Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11084

11084 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا يحيى بن أيوب ثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن الحكم عن مجاهد عن ابن عباس : في قول الله عز و جل : { اتقوا الله و أصلحوا ذات بينكم } قال : هذا مخرج من الله عز و جل على المؤمنين أن يتقوا الله و يصلحوا ذات بينهم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عباس ادیب نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو سفیان بن حسین نے الحکم سے اس نے مجاہد سے اس نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : اتقوا الله واصلحواذات بينكم : اللہ سے ڈرتے رہو اور آپس میں اصلاح رکھو۔ فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے اہل ایمان پر کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور آپس میں صلح رکھیں۔

ابن عباس في قول الله عز و جل ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11084

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11085

11085 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا هارون بن معروف ثنا عبد الله بن وهب حدثني سعيد بن عبد الرحمن بن أبي العمياء عن السائب بن مهجان من أهل الشام من أهل إيلياء و كان قد أدرك أصحاب رسول الله في حديث ذكره قال : لما دخل عمر رضي الله عنه الشام حمد الله و أثنى عليه و وعظ و ذكر و أمر بالمعروف و نهى عن المنكر ثم قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فينا خطيبا كقيامي فيكم فأمر بتقوى الله و صلة الرحم و صلاح ذات البين و قال : عليكم بالجماعة فإن يد الله على الجماعة و إن الشيطان مع الواحد و هو من الإثنين أبعد لا يخلون رجل بامرأة فإن الشيطان ثالثهما و من ساءته سيئة و سرته حسنته فهو أمارة المسلم المؤمن و أمارة المنافق الذي لا تسوؤه سيئته و لا تسره حسنته إن عمل خيرا لم يرج من الله في ذلك ثوابا و إن عمل شرا لم يخف من الله في ذلك الشر عقوبة و أجملوا في طلب الدنيا فإن الله قد تكفل بأرزاقكم و كل ميسر له عمله الذي كان عاملا استعينوا بالله على أعمالكم فإنه يمحوا ما يشاء و يثبت و عنده أم الكتاب صلى الله عليه و سلم على نبينا محمد و آله و عليه السلام و رحمة الله السلام عليكم هذه خطبة عمر بن الخطاب على أهل الشام أثرها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو سعید بن عبد الرحمن ٰبن ابو العباس نے سائب بن مہجان سے جو اہل شام میں سے ایلیا ، ( بیت المقدس) کے رہنے والے تھے اور وہ اصحاب رسول کو مل چکے تھے ایک حدیث کے بارے میں جس کو انہوں نے ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب ملک شام میں داخل ہوئے تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کی حمد وثناء کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی تذکیر فرمائی ۔ اور امر بالمعروف کیا نہی عن المنکر کی ( بھلائی کی تلقین کی اور برائی سے روکا۔) اس کے بعد انہوں نے فرمایا : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اندر خطبہ ارشاد فرمانے کھڑے ہوئے تھے جیسے میں آپ لوگوں میں کھڑا ہوں۔ انہوں نے اللہ سے ڈرنے کا حکم فرمایا تھا۔ اور صلہ رحمی کرنے کا اور آپس میں صلاح کا اور بنا کر رکھنے کا۔ اور انہوں نے فرمایا تھا تم لوگ اپنے اوپر جماعت کو لازم رکھنا بے شک اللہ کی تائید والا ہاتھ جماعت کے اوپر ہوتا ہے۔ اور بے شک شیطان اکیلے انسان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے دور رہتا ہے۔ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا خلوت میں نہ رہے بے شک شیطان ان میں تیسر ا ہوتا ہے۔ جس شخص کو اس کی برائی بری لگے اور اس کی نیکی اس کو اچھی لگے تو یہ مسلم مؤمن کی نشانی ہے۔ اور منافق کی علامت وہ ہے جو اس کو اس کی برائی بری نہ لگے اور اس کی نیکی اس کو خوش نہ کرے۔ اگر خیر کا عمل کرتا ہے تو وہ اس پر اللہ سے امید نہیں کرتا ۔ اور اگر وہ برائی کا عمل کرتا ہے تو وہ اللہ سے سزا اور پکڑ کا خوف نہیں کرتا اس برائی پر۔ طلب دنیا میں اجمال و اختصار سے کام لو کیونکہ تمہارے رزقوں کی ذمہ داری اللہ نے لے لی ہے اور ہر شخص کے لئے وہ عمل آسان کر دیئے گئے ہیں جو وہ عمل کرنے والا تھا، اللہ سے مدد مانگو اپنے اعمال پر پس بے شک وہی مٹا سکتا ہے جو چاہے اور باقی رکھتا ہے جو چاہے اسی کے قبضے میں ہے اصل کتاب ۔اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر اور ان پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو ۔ السلام علیکم۔ یہ خطبہ ہے عمر بن خطاب کا اہل شام پر جسے اس نے نقل کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

سعيد بن عبد الرحمن بن أبي العمياء ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11085

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11086

11086 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا ابن أبي مريم ثنا الفريابي ثنا إسرائيل ثنا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قلت : يا رسول الله إنا قوم نسأل أموالنا بيننا فقال : يسأل الرجل في الجائحة أو العتق ليصلح بين قومه فإذا بلغ أو كرب فليستعف و في رواية السهمي استعف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو ابن ابومریم نے ان کو فریابی نے ان کو اسرائیل نے ان کو بہزبن حکیم نے اپنے والد سے اس نے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہم اپنے مال آپس میں ایک دوسرے سے مانگتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آدمی مانگ سکتا ہے کسی حاجت میں یا گردن آزاد کرنے میں اور اس لئے تا کہ اپنی قوم میں صلاح کروائے جب اپنی ضرورت و حاجت کو پوری کر لے پھر سوال کرنے اور مانگنے سے رک جائے اور سہمی کی ایک روایت میں ہے استعف پھر رک جا۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11086

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11087

11087 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن الفرج الأزرق ثنا السهمي يعني عبد الله بن بكر ثنا بهز بن حكيم : ـ

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فرج از رق نے ان کو سہمی نے یعنی عبد اللہ بن بکر نے ان کو بہزبن حکیم نے ۔

بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَکْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11087

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11088

11088 - و حدثنا أبو الحسن العلوي أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قالا : ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل سلام من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع عليه الشمس قال : ما يعدل بين اثنين صدقة و يعين الرجل في دابته و يحمله عليها أو يرفع له عليها صدقة و الكلمة الطيبة صدقة و كل خطوة يمشيها إلى الصلاة صدقة و يحيط الأذى عن الطريق صدقة رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق 11088 - مكرر ـ أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا أبو عمرو بن السماك ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم قالا : ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن أم الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام و الصلاة و الصدقة قالوا : بلى يا رسول الله قال : صلاح ذات البين قال و فساد ذات البين هي الحالقة و في رواية ابن السماك فإن فساد ذات البين هي الحالقة

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو عبید اللہ بن ابراہیم بن بالویہ مزکی نے ۔ ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے دونوں نے کہا کہ ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت ہے جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں پر ان کے ہر ہر جوڑے کے بدلے میں صدقہ کرنا لازم ہے ہر دن جوان پر سورج طلوع کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو کچھ دو آدمیوں میں فیصلہ اور عدالت کرتا ہے یہ صدقہ ہے۔ اور کسی انسان کی سواری پر کوئی مددکرتا ہے اس کو اس پر چڑھاتا یا اس کو اس پر کوئی چیز ہٹا کر دیتا ہے یہ صدقہ ہے۔ اور پاکیزہ بات کہہ دینا صدقہ ہے۔ اور نماز کی طرف ہر قدم جو چلتا ہے وہ صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دینے والی چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ مسلم نے اس کو روایت کیا محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاقی سے۔ ( مکر رہے ) ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو ابو عمرو بن سماک نے ’’ ح ‘‘ ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے اس نے عمرو بن مرہ سے اس نے سالم بن ابوالجعد سے اس نے ام درداء سے اس نے ابو درداء سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں صیام صلوۃ اور صدقہ کا افضل درجہ نہ بتا دوں؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتائیے آپ نے فرمایا آپس میں اصلاح اور جوڑ پیدا کرنا۔ آپ نے فرمایا کہ آپس میں فساد اور توڑ یہ مونڈ دینے والی چیز ہے (یعنی برکت کو صاف کر دینے اور مٹا دینے والی ہے ) اور ابن سماک کی ایک روایت میں ہے۔ بے شک آپس میں فساد ہی تباہ کر دینے والی بلا ہے۔

و، ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11088

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11089

11089 - خالفه محمد بن فضل فرواه عن الأعمش عن سالم عن أبي الدرداء : قوله و رواه الزهري عن أبي إدريس أن أبا الدرداء قال : ألا أخبركم بخير لكم من الصيام و الصدقة صلاح ذات البين و إياكم و البغضة فإنها هي الحالقة

محمد بن فضل نے اس کے خلاف بیان کیا ہے پس اس کو روایت کیا ہے اعمش نے سالم سے اس نے ابو درداء سے اسی قول کو ۔ اور اس کو روایت کیا ہے زہری نے ابوادریس سے اس نے ابودرداء سے وہ کہتے ہیں کیا میں تمہیں خبر دوں ایسی چیز کی جو تمہارے لئے روزوں سے اور صدقہ سے بہتر ہو وہ ہے آپس میں اصلاح بچاؤ تم اپنے آپ کو بغض سے ناچاکی سے بے شک وہ مونڈ دینے والی چیز ہے۔

أبي إدريس أن أبا الدرداء ← أبي الدرداء قوله و رواه الزهري ← سَالِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← خالفه محمد بن فضل فرواه

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11089

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11090

11090 - أخبرنا أبو بكر القاضي أنا أبو علي الميداني عن محمد بن يحيى الذهلي ثنا عثمان بن عمر أنا يونس عن الزهري : فذكره موقوفا و كذلك رواه مكحول عن أبي إدريس عن أبي الدرداء قوله

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نےان کو ابوعلی میدانی نے ان کومحمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو یونس نے ان کو زہری نے انہوں نے اس کو بطور موقوف روایت ذکر کیا ہے۔ اور اسی طرح اس کو مکحول نے روایت کیا ہے ابو ادریس سے اس نے ابو درداء سے اسی قول کو ۔

أبي الدرداء قوله ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزهري فذكره موقوفا و كذلك رواه مكحول ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو علي الميداني ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11090

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11091

11091 - و روى يونس بن ميسرة بن حليس عن أبي إدريس الخولاني عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما عمل ابن آدم شيئا أفضل من الصلاة و صلاح ذات البين و خلق حسن أخبرناه أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا محمد بن حجاج ثنا يونس بن ميسرة بن حليس فذكره

اور روایت کیا ہے یونس بن میسرہ بن حلیس نے اس نے ابو ادریس خولانی سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا ابن آدم نہیں عمل کرتا کسی شی کا جو افضل ہو نماز سے اور آپس میں اصلاح اور حسن خلق سے۔ (یعنی یہ تینوں کام افضل ہیں ۔ )ہمیں اس کی خبر دی ابوبکر فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمن ٰنے ان کو محمد بن حجاج نے ان کو یونس بن میسرہ بن حلبس نے اس نے اسی کو ذکر کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← و روى يونس بن ميسرة بن حليس

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11091

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11092

11092 - قال : و حدثنا محمد بن إسماعيل ثنا عبد الله بن يزيد ثنا عبد الرحمن بن زياد عن راشد بن عبد الله المعافري عن عبد الله يزيد عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة صلاح ذات البين

فرماتے ہیں کہ اور ہمیں حدیث بیان کی محمد بن اسماعیل نے ان کو عبد اللہ بن یزید نے ان کو عبد الرحمن ٰبن زیاد نے ان کو راشد بن عبد اللہ معافری نے ان کو عبداللہ بن یزید نے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افضل صدقہ آپس میں اصلاح کروانا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عبد الله يزيد ← راشد بن عبد الله المعافري ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11092

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11093

11093 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين الخسروجردي ثنا عيسى بن محمد بن عيسى المروزي ثنا علي بن حجر ثنا علي بن ثابت الجزري عن الوازع عن أبي سلمة عن أبي أيوب قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا أيوب ألا أخبرك بما يعظم الله به الأجر و يمحو به الذنوب تمشي في إصلاح الناس إذا تباغضوا و تفاسدوا فإنها صدقة يحب الله موضعها تفرد به الوازع عن أبي سلمة و روى من وجه آخر ضعيف عن أبي أيوب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسین خسرو گردی نے ان کو عیسی ٰبن محمد بن عیسیٰ مروزی نے ان کو علی بن حجر نے ان کو علی بن ثابت جزری نے وازع سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے ایوب سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ایوب کیا میں آپ کو خبر نہ دوں اس چیز کے بارے میں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اجر کو بہت بڑا کر دیتے ہیں اور جس کے ساتھ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ وہ جولوگوں کے درمیان اصلاح کے لئے چلے جب وہ باہم بغض کا شکار ہو جائیں اور آپس میں فساد برپا کریں۔ یہ کام کرنا صدقہ ہے اللہ تعالی ٰاس جگہ کو پسند فرماتے ہیں۔ اس کے ساتھ وازع متفرد ہے ابو سلمہ ہے اور روایت کی گئی ہے۔ دوسرے طریق سے جو کہ ضعیف ہے ابو ایوب سے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الوازع ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11093

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11094

11094 - كما أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا أبو الصباح الشامي عن عبد العزيز الشامي عن أبيه عن أبي أيوب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : يا أبا أيوب ألا أدلك على صدقة يرضى الله و رسوله موضعها قال : بلى قال : تصلح بين الناس إذا تفاسدوا و تقرب بينهم إذا تباعدوا

جیسے ہمیں خبر دی ہے ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابو الصباح شامی نے ان کو عبد العزیز شامی نے ان کو ان کے والد نے ابوایوب سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فر مایا تھا اے ابو ایوب کیا میں تمہیں صدقہ پر دلالت کروں اللہ اور اس کا رسول اس کی جگہ کو پسند کرتا ہے؟ ابو ایوب نے کہا ضرور بتائیے یا رسول اللہ فرمایا آپ لوگوں کے درمیان اصلاح کرا دیا کریں جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ فساد مچائیں اور ان کو با ہم قریب کر دیا کریں جب وہ ایک دوسرے سے بعید ہو جایا کریں۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← عبد العزيز الشامي ← أبو الصباح الشامي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← كَمَا

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11094

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإصلاح بين الناس إذا مرجوا و فسدت ذات بينهم · حديث 11095

11095 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا ابن المبارك عن معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أمه أم كلثوم : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس الكاذب من أصلح بين اثنين فقال خيرا أو نمى خيرا أخرجه مسلم من حديث ابن علية عن معمر

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو معمر نے زہری سے ان کو حمیدی بن عبد الرحمٰن نے ان کو ان کی ماں ام کلثوم نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جھوٹا نہیں ہے ( جو شخص جھوٹ بول کر ) دو شخصوں کے درمیان صلاح کرادے پس خیر کی بات کہے یا چغلی کرے اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ابن علیہ کی حدیث سے اس نے معمر سے۔

أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › And it is a door to reform among people if they hope and spoil the soul between them · Hadith 11095

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood