Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7666

7666 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا عمر بن سنان و جماعة معه نا محمد بن الوزير الواسطي نا خالد بن معدان عن ثور بن يزيد : فذكره دون ذكر مالك بن يخامر في إسناده قال أبو أحمد و هذا الحديث يروى من وجوه و كلها غير محفوظة

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے اس کو عمر بن سنان نے اور ایک جماعت سے بھی اس کے ساتھ منقول ہے ان کو محمد بن وزیر واسطی نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ثور بن یزید نے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے سوائے ذکر مالک بن يخامر کے اپنی سند میں ۔ ابواحمد نے کہا یہ حدیث کئی وجوہ اور کئی طرق سے مروی ہے اور وہ سب کے سب غیر محفوظ ہیں۔

أبو أحمد و هذا الحديث يروى من وجوه و كلها غير محفوظة ← مالك بن يخامر في إسناده ← ثور بن يزيد فذكره دون ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ ← عمر بن سنان و جماعة معه ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7666

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7667

7667 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا الحسن بن عمرو السبعي سمعت بشرا يقول : ما بال أحدكم إذا وقع أخوه في الأمر لا يقوم قبل أن يقول من لم يكن معك فهو عليك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمر و بن سماک نے ان کو حسن بن عمر وسبعی نے انہوں نے سنا بشر سے وہ کہتے ہیں کہ کیا ہو گیا ہے تمہارا کوئی بھائی کسی مشکل امر میں واقع ہو جاتا ہے تو ان کو یہ کہے بغیر سکون نہیں ملتا ہے کہ تیرا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ۔ یہ صرف تمہارا اپنا معاملہ ہے۔

من لم يكن معك فهو عليك ← ما بال أحدكم إذا وقع أخوه في الأمر لا يقوم قبل أن ← بِشْرًا ← الحسن بن عمرو السبعي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7667

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7668

7668 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أبو إسماعيل السلمي نا أبو صالح عبد الله بن صالح حدثني الليث بن سعد عن إسحاق بن عبد الرحمن عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن داود عليه السلام قال فيه يخاطب ربه عز و جل : يا رب أي عبادك أحب إليك أحبه بحبك قال : يا داود أحب عبادي إلي نقي القلب نقي الكفين لا يأتي إلى أحد سوءا و لا يمشي بالنميمة تزول الجبال و لا يزول و أحبني و أحب من يحبك فكيف أحببك إلى عبادك قال : ذكرهم بآياتي و بلائي و نعمائي يا داود إنه ليس من عبد يعين مظلوما أو يمشي معه في مظلمته إلا أثبت قدميه يوم تزل الأقدام

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو ابواسماعیل سلمی نے ان کو ابو صالح عبد اللہ بن صالح نے ان کولیث بن سعد نے ان کو اسحق بن عبد الرحمن ٰنے ان کو علی بن ابوطلحہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک داؤدعلیہ السلام ! اپنے رب کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : اے میرے رب ! تیرے بندوں میں سے کون سا بندہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے داؤد! میرے بندوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین بندہ وہ ہے جس کا دل صاف ہو جس کے ہاتھ صاف ہوں جوکسی کے پاس برے ارادے سے نہیں آتا اور کسی کی غیبت نہیں کرتا ۔ ( وہ اس صفت پر اتنا پکا ہے کہ ) پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں مگر وہ اپنی اس فطرت سے نہیں ٹلتا۔ مجھے محبوب رکھتا ہے اور اس کو بھی محبوب رکھتا ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اور مجھے میرے بندوں میں محبوب بناتا ہے ۔ داؤد علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! بے شک تو جانتا کہ میں تجھے محبوب رکھتا ہوں اور اس کو بھی محبوب رکھتا ہوں جو تجھ سے تو محبت کرتا ہے۔ مگر میں تجھے تیرے بندوں کے نزدیک کیسے محبوب بناؤں؟ ۔ فرمایا ان کو تذکیرو وعظ کیجئے میری آیات کے ساتھ میری آزمائش اور میری نعمتوں کے ساتھ ۔اے داؤد! کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو مظلوم کی مدد کرے یا اس کے ظلم کے وقت اس کے ساتھ چلے مگر میں اس کے قدم جما دوں گا جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← إسحاق بن عبد الرحمن ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7668

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7669

7669 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين علي بن الفضل السامري نا الحسن بن عرفة العبدي حدثني علي بن ثابت الجزري عن جعفر بن ميسرة الأشجعي عن أبيه عن ابن عمر قالا : سمعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من مشى في حاجة أخيه المسلم حتى يتمها له أظله الله بخمسة آلاف ملك يدعون و يصلون عليه إن كان صباحا حتى يمسي و إن كان مساء حتى يصبج و لا يرفع قدما إلا كتبت له بها حسنة و لا يضع قدما إلا حط عنه بها خطيئة و قال مرة أخرى سيئة ـ جعفر بن ميسرة ضعيف و هذا حديث منكر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن علی بن فضل سامری نے ان کو حسن بن عرفہ عبدی نے ان کو علی بن ثابت جزری نے ان کو جعفر بن میسر ہ اشجعی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی کسی حاجت کو پوری کرنے چلتا ہے حتی کہ اس کو پورا کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ پانچ ہزارفرشتوں کے ذریعہ اس پر سایہ کرتے ہیں وہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس پر رحمت بھیجتے ہیں اگر صبح کو چلتا ہے تو شام تک اور اگر شام کو چلتا تو صبح تک فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں ۔ جو بھی قدم اٹھاتا ہے ہر قدم کے بدلے میں اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ہر قدم کو جب رکھتا ہے تو اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ اور راوی نے دوسری بار خطیتہ کی جگہ سیتہ کہا ۔جعفر بن میسر ہ ضعیف ہے، اور یہ حدیث منکر ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← الحسن بن عرفة العبدي ← أبو الحسين علي بن الفضل السامري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7669

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7670

7670 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا أبو داود الخفاف أخو أبي يحيى الخفاف أنا غسان بن الفضل نا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن زياد بن أبي حسان عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أغاث ملهوفا كتب الله له ثلاثا و سبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره كله و ثنتان و سبعون له درجات يوم القيامة قال أحمد و كذلك رواه مسلم بن الصلت عن زياد و تفرد به زياد بن أبي حسان

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو ابوداؤ خفاف نے جو ابو یحییٰ خفاف کے بھائی ہیں ان کو عسان بن فضل نے ان کو عبدالعزیز بن عبد الصمد العمی نے ان کو زیاد بن ابوحسان نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص پریشان حال مظلوم کی فریادرسی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے تہتر مغفرتیں لکھ دیتا ہے ان میں سے ایک ایسی ہوتی ہے جس میں اس کے تمام معاملے کی صلاح اور درستگی ہوتی ہے اور بہتر باقی قیامت میں اس کے لئے بمنزلہ درجات کے ہوں گی ۔ امام احمد نے فرمایا: اسی طرح اس کو روایت کیا ہے مسلم بن صلت نے ز یاد سے اور زیاد بن ابوحسان کے لئے اس کو روایت کرتے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زياد بن أبي حسان ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← غسان بن الفضل ← أبو داود الخفاف أخو أبي يحيى الخفاف ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7670

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7671

7671 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا إبراهيم بن علي العمري نا معلى بن مهدي نا عبد المؤمن أبو عبيدة عن زياد بن أبي حسان نا أنس بن مالك قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم في جماعة من أصحابه إذ جاءت امرأة لها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجة فلم يجد مساغا فقام رجل من مجلسه فقال لها هلم تكلمي بحاجتك فقامت في مقامه فكلمت رسول الله صلى الله عليه و سلم بحاجتها ثم انصرفت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل بينك و بينها قرابة ؟ قال : لا فقال : فعرفتها ؟ قال لا قال : فرحمتها ؟ قال : نعم قال : رحمك الله كما رحمتها تفرد به زياد بن أنس و قد روى معناه عبد الله بن هذيل عن ابن المنكدر عن جابر فقلناه في باب مقاربة أهل الدين

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابراہیم بن علی عمری نے ان کو معلی ٰبن مہدی نے ان کو عبد المؤمن نے ان کو ابوعبیدہ نے ان کوزیاد بن ابوحسان نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت میں بیٹھے تھے اچھانک ایک عورت آئی اس کی کوئی حاجت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا راستہ اس کو نہیں مل رہا تھا۔ چنانچہ مجلس میں سے ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور اسے کہا کہ یہاں آ جائیے اور اپنی حاجت پیش کیجئے وہ عورت اس کی جگہ پر کھڑی ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے بات کی اپنی حاجت کے بارے میں اور واپس لوٹ گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا کہ یہ تیری رشتہ دار ہے؟ بولا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم اسے پہچانتے تھے؟ کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر تم نے اس پر شفقت کی تھی؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے جیسے تم نے اس پر رحم کیا ۔ اس روایت میں زیادبن انس اکیلے ہیں اور تحقیق اس کے مفہوم کو روایت کیا ہے عبداللہ بن ہذیل نے ابن منکدر سے اس نے جابر سے ۔ہم نے اس کو لکھا ہے باب مقاربت اہل دین میں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زياد بن أبي حسان ← عبد المؤمن أبو عبيدة ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7671

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7672

7672 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا نا أبو العباس الأصم نا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي نا صفوان بن صالح نا الوليد نا عبد الصمد بن العلا السامي عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لدرهم أعطيه في عقل أحب إلي من خمسة في غيره 7672 - م ـ و روي في معناه عن الشعبي : أنه قال لأن أعطي درهمين في نائية أحب إلي من أن أتصدق بخمسة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے آخرین میں انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو یزید بن محمد بن عبد الصمد دمشقی نے ان کو صفوان بن صالح نے ان کو ولید نے ان کو عبد الصمد بن العلی ٰسامی نے ان کو اسحق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ ایک درہم جسے میں مقتول کی دیت میں دوں وہ میرے نزدیک کسی دوسرے امر میں پانچ درہم خرچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ 672 ( مکرر ہے ) اور روایت کی گئی اسی مفہوم میں شعبی سے کہ انہوں نے فرمایا البتہ اگر میں دو درہم کسی کی مشکل و مصیبت دور کرنے میں دوں وہ اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں پانچ درہم صدقہ کروں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عبد الصمد بن العلا السامي ← الْوَلِیْدُ ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7672

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7673

7673 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا يحيى بن أبي بكير نا زهير نا عمارة بن غزية عن يحيى بن راشد الدمشقي : أنهم جلسوا إلى ابن عمر قال فما رأيته أراد الجلوس معنا حتى قلنا هلم إلى المجلس يا أبا عبد الرحمن قال : فرأيته يذمم قال فجلس فسكتنا فلم يتكلم منا أحد فقال : ما لكم لا تنطقون ألا تقولون سبحان الله و بحمده فإن الواحد بعشرة و العشرة بمائة و المائة بألف و ما زدتم زادكم الله سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في أمره و من مات و عليه دين فليس بالدينار و الدرهم و لكنها الحسنات و السيئات و من خاصم في باطل و هو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع و من قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے دونوں نے کہا ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یحیی بن ابو بکیر نے ان کو زہیر نے ان کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو یحیی بن راشد دمشقی نے کہ وہ لوگ حضرت ابن عمر کے پاس بیٹھے گئے میں نے نہیں دیکھا انکو کہ ہمارے ساتھ انہوں نے بیٹھنے کا خود سے ارادہ کیا ہو حتی ٰکہ ہم نے کہا آئیے مجلس میں اے ابوعبد الرحمنٰ! اور عبدالرحمان کہتے ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا ( وہ بلاوجہ بیٹھنے کی ) مذمت کرتے تھے یحییٰ کہتے ہیں کہ پس حضرت ابن عمر بیٹھ گئے ۔ تو ہم لوگ خاموش ہو گئے ۔ہم میں سے کوئی بھی کلام نہیں کر رہا تھا ۔ انہوں نے فرمایا کیا ہوا تم لوگوں کو بات نہیں کر رہے ہو؟ بول بھی نہیں رہے ہو، کیا تم یوں نہیں کہہ سکتے سبحان الله وبحمده۔بے شک ایک بار کہنا دس بار کے برابر ہے اور دس سو کے برابر اور سو بار کہنا ہزار بار کے برابر ہے اور جو کچھ اس سے زیادہ کہوگے اللہ تعالیٰ اور زیادہ دے گا۔ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔ جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کی راہ میں حائل ہو جائے اور رکاوٹ بن جائے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوگا ۔اس کے معاملے میں ۔ اور جو شخص مر جائے اور اس پر قرض ہو ( پس ادا نہ کیا جائے گا ) دینار اور درہم کے ساتھ بلکہ نیکیاں ( لی جائیں گی ) اور برائیاں ( دی جائیں گی ) اور جو شخص کسی ناحق اور باطل امر میں جھگڑا کرے اور وہ جانتا ہو ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس سے ہٹ جائے ۔ اور جو شخص کسی مؤمن کے بارے میں وہ بات کہے جو اس میں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کو ٹھہرائے گا جہنمیوں کی پیپ کی جگہ پر یہاں تک کہ چھوڑ دے اس غلط بات کو ۔

يحيى بن راشد الدمشقي ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7673

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7674

7674 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : جاء بحير بن ريسان إلى ابن عباس يستعين به على ابن الزبير و كان عاملا له فقال ابن عباس أنت امرؤ ظلوم لا يحل لأحد أن يشفع فيك و لا يدفع عنك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ بحیر بن ریسان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ان سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف مدد چاہتے تھے وہ بحیران کے حامل بھی تھے۔ حضرت ابن عباس نے اس سے کہا کہ تم بڑے ظالم آدمی ہو کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تیرے بارے میں سفارش کرے یا تیرا دفاع کرے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7674

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7675

7675 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو إسماعيل الترمذي حدثني إسحاق بن إبراهيم حدثني عمرو بن الحارث نا عبد الله بن سالم نا الزبير بن محمد بن الوليد نا عامر نا عياش بن مؤنس : أن أبا الحسن نمران الرحبي حدثه أن أوس بن شرحبيل أحد بني المجمع حدثه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من مشى مع ظالم يقويه و هو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام لم يثبت شيخنا اسناده و هو كما كتبته صحيحا لا شك فيه و قال جرير بن عثمان مرة شرحبيل بن أوس 7675 - مكرر أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي ثنا ابن ناجية نا ابن المثنى و الحسن بن خالد قالا نا زياد بن الربيع اليحمدي أبو خراش نا عباد بن كثير الشامي من أهل فلسطين عن امرأة منهم يقال له فسيلة أنها سمعت أباها قال : يقول : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله : أمن العصبية أن يحب الرجل قومه قال : لا و لكن من العصبية أن يعين الرجل قومه على الظلم قال أبو موسى و هو محمد بن المثنى : فسيلة هذه يقال إنها بنت واثلة بن الأسقع

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابواسماعیل ترمذی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبداللہ بن سالم نے ان کوزبیر بن محمد بن ولید نے ان کو عامر نے ان کو عیاش بن مؤنس نے یہ کہ ابوالحسن نمران رحبی نے اس کو حدیث بیان کی ہے یہ کہ اوس بن شرجیل بنی مجمع میں سے ہیں اس نے اس کو حدیث بیان کی کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ جو شخص ظالم کے ساتھ چل کر اس کو تقویت دے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے وہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ ہمارے شیخ نے اس کی سند کو ثابت نہیں کیا۔ اوروہ اسے صحیح ہے جیسے میں نے اس کو لکھا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے اور جریر بن عثمان کبھی کہتے ہیں کہ شرجیل بن اوس ۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو ابن مثنی نے اور حسن بن خالد نے ان دونوں کو زیاد بن ربیع یحمدی ابو خراش نے ان کو عباد بن کثیر شامی جولسطینی ہیں فلسطین کی ایک عورت سے جسے فسیلہ کہتے تھے اس نے سنا تھا اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا بات عصبیت میں سے ہے کوئی آدمی اپنی قوم سے محبت کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ بلکہ عصبیت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی قوم کی ظلم پر اعانت کر ے ۔ کہا ابو موسیٰ نے یعنی محمد بن مثنی نے کہا جاتا تھا کہ فسیلہ ، واثلہ بن اسقع کی بیٹی ہے۔

عياش بن مؤنس ← عَامِرٍ، ← الزبير بن محمد بن الوليد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7675

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7676

7676 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي نا عثمان بن أحمد بن السماك نا أبو قلابة عبد الملك بن محمد نا يحيى بن حماد نا رجاء أبو يحيى صاحب السقط قال : سمعت يحيى بن أبي كثير يحدث عن أيوب السختياني عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من مشى من قوم يرى منهم أنه شاهد و ليس بشاهد فهو شاهد زور و من أعان على خصومة بغير علم كان في سخط الله حتى ينزع و قتال المؤمن كفر و سبابه فسوق

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے ان کوعثمان بن احمد بن سماک نے ان کو ابو قلا بہ عبدالملک بن محمد نے ان کو یحییٰ بن حماد نے آپ کو رجاء کو ابویحییٰ صاحب سقط نے اس نے سنا یحییٰ بن ابو کثیر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ایوب سختیانی سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص کسی قوم کے ساتھ یہ دیکھانے کے لئے چلتا ہے کہ وہ ان کے لئے گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہیں ہے تو وہ جھوٹا گواہ ہوگا ۔ اور جو شخص بغیر علم کے یعنی بغیر جانے کسی جھگڑے میں امداد کرے وہ اللہ کی ناراضگی میں ہوتا ہے یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے اور ( مسلمان ) مؤمن سے قتال کرنا کفر ہے اور اس کو گالیاں دینا فسق ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← رَجَاءٌ أَبُو يَحْيَى، صَاحِبُ السِّقْطِ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7676

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7677

7677 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق نا إبراهيم بن الخراساني نا الحسن بن سلام نا عبيد الله بن موسى نا إسرائيل عن سماك عن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعان قوما على ظلم فهو كالبعير المتردي فهو ينزع بذنبه

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن اسحٰق نے ان کو براہیم بن خراسانی نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کوعبد الرحمن ٰبن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کی ظلم پر امداد کرے وہ بلندی سے گر کر ہلاک ہونے والے اونٹ کی طرح ہے جب اس کی دم سے کھینچا جائے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← إبراهيم بن الخراساني ← أبو محمد عبد الله بن إسحاق ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7677

chevron_left Previous
1…567…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood