشار ثنا محمد ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت أبا الأحوص عن عبد الله : أن محمدا صلى الله عليه و سلم قال : ألا أنبئكم ما العضه هي النميمة القالة بين الناس رواه مسلم عن محمد بن بشار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو احمد بن سلمہ نے اور عبداللہ بن محمد نے دونوں نے کہا ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الاحوص سے اس نے عبد اللہ سے یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں عضہ ( تفرقہ ڈالنے والا جھوٹ ) کیا ہے یہ چغل خوری ہے لوگوں کے درمیان پھوٹ پیدا کرنے والی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن بشار سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← ألا أنبئكم ما العضه هي النميمة القالة بين الناس رواه مسلم ← عبد الله أن محمدا صلى الله عليه و سلم ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أحمد بن سلمة و عبد الله بن محمد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11103

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11104

11104 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب انا جعفر بن عون انا إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : كنا نقول في الجاهلية العضة السحر و أن العضة اليوم فيكم القالة قيل : من قال و قال : و حسب الرجل من الكذب أن كل ما يسمعه يحدث

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابراہیم بن ہجری نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں ہم لوگ کہتے تھے جاہلیت میں کہ کاٹ دینے اور تفرقہ پیدا کرنے والی خبر جادو ہے مگر آج کے دور میں وہ چیز تمہارے اندر چغل خوری ہے۔ کہا گیا کہ کس نے کہا اور یہ کہا کہ آدمی کو جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کو بیان کر دے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 11104

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11105

11105 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي و أبو علي الروذباري قالا : أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني ثنا محمد بن عمر ثنا ابن أخي الزهري عن الزهري عن عروة بن حميد قال : سمعت أبا أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : هل تدرون ما العضة قالوا : الله و رسوله أعلم قال : نقل الأحاديث من بعض الناس إلى بعض يفسد بينهم و قد من حديث أنس بن مالك بهذا اللفظ

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے اور ابوعلی روذباری نے کہا ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو محمد بن عمر نے ان کو ابن اخی زہری نے زہری سے اس نے عروہ بن حمید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ایوب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عضہ کیا ہے لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا کہ بعض لوگوں کی بات ایسے بعض تک نقل کر کے پہنچانا جو ان کے درمیان فساد برپا کر دے۔ یعنی لگی بجھائی کرنا۔ (ادھر کی بات ادھر کرنا ) اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے انس بن مالک کی حدیث سے اسی لفظ کے ساتھ ۔

الله و رسوله أعلم ← هل تدرون ما العضة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبَا أَيُّوبَ ← عروة بن حميد ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي و أبو علي الروذباري

Hadith 11105

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11106

11106 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا أبو العلاء الكوفي ثنا هشام بن عمار ثنا الجراح بن مليح ثنا أبو رافع عن قيس بن سعد قال : لولا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم المكر و الخديعة في النار لكنت من أمكر الناس الجراح بن مليح هذا هو النهراني حمصي

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابو العلا ، کوفی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو جراح بن ملیح نے ان کو ابو رافع نے ان کو قیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ مکر اور دھو کہ کرنے والا جہنم میں ہوگا تو میں سب لوگوں سے بڑا مکار ہوتا جراح بن ملیح یہ وہی نہروانی حمصی ہے۔

لَوْلَا أَنِّي ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو رَافِعٍ ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو العلاء الكوفي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 11106

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11107

11107 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الأعلى بن حماد ثنا داود العطار حدثني ابن خيثم المكي عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد حدثته : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبدالاعلی ٰبن حماد نے ان کو دادٔو عطار نے ان کو ابن خثیم مکی نے ان کو شہر بن حوشب نے اسماء بنت یزید سے اس نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو۔۔۔

أسماء بنت يزيد، حدثته: ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابن خيثم المكي ← داود العطار ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 11107

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood