Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7702

7702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن يونس نا عبد العزيز بن أبي سلمة نا ابن شهاب عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل و هو يعاتب أخاه في الحياء يقول : إنك تستحي حتى كأنه قد أضر بك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعه فإن الحياء من الإيمان رواه البخاري عن أحمد بن يونس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونصر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عبد العزیز بن ابو سلمہ نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سالم بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے وہ اپنے بھائی کو حیاء کرنے پر ڈانٹ رہاتھا۔ اور یہ کہہ رہاتھا کہ ایسے شرم وحیاء کرتے ہو جیسے کہ میں تجھے ماروں گا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا چھوڑ یئے اس کو بیشک حیا کرنا ( شرم کرنا ) ایمان میں سے ہے۔ ان کو بخاری نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7702

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7703

7703 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم بن أبي إياس نا شعبة عن قتادة عن أبي السوار العدوي قال : سمعت عمران بن حصين يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء لا يأتي إلا بخير قال : فقال له بشير بن كعب : إنه مكتوب في الحكمة : إن من الحياء وقارا و إن من الحياء سكينة فقال له عمران بن حصين أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و تحدثني عن صحيفتك رواه البخاري عن آدم بن أبي إياس و أخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمن ٰبن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابوایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو ابوسوار عدوی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمران بن حصین سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک حیاء کرنا خیر ہی کولاتا ہے۔ (سوار عدوی کہتے ہیں کہ ) ان سے بشیر بن کعب نے کہا ۔ بے شک حالت یہ ہے کہ دانائی اور حکمت کی باتوں میں لکھا ہوا ہے بے شک حیاء سے وقار اور سکینہ حاصل ہوتا ہے ۔ عمران بن حصین نے اس سے کہا میں تجھے حدیث بیان کرتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور تم مجھے بات کرتے ہو اپنی کتاب کی بخاری نے اس کو روایت کیا آدم بن ابوایاس اور مسلم نے اس کو روایت کیا حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7703

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7704

7704 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يزيد بن هارون ح و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد أنا أبو الحسن إسحاق بن عبدوس بن عبد الله بن الفضل البزاز نا الحارث بن أبي أسامة نا يزيد بن هارون أنا أبو نعامة العدوي عن حميد بن هلال عن بشير بن كعب عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء خير كله قال بشير : فقلت : إن منه ضعفا و إن منه عجزا فقال : أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و تجيء بالمعاريض لا أحدثك بحديث ما عرفتك فقالوا يا أبا نجيد إنه طيب و إنه فلم يزالوا به حتى سكن و حدث لفظهما سواء كذا قال : في إسناده عن أبي نعامة عن حميد بن هلال عن بشير عن عمران و خالفه النضر بن شميل فرواه عن أبي نعامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبید اللہ منادی نے ان کو یزید بن ہارون نے ’’ ح ‘‘ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوطاہر دقاق نے بغداد میں ان کو ابوالحسن اسحاق بن عبدوس بن عبد اللہ بن فضل بزار نے ان کو حارث بن ابواسامہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابونعامہ عدوی نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو بشیر بن کعب نے انہوں نے عمران بن حصین سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء خیر ہی خیر ہے۔ بشیر نے کہا کہ میں نے کہا بے شک اس (حیا) سے ضعف ہے اور بے شک اسی (حیا) سے عجز ہے۔اس نے کہا میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم اس کے مقابلے میں کچھ اور پیش کرتے ہو۔ میں تجھے کوئی حدیث پیش نہیں کروں گا جب تک تجھے پہچانوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اے ابو نجید بے شک یہ ٹھیک ہے۔ وہ لوگ بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں ۔ اسی طرح کہا ہے اس کی سند میں ابونعامہ سے منقول ہے ۔اس نے حمید بن ہلال سے اس نے بشیر سے اس نے عمران سے اور اس کی مخالفت کی ہے نصر بن ثمیل نے اس نے اس کو روایت کیا ہے ابونعامہ سے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أبو الحسن إسحاق بن عبدوس بن عبد الله بن الفضل البزاز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ← و، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7704

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7705

7705 - كما أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ابن بنت يحيى بن منصور القاضي أنا جدي نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا النضر بن شميل نا أبو نعامة العدوي سمعت حجير بن الربيع يقول : قال لي عمران بن حصين : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الحياء كله خير و الحياء لا يأتي إلا بخير فقال بشير بن كعب : إنا نجد في كتاب الله عز و جل منه وقار و منه ضعف فقال : من هذا يا حجير فقال : لا بأس به رجل منا فقال : تسمعني أحدثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و تحدثني عن الكتب لا أحدثكم اليوم حديثا رواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم

جسے ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن طاہر عنبری این بنت یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو ان کے دادا نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ابو نعامہ عدوی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حجیر بن ربیع سے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین نے اس نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں حیا سب کا سب خیر و بھلائی ہے اور حیاء خیر و بھلائی ہی کو لاتا ہے۔ پس کہا بشیر بن کعب نے بے شک ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں کہ حیاء سے وقار ہوتا ہے ۔اور اسی سے ضعف وکمزوری۔ عمران نے کہا یہ کون ہے اے حجیر ؟ اس نے جواب دیا کچھ نہیں ہے یہ ہمارا ہی ایک آدمی ہے ۔ عمران نے کہاتم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں اس کو حدیث بیان کر رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور تم مجھے حدیث بتاتے ہو دوسری کتابوں سے میں آج کے بعد آپ کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے اسحٰق بن ابراہیم سے ۔

إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الكتب لا أحدثكم اليوم حديثا رواه مسلم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم و تحدثني ← تسمعني أحدثه ← لا بأس به رجل منا ← من هذا يا حجير ← نجد في كتاب الله عز و جل منه وقار و منه ضعف ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← الحياء كله خير و الحياء لا يأتي إلا بخير ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ← حجير بن الرَّبيع ← أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي، ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ابن بنت يحيى بن منصور القاضي ← كَمَا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7705

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7706

7706 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب نا يزيد بن هارون أنا محمد بن مطرف عن حسان بن عطية عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الحياء و العي شعبتان من الإيمان و البذاء و البيان شعبتان من النفاق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن مطرف نے ان کو حسان بن عطیہ نے انہوں نے ابوامامہ سے (وہ کہتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیاء اور کلام کرنے میں عاجزی و درماندگی ایمان کے دوشعبے ہیں ۔ بیہودہ بکواس کرنا اور بے باکی سے بولنا نفاق کے دو شعبے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7706

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7707

7707 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني نا إسماعيل بن عبد الملك بن أبي شيبة الخزاز أبو إسحاق نا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفا و الجفا في النار و كذلك رواه معاذ بن معاذ عن محمد بن عمرو بن علقمة و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسین قاضی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عصام بن عبدالمجید اصفہانی نے ان کو اسماعیل بن عبدالملک نے بن ابو شیبہ نے خزاز ان کو ابواسحٰق نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیاءایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اور بیہودہ بکواس کرنا ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جائے گا۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو معاذ بن بن معاذ نے ان کومحمد بن عمرو بن علقمہ وغیرہ نے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إسماعيل بن عبد الملك بن أبي شيبة الخزاز أبو إسحاق ← أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7707

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7708

7708 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن أبي غالب البغدادي و سعيد بن سليمان الواسطي عن هشيم و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه نا صالح بن محمد الحافظ نا سعيد بن سليمان الواسطي نا هشيم عن منصور بن زاذان عن الحسن عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفاء و الجفاء في النار

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن ابو غالب بغدادی نے اور سعید بن سلیمان واسطی نے ان کو ھشیم نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابونصر فقیہ نے ان کو صالح بن محمد حافظ نے ان کو سعید بن سلیمان واسطی نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور بن زاذان نے ان کو حسن نے ان کو ابوبکرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اور بیہودہ گوئی کرنا ظلم ہے اور ظلم جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← هشيم و ← أحمد بن أبي غالب البغدادي و سعيد بن سليمان الواسطي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7708

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7709

7709 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نطيف الفرا بمكة نا أبو الحسين أحمد بن محمود السبيعي البغدادي املاء بمصر نا موسى بن هارون نا عبد الله بن عون نا هشيم أنا منصور عن الحسن عن أبي بكرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة 7709 - قال : و نا موسى بن هارون نا وهب بن بقية أنا هشيم عن منصور عن الحسن عن عمران بن حصين : عن النبي صلى الله عليه و سلم في مثله قال : و سمعت موسى بن هارون يقول : رواه هشيم بواسط فقال : عن عمران بن حصين و رواه ببغداد عن أبي بكرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نطیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالحسین احمد بن محمود سبیعی بغدادی نے بطور املاء کے مصر میں ان کو موسیٰ بن ہارون نے ان کو عبد اللہ بن عون نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور نے ان کو حسن نے ان کو ابوبکر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ءایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی موسیٰ بن ہارون نے ان کو وہب این بقیہ نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور نے ان کو حسن نے ان کوعمران بن حسین نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے اور کہتے ہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن ہارون سے وہ کہتے ہیں کہ روایت کیا ہے اس کو ھشیم نے واسط میں اس نے کہا مروی ہے عمران بن حصین سے اور روایت کیا ہے اس کو بغداد میں ابوبکر ہ سے ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← عمران بن حصين و رواه ببغداد ← رواه هشيم بواسط فقال ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← و، ← النبي صلى الله عليه و سلم في مثله ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← و، ← الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أبو الحسين أحمد بن محمود السبيعي البغدادي املاء بمصر ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نطيف الفرا بمكة

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7709

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7710

7710 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا مسبح بن حاتم العلكي نا عبد الجبار بن عبد الله قال : خطب المأمون و ذكر الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم قال : نا هشيم عن منصور عن الحسن عن عمران بن حصين و أبي بكرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفاء و الجفاء في النار

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو مسبح بن حاتم عکلی نے ان کو عبدالجبار بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ مامون رشید نے خطبہ دیا اس میں اس نے حیاء کا ذکر کیا اور اس کی بہت زیادہ تعریف کی اس کے بعد فرمایا۔ ہمیں خبر دی ھشیم نے منصور سے اس نے حسن سے اس نے عمران بن حصین سے اور ابوبکرہ سے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے اور ایمان جنت میں لے جائے گا اور بیہودہ بکواس کرناظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جائے گا ۔

عمران بن حصين و أبي بكرة ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم ← خطب المأمون و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مسبح بن حاتم العلكي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7710

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7711

7711 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن أبي السري ح و أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الحسن بن سفيان نا محمد بن المتوكل نا أبو بشر بكر بن بشر نا عبد الحميد بن سوار حدثني إياس بن معاوية بن قرة قال : كنا عند عمر بن عبد العزيز فذكر عنده الحياء فقال : الحياء من الإيمان فقال عمر : بل هو الدين كله فقال : إياس حدثني أبي عن جدي قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فذكر عنده الحياء فقالوا : يا رسول الله الحياء من الدين ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : بل هو الدين كله ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء و العفاف و العي عن اللسان لا عن القلب و العمل من الإيمان و إنهن يزدن في الآخرة و ينقصن من الدنيا و ما يزدن في الآخرة أكثر مما ينقصن من الدنيا و إن الشح و الفحش و البذاء من النفاق و إنهن يزدن في الدنيا و ينقصن من الآخرة و ما ينقصن من الدنيا أكثر مما يزدن في الدنيا قال : أياس أمرني عمر بن عبد العزيز فأمليتها عليه فكتبها بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و هي في كمه ما يضعها لفظ حديث الحسن و في رواية يعقوب حدثني بكير بن بشر السلمي و قال : عن أبيه عن جده قرة المزني ثم قال في آخره قال إياس : فحدثت به عمر بن عبد العزيز فأمرني فأمليتها عليه ثم كتبه بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و إنها لفي كفه ما يضعها

ہمیں خبر دی ہے ابواالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن متوکل نے ان کو ابو بشر بکر بن بشر نے ان کو عبدالحمید بن سوار نے ان کو حدیث بیان کی ہے ایاس بن معاویہ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھے تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے ہے۔ پھر عمر نے کہا بلکہ وہ کل کا کل دین ہے ۔ کہا ایاس نے مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد سے انہوں نے میرے دادا سے اس نے کہا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ! کیا حیا بھی دین میں سے ہے (دین کا حصہ ہے؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ پورا کا پورا دین ہے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حیاء، اور پاک دامنی ۔ اور کم گوئی کرنا زبان سے نہ کہ دل سے اور عمل کرنا یہ باتیں ایمان میں سے ہیں۔ بے شک یہ چیزیں آخرت میں اضافہ کرتی ہیں اور دنیا میں کمی کرتی ہیں اور آخرت کے بارے میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ اس کمی سے بہت زیادہ ہے جو وہ دنیامیں کرتی ہیں ۔ بے شک بخل ( تیزی نفس ) بے حیائی (برے کام کرنا ) بیہودہ گوئی ( گالم گلوچ و بری باتیں کرنا ) منافقت میں سے ہیں یہ چیزیں دنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔اور آخرت میں کمی کرتی ہیں ۔اور وہ دنیا میں جو کمی کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہے اس سے جودنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔ ایاس نے کہا۔ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث ان کو لکھوائی انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی اور وہ حدیث لکھی ہوئی تھی ان کی آستین میں یا جیب میں رکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے اس کو رکھا نہیں تھا۔ یہ الفاظ حسن کی حدیث کے ہیں ۔ اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے بکبیر بن بشر سلمی نے اور وہ کہتے ہیں انہوں نے روایت کی ہے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا قر ہ مزنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے آخر میں کہا کہ ایاس نے کہا ہے کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی انہوں نے کہا کہ یہ مجھ کو لکھواؤ میں نے ان کو لکھوائی اس کے بعد انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر عصر کی پڑھائی اور و ہ تحریر ان کی آستین میں یا ہتھیلی میں تھی انہوں نے ابھی تک اس کو نیچے نہیں رکھا تھا۔

عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّي، ← أَبِي ← إِيَاسٍ ← عُمَرُ: «بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ»، ← الحياء من الإيمان ← عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ← عبد الحميد بن سوار ← أبو بشر بكر بن بشر ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7711

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7712

7712 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا حامد بن محمود نا إسحاق بن سليمان الرازي نا مالك ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سلمة بن صفوان عن يزيد بن طلحة بن ركانة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل دين خلق و خلق الإسلام الحياء و في رواية إسحاق و إن خلق الإيمان الحياء هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو حامد بن محمود نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ان کو مالک نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر مسلمہ بن صفوان سے اس نے یزید بن طلحہ بن رکانہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر دین کا ایک خلق یعنی عادت وفطرت ہوتی ہے اسلام کی فطرت حیاء ہے ۔اور اسحاق کی ایک روایت میں ہے کہ بے شک ایمان کی فطرت حیا ء ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔

يَزِيدَ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ ← سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7712

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7713

7713 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عمرو بن مطر نا محمد بن عبد السلام نا الحسين بن علي بن يزيد الهمداني نا أبي عن مالك فذكره و قال عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل دين خلق و رواه أيضا علي بن الحسن الصفار عن وكيع عن مالك عن سلمة بن صفوان عن يزيد بن ركانة عن أبيه قال يحيى بن معين : حديث ركانة هذا مرسل ليس فيه عن أبيه و روي من وجه آخر ضعيف مسندا

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبدالرحمن سلمی نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو حسین بن علی بن یزید ہمدانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو مالک نے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث نقل کیا ہے اور کہا کہ مروی ہے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دین کی ایک فطرت ہوتی ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے علی بن حسن صفار نے ان کو وکیع نے ان کو مالک نے ان کو سلمہ بن صفوان نے ان کو یزید بن رکانہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن معین نے ، حدیث رکانہ مرسل ہے۔مگر اس میں عن ابیہ کے الفاظ نہیں ہیں ۔اور ایک اور ضعیف طریق سے بھی مروی ہے بطور مسند ۔

أَبِيهِ ← مالك فذكره و ← أَبِي ← الحسين بن علي بن يزيد الهمداني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7713

chevron_left Previous
1…8910…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood